پٹنہ:(پی این این)بہار کے ضلع مظفرپور پولیس فورس کی سابق خاتون سپاہی بیبی کماری کو بدعنوانی کے معاملے میں پانچ سال کی سخت قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ بیبی کماری پر 16 لاکھ 25 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ مظفرپور میں واقع خصوصی نگرانی عدالت کے جج سمن کمار دیواکر نے پیر کے روز یہ سزا سنائی۔ سال 2012 میں نگرانی بیورو نے ان کے خلاف 35.42 لاکھ روپے کے معلوم آمدنی سے زائد اثاثوں کا مقدمہ درج کیا تھا۔
عدالت نے ملزمہ کو تعزیراتِ ہند اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی سات مختلف دفعات کے تحت الگ الگ سزائیں سنائی ہیں۔ تمام سزائیں بیک وقت نافذ ہوں گی۔ نگرانی بیورو نے سال 2012 میں خاتون سپاہی کے خلاف 35.42 لاکھ روپے سے زائد کے معلوم آمدنی سے غیر متناسب اثاثے جمع کرنے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کی تھیں۔ اس مقدمے میں استغاثہ کی جانب سے مجموعی طور پر 11 گواہوں کے بیانات قلم بند کرائے گئے۔ خصوصی نگرانی عدالت نے 5 اکتوبر کو ملزمہ کو قصوروار قرار دیتے ہوئے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔
نگرانی بیورو نے بتایا کہ مظفرپور رینج کی تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر سال 2012 میں بیبی کماری کے خلاف 35,42,955 روپے کے غیر متناسب اثاثے جمع کرنے کے الزام میں مقدمہ (خصوصی مقدمہ نمبر 12/2012) درج کیا گیا تھا۔ اس وقت کے تفتیشی افسر سینئر ڈی ایس پی اشونی کمار نے چارج شیٹ داخل کی تھی۔ استغاثہ کی جانب سے 11 گواہوں کے بیانات قلم بند کرائے گئے۔ اس مقدمے میں دو دیگر ملزمان شکنتلا دیوی اور سشیل کمار کے خلاف الگ سے سیشن ٹرائل جاری ہے۔
عدالت نے ملزمہ بیبی دیوی کو انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1988 کی دفعہ 13(1)(ای) مع دفعہ 13(2) کے تحت پانچ سال قید اور 7.50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ اس کے علاوہ تعزیراتِ ہند کی دفعہ 409 کے تحت تین سال قید اور 25 ہزار روپے جرمانہ، دفعہ 420 کے تحت تین سال قید اور 25 ہزار روپے جرمانہ، دفعہ 467 کے تحت تین سال قید اور 25 ہزار روپے جرمانہ، دفعہ 468 کے تحت تین سال قید اور 25 ہزار روپے جرمانہ، دفعہ 471 کے تحت تین سال قید اور 25 ہزار روپے جرمانہ، جب کہ دفعہ 120(بی) کے تحت پانچ سال قید اور 7.50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ جرمانے کی رقم جمع نہ کرنے کی صورت میں ایک سال کی سادہ قید بھگتنی ہوگی۔ نگرانی کے ڈی جی جتیندر سنگھ گنگوار نے بتایا کہ سال 2026 میں اب تک بدعنوانی کے مجموعی طور پر 22 مقدمات میں عدالت نے سرکاری ملازمین کو قصوروار قرار دیا ہے۔
جھارکھنڈ کی علیحدہ ریاست بننے کے بعد، یعنی سال 2000 سے 2024 تک کے عرصے کے مقابلے میں یہ سزا سنائے جانے کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ سال 2000 سے 2024 تک کے 25 برسوں میں اوسطاً ہر سال صرف 5.6 مقدمات میں سزائیں سنائی گئی تھیں، جب کہ سال 2026 میں اب تک یہ تعداد مذکورہ اوسط سے 293 فیصد زیادہ رہی ہے۔
