Connect with us

uttar pradesh

دیوبند میں 11گھنٹوں تک بجلی سپلائی بند ، اندھیرے میں ڈوباپورا شہر

Published

on

دیوبند:دیوبند میں بجلی سپلائی ایک مرتبہ پھر سوالوں کو گھیرے میں ہے ۔سنیچر کے روز تین بجے کے بعد بجلی سپلائی بند ہونے کے بعد رات تین بجے تک شہر کے لوگ بجلی سپلائی کا انتظار کرتے رہے ۔تقریباً 11؍ گھنٹوں تک بجلی سپلائی بحال نہ ہونے سے شہر کے لوگوں کا گرمی کی وجہ سے برا حال ہوگیا ۔رات ہونے کے ساتھ ہی شہر کی سڑکوں ،گلیوں اور محلوں میں اندھیرا چھاگیا ۔گھنٹوں تک بجلی سپلائی بحال نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں رکھے انورٹر بھی ناکارہ ہوگئے جس کی وجہ سے لوگوں کو جاگ کر رات گزارنے پر مجبور ہونا پڑا ۔
چھوٹے چھوٹے بچے اور بزرگ افراد گرمی کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان رہے ۔اس صورت حال سے لوگوں میں شدید ناراضگی اور بجلی محکمہ کے لئے غم وغصہ ہے ان کا کہنا ہے کہ بجلی سپلائی کی یہ صورت حال کوئی ایک دن کا مسئلہ نہیں ہے ؛بلکہ گزشتہ تقریباً تین مہینوں سے بجلی سپلائی کا نظام پوری طرح درھم برہم ہے کیونکہ کبھی بجلی کٹوتی کے نام پر اور کبھی فالٹ ہوجانے کا بہانہ بنا کر بجلی سپلائی کو گھنٹوں تک بند رکھا جاتا ہے ۔بجلی صارفین میں اس بات پر بھی شدید ناراضگی کہ بجلی محکمہ کے ذمہ داران کو صورت حال معلوم کرنے کے لئے جب فون کیا جاتا ہے تو ان کے فون بند ملتے ہیں ۔ایک صارف کا کہنا ہے کہ اس نے تقریباً 20سے 25مرتبہ پاور کارپوریشن کے افسران کو فون کیا لیکن دوسری جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔دیوبند کی ٹیچر کالونی ،بالاجی ویہار ،کیلاش پور اور پنجالی کالونی سمیت شہر کے دیگر علاقوں میں بجلی سپلائی بند رہنے کی وجہ سے شدید گرمی کے باعث عوام رات کے آخری حصہ تک شدید طور پر پریشان رہے ۔
خواتین کا کہنا ہے کہ بجلی نہ ہونے سے بچوںکی حالت خراب ہوجاتی ہے ،گرمی کی وجہ سے چھوٹے بچے سو نہیں پاتے ،انورٹر بند ہوجانے کی وجہ سے گھروں کے پنکھے اور کولر بھی بند ہوجاتے ہیں ۔خواتین کا کہنا کہ ایسی صورت میں ان کے سامنے افسران سے جواب طلب کرنے اور بجلی دفتروں کا گھیرا ئو کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے ۔شہر میں مسلسل بجلی سپلائی کی خراب صورت حال سے پریشان عوام نے اب بجلی محکمہ کے خلاف آندولن کرنے کا اعلان کیا ہے ۔صارفین کا کہنا ہے کہ اگر بجلی کی سپلائی میں فوری طورپر سدھار نہیں کیا گیا تو وہ بجلی دفتر پر دھرنا دینے اور احتجاج کرنے کے لئے مجبور ہوجائیں گے ۔
وہیں صارفین نے بجلی افسران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی سپلائی بند ہونے کی سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع خبر عام ہونے کے گھنٹوں بعد تک بجلی انجینئر اور افسران اس مسئلہ کے حل کو سنجیدہ نہیں ہوتے ۔اور کئی کئی گھنٹوں کے بعد مسائل کے حل کرنے کی طرف توجہ دیتے ہیں بجلی سپلائی بند ہونے اور اندھیرے کی باعث لوگوں نے رات کے وقت پولیس گشت کو لے کر بھی سوالات اٹھائے ۔ان کا کہنا ہے کہ بجلی بند ہونے کی صورت میں حفاظتی نقطۂ نظر سے ان کی فکر مندی میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔بجلی صارفین اب بجلی افسران کے رد عمل کا انتظار کررہے ہیں کیونکہ گزشتہ تین مہینوں سے جاری بجلی سپلائی کی خراب صورت حال نے صارفین کے صبر کا پیمانہ لبریز کردیا ہے ۔

uttar pradesh

اسمبلی الیکشن 2027سے متعلق دیوبند کی سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ

Published

on

دیوبند:دیوبند اسمبلی حلقہ میں 2027میں ہونے والے الیکشن کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے لگی ہیں ۔سبھی سیاسی پارٹیاں اور گروپ اپنے اپنے دائو اور اعداد وشمار کے ساتھ میدان میں اترنے کی تیاریاں کررہی ہیں ۔
سماج وادی پارٹی ،آزاد سماج پارٹی ،مجلس اتحاد المسلمین ،اور کانگریس کی جانب سے بھی الیکشن سے متعلق بحث ومباحثہ جاری ہے ۔اسی درمیان بہوجن سماج پارٹی سے حاجی شاہد سہیل کانام بھی شہر میں گشت کررہا ہے ۔حالانکہ باقاعدہ طور سے ابھی اس کا اعلان نہیں کیا گیا ۔دیوبند میں فی الحال بی جے پاس قبضہ نگر پالیکا چیئرمین اور ایم ایل اے کے عہدے پر نمائندگی کی جارہی ہے۔
ایسی صورت میں اپوزیشن کے سامنے بی جے پی سے مقابلہ آرائی کی پالیسی تیار کرنا مشکل کام ہے ۔اپوزیشن کی سبھی پارٹیوں کی جانب سے بی جے پی کوشکست دینے کے دعوے ضرور کئے جارہے ہیں لیکن الگ الگ پارٹیوں کے میدان میں قسمت آزمائی کرنے سے ووٹوں کی تقسیم کے باعث نتائج متاثرہونا طے ہے ۔بہوجن سماج پارٹی کے پاس جو طے شدہ ووٹ ہیں وہی اس کے اصل اعداد وشمار ہیں ۔بہوجن سماج پارٹی کو سپورٹ کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی سیاسی پالیسی کے تحت ابتدائی سطح سے مضبوط اعداد وشمار کے مدنظر آگے بڑھتی ہے لیکن اصل فیصلہ الیکشن کے وقت اور ووٹنگ سے طے ہوتا ہے ۔فی الحال دیوبند کی سیاست میں بہوجن سماج پارٹی کی حاجی شاہد سہیل کا نام ممکنہ میدواروں میں لیا جارہا ۔پارٹی کی جانب سے فیصلہ لینے کے بعد حقیقت واضح ہوگی ۔

Continue Reading

uttar pradesh

مسجد کی زمین پر مرغاگینگ کی جانب سے قبضہ کئے جانے پر لوگوں میں شدید ناراضگی

Published

on

دیوبند: دیوبند کے قریبی گائوں ہاشم پورہ میں مذہبی مقامات اور عوامی جائیدادوں واراضی پر غیر قانونی طریقوں سے قبضہ کرنے والے گروہ کے حوصلے اب اتنے بلند ہوچکے ہیں کہ انہوںنے مسجد کی زمین کو بھی نہیں بخشا ہے ۔ہاشم پورہ گائوں میں نام نہاد مرغاگینگ کے سرغنہ اور اس کے زمین مافیاء ساتھیوں کی جانب سے مسجد کی زمین کا فرضی اور غیر قانونی طریقہ سے بیع نامہ اپنے قریبی لوگوں کے نام کرانے کا سنگین اور چونکانے والا معاملہ سامنے آیا ہے ۔اس خلاصہ کے بعد پورے علاقہ میں کشیدگی اور زبردست ناراضگی دیکھی جارہی ہے ۔سرکاری دستاویزات ،نقل اور شجرہ کے مطابق جس زمین کا پرانا خسرہ نمبر 1885تھا جو اب چک بندی کے سروے کے بعد 3130/3930نمبر کے ساتھ درج ہے ؛لیکن اب اس زمین کو فرضی دستاویزات تیار کرکے قبضانہ کی کوشش کی جارہی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ گائوں کے باشندے حمید ولد بخش نے مسجد کی زمین کو اپنے بیٹے پرویز کے نام بیع کردیا ہے ۔جب کہ یوسف ولد بخش نے اسی زمین کے فرضی دستاویزات تیارکرکے اسے اپنے پوتے افسر کے نام کردیا ہے ۔گرام پردھان عبدالستار نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مسجد کی ایک انچ زمین پر بھی زمین مافیائوں کا ناجائز قبضہ برداشت نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ گائوں اور مسجد کی اس امانت کی حفاظت کے لئے وہ تمام قانونی کارروائی کریں گے اور ان فرضی بیعناموں کو خارج کرائیں گے ۔انہوں نے بتایا کہ یہ مرغا گینگ اس سے قبل بھی زمینوں کی ہیرا پھیری اور فریب دہی میں ملوث رہ چکا ہے ۔اس سلسلہ میں ان کے خلاف دیوبند کوتوالی میں آئی پی سی 420کا مقدمہ پہلے سے درج ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ہاشم پورہ کے ایک تالاب پر قبضہ کرکے پانچ دکانیں غیر قانونی طریقہ سے تعمیر کرائی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ اس پورے نیٹ ورک میں عثمان عرف مرغا ،زاہد ،ارشاد ،وکیل ،فیضل ،یعقوب ،ساجد ،پرویز ،افسر ،حامد ،یوسف ،قیوم اور ایوب جیسے لوگ شامل ہیں جو پری پلان کے تحت دیوبند دیہات علاقہ میں ناجائز طریقہ سے زمینوں پر قبضہ کی وارداتوں کو انجام دے رہے ہیں ۔

Continue Reading

uttar pradesh

میں اہم تھا، یہی میرا وہم تھا، تدفین کے بعد سامنے آ جائے گی حقیقت

Published

on

آگرہ: مسجد نہر والی کے خطیب محمد اقبال نے خطبۂ جمعہ میں نمازیوں کو آخرت کی یاد دلاتے ہوئے دنیا کی حقیقت اور انسانی غفلت پر مؤثر گفتگو کی۔انہوں نے ایک جنازے میں شریک شخص کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ تدفین کے موقع پر قبرستان میں ایک قبر پر یہ جملہ لکھا دیکھا: میں اہم تھا، یہی میرا وہم تھا۔ یہ جملہ دیکھ کر میرے قدم چند لمحوں کے لیے رک گئے۔
خطیب محمد اقبال نے کہا کہ انسان دنیا میں عہدے، دولت، شہرت اور فالوورز کی وجہ سے خود کو بہت اہم سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ موت کے بعد انسان کو اپنی اصل حقیقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم دنیا کی زندگی کو کھیل، تماشا، زینت اور باہمی فخر قرار دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم سورۃ التکاثر میں انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ مال و جاہ کی کثرت کی طلب اسے غفلت میں ڈال دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ قبر تک پہنچ جاتا ہے۔ قبر میں انسان کا عہدہ، دولت اور شہرت کام نہیں آئے گی، بلکہ تقویٰ اور نیک اعمال کام آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بغیر دفتر، دکان، فیکٹری یا ادارہ نہیں چل سکتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی دنیا اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے۔
خطیب محمد اقبال نے کہا کہ اہم وہ نہیں جو لوگوں میں مشہور ہو، بلکہ اہم وہ ہے جو اللہ کے نزدیک مقبول ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انسان کی صورتوں اور مال کو نہیں بلکہ اس کے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔انہوں نے نمازیوں سے اپیل کی کہ دنیا کی خوش فہمی اور غفلت میں زندگی گزارنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا، تقویٰ اور نیک اعمال کے حصول کی کوشش کی جائے، کیونکہ حقیقی کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network