Connect with us

uttar pradesh

ہندو شرپسندوں کانہنگ سکھ افراد پر حملہ

Published

on

(پی این این)
دیوبند:دیوبند کے قریبی بستی تلہیڑی بزرگ میں دو نہنگ سکھوں پر 15سے 20 شرپسندنوجوانوں نے حملہ کرکے اور مارپیٹ کرکے شدید زخمی کردیا۔ بائک سوار سکھوں کے ساتھ مارپیٹ کرنے والے شرپسندوں نے ان کی پگڑیاں کھینچ لیں اور ان کی تلواریں وکرپان بھی چھیننے کی کوشش کی۔
اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی، پولیس کو دیکھتے ہی شرپسند نوجوان وہاں سے بھاگ نکلے۔ زخمی سکھ نوجوانوں کو اسپتال لے جاکر ان کاعلاج کرایا گیا۔ اس واقعہ کے بعد سکھ سماج میں زبردست غصہ ہے۔ سکھو ں کی ایک بڑی تعداد دیوبند کوتوالی پہنچ گئی اور انہوں نے شرپسندوں کے خلاف فوری طور پر سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ بتایا گیا کہ نکوڑ کے محلہ چودھریان کے رہنے والے نہنگ سنگھ اور ہرکرت سنگھ دو سکھ حقیقی بھائی اپنی والدہ کسم دیوی اور بھتیجے دیپک کے ساتھ بذریعہ موٹرسائیکل دوا لینے کے لئے جارہے تھے کہ تلہیڑی بزرگ میں ان کی بائک سامنے سے آرہی دوسری بائک سے ٹکرا گئی۔ اسی بات کو لے کر کہا سنی ہوئی اور موقع پر لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔
دیکھتے ہی دیکھتے تنازعہ بڑھ گیا ، زخمی نہنگ سنگھ نے بتایا کہ تقریباً 20شرپسند نوجوانوں کے ٹولے نے انہیں گھیر لیا اور ان کے ساتھ بری طرح مارپیٹ کرکے شدید طور پر زخمی کردیا۔ شرپسندوں نے ان کی پگڑیاں کھینچ لیں اور ان کی قیمتیں تلواریں اور کرپان بھی چھیننے کی کوشش کی۔ مارپیٹ کے اس واقعہ کی خبر پھیلتے ہی سکھ سماج میں غصہ اور اضطراب پھیل گیا اور کچھ ہی دیر میں گردوارہ کمیٹی کے سکریٹری گرجوت سنگھ سیٹھی بڑی تعداد میں موقع پر پہنچے اور انہوں نے دیوبند کوتوالی احاطہ میں پہنچ کر حملہ آوروں کو گرفتار کرنے اورسخت قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
سکھوں نے پولیس انتظامیہ اور اعلیٰ افسران کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگرحملہ آوروں کو گرفتار نہیں کیا گیا اور معاملہ کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی تو سکھ سماج انتقامی کارروائی کرے گا،جس کی پوری ذمہ داری حکومت وانتظامیہ کی ہوگی۔ اس موقع پر بابا رنجیت سنگھ، نریندر سنگھ، مونی سنگھ، موہت ملہوترا، بلدیپ سنگھ ، شیام لال بھارتی، ہریندر سنگھ بیدی، ایشور سنگھ، کرم جیت سنگھ وغیرہ موجود رہے۔ متأثرہ پرم جوت سنگھ نے تحریر کی بنیاد پرپولیس نے دو لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔

uttar pradesh

یونیورسٹی میں داخلہ شخصیت سازی اور فکری بالیدگی کے نئے سفر کا آغاز

Published

on

لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں آج نو وارد طلبہ کے لیے ایک جامع اور بامقصد اورینٹیشن پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد طلبہ کو نہ صرف شعبے کی علمی فضا اور تحقیقی روایت سے واقف کرانا تھا بلکہ انھیں تعلیم کے عملی تقاضوں، شعبہ جاتی سرگرمیوں، اور مستقبل کے امکانات سے روشناس کرانا بھی تھا تاکہ وہ اعلیٰ تعلیم کے سفر کا آغاز اعتماد، شعور اور واضح رہنمائی کے ساتھ کر سکیں۔اس اورینٹیشن پروگرام میں ریسرچ اسکالر راشدہ خاتون نے تمام نووارد طلبہ کا گرم جوشی خیر مقدم کرتے ہوئے شعبے کے تعلیمی اور ادبی ماحول سے روشناس کرایا۔
اس پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر ثوبان سعید نے نووارد طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں داخلہ محض ایک نئے تعلیمی مرحلے کا آغاز نہیں بلکہ شخصیت سازی، علمی وسعت اور فکری بالیدگی کے ایک نئے سفر کی ابتدا ہے۔
انھوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم کو صرف نصابی کتابوں اور امتحانات تک محدود نہ رکھیں بلکہ مطالعہ، تحقیق، تخلیقی اظہار اور علمی سرگرمیوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ انھوں نے کہا کہ شعبۂ اردو طلبہ کو زبان و ادب کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تنقیدی شعور، تحقیقی مزاج اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔
پروفیسر ثوبان سعید نے نووارد طلبہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ شعبۂ اردو میں ان کے لیے ایک ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی جہاں وہ اپنی علمی، تحقیقی، ادبی اور تخلیقی صلاحیتوں کو آزادانہ طور پر پروان چڑھا سکیں۔ انھوں نے طلبہ کو یقین دلایا کہ شعبہ ان کی تعلیمی رہنمائی، تحقیقی تربیت اور مستقبل کے تعلیمی و پیشہ ورانہ امکانات کے سلسلے میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
پروگرام کے دوران نووارد طلبہ کو شعبۂ اردو کے تعلیمی پروگراموں، نصاب، تدریسی طریقۂ کار، امتحانی نظام، حاضری، داخلی تشخیص، تحقیقی سرگرمیوں، کتب خانے اور دیگر تعلیمی سہولیات کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔ طلبہ کو یونیورسٹی کی مختلف کمیٹیوں، ادبی و ثقافتی سرگرمیوں، این ایس ایس، کھیلوں اور دیگر ہم نصابی پروگراموں میں شرکت کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
اس اورینٹیش پروگرام میں ڈاکٹر محمد اکمل نے کہا کہ اردو زبان و ادب ہماری تہذیبی اور ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہے اور اس کے مطالعے کے ذریعے طلبہ نہ صرف ادبی روایت سے واقف ہوتے ہیں بلکہ معاشرے، تاریخ، تہذیب اور انسانی اقدار کو سمجھنے کی صلاحیت بھی حاصل کرتے ہیں۔ڈاکٹر محمد اعظم انصاری نے نووارد طلبہ کو شعبے کی مختلف علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں فعال طور پر حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ سیمینار، مذاکرے، ادبی نشستیں، مشاعرے، تقریری و تحریری مقابلے، مضمون نویسی، بیت بازی، ڈراما، ثقافتی پروگرام اور دیگر ہم نصابی سرگرمیاں طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اس موقع پر ڈاکٹر منور حسین یونیورسٹی کی وسیع تر علمی و ثقافتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لینگویج یونیورسٹی طلبہ کو مختلف شعبہ ہائے علم کے ساتھ بین الشعبہ جاتی اور ثقافتی سرگرمیوں میں شرکت کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے قومی و بین الاقوامی سیمینار، ورکشاپس، کانفرنسیں، ادبی و ثقافتی پروگرام، کھیلوں کی سرگرمیاں، این ایس ایس کے تحت سماجی و فلاحی مہمات، قومی و بین الاقوامی دنوں کی مناسبت سے منعقد ہونے والے پروگرام اور مختلف تخلیقی و علمی مقابلے طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر موسی رضا نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اساتذہ سے مسلسل علمی رابطہ رکھیں، کتب خانہ اور دیگر علمی وسائل سے بھرپور استفادہ کریں اور اپنی دلچسپی کے میدان میں باقاعدہ مطالعہ اور تحقیق کی عادت پیدا کریں۔اس موقع پرڈاکٹر سدھارت سدیپ اور ڈاکٹر عبدالرحمٰن نے بھی اظہار خیال کیااور ساتھ شعبۂ کمپیوٹر سائنس کے ڈاکٹر رضا عباس حیدری نے اپار آئی ڈی اور دوسرے ٹیکنیکل معلومات فراہم کی۔اس پروگرام کے آخر میں نووارد طلبہ نے مختصر طور پر اپنا تعارف پیش کیا۔اس پروگرام کی نظامت ریسرچ اسکالر حسن اکبراور شکریے کے کلمات ریسرچ اسکالر طاہرہ خاتون نے انجام دیا۔اس پروگرام میںڈاکٹر عارف عباس،ڈاکٹر ظفرالنقی اور ڈاکٹر عبد الحفیظکے علاوہ طلبہ بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔

Continue Reading

uttar pradesh

وحشی سعید اور پروفیسر نذیر احمد ملک ڈاکٹر منظر کاظمی نیشنل ایوارڈسے ہوں گے سرفراز

Published

on

میرٹھ:شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کی ایوارڈ کمیٹی نے ہر سال شعبے کی طرف سے دیے جانے والے ڈاکٹر منظر کاظمی نیشنل ایوارڈ ز کا اعلان کردیا ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے بتایا کہ امسال بارہواں ڈاکٹر منظر کاظمی نیشنل ایوارڈ برا ئے تخلیق معروف فکشن نگار وحشی سعید کو اور ڈاکٹر منظر کاظمی نیشنل ایوارڈ برائے تنقید پروفیسر نذیر احمد ملک کو پیش کیے جائیں گے اوریہ ایواڈ26ستمبر2026کو سری نگر میں ادبی تقریب کے دوران دیے جائیں گے۔ جن میں نشان یاد گار، سر ٹیفکٹ،شال اور روپے گیارہ گیارہ ہزارایوارڈیز کو پیش کیے جائیں گے۔
 واضح ہو کہ شعبہئ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ 2015ء سے معروف و مقبول جدید افسا نہ نگار ڈاکٹر منظر کاظمی کے نام پر دو قومی ایوارڈزتخلیق اور تنقید دیتا آ رہا ہے۔ یہ ایوارڈ ان ادیبوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے فکشن یا فکشن تنقید میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔ اب تک یہ ایوارڈاحمد رشید، سلام بن رزاق،نور الحسنین،بشیر مالیر کوٹلوی، دیپک بدکی،احمد رشید،پرویز شہریار، قدوس جاوید، ارتضیٰ کریم، صغیر افرا ہیم،خور شید حیات،ہمایوں اشرف، شہاب ظفر اعظمی، نعیم انیس،اشتیاق سعید،اور رفیق جعفر، وغیرہ کو دیا جاچکا ہے۔
امسال یہ ایوارڈ معروف تخلیق کار وحشی سعیدجن کے قلم نے ناولوں میں پتھر پتھر آئینے، ایک موسم کا خط،قحط،جائز ناجائز، فطرت محبت ندامت اور وحشتی محبت اور ان کے افسانوی مجمو عوں میں سڑک جارہی ہے،کنوارے الفاظ کا جزیرہ، خواب حقیقت، ماضی اور حال(تین جلدوں میں)آسماں میرے مٹھی میں، ارسطو کی واپسی، آخر کب تک اور شیشے کا سمندر جیسی تخلیقات لکھ کر اردو دنیا میں اپنی مستحکم شناخت قائم کی ہے اور معروف و مقبول ناقدپروفیسر نذیر احمد ملک جن کی تصنیفات میں کشمیری سر مایہ الفاظ کے سر چشمے۔اردو ررسم الخط: ارتقا اور جائزہ، ادب، ادبی تھیوری اور اسلوبیات، موجِ رنگ، اردو اور کشمیر کے لسانیاتی رشتے اور رابطے جیسی اہم کتب لکھ کر ادبی دنیا میں انفراد قائم کیاہے۔
پریس کانفرنس میں ڈاکٹر آصف علی، ڈا کٹر شاداب علیم، ڈا کٹر الکا وششٹھ، ڈاکٹر ارشاد سیانوی،فر حت ا ختر عرفان عارف اور سیدہ مریم الٰہی شامل رہے سعید احمد سہارنپوری اور محمد شمشاد۔
Continue Reading

uttar pradesh

اسمبلی الیکشن 2027سے متعلق دیوبند کی سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ

Published

on

دیوبند:دیوبند اسمبلی حلقہ میں 2027میں ہونے والے الیکشن کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے لگی ہیں ۔سبھی سیاسی پارٹیاں اور گروپ اپنے اپنے دائو اور اعداد وشمار کے ساتھ میدان میں اترنے کی تیاریاں کررہی ہیں ۔
سماج وادی پارٹی ،آزاد سماج پارٹی ،مجلس اتحاد المسلمین ،اور کانگریس کی جانب سے بھی الیکشن سے متعلق بحث ومباحثہ جاری ہے ۔اسی درمیان بہوجن سماج پارٹی سے حاجی شاہد سہیل کانام بھی شہر میں گشت کررہا ہے ۔حالانکہ باقاعدہ طور سے ابھی اس کا اعلان نہیں کیا گیا ۔دیوبند میں فی الحال بی جے پاس قبضہ نگر پالیکا چیئرمین اور ایم ایل اے کے عہدے پر نمائندگی کی جارہی ہے۔
ایسی صورت میں اپوزیشن کے سامنے بی جے پی سے مقابلہ آرائی کی پالیسی تیار کرنا مشکل کام ہے ۔اپوزیشن کی سبھی پارٹیوں کی جانب سے بی جے پی کوشکست دینے کے دعوے ضرور کئے جارہے ہیں لیکن الگ الگ پارٹیوں کے میدان میں قسمت آزمائی کرنے سے ووٹوں کی تقسیم کے باعث نتائج متاثرہونا طے ہے ۔بہوجن سماج پارٹی کے پاس جو طے شدہ ووٹ ہیں وہی اس کے اصل اعداد وشمار ہیں ۔بہوجن سماج پارٹی کو سپورٹ کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی سیاسی پالیسی کے تحت ابتدائی سطح سے مضبوط اعداد وشمار کے مدنظر آگے بڑھتی ہے لیکن اصل فیصلہ الیکشن کے وقت اور ووٹنگ سے طے ہوتا ہے ۔فی الحال دیوبند کی سیاست میں بہوجن سماج پارٹی کی حاجی شاہد سہیل کا نام ممکنہ میدواروں میں لیا جارہا ۔پارٹی کی جانب سے فیصلہ لینے کے بعد حقیقت واضح ہوگی ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network