تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
دیش

ڈیفالٹ ضمانت کی عرضداشت پر میرٹ کی بنیاد پر جلد از جلد کی جائے سماعت

دہشت گردی کے الزام میں 2 برس سے قید محمد کامل کے معاملے میں لکھنؤ ہائی کورٹ کو سپریم کورٹ کی ہدایت
(پی این این)
نئی دہلی:اتر پردیش اے ٹی ایس کی جانب سے دہشت گردی کے سنگین الزامات کے تحت گرفتار محمد کامل کی ضمانت عرضداشت پر جلد از جلد سماعت کیئے جانے کا سپریم کورٹ آف انڈیا نے لکھنؤ ہائی کورٹ کو حکم دیا۔قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس ستیش چند ر شرما نے ملزم محمد کامل کی پیروی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ گور واگروال کی بحث کی سماعت کے بعد حکم جاری کیا۔ عدالت نے لکھنؤ ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ ملزم محمد کامل کی جانب سے ڈیفالٹ ضمانت عرضداشت داخل کرنے میں ہونے والی تاخیر کو نظر انداز کرتے ہوئے ملزم کی ڈیفالٹ ضمانت عرضداشت پر میرٹ کی بنیاد پر سماعت کرے اور فیصلہ صادر کرے۔ عدالت نے ملزم کے مقدمہ کی سماعت تین ماہ میں مکمل کیئے جانے کا حکم ہائی کورٹ کو جاری کیا۔
ملزم محمد کامل کے مقدمہ کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر کررہی ہے۔سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے سے ملزم محمد کامل کو بڑی راحت ملی ہے کیونکہ گذشتہ دو سالوں سے اس کی ضمانت کی عرضداشت پر ہائی کورٹ اس لیئے سماعت نہیں کررہی تھی کیونکہ تاخیر والا ایشو سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا۔ ملزم محمد کامل نے یو اے پی اے قانون کی دفعہ 43(d) اورکریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 167(2)کے تحت تفتیشی ایجنسی کی جانب سے 90؍ دنوں میں اس کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں نہیں داخل کیئے جانے کو چیلنج کرتے ہوئے ڈیفالٹ ضمانت کی درخواست کی ہے لیکن چونکہ ملزم نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو 30؍ دنوں کے اندر چیلنج نہیں کیا تھا ہائی کورٹ نے اس کی پٹیشن پر سماعت کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے خلاف سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی گئی تھی جس پر آج اہم سماعت عمل میں آئی۔
ملزم محمد کامل کے ساتھ گرفتار دیگر ملزمین پر یو پی اے ٹی ایس نے القاعدہ نامی ممنوعہ دہشت گرد تنظیم سے جڑے ہونے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔اس مقدمہ میں گرفتار دیگر ملزمین کی ڈیفالٹ ضمانت دو سال قبل ہی لکھنؤ ہائی کورٹ نے منظور کرلی تھی لیکن اس وقت ملزم محمد کامل نے ڈیفالٹ عرضداشت داخل کرنے میں تاخیر کردی تھی جس کی بنیاد پر ہائی کورٹ نے اس کے مقدمہ کی سماعت کرنے سے انکار کردیا تھا۔ چونکہ اب ملزم محمد کامل کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کیئے جانے کا سپریم کور ٹ آف انڈیا نے راستہ صاف کردیا ہے ، امید ہے کہ لکھنؤ ہائی کورٹ ملزم کی ڈیفالٹ عرضداشت پر جلد از جلد سماعت کریگی۔
محمد کامل کی عرضداشت ایڈوکیٹ آن ریکارڈ چاند قریشی نے سپریم کورٹ نے داخل کی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ دوران سماعت سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال کی معاونت ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ مجاہد احمد و دیگر نے کی۔ 27؍ ستمبر 2022؍ کو لکھنؤ کے گومتی نگر پولس اسٹیشن نے ملزم محمد کامل سمیت دیگر ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 121A،123؍ اور یو اے پی اے قانون کی دفعات 13,18,20,38کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس کا نمبر 4/2022ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔