(پی این این)
پٹنہ:پٹنہ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ شادی شدہ خاتون امیدوار کا ذات سرٹیفکیٹ محض اس بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں والد کے بجائے شوہر کا نام درج ہے۔ ذات پیدائشی طور پر ملتی ہے اور سرٹیفکیٹ صرف اس کی تصدیق کرتا ہے۔
جسٹس موہت کمار شاہ اور جسٹس سورندر پانڈے پر مشتمل ڈویژن بنچ نے بہار پبلک سروس کمیشن (بی پی ایس سی) کی جانب سے دائر اپیل مسترد کر دی۔ یہ معاملہ ڈاکٹر سشما شرن سے متعلق تھا، جنہیں بہار پبلک سروس کمیشن نے محض اس وجہ سے ریزرویشن کا فائدہ دینے سے انکار کر دیا تھا کہ ان کے ذات سرٹیفکیٹ میں والد کے بجائے شوہر کا نام درج تھا۔عدالت نے واضح طور پر کہا کہ تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو ریزرویشن کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ درخواست گزار نے بی پی ایس سی کے اشتہار نمبر 20/2017 کے تحت شعبۂ امراضِ نسواں و زچگی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے کے لیے درج فہرست ذات کی خواتین کے کوٹے کے تحت درخواست دی تھی۔ 28 فروری 2018 کو ان کا انٹرویو ہوا، جبکہ 8 اگست 2019 کو نتیجہ جاری کیا گیا، جس میں ان کا نام شامل نہیں تھا۔ بی پی ایس سی کا موقف تھا کہ درخواست گزار کی جانب سے پیش کیے گئے ذات سرٹیفکیٹ میں والد کے بجائے شوہر کا نام درج تھا۔ والد کے نام سے ذات سرٹیفکیٹ پیش نہ کیے جانے کی وجہ سے ان کی امیدواری کو غیر محفوظ زمرے (جنرل کیٹیگری) میں شمار کر دیا گیا تھا۔
دوسری جانب خاتون نے عدالت کو بتایا کہ اشتہار میں ایسی کوئی شرط نہیں تھی کہ ذات سرٹیفکیٹ میں والد ہی کا نام درج ہونا ضروری ہے۔ ان کے والد اور شوہر دونوں درج فہرست ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے بھی جاری کردہ اشتہار کی بنیاد پر ہی اپنا فیصلہ سنایا تھا۔
ڈویژن بنچ نے کہا کہ اشتہار میں والد کے نام سے ذات سرٹیفکیٹ پیش کرنے کی کوئی شرط عائد نہیں کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ سب ڈویژنل افسر کا عہدہ سرکل آفیسر سے اعلیٰ ہوتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ محض تکنیکی وجوہات کی بنا پر کسی کو ریزرویشن کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے سنگل بنچ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے بی پی ایس سی کو ہدایت دی کہ خاتون ڈاکٹر کی تقرری ریزرویشن کے زمرے کے تحت کی جائے۔
ہائی کورٹ نے بہار کی خواتین کودی بڑی راحت، ذات سرٹیفکیٹ میں شوہر کا نام درج ہونے کے باوجودبھی ملے گا ریزرویشن کا فائدہ
