تازہ ترین
خواتین کا استحصال کرنے والے رہنماؤں کو تحفظ دیتی ہے کانگریس: بانسری سوراجدہلی بارش: دہلی-این سی آر میں موسلادھار بارش،موسم ہوا ٹھنڈاریکھا نےکیا سی ٹی اسکین اور تین ایم آر آئی مشینوں کا افتتاحنشہ آور اور سائیکو ٹراپک ادویات کی فروخت میں برتیں احتیاط،اسسٹنٹ ڈرگ کنٹرولر، سیوان کی صدارت میں منشیات سے نجات کی عوامی بیداری مہم کے تحت میٹنگ منعقد ہوئیخواتین سپروائزرز کی بحالی کے تعلق سے ضلع مجسٹریٹ کی صدارت میں سلیکشن کمیٹی کا اجلاسگنگوہ میں قتل کے بعد سیاسی طوفان ،گرفتاری کیلئے 3 دنوں کا الٹی میٹمعازمین حج و عمرہ کی تربیت انتہائی ضروریالائٹ جونیئر ہائی اسکول میں جشنِ عید میلاد النبی ؐ کے سلسلے میں مقابلہ نعت، تقریر اور کوئز کا انعقاد
uttar pradesh

وحشی سعید اور پروفیسر نذیر احمد ملک ڈاکٹر منظر کاظمی نیشنل ایوارڈسے ہوں گے سرفراز

میرٹھ:شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کی ایوارڈ کمیٹی نے ہر سال شعبے کی طرف سے دیے جانے والے ڈاکٹر منظر کاظمی نیشنل ایوارڈ ز کا اعلان کردیا ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے بتایا کہ امسال بارہواں ڈاکٹر منظر کاظمی نیشنل ایوارڈ برا ئے تخلیق معروف فکشن نگار وحشی سعید کو اور ڈاکٹر منظر کاظمی نیشنل ایوارڈ برائے تنقید پروفیسر نذیر احمد ملک کو پیش کیے جائیں گے اوریہ ایواڈ26ستمبر2026کو سری نگر میں ادبی تقریب کے دوران دیے جائیں گے۔ جن میں نشان یاد گار، سر ٹیفکٹ،شال اور روپے گیارہ گیارہ ہزارایوارڈیز کو پیش کیے جائیں گے۔
 واضح ہو کہ شعبہئ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ 2015ء سے معروف و مقبول جدید افسا نہ نگار ڈاکٹر منظر کاظمی کے نام پر دو قومی ایوارڈزتخلیق اور تنقید دیتا آ رہا ہے۔ یہ ایوارڈ ان ادیبوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے فکشن یا فکشن تنقید میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔ اب تک یہ ایوارڈاحمد رشید، سلام بن رزاق،نور الحسنین،بشیر مالیر کوٹلوی، دیپک بدکی،احمد رشید،پرویز شہریار، قدوس جاوید، ارتضیٰ کریم، صغیر افرا ہیم،خور شید حیات،ہمایوں اشرف، شہاب ظفر اعظمی، نعیم انیس،اشتیاق سعید،اور رفیق جعفر، وغیرہ کو دیا جاچکا ہے۔
امسال یہ ایوارڈ معروف تخلیق کار وحشی سعیدجن کے قلم نے ناولوں میں پتھر پتھر آئینے، ایک موسم کا خط،قحط،جائز ناجائز، فطرت محبت ندامت اور وحشتی محبت اور ان کے افسانوی مجمو عوں میں سڑک جارہی ہے،کنوارے الفاظ کا جزیرہ، خواب حقیقت، ماضی اور حال(تین جلدوں میں)آسماں میرے مٹھی میں، ارسطو کی واپسی، آخر کب تک اور شیشے کا سمندر جیسی تخلیقات لکھ کر اردو دنیا میں اپنی مستحکم شناخت قائم کی ہے اور معروف و مقبول ناقدپروفیسر نذیر احمد ملک جن کی تصنیفات میں کشمیری سر مایہ الفاظ کے سر چشمے۔اردو ررسم الخط: ارتقا اور جائزہ، ادب، ادبی تھیوری اور اسلوبیات، موجِ رنگ، اردو اور کشمیر کے لسانیاتی رشتے اور رابطے جیسی اہم کتب لکھ کر ادبی دنیا میں انفراد قائم کیاہے۔
پریس کانفرنس میں ڈاکٹر آصف علی، ڈا کٹر شاداب علیم، ڈا کٹر الکا وششٹھ، ڈاکٹر ارشاد سیانوی،فر حت ا ختر عرفان عارف اور سیدہ مریم الٰہی شامل رہے سعید احمد سہارنپوری اور محمد شمشاد۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔