تازہ ترین
محکمے سڑک کے سپرنٹنڈنگ انجینئر کے گھر پرچھاپے، پٹنہ سمیت 4 مقامات پر تلاشی، 10 لاکھ روپے نقد برآمدپٹنہ: ڈاک بنگلہ سے رُکن پورا تک چوڑی کی جائے گی سڑک ،توسیع کاری میں گرائی جائیں گی موریہ لوک اور کوتوالی تھانے کی دیواریںٹرین میں پیسے نہ دینے پر خواجہ سراؤں نے مسافرکو پیٹاجامعہ رحمانی کی علمی و دینی ساکھ کی حفاظت سب کی ذمہ داری، حضرت مولانا قاری سید حبیب احمد باندوی کی خانقاہ رحمانی، مونگیر حاضری، طلبہ و اساتذہ سے خصوصی خطابسہرسہ کے میونسپل کمشنر پربھات جھا معطل، بغیرکسی ٹینڈر کے کرا دیئے 8 کروڑ روپے کے کامیوپی کے مذہبی اقدار کو کچلنے کی ہورہی ہے سازش، مذہبی توہین کرنے والوں کا اتر پردیش کی سرزمین پرکوئی جگہ نہیں، باگیشور دھام کے بہانے اکھلیش یادو کاریاستی حکومت پر حملہرابطہ مدارس کے اجلاس میں منظور قرار دادیں مدارس کے لئے انتہائی اہمغیر ملکی ایپ کے ذریعے حوالہ کاری کا کاروبار، ٹھکانے لگائی گئی کروڑوں روپے کی کالی کمائی ، 15 افراد پولیس کی گرفت میں
uttar pradesh

وحشی سعید اور پروفیسر نذیر احمد ملک ڈاکٹر منظر کاظمی نیشنل ایوارڈسے ہوں گے سرفراز

میرٹھ:شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کی ایوارڈ کمیٹی نے ہر سال شعبے کی طرف سے دیے جانے والے ڈاکٹر منظر کاظمی نیشنل ایوارڈ ز کا اعلان کردیا ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے بتایا کہ امسال بارہواں ڈاکٹر منظر کاظمی نیشنل ایوارڈ برا ئے تخلیق معروف فکشن نگار وحشی سعید کو اور ڈاکٹر منظر کاظمی نیشنل ایوارڈ برائے تنقید پروفیسر نذیر احمد ملک کو پیش کیے جائیں گے اوریہ ایواڈ26ستمبر2026کو سری نگر میں ادبی تقریب کے دوران دیے جائیں گے۔ جن میں نشان یاد گار، سر ٹیفکٹ،شال اور روپے گیارہ گیارہ ہزارایوارڈیز کو پیش کیے جائیں گے۔
 واضح ہو کہ شعبہئ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ 2015ء سے معروف و مقبول جدید افسا نہ نگار ڈاکٹر منظر کاظمی کے نام پر دو قومی ایوارڈزتخلیق اور تنقید دیتا آ رہا ہے۔ یہ ایوارڈ ان ادیبوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے فکشن یا فکشن تنقید میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔ اب تک یہ ایوارڈاحمد رشید، سلام بن رزاق،نور الحسنین،بشیر مالیر کوٹلوی، دیپک بدکی،احمد رشید،پرویز شہریار، قدوس جاوید، ارتضیٰ کریم، صغیر افرا ہیم،خور شید حیات،ہمایوں اشرف، شہاب ظفر اعظمی، نعیم انیس،اشتیاق سعید،اور رفیق جعفر، وغیرہ کو دیا جاچکا ہے۔
امسال یہ ایوارڈ معروف تخلیق کار وحشی سعیدجن کے قلم نے ناولوں میں پتھر پتھر آئینے، ایک موسم کا خط،قحط،جائز ناجائز، فطرت محبت ندامت اور وحشتی محبت اور ان کے افسانوی مجمو عوں میں سڑک جارہی ہے،کنوارے الفاظ کا جزیرہ، خواب حقیقت، ماضی اور حال(تین جلدوں میں)آسماں میرے مٹھی میں، ارسطو کی واپسی، آخر کب تک اور شیشے کا سمندر جیسی تخلیقات لکھ کر اردو دنیا میں اپنی مستحکم شناخت قائم کی ہے اور معروف و مقبول ناقدپروفیسر نذیر احمد ملک جن کی تصنیفات میں کشمیری سر مایہ الفاظ کے سر چشمے۔اردو ررسم الخط: ارتقا اور جائزہ، ادب، ادبی تھیوری اور اسلوبیات، موجِ رنگ، اردو اور کشمیر کے لسانیاتی رشتے اور رابطے جیسی اہم کتب لکھ کر ادبی دنیا میں انفراد قائم کیاہے۔
پریس کانفرنس میں ڈاکٹر آصف علی، ڈا کٹر شاداب علیم، ڈا کٹر الکا وششٹھ، ڈاکٹر ارشاد سیانوی،فر حت ا ختر عرفان عارف اور سیدہ مریم الٰہی شامل رہے سعید احمد سہارنپوری اور محمد شمشاد۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔