تازہ ترین
گیاجی ایئرپورٹ پر بم الرٹ کے بعد سکیورٹی ایجنسیوں نے دکھائی مستعدی، سی آئی ایس ایف اوربم ڈسپوزل اسکواڈ متحرک، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاریوں کا لیا گیا جائزہامر ناتھ ایکسپریس میں مسافروں کا سامان غیرمحفوظ، دو ٹرالی بیگ چوری، 15 ہزار روپے نقد سمیت ضروری سامان غائببچوں میں صفائی کی عادت ڈالیں والدین، گھر سے شروع ہو تبدیلی: ابو فیصل، اردو پرائمری اسکول چاتَرگھاٹ میں والدین و اساتذہ کی سنگوشٹھی منعقد، صفائی، صحت، غذائیت اور ماحولیاتی تحفظ پر ہوئی گفتگوبی جے پی لیڈر صاحب سنگھ سینی تھامیں گے اکھلیش کا دامنہائی کورٹ کی بنچ کے قیام کے مطالبے میں شدت، سہارنپور ایڈوکیٹس ایسوسی ایشن کے وکلاء نے سول کورٹ سے ہیڈ کوارٹر تک کیا مظاہرہادبی محفلوں کی رونق شمس الدین خان کا طویل علالت کے بعد انتقال، مشاعروں میں دیوبند اور دیوبندی ادب کی بھرپور نمائندگی کی:وجاہت شاہجمہوریت وراثت ہی نہیں اس کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری،’ووٹ بچائو، دیش بچائو‘مہم کے تحت آر جے ڈی کے سینئر لیڈر سید فیصل علی کی یکم نومبر کو رام لیلا گرائونڈ پہنچنے کی اپیلبہارمیں کئی بڑے ہوٹلوںاور مٹھائی کی دکانوں پر چھاپے، ریاست کے مختلف اضلاع میں کھانے پینے کی اشیا میں پائی گئیں بے ضابطگیاں،دیوالی سے قبل محکمہ تحفظ خوارک کی ٹیم کی بڑی کارروائی
دلی این سی آر

ڈیجیٹل ترقیات نے پیش کیے ہیںتحقیقی عمل کے نئے زاویے

شعبہ عربی، دہلی یونیورسٹی، برٹش لائبریری کی ڈیجیٹل عربی ڈیٹا بیس ’گیل‘ کے تعارفی سیشن میں پروفیسر حسنین اختر کا اظہار خیال
(پی این این)
نئی دہلی:شعبۂ عربی، دہلی یونیورسٹی میں آج برٹش لائبریری کے نایاب عربی ذخیرے پر مشتمل ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’گیل‘کے تعارفی سیشن کا انعقاد ہوا، جس میں اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ نے شرکت کی۔ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر شعبہ پروفیسر سید حسنین اختر نے کہا کہ ڈیجیٹل ترقیات نے تحقیقی عمل کے نت نئے زاویے پیش کیے ہیں اور ماضی کی مشکلات کو آسان بنا کر اسکالرز کے لیے نایاب ڈیٹا کی رسائی کو سہل بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب عربی زبان و ادب کی نایاب کتب، مخطوطات، جرائد اور علمی دستاویزات ایک کلک پر دستیاب ہیں، جو ماضی میں ممکن نہیں تھیں۔
پروفیسر اختر نے ماضی کی علمی روایت کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ نایاب علمی مواد کے لیے ہمارے اساتذہ مہنگے اخراجات برداشت کرکے برٹش لائبریری جایا کرتے تھے اور یہ ساری نعمتیں اب ہمیں گھر پر دستیاب ہیں۔ عربی شعبے کے لیے اس عالمی ڈیٹابیس کی فراہمی ایک تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عربی زبان و ادب کی تحقیق کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ایک کڑی ہے۔انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ، خصوصاً لائبریرین ڈاکٹر راجیش سنگھ اور لائبریری کمیٹی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے شعبہ عربی کی سفارش پر اس قیمتی ڈیٹابیس کو فراہم کیا۔ یاد رہے کہ دہلی یونیورسٹی لائبریری نے شعبہ عربی کی سفارش پر حال ہی میں دو اہم ڈیٹا بیس ’المنھل‘ اور ’گیل‘ کی خریداری کی ہے۔
پروگرام میں پروفیسر نعیم الحسن، ڈاکٹر محمد اکرم، ڈاکٹر اصغر محمود، ڈاکٹر آصف اقبال، ڈاکٹر ابوتراب، متعدد ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ شرکاء نے سیشن کے دوران پلیٹ فارم کے عملی استعمال سے بھرپور استفادہ کیا اور سوال و جواب کے ذریعے اس کے طریقہ استعمال کو سمجھا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔