Connect with us

uttar pradesh

وحشی سعید اور پروفیسر نذیر احمد ملک ڈاکٹر منظر کاظمی نیشنل ایوارڈسے ہوں گے سرفراز

Published

on

میرٹھ:شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کی ایوارڈ کمیٹی نے ہر سال شعبے کی طرف سے دیے جانے والے ڈاکٹر منظر کاظمی نیشنل ایوارڈ ز کا اعلان کردیا ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے بتایا کہ امسال بارہواں ڈاکٹر منظر کاظمی نیشنل ایوارڈ برا ئے تخلیق معروف فکشن نگار وحشی سعید کو اور ڈاکٹر منظر کاظمی نیشنل ایوارڈ برائے تنقید پروفیسر نذیر احمد ملک کو پیش کیے جائیں گے اوریہ ایواڈ26ستمبر2026کو سری نگر میں ادبی تقریب کے دوران دیے جائیں گے۔ جن میں نشان یاد گار، سر ٹیفکٹ،شال اور روپے گیارہ گیارہ ہزارایوارڈیز کو پیش کیے جائیں گے۔
 واضح ہو کہ شعبہئ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ 2015ء سے معروف و مقبول جدید افسا نہ نگار ڈاکٹر منظر کاظمی کے نام پر دو قومی ایوارڈزتخلیق اور تنقید دیتا آ رہا ہے۔ یہ ایوارڈ ان ادیبوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے فکشن یا فکشن تنقید میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔ اب تک یہ ایوارڈاحمد رشید، سلام بن رزاق،نور الحسنین،بشیر مالیر کوٹلوی، دیپک بدکی،احمد رشید،پرویز شہریار، قدوس جاوید، ارتضیٰ کریم، صغیر افرا ہیم،خور شید حیات،ہمایوں اشرف، شہاب ظفر اعظمی، نعیم انیس،اشتیاق سعید،اور رفیق جعفر، وغیرہ کو دیا جاچکا ہے۔
امسال یہ ایوارڈ معروف تخلیق کار وحشی سعیدجن کے قلم نے ناولوں میں پتھر پتھر آئینے، ایک موسم کا خط،قحط،جائز ناجائز، فطرت محبت ندامت اور وحشتی محبت اور ان کے افسانوی مجمو عوں میں سڑک جارہی ہے،کنوارے الفاظ کا جزیرہ، خواب حقیقت، ماضی اور حال(تین جلدوں میں)آسماں میرے مٹھی میں، ارسطو کی واپسی، آخر کب تک اور شیشے کا سمندر جیسی تخلیقات لکھ کر اردو دنیا میں اپنی مستحکم شناخت قائم کی ہے اور معروف و مقبول ناقدپروفیسر نذیر احمد ملک جن کی تصنیفات میں کشمیری سر مایہ الفاظ کے سر چشمے۔اردو ررسم الخط: ارتقا اور جائزہ، ادب، ادبی تھیوری اور اسلوبیات، موجِ رنگ، اردو اور کشمیر کے لسانیاتی رشتے اور رابطے جیسی اہم کتب لکھ کر ادبی دنیا میں انفراد قائم کیاہے۔
پریس کانفرنس میں ڈاکٹر آصف علی، ڈا کٹر شاداب علیم، ڈا کٹر الکا وششٹھ، ڈاکٹر ارشاد سیانوی،فر حت ا ختر عرفان عارف اور سیدہ مریم الٰہی شامل رہے سعید احمد سہارنپوری اور محمد شمشاد۔

uttar pradesh

یونیورسٹی میں داخلہ شخصیت سازی اور فکری بالیدگی کے نئے سفر کا آغاز

Published

on

لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں آج نو وارد طلبہ کے لیے ایک جامع اور بامقصد اورینٹیشن پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد طلبہ کو نہ صرف شعبے کی علمی فضا اور تحقیقی روایت سے واقف کرانا تھا بلکہ انھیں تعلیم کے عملی تقاضوں، شعبہ جاتی سرگرمیوں، اور مستقبل کے امکانات سے روشناس کرانا بھی تھا تاکہ وہ اعلیٰ تعلیم کے سفر کا آغاز اعتماد، شعور اور واضح رہنمائی کے ساتھ کر سکیں۔اس اورینٹیشن پروگرام میں ریسرچ اسکالر راشدہ خاتون نے تمام نووارد طلبہ کا گرم جوشی خیر مقدم کرتے ہوئے شعبے کے تعلیمی اور ادبی ماحول سے روشناس کرایا۔
اس پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر ثوبان سعید نے نووارد طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں داخلہ محض ایک نئے تعلیمی مرحلے کا آغاز نہیں بلکہ شخصیت سازی، علمی وسعت اور فکری بالیدگی کے ایک نئے سفر کی ابتدا ہے۔
انھوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم کو صرف نصابی کتابوں اور امتحانات تک محدود نہ رکھیں بلکہ مطالعہ، تحقیق، تخلیقی اظہار اور علمی سرگرمیوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ انھوں نے کہا کہ شعبۂ اردو طلبہ کو زبان و ادب کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تنقیدی شعور، تحقیقی مزاج اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔
پروفیسر ثوبان سعید نے نووارد طلبہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ شعبۂ اردو میں ان کے لیے ایک ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی جہاں وہ اپنی علمی، تحقیقی، ادبی اور تخلیقی صلاحیتوں کو آزادانہ طور پر پروان چڑھا سکیں۔ انھوں نے طلبہ کو یقین دلایا کہ شعبہ ان کی تعلیمی رہنمائی، تحقیقی تربیت اور مستقبل کے تعلیمی و پیشہ ورانہ امکانات کے سلسلے میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
پروگرام کے دوران نووارد طلبہ کو شعبۂ اردو کے تعلیمی پروگراموں، نصاب، تدریسی طریقۂ کار، امتحانی نظام، حاضری، داخلی تشخیص، تحقیقی سرگرمیوں، کتب خانے اور دیگر تعلیمی سہولیات کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔ طلبہ کو یونیورسٹی کی مختلف کمیٹیوں، ادبی و ثقافتی سرگرمیوں، این ایس ایس، کھیلوں اور دیگر ہم نصابی پروگراموں میں شرکت کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
اس اورینٹیش پروگرام میں ڈاکٹر محمد اکمل نے کہا کہ اردو زبان و ادب ہماری تہذیبی اور ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہے اور اس کے مطالعے کے ذریعے طلبہ نہ صرف ادبی روایت سے واقف ہوتے ہیں بلکہ معاشرے، تاریخ، تہذیب اور انسانی اقدار کو سمجھنے کی صلاحیت بھی حاصل کرتے ہیں۔ڈاکٹر محمد اعظم انصاری نے نووارد طلبہ کو شعبے کی مختلف علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں فعال طور پر حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ سیمینار، مذاکرے، ادبی نشستیں، مشاعرے، تقریری و تحریری مقابلے، مضمون نویسی، بیت بازی، ڈراما، ثقافتی پروگرام اور دیگر ہم نصابی سرگرمیاں طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اس موقع پر ڈاکٹر منور حسین یونیورسٹی کی وسیع تر علمی و ثقافتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لینگویج یونیورسٹی طلبہ کو مختلف شعبہ ہائے علم کے ساتھ بین الشعبہ جاتی اور ثقافتی سرگرمیوں میں شرکت کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے قومی و بین الاقوامی سیمینار، ورکشاپس، کانفرنسیں، ادبی و ثقافتی پروگرام، کھیلوں کی سرگرمیاں، این ایس ایس کے تحت سماجی و فلاحی مہمات، قومی و بین الاقوامی دنوں کی مناسبت سے منعقد ہونے والے پروگرام اور مختلف تخلیقی و علمی مقابلے طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر موسی رضا نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اساتذہ سے مسلسل علمی رابطہ رکھیں، کتب خانہ اور دیگر علمی وسائل سے بھرپور استفادہ کریں اور اپنی دلچسپی کے میدان میں باقاعدہ مطالعہ اور تحقیق کی عادت پیدا کریں۔اس موقع پرڈاکٹر سدھارت سدیپ اور ڈاکٹر عبدالرحمٰن نے بھی اظہار خیال کیااور ساتھ شعبۂ کمپیوٹر سائنس کے ڈاکٹر رضا عباس حیدری نے اپار آئی ڈی اور دوسرے ٹیکنیکل معلومات فراہم کی۔اس پروگرام کے آخر میں نووارد طلبہ نے مختصر طور پر اپنا تعارف پیش کیا۔اس پروگرام کی نظامت ریسرچ اسکالر حسن اکبراور شکریے کے کلمات ریسرچ اسکالر طاہرہ خاتون نے انجام دیا۔اس پروگرام میںڈاکٹر عارف عباس،ڈاکٹر ظفرالنقی اور ڈاکٹر عبد الحفیظکے علاوہ طلبہ بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔

Continue Reading

uttar pradesh

اسمبلی الیکشن 2027سے متعلق دیوبند کی سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ

Published

on

دیوبند:دیوبند اسمبلی حلقہ میں 2027میں ہونے والے الیکشن کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے لگی ہیں ۔سبھی سیاسی پارٹیاں اور گروپ اپنے اپنے دائو اور اعداد وشمار کے ساتھ میدان میں اترنے کی تیاریاں کررہی ہیں ۔
سماج وادی پارٹی ،آزاد سماج پارٹی ،مجلس اتحاد المسلمین ،اور کانگریس کی جانب سے بھی الیکشن سے متعلق بحث ومباحثہ جاری ہے ۔اسی درمیان بہوجن سماج پارٹی سے حاجی شاہد سہیل کانام بھی شہر میں گشت کررہا ہے ۔حالانکہ باقاعدہ طور سے ابھی اس کا اعلان نہیں کیا گیا ۔دیوبند میں فی الحال بی جے پاس قبضہ نگر پالیکا چیئرمین اور ایم ایل اے کے عہدے پر نمائندگی کی جارہی ہے۔
ایسی صورت میں اپوزیشن کے سامنے بی جے پی سے مقابلہ آرائی کی پالیسی تیار کرنا مشکل کام ہے ۔اپوزیشن کی سبھی پارٹیوں کی جانب سے بی جے پی کوشکست دینے کے دعوے ضرور کئے جارہے ہیں لیکن الگ الگ پارٹیوں کے میدان میں قسمت آزمائی کرنے سے ووٹوں کی تقسیم کے باعث نتائج متاثرہونا طے ہے ۔بہوجن سماج پارٹی کے پاس جو طے شدہ ووٹ ہیں وہی اس کے اصل اعداد وشمار ہیں ۔بہوجن سماج پارٹی کو سپورٹ کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی سیاسی پالیسی کے تحت ابتدائی سطح سے مضبوط اعداد وشمار کے مدنظر آگے بڑھتی ہے لیکن اصل فیصلہ الیکشن کے وقت اور ووٹنگ سے طے ہوتا ہے ۔فی الحال دیوبند کی سیاست میں بہوجن سماج پارٹی کی حاجی شاہد سہیل کا نام ممکنہ میدواروں میں لیا جارہا ۔پارٹی کی جانب سے فیصلہ لینے کے بعد حقیقت واضح ہوگی ۔

Continue Reading

uttar pradesh

دیوبند میں 11گھنٹوں تک بجلی سپلائی بند ، اندھیرے میں ڈوباپورا شہر

Published

on

دیوبند:دیوبند میں بجلی سپلائی ایک مرتبہ پھر سوالوں کو گھیرے میں ہے ۔سنیچر کے روز تین بجے کے بعد بجلی سپلائی بند ہونے کے بعد رات تین بجے تک شہر کے لوگ بجلی سپلائی کا انتظار کرتے رہے ۔تقریباً 11؍ گھنٹوں تک بجلی سپلائی بحال نہ ہونے سے شہر کے لوگوں کا گرمی کی وجہ سے برا حال ہوگیا ۔رات ہونے کے ساتھ ہی شہر کی سڑکوں ،گلیوں اور محلوں میں اندھیرا چھاگیا ۔گھنٹوں تک بجلی سپلائی بحال نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں رکھے انورٹر بھی ناکارہ ہوگئے جس کی وجہ سے لوگوں کو جاگ کر رات گزارنے پر مجبور ہونا پڑا ۔
چھوٹے چھوٹے بچے اور بزرگ افراد گرمی کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان رہے ۔اس صورت حال سے لوگوں میں شدید ناراضگی اور بجلی محکمہ کے لئے غم وغصہ ہے ان کا کہنا ہے کہ بجلی سپلائی کی یہ صورت حال کوئی ایک دن کا مسئلہ نہیں ہے ؛بلکہ گزشتہ تقریباً تین مہینوں سے بجلی سپلائی کا نظام پوری طرح درھم برہم ہے کیونکہ کبھی بجلی کٹوتی کے نام پر اور کبھی فالٹ ہوجانے کا بہانہ بنا کر بجلی سپلائی کو گھنٹوں تک بند رکھا جاتا ہے ۔بجلی صارفین میں اس بات پر بھی شدید ناراضگی کہ بجلی محکمہ کے ذمہ داران کو صورت حال معلوم کرنے کے لئے جب فون کیا جاتا ہے تو ان کے فون بند ملتے ہیں ۔ایک صارف کا کہنا ہے کہ اس نے تقریباً 20سے 25مرتبہ پاور کارپوریشن کے افسران کو فون کیا لیکن دوسری جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔دیوبند کی ٹیچر کالونی ،بالاجی ویہار ،کیلاش پور اور پنجالی کالونی سمیت شہر کے دیگر علاقوں میں بجلی سپلائی بند رہنے کی وجہ سے شدید گرمی کے باعث عوام رات کے آخری حصہ تک شدید طور پر پریشان رہے ۔
خواتین کا کہنا ہے کہ بجلی نہ ہونے سے بچوںکی حالت خراب ہوجاتی ہے ،گرمی کی وجہ سے چھوٹے بچے سو نہیں پاتے ،انورٹر بند ہوجانے کی وجہ سے گھروں کے پنکھے اور کولر بھی بند ہوجاتے ہیں ۔خواتین کا کہنا کہ ایسی صورت میں ان کے سامنے افسران سے جواب طلب کرنے اور بجلی دفتروں کا گھیرا ئو کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے ۔شہر میں مسلسل بجلی سپلائی کی خراب صورت حال سے پریشان عوام نے اب بجلی محکمہ کے خلاف آندولن کرنے کا اعلان کیا ہے ۔صارفین کا کہنا ہے کہ اگر بجلی کی سپلائی میں فوری طورپر سدھار نہیں کیا گیا تو وہ بجلی دفتر پر دھرنا دینے اور احتجاج کرنے کے لئے مجبور ہوجائیں گے ۔
وہیں صارفین نے بجلی افسران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی سپلائی بند ہونے کی سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع خبر عام ہونے کے گھنٹوں بعد تک بجلی انجینئر اور افسران اس مسئلہ کے حل کو سنجیدہ نہیں ہوتے ۔اور کئی کئی گھنٹوں کے بعد مسائل کے حل کرنے کی طرف توجہ دیتے ہیں بجلی سپلائی بند ہونے اور اندھیرے کی باعث لوگوں نے رات کے وقت پولیس گشت کو لے کر بھی سوالات اٹھائے ۔ان کا کہنا ہے کہ بجلی بند ہونے کی صورت میں حفاظتی نقطۂ نظر سے ان کی فکر مندی میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔بجلی صارفین اب بجلی افسران کے رد عمل کا انتظار کررہے ہیں کیونکہ گزشتہ تین مہینوں سے جاری بجلی سپلائی کی خراب صورت حال نے صارفین کے صبر کا پیمانہ لبریز کردیا ہے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network