دلی این سی آر
ملک امن وامان اورپیارومحبت سے چلے گانہ کہ فرقہ پرستی سے:مولانا ارشد مدنی
(پی این این)
نئی دہلی :جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کااجلاس عام میٹنگ ہال جمعیۃعلماء ہند مسجدجھیل پیاؤآئی ٹی او نئی دہلی میں منعقد ہوا جس میں دہلی کے علماء ائمہ مدارس کے ذمہ داران نیز عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی اجلاس کی صدارت مولانا محمد مسلم قاسمی صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی نے کی نظامت کے فرائض مفتی عبدالرازق مظاہری ناظم اعلی جمعیۃ علماء صوبہ دہلی نے انجام دیے قاری محمد ساجد فیضی کی تلاوت قرآن پاک سے اجلاس کا آغاز ہوا مفتی اشفاق اعظمی رکن عاملہ جمعیۃعلماء ہند نے جمعیۃ علماء ہند کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے جمعیۃ علماء سے وابسطہ ہوکر خدمت کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی مہمان خصوصی کی حیثیت سے کلیدی اور تفصیلی خطاب مولانا ارشد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند کا ہوا جس میں انہوں نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات پر فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے بطور خاص آسام کے وزیر اعلی کی فرقہ پرست ذہنیت پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ جس طرح سے ہندو اور مسلمان کے درمیان تفریق برتی جارہی ہے یہ جمہوری اور سیکولر ملک کے لیے نقصان دہ ہے آسام کا وزیر اعلی نے سیاسی مفاد کی خاطر مسلمانوں کو پریشان کرنے کا ہر حربہ استعمال کر رہا ہے کبھی آسام کی شہریت کی بنیاد 1971 کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے جس میں جمعیۃعلماء ہند کو سپریم کورٹ سے کامیابی ملی کبھی انکے مکانوں کو بلڈوز کراکر انکو بے گھر کردیا جاتا ہے جسکے خلاف جمعیۃ علماء ہند سپریم کورٹ جارہی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ہم تو پہلے دن سے ہی یہ کہتے آئے ہیں کہ ملک میں امن و امان کی بقا اور خوش حالی کے لیے ضروری ہے کہ ہندومسلم یکجہتی کے ایجنڈے پر چلاجائے۔فرقہ پرستی سے ہمیشہ ملک کو نقصان پہونچا ہے ہمارے اسلاف نے ہمیشہ دو قومی نظریہ کی مخالفت کرتے ہوئے متحدہ قومیت کی تائید کی اور ملک کی تقسیم کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے ہندوستان میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔فرقہ پرستوں کو منھ توڑ جواب دیتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ اس ملک میں بسنے والے تمام مسلمان یہیں کے رہنے والے ہیں کہیں باہر سے آئے ہوئے نہیں ہیں بلکہ ہمارے آباواجداد نے یہیں اسلام قبول کیا اسی لیے جو برادریاں ہندوؤں میں ہیں وہی مسلمانوں میں بھی ہیں۔
اجلاس میں شرکت کرنے والے مفتی سید معصوم ثاقب ناظم عمومی جمعیۃعلماء ہند۔مفتی اشفاق اعظمی نائب صدر جمعیۃ علماء اترپردیش۔مفتی محمد اسماعیل صدر جمعیۃ علماء مالیگاؤں ورکن عاملہ جمعیۃ علماء ہند۔مولانا عبدالرشید ناظم اعلی جمعیۃ علماء آسام۔مولانا محمد عباس ناظم اعلی جمعیۃ علماء بہار کے علاوہ قاری اسرارالحق قاسمی۔قاری دلشاد قمر مظاہری۔مفتی نظام الدین۔مفتی اسرارالحق مظاہری۔مفتی کفیل الرحمن۔مولانا عبداللہ۔وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں جبکہ دہلی کے تمام علاقوں سے بھاری تعداد میں علماء نے شرکت کی، اجلاس کا اختتام مولانا مدنی کی دعاپر دس بجے رات کو ہوا۔
دلی این سی آر
دہلی میں ای رکشا رجسٹریشن 15 مئی سے،کرایہ بھی ہوگا طے
(پی این این)
نئی دہلی : دہلی کے وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پنکج سنگھ نے تالکٹورا اسٹیڈیم میں منعقدہ ایک اہم میٹنگ میں کہا کہ دارالحکومت میں ای رکشا رجسٹریشن 15 مئی سے شروع ہو جائے گی۔ وزیر نے کہا کہ حکومت یا تو جامع ای رکشا پالیسی یا دارالحکومت کے لیے الگ خصوصی پالیسی پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔آج، ای-رکشہ مینوفیکچررز، ڈیلرز، اور ڈرائیور اپنے مطالبات کا اظہار کرنے کے لیے دارالحکومت کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں جمع ہوئے۔ اس سیمینار کو دہلی میں ای رکشہ ڈرائیوروں اور عام لوگوں کو راحت فراہم کرنے کی سمت میں ایک اہم پہل سمجھا جاتا ہے۔ دہلی حکومت اور الیکٹرک وہیکل فیڈریشن نے کئی بڑے فیصلوں اور تجاویز پر اتفاق کیا، جس سے مستقبل میں لاکھوں لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
الیکٹرک وہیکل فیڈریشن کے چیئرمین انوج شرما نے کہا، “ای-رکشہ ڈرائیوروں کی سہولت کو بڑھانے کے لیے، چارجنگ اسٹیشنز اور پارکنگ کی جگہوں کی ترقی پر ایک معاہدہ طے پایا ہے۔ اس سے نہ صرف ڈرائیوروں کو راحت ملے گی بلکہ ٹریفک کی روانی کو بھی ہموار کیا جائے گا۔ مزید برآں، ڈرائیوروں کو مالی طور پر مضبوط کرنے کے لیے قرضوں اور سبسڈی جیسی اسکیموں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔”میٹنگ میں کرایہ کے ڈھانچے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں ای رکشوں کا کم از کم کرایہ 10 سے 20 روپے کے درمیان مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ فیڈریشن نے ڈرائیوروں کے لیے یونیفارم نافذ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جسے فیڈریشن آدھی قیمت پر فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اس موقع پر کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس (CAIT) کے جنرل سکریٹری اور چاندنی چوک کے رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت میں ملک مسلسل ترقی کر رہا ہے اور حکومت روزگار فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ای رکشہ پالیسی اس انداز میں بنائی جائے گی جس سے کسی ڈرائیور کے روزگار پر کوئی اثر نہ پڑے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پالیسی بنانے سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز- ڈرائیورز، مینوفیکچررز، بیٹری اور چارجر کمپنیوں سے بات چیت کی جائے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایک متوازن اور موثر پالیسی کو لاگو کیا جا سکے۔
دلی این سی آر
گروگرام ڈپٹی میئر کاانتخابات پھر ملتوی
(پی این این)
گروگرام: ہریانہ کے گروگرام میونسپل کارپوریشن میں سینئر ڈپٹی میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں کے لیے طویل عرصے سے زیرالتوا انتخابات دوسری بار ملتوی ہو گئے۔ تقریباً سوا سال کے طویل انتظار کے بعد ہونے والے اس الیکشن کے تعلق سے سیاسی حلقوں میں کافی ہلچل تھی۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد کارپوریشن کمشنر نے انتخابات کے حوالے سے باضابطہ نوٹس جاری کیا تھا۔طے شدہ پروگرام کے مطابق انتخابی عمل صبح 11 بجے ہریانہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے کانفرنس ہال میں شروع ہونا تھا۔ اس کے لیے کونسلرز اور میونسپل کارپوریشن کے افسران موقع پر پہنچے لیکن میئر راج رانی ملہوترا طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے میٹنگ میں شامل نہ ہو سکیں۔ ان کی غیر موجودگی کے باعث میٹنگ ملتوی کر دی گئی اور انتخابات کو ایک بار پھر ٹال دیا گیا۔
اس الیکشن میں میونسپل کارپوریشن کے 36 منتخب کونسلرز کو اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرنا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق بی جے پی کے پاس 24 کونسلرز کے ساتھ واضح اکثریت ہے لیکن مقابلہ اپوزیشن سے زیادہ پارٹی کے اندر ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اصل ٹکراؤ دو اہم گروپوں کے درمیان ہے۔ ایک طرف مرکزی وزیر راؤ اندر جیت سنگھ کا خیمہ ہے، جبکہ دوسری طرف ہریانہ کے کابینہ وزیر راؤ نربیر سنگھ کے حامی سرگرم ہیں۔ دونوں ہی گروپ اپنے اپنے حامی کونسلرز کو ان اہم عہدوں پر فائز کروانے کی کوشش میں ہیں۔اب انتخابات کی نئی تاریخ کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔
انتخابات گروگرام میونسپل کارپوریشن کے اندر طاقت کی حرکیات اور سیاسی کشمکش کے درمیان ڈرامائی طور پر ملتوی کر دیے گئے۔ کونسلروں کے ایک بڑے اجتماع کے باوجود، میئر راج رانی ملہوترا، جو انتخابی افسر کے طور پر کام کر رہی تھیں، آخری لمحات میں بیمار ہو گئیں۔
نتخابات گروگرام میونسپل کارپوریشن کے اندر طاقت کی حرکیات اور سیاسی کشمکش کے درمیان ڈرامائی طور پر ملتوی کر دیے گئے۔ کونسلروں کے ایک بڑے اجتماع اور سخت حفاظتی حصار کے باوجود، میئر راج رانی ملہوترا، جو انتخابی افسر کے طور پر کام کر رہی تھیں، آخری لمحات میں بیمار ہو گئیں، جس کی وجہ سے پورا عمل روکنا پڑا۔
دلی این سی آر
پرویش واہی بنے دہلی میونسپل کارپوریشن کے میئر
(پی این این)
نئی دہلی:دہلی میونسپل کارپوریشن کے میئر کے انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ سینئر کونسلر پرویش واہی کو دہلی کا نیا میئر منتخب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کانگریس امیدوار ظہیر کو بڑے فرق سے شکست دی۔ میئر کے انتخاب میں کل 165 ایم پیز، ایم ایل ایز اور کونسلروں نے ووٹ دیا۔ تمام ووٹ درست پائے گئے۔ پرویش واہی کو 156 ووٹ ملے جبکہ کانگریس امیدوار ظہیر کو صرف 9 ووٹ ملے۔ اس طرح پرویش واہی نے 147 ووٹوں کے بھاری فرق سے کامیابی حاصل کی۔ ڈپٹی میئر کے عہدے کے لیے الگ سے کوئی الیکشن نہیں ہوا تھا اور اس عہدے کے لیے بی جے پی کی مونیکا پنت بلا مقابلہ منتخب ہو گئی تھیں۔
پرویش واہی روہنی ای وارڈ سے تین بار منتخب ہونے والے کونسلر ہیں اور اس وقت میونسپل کارپوریشن میں لیڈر آف ہاؤس کی ذمہ داری بھی سنبھال رہے تھے۔ بی جے پی نے 23 اپریل کو نامزدگی کے آخری دن انہیں میئر کے امیدوار کے طور پر اعلان کیا تھا۔ اسی کے ساتھ مونیکا پنت کو نائب میئر کے لیے امیدوار بنایا گیا تھا۔نامزدگی داخل کرتے وقت پرویش واہی نے پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دہلی کو صاف، خوبصورت اور بہتر بنانے کے لیے پوری لگن کے ساتھ کام کریں گے۔ ان کے مطابق شہری سہولیات کو بہتر بنانا اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر1 year agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار5 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
بہار11 months agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ1 year agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ1 year agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
