Connect with us

دیش

ڈیفالٹ ضمانت کی عرضداشت پر میرٹ کی بنیاد پر جلد از جلد کی جائے سماعت

Published

on

دہشت گردی کے الزام میں 2 برس سے قید محمد کامل کے معاملے میں لکھنؤ ہائی کورٹ کو سپریم کورٹ کی ہدایت
(پی این این)
نئی دہلی:اتر پردیش اے ٹی ایس کی جانب سے دہشت گردی کے سنگین الزامات کے تحت گرفتار محمد کامل کی ضمانت عرضداشت پر جلد از جلد سماعت کیئے جانے کا سپریم کورٹ آف انڈیا نے لکھنؤ ہائی کورٹ کو حکم دیا۔قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس ستیش چند ر شرما نے ملزم محمد کامل کی پیروی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ گور واگروال کی بحث کی سماعت کے بعد حکم جاری کیا۔ عدالت نے لکھنؤ ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ ملزم محمد کامل کی جانب سے ڈیفالٹ ضمانت عرضداشت داخل کرنے میں ہونے والی تاخیر کو نظر انداز کرتے ہوئے ملزم کی ڈیفالٹ ضمانت عرضداشت پر میرٹ کی بنیاد پر سماعت کرے اور فیصلہ صادر کرے۔ عدالت نے ملزم کے مقدمہ کی سماعت تین ماہ میں مکمل کیئے جانے کا حکم ہائی کورٹ کو جاری کیا۔
ملزم محمد کامل کے مقدمہ کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر کررہی ہے۔سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے سے ملزم محمد کامل کو بڑی راحت ملی ہے کیونکہ گذشتہ دو سالوں سے اس کی ضمانت کی عرضداشت پر ہائی کورٹ اس لیئے سماعت نہیں کررہی تھی کیونکہ تاخیر والا ایشو سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا۔ ملزم محمد کامل نے یو اے پی اے قانون کی دفعہ 43(d) اورکریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 167(2)کے تحت تفتیشی ایجنسی کی جانب سے 90؍ دنوں میں اس کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں نہیں داخل کیئے جانے کو چیلنج کرتے ہوئے ڈیفالٹ ضمانت کی درخواست کی ہے لیکن چونکہ ملزم نے خصوصی عدالت کے فیصلے کو 30؍ دنوں کے اندر چیلنج نہیں کیا تھا ہائی کورٹ نے اس کی پٹیشن پر سماعت کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے خلاف سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی گئی تھی جس پر آج اہم سماعت عمل میں آئی۔
ملزم محمد کامل کے ساتھ گرفتار دیگر ملزمین پر یو پی اے ٹی ایس نے القاعدہ نامی ممنوعہ دہشت گرد تنظیم سے جڑے ہونے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔اس مقدمہ میں گرفتار دیگر ملزمین کی ڈیفالٹ ضمانت دو سال قبل ہی لکھنؤ ہائی کورٹ نے منظور کرلی تھی لیکن اس وقت ملزم محمد کامل نے ڈیفالٹ عرضداشت داخل کرنے میں تاخیر کردی تھی جس کی بنیاد پر ہائی کورٹ نے اس کے مقدمہ کی سماعت کرنے سے انکار کردیا تھا۔ چونکہ اب ملزم محمد کامل کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کیئے جانے کا سپریم کور ٹ آف انڈیا نے راستہ صاف کردیا ہے ، امید ہے کہ لکھنؤ ہائی کورٹ ملزم کی ڈیفالٹ عرضداشت پر جلد از جلد سماعت کریگی۔
محمد کامل کی عرضداشت ایڈوکیٹ آن ریکارڈ چاند قریشی نے سپریم کورٹ نے داخل کی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ دوران سماعت سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال کی معاونت ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ مجاہد احمد و دیگر نے کی۔ 27؍ ستمبر 2022؍ کو لکھنؤ کے گومتی نگر پولس اسٹیشن نے ملزم محمد کامل سمیت دیگر ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 121A،123؍ اور یو اے پی اے قانون کی دفعات 13,18,20,38کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس کا نمبر 4/2022ہے۔

دیش

آسام میں سیلاب سے 61 ہلاک،8لاکھ افراد متاثر،گجرات میں بھار ی بارش سے 8کی موت،تمام تعلیمی ادارے بند

Published

on

گوہاٹی/احمد آباد:آسام میں سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 61 سے تجاوز کرگئی ہے۔چوبیس  گھنٹے میں 15 لوگوں کی موت کی خبریں ہیں۔ ریاست کے بارہ اضلاع زیر آب ہیں۔8 لاکھ سے زائد کو دوسری جگہ منتقل کرایا گیا ہے۔ادھر گجرات میں بھی بارش نے تباہی مچائی ہے۔ وہاں مسلسل بارش ہورہی ہے۔ 50 ہزار سے زائد لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔بارش سے جڑے حادثات میں 8 لوگوں کی موت کی خبریں ہین۔ احمد آباد میں تمام اسکول ، کالج، آنگن باڑی ودیگر تعلیمی ادارے بند کردیے گئے۔ادھر اترپردیش اور راجستھان میں بھی بارش کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔اترپردیش میں گزشتہ پندرہ دنوں سے لگاتار بارش ہورہی ہے،آج تیس اضلاع میں زبردست بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ راجستھان میں بھی بارش کا دور جاری ہے۔محکمہ موسمیات نے ریاست کے مختلف حصوں کے لئے الرٹ جاری کردیا ہے۔ حالانکہ جموں وکشمیر میں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے آمدورفت ٹھپ تھی لیکن اب چھ دنوں کے بعد آمدورفت جاری ہوئی ہے۔ امرناتھ یاترا بھی شروع کردی گئی ہے۔

Continue Reading

دیش

سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میںشامل کرنے کا معاملہ، فیصلہ محفوظ

Published

on

نئی دہلی:رائوایونیو کورٹ نے سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کئے جانے سے منسلک نظرثانی اپیل پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ ہندوستانی شہریت ملنے سے پہلے سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ عرضی دہندہ نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جسے مجسٹریٹ نے خارج کردیا تھا۔ اسی حکم کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کی ۔کانگریس کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ ایسی عرضیاں داخل کی جاتی ہیں تاکہ شہرت مل سکے۔ یہ سب سیاست کا ایک حصہ ہے۔ سونیا گاندھی کے کردار پر کوئی انگلیاں نہیں اٹھا سکتا ، اسی طرح ان کی شہریت اور حب الوطنی بھی ایک مثال ہے۔

Continue Reading

دیش

ہندوستان کے ماضی ہیں وزیر اعظم نریندر مودی،ماضی کبھی مستقبل کا نہیں کرسکتا مقابلہ،راہل گاندھی سمیت اپوزیشن رہنمائوں کا ردعمل

Published

on

نئی دہلی: وزیر تعلیم پردھان کے استعفیٰ کے بعد اپوزیشن میں جشن کا ماحول ہے۔کانگریس نے کہا ہے کہ یہ سچ کی جیت ہے، وزیر اعظم کی ضد ہار چکی ہے۔کانگریس نے کہا کہ نریندر مودی ہندوستان کے ماضی ہیں اور وہ مستقبل کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔اس سے قبل راہل گاندھی نے ایک پریس کانفرنس میں حکومت کو طلبا مخالف بتاتے ہوئے تعلیمی نظام میں اصلاح کی بات کہی تھی۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں آئیسا کی قومی صدر نیہا بورا وغیرہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کیا۔ اور کہا کہ طلبا کے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
دریں اثنا دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے اسے ہمارے تعلیمی نظام کی اصلاح کی طرف ایک بڑا قدم قرار دیا اور ملک بھر کے طلباء کو ان کے عزم کے لیے مبارکباد دی۔
دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ یہ لاکھوں نوجوانوں، سچائی اور متحد اپوزیشن کی جیت ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ضد کی شکست ہے۔ کھرگے نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہندوستان کے طلباء کی آواز آخر کار متکبر حکومت کی دہلیز تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لاکھوں نوجوانوں کی جیت ہے جو ملک بھر میں تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ یہ سچائی کی جیت اور مودی کی ضد کی شکست ہے۔کانگریس لیڈر پون کھیرا نے اس فیصلے کو ناکافی اور تاخیری قدم قرار دیا۔ کھیرا نے کہا یہ بہت دیر سے نامکمل قدم ہے لیکن ہم نے آخر کار اس مسئلے سے چھٹکارا حاصل کر لیا ہے۔دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر، سپریا سولے نے کہا، “وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ پرامن مظاہرین، طلباء اور اپوزیشن کے مسلسل دباؤ کے بعد آیا ہے۔ میں ہر اس مظاہرین کو مبارکباد پیش کرتی ہوں جو نیٹ یو جی کے معاملے پر ڈٹے رہے۔
ششی تھرور نے بھی دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ اس بات کا اعتراف ہے کہ جمہوریت میں احتساب سے ہمیشہ کے لیے گریز نہیں کیا جا سکتا۔
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر پوری قوم کو مبارکباد۔ یہ جمہوریت کی بڑی جیت ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network