تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
دیش

23ماہ بعد اعظم خان جیل سے رہا ،حامیوں میں خوشی کی لہر

(پی این این)
رام پور:ایس پی لیڈر اعظم خان کو تقریباً دو سال بعد بالآخر جیل سے آزادی کا پروانہ نصیب ہواہے۔جیل کے باہر پولیس کی بھاری نفری دیکھی گئی۔ ان کے حامی بڑی تعداد میں موجود تھےجن میں اکثریت رام پور والوں کی تھی۔اعظم خان کو 23 ماہ بعد منگل کی دوپہر تقریباً 12 بج کر 20 منٹ پر ڈسٹرکٹ جیل سے رہا کیا گیا۔ ڈسٹرکٹ جیل سے دو گاڑیاں نکلیں۔ اعظم خان ایک گاڑی میں چار لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے ان کا بیٹا ادیب، عبداللہ، ان کا نمائندہ اور دو دیگرافراد۔دوسری گاڑی میں اعظم خان کا سامان تھا۔ یہ وہی چیزیں تھیں جو جیل میں اس کے ساتھ تھیں۔ ان میں ان کی کتابیں، کپڑے اور دیگر اشیاء شامل تھیں۔
غورطلب ہے کہ اعظم خان کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے ایل آئی یو کی ٹیمیں، ڈرون ٹیمیں اور پی اے سی کے اہلکار منگل کی صبح سے ہی الرٹ تھے۔ اے ایس پی نارتھ آلوک سنگھ، ٹرینی آئی پی ایس ونائک بھونسلے، ٹریفک انسپکٹر فرید احمداور تقریباً آٹھ پولیس اسٹیشنوں کے دستے موجود تھے۔ پولیس کو ڈسٹرکٹ جیل کے سامنے اوور برج پر کھڑے لوگوں کو ہٹاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ اس سے پہلے رام پور ایم پی ایم ایل اے کورٹ میں جرمانہ جمع کرانے کے بعد سرکاری ڈاک سیتا پور ڈسٹرکٹ جیل پہنچی۔ ای میل ڈسٹرکٹ جیل پہنچنے کے بعد اعظم خان کو رہا کر دیا گیا۔ تین تین ہزار روپے کے دو جرمانے عدالت میں جمع کرائے گئے۔
واضح رہے کہ اعظم خان کی رہائی کی خبر سنتے ہی اعظم خان کے حامیوں اور سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے انیل ورما اور رام پور کے سماج وادی چھاتر سبھا کے کارکنان منگل کی صبح 5 بجے سے جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ جیسے جیسے دن چڑھتا گیا، ڈسٹرکٹ جیل کے باہر کارکنوں کا ہجوم بڑھتا گیا اور اے ایس پی نارتھ آلوک سنگھ، سٹی پولیس اسٹیشن، رام کوٹ، خیرآباد، بسوان، ساکران، اور دیگر تھانوں کی فورسز کے ساتھ طلب کیے گئے۔اسی دوران صبح تقریباً 7:15 بجے اعظم خان کا بیٹا ادیب خان ڈسٹرکٹ جیل پہنچا۔ وہ 15 منٹ کے قیام کے بعد چلا گیا۔ انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ سابق ایس پی ایم ایل اے انوپ گپتا کے گھر گئے۔
واضح ہوکہ اعظم خان کو کل 104 مقدمات کا سامنا ہے جن میں رام پور کے 93 کیس بھی شامل ہیں۔ انہیں تمام مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے۔سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ روچیویرا منگل کو اعظم خان کی رہائی پر بات کرنے سیتا پور پہنچے۔ انہوں نے عدلیہ سے اظہار تشکر کیا۔ بی ایس پی میں شامل ہونے کے بارے میں پوچھے جانے پرانہوں نے کہااعظم خان کو پہلے باہر آکر اپنے خاندان کے افراد سے ملنا چاہیے، اس کے بعد ان کی ہدایات کی بنیاد پر مزید حکمت عملی طے کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ابھی نہیں جانتی کہ مستقبل کی حکمت عملی کیا ہوگی۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔