Connect with us

دیش

23ماہ بعد اعظم خان جیل سے رہا ،حامیوں میں خوشی کی لہر

Published

on

(پی این این)
رام پور:ایس پی لیڈر اعظم خان کو تقریباً دو سال بعد بالآخر جیل سے آزادی کا پروانہ نصیب ہواہے۔جیل کے باہر پولیس کی بھاری نفری دیکھی گئی۔ ان کے حامی بڑی تعداد میں موجود تھےجن میں اکثریت رام پور والوں کی تھی۔اعظم خان کو 23 ماہ بعد منگل کی دوپہر تقریباً 12 بج کر 20 منٹ پر ڈسٹرکٹ جیل سے رہا کیا گیا۔ ڈسٹرکٹ جیل سے دو گاڑیاں نکلیں۔ اعظم خان ایک گاڑی میں چار لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے ان کا بیٹا ادیب، عبداللہ، ان کا نمائندہ اور دو دیگرافراد۔دوسری گاڑی میں اعظم خان کا سامان تھا۔ یہ وہی چیزیں تھیں جو جیل میں اس کے ساتھ تھیں۔ ان میں ان کی کتابیں، کپڑے اور دیگر اشیاء شامل تھیں۔
غورطلب ہے کہ اعظم خان کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے ایل آئی یو کی ٹیمیں، ڈرون ٹیمیں اور پی اے سی کے اہلکار منگل کی صبح سے ہی الرٹ تھے۔ اے ایس پی نارتھ آلوک سنگھ، ٹرینی آئی پی ایس ونائک بھونسلے، ٹریفک انسپکٹر فرید احمداور تقریباً آٹھ پولیس اسٹیشنوں کے دستے موجود تھے۔ پولیس کو ڈسٹرکٹ جیل کے سامنے اوور برج پر کھڑے لوگوں کو ہٹاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ اس سے پہلے رام پور ایم پی ایم ایل اے کورٹ میں جرمانہ جمع کرانے کے بعد سرکاری ڈاک سیتا پور ڈسٹرکٹ جیل پہنچی۔ ای میل ڈسٹرکٹ جیل پہنچنے کے بعد اعظم خان کو رہا کر دیا گیا۔ تین تین ہزار روپے کے دو جرمانے عدالت میں جمع کرائے گئے۔
واضح رہے کہ اعظم خان کی رہائی کی خبر سنتے ہی اعظم خان کے حامیوں اور سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے انیل ورما اور رام پور کے سماج وادی چھاتر سبھا کے کارکنان منگل کی صبح 5 بجے سے جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ جیسے جیسے دن چڑھتا گیا، ڈسٹرکٹ جیل کے باہر کارکنوں کا ہجوم بڑھتا گیا اور اے ایس پی نارتھ آلوک سنگھ، سٹی پولیس اسٹیشن، رام کوٹ، خیرآباد، بسوان، ساکران، اور دیگر تھانوں کی فورسز کے ساتھ طلب کیے گئے۔اسی دوران صبح تقریباً 7:15 بجے اعظم خان کا بیٹا ادیب خان ڈسٹرکٹ جیل پہنچا۔ وہ 15 منٹ کے قیام کے بعد چلا گیا۔ انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ سابق ایس پی ایم ایل اے انوپ گپتا کے گھر گئے۔
واضح ہوکہ اعظم خان کو کل 104 مقدمات کا سامنا ہے جن میں رام پور کے 93 کیس بھی شامل ہیں۔ انہیں تمام مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے۔سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ روچیویرا منگل کو اعظم خان کی رہائی پر بات کرنے سیتا پور پہنچے۔ انہوں نے عدلیہ سے اظہار تشکر کیا۔ بی ایس پی میں شامل ہونے کے بارے میں پوچھے جانے پرانہوں نے کہااعظم خان کو پہلے باہر آکر اپنے خاندان کے افراد سے ملنا چاہیے، اس کے بعد ان کی ہدایات کی بنیاد پر مزید حکمت عملی طے کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ابھی نہیں جانتی کہ مستقبل کی حکمت عملی کیا ہوگی۔

دیش

پانچ کلو وزن ہواکم،وانگچک کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن

Published

on

نئی دہلی:جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا دھرنا جاری ہے۔ ان کے اندولن کے ساتھ معروف سماجی خدمات گار سونم وانگچک بھی شریک ہوچکے ہیں آج ان کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن ہے۔ جس میں ان کا پانچ کلو وزن کم ہوگیا ہے۔ اس دوران سی جے پی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ کو تیز کردیا ہے۔ واضح ہو کہ جنتر منتر پر طلبا نیٹ ، یوجی سمیت مقابلہ جاتی امتحانات میں بدعنوانی کولیکر مظاہرہ کررہے ہیں۔

Continue Reading

دیش

حکومت پر تنقید جمہوریت کا حصہ ، جرم نہیں : بمبئی ہائی کورٹ

Published

on

بمبئی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ جمہوری نظام میں شہریوں کو حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے، اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور پُرامن احتجاج کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ صرف حکومت مخالف نعرے لگانے یا احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کی بنیاد پر کسی شہری کو اس کے اپنے شہر سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اسی بنیاد پر مہاراشٹر پولیس کی جانب سے جاری ایک سالہ ایکسٹرنمنٹ (شہر بدری) کا حکم منسوخ کر دیا۔
یہ فیصلہ جسٹس مادھو جمدار کی بنچ نے سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے مہاراشٹر کے جنرل سیکریٹری اور سابق لوک سبھا امیدوار سعید احمد عبد الواحد چودھری کی درخواست پر سنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ انتظامی اختیارات کا استعمال شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی کارروائی اور اس کے جواز پر کئی اہم سوالات اٹھائے۔ جسٹس مادھو جمدار نے ریمارکس دیے کہ ہر شہری کو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے، احتجاج کرنے اور اختلاف رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
عدالت نے سوال کیا کہ محض ’’بی جے پی حکومت مردہ باد‘‘ یا ’’امت شاہ مردہ باد‘‘ جیسے نعرے کسی شخص کے خلاف شہر بدری جیسی سخت کارروائی کی بنیاد کیسے بن سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے اسے برداشت کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
جسٹس جمدار نے گزشتہ برسوں میں مختلف مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام ایسے معاملات پر احتجاج کریں اور اس کے جواب میں ان پر مقدمات درج کیے جائیں تو یہ جمہوری اقدار کے مطابق نہیں ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس عوام کی خدمت کے لیے ہے اور اس کی جواب دہی شہریوں کے سامنے ہے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے سامنے۔
اپنے تحریری فیصلے میں ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت کے بعض فیصلوں کی مخالفت کرنا کسی شخص کو اس کے رہائشی علاقے سے بے دخل کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت کے مطابق ایسی کارروائی اظہارِ رائے کی آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار کے خلاف جاری کیے گئے ایکسٹرنمنٹ آرڈر کی اصل وجہ مختلف احتجاجی پروگراموں کا انعقاد اور ان میں شرکت تھی۔ عدالت نے کہا کہ صرف اسی بنیاد پر کسی شہری کے خلاف اتنی سخت انتظامی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
سعید احمد عبد الواحد چودھری شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی)، بابری مسجد تنازع، گیان واپی مسجد معاملہ، وقف بورڈ میں مبینہ بدعنوانی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سمیت کئی عوامی مسائل پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں سرگرم رہے ہیں۔

Continue Reading

دیش

رام مندر کے بعد بدری ناتھ میں چڑھاوا چوری معاملہ ، کرمچاریوں سے جواب طلب

Published

on

نئی دہلیایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوا چوری کا معاملہ چل ہی رہا ہے کہ اب معروف کیدار بدری ناتھ چڑھاوا چوری کا معاملہ بھی اجاگر ہوا ہے اس سلسلے میں انتظامیہ نے فوری طور پر کرمچاریوں کو نوٹس دیا ہے اور تین دن میں جواب دینے کو کہا ہے۔ غورطلب ہے کہ شری بدری ناتھ-کیدار ناتھ مندر کمیٹی (بی کے ٹی سی) نے معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ کمیٹی کے ایک عہدیدارکے مطابق دہرادون واقع ’بھیرو سینا‘ نامی تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ بدری ناتھ دھام میں تعینات ایک ملازم عطیات اور نذرانوں کی رقم میں گڑبڑی کر رہا ہے۔ حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے، لیکن معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے کمیٹی نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ساتھ ہی عطیات کی رقم کی گنتی سے منسلک ملازمین سے بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network