Connect with us

اتر پردیش

قربانی اور نمازِ عید کو پُر امن بنانے کے لیے ضلع انتظامیہ کے ساتھ تبادلہ خیال

Published

on

رام پور:قاضی شرع و مفتی ضلع سید فیضان رضا حسنی نوری نے وکاس بھون رام پور میں ضلع انتظامیہ کے زیرِ اہتمام امن کمیٹی کی ایک نہایت اہم نشست منعقد ہوئی۔ اس اجلاس کا مقصد شہر و ضلع میں قربانی اور نمازِ عید کے انتظامات کو پُراثر اور منظم بنانا تھا۔ نیز نمازِ عید اور روایتی قربانی کے مذہبی فریضے کو امن، ہم آہنگی، بھائی چارے اور قانون کے دائرے میں ادا کرنے کے لیے باہمی تعاون کی یقین دہانی تھا۔سبھی جانتے ہیں کہ رامپور شہر گنگاجمنی تہذیب کی ایک روشن علامت ہے، جہاں ہر مذہبی موقع پر انتظامیہ اورعلماء اہلسنت و عوامی حلقوں کے ذمہ داران کے درمیان باہمی تعاون کی مثال قائم رہی ہے۔ تقریباً ایک گھنٹے تک قربانی و نمازِ عید سے متعلق مختلف مسائل پر سنجیدہ تبادلۂ خیال جاری رہا۔نشست انتہائی کامیابی کے ساتھ برخاست ہوئی۔قاضیِ شرع و مفتی ضلع سید فیضان رضا حسنی نوری کے ہمراہ علمائے اہلِ سنت و جماعت شہر و ضلعِ رام پور کے ساتھ ساتھ تحصیل صدر، سوار، ٹانڈہ، بلاسپور، بلاک چمروا، سیدنگر اور کیمری و غیر کے دیگر ذمہ داران بھی کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔اس موقع پر ضلعی افسرانِ اعلیٰ، یعنی ڈی ایم اور ایس پی صاحبان کو باقاعدہ ’’میمورنڈم‘‘ پیش کیا گیا۔ ضلع انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی کہ قربانی اور نمازِ عید حسبِ روایت و پرمپراگت ادا کی جائیں گی۔ البتہ اس امر کا خاص خیال رکھا جائے گا کہ کوئی نئی رسم یا روایت نہ قائم ہو، اور بالخصوص اُن جانوروں کی قربانی سے مکمل اجتناب کیا جائے جن پر قانونی پابندی عائد ہے۔
ہم نے ضلع انتظامیہ کو یہ یقین دلایا کہ قربانی صرف انہی جانوروں پر ہوگی جن کی اجازت شریعت اور قانون دونوں نے دی ہے۔ ہم نہ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور نہ آئندہ کریں گے۔ اسی ضمن میں ہم نے درجِ ذیل میمورنڈم پیش کیا۔ضلع رام پور میں عید الاضحیٰ 28 مئی 2026 ء بروز جمعرات منائی جائے گی۔عیدالاضحیٰ اسلام کا ایک اہم تہوار اور مذہبی فریضہ ہے جسے مسلمان 10، 11 اور 12 ذی الحجہ کو شریعت کے مطابق حلال جانوروں کی قربانی کرکے ادا کرتے ہیں۔ دیہات میں قربانی کا وقت 10/ ذی الحجہ کو صبح صادق کے بعد اور شہر میں نمازِ عید کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ یہ تہوار صرف اللہ کی رضا کے لیے منایا جاتا ہے، کسی مذہب یا برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے نہیں۔ پھر بھی ہماری درخواست ہے کہ انتظامیہ شرپسند عناصر پر خاص نظر رکھے تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
لہٰذا ہم درج ذیل نکات پر ضروری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ضلع رام پور کی تمام عیدگاہوں اور مساجد میں نمازِ عید ادا کی جاتی ہے، لہٰذانماز سے قبل وہاں کی مناسب صفائی اور طہارت کو یقینی بنایا جائے۔عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر تین دن قربانی واجب ہے۔اس سال وہ تین دن جمعرات، جمعہ، ہفتہ، یعنی 28 مئی سے 30 مئ تک ہیں ۔ اس مذہبی فریضے کی بلا رکاوٹ ادائیگی کے لیے مکمل تعاون فراہم کیا جائے۔جن جانوروں کی قربانی کی شریعت اور ملک کا قانون اجازت دیتا ہے، ان کی خرید و فروخت اور آمد و رفت میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔سابقہ برسوں کی طرح اس بار بھی مسلمان اپنے گھروں اور مقررہ کیمپوں میں قربانی کا اہتمام کریں گے۔ براہ کرم اس میں کوئی خلل نہ ڈالا جائے۔ضلع کے مختلف علاقوں میں لگنے والے روایتی بازاروں سے تاجر اور شہری جانور خرید کر اپنے مقامات تک لے جاتے ہیں۔ ان کے لیے حسبِ سابق تحفظ، سہولت اور پرامن ماحول کا انتظام کیا جائے۔قربانی کے بعد گندگی، فضلہ اور آلات کی صفائی کے لیے بلدیہ، نگر پنچایتوں اور بجلی کے محکمے کو ہدایت دی جائے کہ وہ صفائی، بجلی اور پانی کی فراہمی درست رکھیں۔گزشتہ برسوں کچھ علاقوں سے خبر آئی کہ چند افراد کے قابلِ اعتراض تبصرے کی وجہ سے قربانی پر اچانک پابندی لگا دی گئی تھی، حالانکہ وہاں تہوار رجسٹر میں قربانی درج ہے۔ اس معاملے میں غور و فکر کے بعد وہاں قربانی کرنے کی اجازت دی جائے۔ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے اور توقع رکھتے ہیں کہ انتظامیہ بھی سابقہ برسوں کی طرح بھرپور تعاون کرے گا۔

uttar pradesh

اردو ادب سوسائٹی نے مختلف اشخاص کو پیش کی مبارک باد

Published

on

امروہہ:اپنی سماجی اور ادبی سرگرمیوں کے ایک حصے کے طور پر، اردو ادب سوسائٹی کے ایک وفد نے شہر کی ممتاز شخصیات اور ہونہار نوجوانوں سے ملاقات کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
سوسائٹی کے ارکان نے سب سے پہلے سابق میونسپل صدر ڈاکٹر افسر پرویز کی رہائش گاہ پر ان کی خیریت دریافت کی۔ قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر افسر پرویز کا حال ہی میں دل کا آپریشن ہوا ہے۔ اراکین نے ان کی جلد صحت یابی اور درازی عمر کے لیے دعا کی۔
اس کے بعد، سوسائٹی نے تعلیم کے میدان میں شہر کا نام روشن کرنے والی طوبہ جاوید کے گھر کا دورہ کیا اور انہیں NEET کے امتحان میں شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔ سوسائٹی کے اراکین نے طوبہ اور اس کے والد فیصل جاوید کو مبارکباد دی اور ان کے روشن مستقبل کی خواہش کی۔
اس سلسلے میں سوسائٹی نے ڈاکٹر سراج ہاشمی کو قانون کی ڈگری حاصل کرنے پر خصوصی طور پر مبارکباد پیش کی اور ان کی نئی تعلیمی کامیابی کو سراہا۔
اس موقع پر سوسائٹی کے صدر کوثر علی عباسی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔اگرچہ بیماروں اور بوڑھوں کی خیریت دریافت کرنا ہماری روایت کا حصہ ہے، لیکن یہ ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ہم ہونہار نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ جب ہماری نئی نسل تعلیم اور مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کرتی ہے تو اس سے پورے معاشرے کا نام روشن ہوتا ہے۔ اردو ادب سوسائٹی ہمیشہ ایسے باصلاحیت نوجوانوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
اس موقع پر حاجی نسیم احمد خان، خالد صدیقی، قیصر علی عباسی، حمزہ عباسی اور سوسائٹی کے دیگر عہدیداران اور معززین موجود تھے۔

Continue Reading

uttar pradesh

منوج سنگھل قدیم ٹھاکر دوارہ مندر سمیتی کے صدر منتخب

Published

on

دیوبند:دیوبندکے مشہور ومعروف سماجی خدمتگار منوج سنگھل کو قدیم شری ٹھاکر دوارہ مندر سمیتی کا صدر منتخب کیا گیا ہے ۔ان کے ساتھ ساتھ آشوتوش گپتا کو جنرل سکریٹری ،اجے کمار بٹو کو خازن اور راکیش اگروال کو نائب صدر مقرر کیا گیا ہے ۔ان سبھی عہدیداران کا انتخاب اتفاق رائے سے کیا گیا ہے ۔
تفصیل کے مطابق جمعہ کے روز مندر کے احاطہ میں برہم سنگھ پنڈیر ایڈوکیٹ کی صدارت میں سمیتی کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی ۔ سالہاسال سے چلے آرہے عہدیداران کے استعفیٰ کے بعد نئی مجلس عاملہ تشکیل دی گئی ۔میٹنگ کے دوران شری کرشن شوبھا یاترا کی تیاریوں اور مندر کی دوسری سرگرمیوں سے متعلق بھی تبادلۂ خیال کیا گیا ۔
واضح ہوکہ منوج سنگھل دیوبند کے مشہور ومعروف فینسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں وہ پہلے سے ہی نگر ادیوگ ویاپار منڈل پریس ایسوسی ایشن دیوبند اور اگر وال سماج کے صدر ہیں ۔اس کے علاوہ منوج سنگھل قدیم شیو ششو مندر کے صدر اور دیوبند میونسپل بورڈ کے سینئر رکن بھی ہیں ۔اس کے علاوہ مختلف سماجی اور مذہبی تنظیموں میں بھی وہ سرگرم رول ادا کررہے ہیں ۔نومنتخب صد رمنوج سنگھل نے کہا کہ نئی مجلس عاملہ کی تشکیل کامقصد مندر کی زیادہ سے زیادہ خدمات انجام دینا اورسمیتی کی سرگرمیوں کوآگے بڑھانا ہے ۔انہوںنے بتایا کہ سمیتی کی جانب سے چلائے جانے والے آنکھوں کے اسپتال میںبہت جلد جدید قسم کی مشینیں لگائی جائیں گی ۔تاکہ آنکھوںکے مریضوںکو بہتر علاج مہیاکرائے جاسکے ۔
میٹنگ میںونود پرکاش گپتا ،اشوک گپتا ،شروند سنگھل ،رادھے شیام گر گ ،مکیش گرگ ،رشی پال کشیپ ،پون دھیمان سشیل منگل ،پون ہری ،راجیو گپتا ،اجے گپتا ،ورون گرگ اور ابھینائو گوئیل سمیت بڑی تعداد میںسمیتی کے ارکان موجود رہے ۔

Continue Reading

uttar pradesh

قرآن نے انسانیت کو دی سب سے بڑی بریکنگ نیوز : خطیب محمد اقبال

Published

on

آگرہ: مسجد نہر والی، سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے آج خطبۂ جمعہ میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ کریم نے پوری انسانیت کو سب سے بڑی بریکنگ نیوز قیامت کی خبر کی صورت میں دی ہے، تاکہ انسان اس عظیم دن کی تیاری کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کے لیے اس سے بڑی اور اہم خبر کوئی نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے بتایا کہ قرآنِ کریم میں قیامت کا لفظ تقریباً 70 مرتبہ آیا ہے، جبکہ مختلف دیگر ناموں جیسے الساعۃ، یوم الدین، یوم الفصل، یوم البعث، یوم الخروج، یوم الجمع، یوم الحساب، الطامۃ الکبریٰ، الواقعۃ، الحاقۃ اور القارعۃ کے ساتھ مجموعی طور پر تقریباً 250 مرتبہ اس دن کا ذکر کیا گیا ہے، جو اس کی غیر معمولی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
محمد اقبال نے کہا کہ قرآنِ مجید نے قیامت کے مناظر اس انداز میں بیان کیے ہیں کہ گویا انسان اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا ہو۔ لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف ہوں گے، کوئی گھر میں، کوئی بازار میں اور کوئی مجلس میں، مگر اچانک اللہ تعالیٰ کے حکم سے دنیا کا نظام ختم ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ قرآن نے واضح کر دیا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور ایک دن ضرور فنا ہو جائے گی۔ قیامت کی جو نشانیاں بیان کی گئی ہیں، وہ دراصل انسانیت کے لیے الارم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت بھی قیامت کے قریب ہونے کی ایک بڑی علامت تھی، جسے تقریباً پندرہ سو سال گزر چکے ہیں، تاہم قیامت کا حقیقی وقت صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور وہی اس کا علم رکھتا ہے۔
خطیب نے کہا کہ قیامت پر ایمان اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے، اسی لیے قرآنِ کریم بار بار آخرت کی یاد دلاتا ہے تاکہ انسان دنیا کی غفلت میں مبتلا نہ ہو۔ دنیا کی یہی زندگی آخرت کی دائمی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرے گی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ قرآنِ کریم کی اس عظیم خبر پر سنجیدگی سے غور کریں، اپنی زندگیوں کا محاسبہ کریں اور آخرت کی تیاری میں لگ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اب وحی نازل نہیں ہوگی اور نہ ہی حضرت جبرئیلؑ خبر لے کر آئیں گے، قرآنِ کریم ہمارے درمیان موجود ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے سمجھیں، اس پر غور کریں اور اس کی تعلیمات پر عمل کریں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network