دلی این سی آر
چنار بک فیسٹیول میں قومی تعلیمی پالیسی پر مذاکرہ اور مشاعرے کا انعقاد
(پی این این)
سری نگر: چنار بک فیسٹیول 2026 کے تیسرے دن بھی مختلف علمی اور ادبی سرگرمیاں انجام دی گئیں جن میں ’قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت سہ لسانی فارمولہ او رکثیر لسانی تعلیم‘ کے عنوان سے آتھر کارنر میں ایک اہم مذاکرے کا انعقاد کیا گیا ۔ اس مذاکرے میں پروفیسر افشار عالم (سابق وائس چانسلر، جامعہ ہمدرد، نئی دہلی)، پروفیسر نصیر اقبال (رجسٹرار، یونیورسٹی آف کشمیر) نے بطور پینلسٹ اور پروفیسر اعجاز محمد شیخ (ماہر لسانیات و سابق صدر شعبۂ لسانیات، کشمیر یونیورسٹی) نے موڈریٹر کے طور پر شرکت کی۔
موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے پر وفیسر افشار عالم نے ہندوستان میں نافذ کی جانے والی پرانی قومی تعلیمی پالیسیوں اور نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے درمیان مطابقت اور تبدیلیوں کو واضح کیا۔ انھوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے نفاذ سے طالب علموں کے لیے زبانوں کے انتخاب کا پیٹرن تبدیل ہوگیا ہے۔ اس پالیسی میں مادری زبان کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لسانیات اور انڈین نالج سسٹم پر بھی خاصی توجہ دی گئی ہے۔ انھوں نے نئی تعلیمی پالیسی اور انڈین نالج سسٹم کے درمیان ربط پر بھی اظہار خیال کیا۔انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں حکومتی سطح پر مختلف غیرملکی یونیورسٹیوں کو جگہ دی جارہی ہے تاکہ دیگر زبانوں سے ہندوستانی زبانوں کا رشتہ مضبوط ہوسکے اور انگریزی کے ساتھ علاقائی زبانیں بھی ترقی کرسکیں۔ NEP 2020نے مادری زبان میں لکھنے پڑھنے کی جھجک کو دور کیا ہے۔ البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر زبان کے اساتذہ کی مناسب ٹریننگ دی جائے تاکہ اس پالیسی کا نفاذ بہتر طور پر ہوسکے۔
آج کے دوسرے مہمان مقرر پروفیسر نصیر اقبال نے کشمیر یونیورسٹی میں نئی تعلیمی پالیسی کے اطلاق کے حوالے سے کئی کارآمد نکات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی نافذکرنے والے اداروں میں کشمیر یونیورسٹی کو اولیت حاصل ہے۔ اس یونیورسٹی میں نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق ایک سال کا پی جی کورس بھی شروع کیا جارہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی کی وجہ سے مقامی زبانوں پر توجہ دی جانے لگی ہے اور یونیورسٹی بھی اس کے لیے بھرپور کوشش کررہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ میں چیلنجز ضرور ہیں لیکن اگر منظم طریقے سے کوشش کی جائے تو یہ ایک بہتر تبدیلی ثابت ہوگی۔
مذاکرے کے اختتام سے قبل قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کنکلوڈنگ ریمارک دیتے ہوئے کہا کہ ہر ادارے کی سرگرمیاں ایک خاص تقاضے کے مطابق سامنے آتی ہیں۔ قومی اردو کونسل نے تعلیم کے میدان میں نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے تقاضوں کے تحت کئی اہم خدمات انجام دی ہیں اور اس بات پر خاص توجہ دی ہے کہ اردو کا رشتہ ہندوستان کی دیگر زبانوں سے مضبوط کیا جاسکے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی تمام زبانیں ہماری اپنی زبانیں ہیں اور اردو کے تئیں انھیں کشمیر سے بہت امیدیں ہیں۔اردو زبان پر کیسی ہی دشواری کیوں نہ آجائے لیکن کشمیر اسے بچا لے گا۔ انھوں نے اس ا ہم مذاکرے میں شریک ہونے والے تمام مہمانوں کا شال پوشی کے ذریعے استقبال کیا اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اس مذاکرے کو پروفیسر اعجاز محمد شیخ نے موڈریٹ کرتے ہوئے اس کا تعارف بھی پیش کیا اور کئی اہم سوالات قائم کیے جن کی روشنی میں مہمان مقررین سے قومی تعلیمی پالیسی کے تحت سہ لسانی فارمولہ اور کثیر لسانی تعلیم کے متعلق معلومات حاصل کرنے میں آسانی ہوئی۔ انھوں نے اس پالیسی کے اطلاق اور نفاذ کے متعلق بھی استفسار کیا جن کے تحت اہم تجاویز منظرعام پر آئیں۔
اس مذاکرے میں یونیورسٹی اور کالجز کے طلبا اور طالبات کے علاوہ بڑی تعداد میں دانشو ر اور قلمکار موجود رہے جنھوں نے انٹریکٹو سیشن میں موضوع سے متعلق کئی اہم سوالات بھی کیے جن کا مہمان مقررین نے تسلی بخش جواب دیا۔
مذاکرے کے بعد شام چار بجے کلچرل اسٹیج پر ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تشریف لانے والے معروف و معزز شعرائے کرام نے اپنے خوبصورت کلام سے نوازا۔ اس موقعے پر سامعین کا جم غفیر موجودرہا۔ مشاعرے میں شریک ہونے والے شعرا میں جناب رفیق راز، جناب پاپولر میرٹھی، محترمہ رخسانہ جبیں، پروفیسر شفق سوپوری، جناب نعمان شوق، پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر ستیش ومل کے نام قابل ذکر ہیں۔ مشاعرے کی نظامت ڈاکٹر شفیع ایوب نے کی۔ شعرائے کرام نے مختلف موضوعات و مسائل سے متعلق غزلیں پیش کیں، بطور نمونہ یہاں ان کا ایک ایک شعرپیش کیا جارہا ہے:
گلے پہ خاک تمھارے سر اور تال پہ خاک
غزل پہ خاک مضامین پائمال پہ خاک
(رفیق راز)
کتنی کنجوسی پہ آمادہ ہے سسرال مری
راز کی بات بتاتے ہوئے ڈر لگتا ہے
ایسے کمرے میں سلا دیتے ہیں سالے میرے
پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے
(پاپولر میرٹھی)
کٹا تو سکتے ہیں اس کو جھکا نہیں سکتے
تمام جسم میں سر کے سوا کچھ اور نہیں
(رخسانہ جبیں)
سنو یہ نالے سنو دشت آشنائی کے
اتر رہے ہیں کہیں قافلے جدائی کے
(شفق سوپوری)
ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والی
یاد تو ہوں گے تجھے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہم
(نعمان شوق)
جانے ہم کس خیال میں گم تھے
آنکھ اٹھی تو سامنے تم تھے
(احمد محفوظ)
پیش منظر سے جدا شور تماشا سے الگ
سر بکف بیٹھے رہے ہم تیری دنیا سے الگ
(ستیش ومل)
دلی این سی آر
دہلی ہوائی اڈے کا تیسرا رن وے 20 ستمبر سے ہوگا شروع
نئی دہلی، 19 ستمبر (یو این آئی) دہلی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ (ڈائل) نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے تیسرے رن وے (11 آر/29 ایل) کو 20 ستمبر سے پھر آپریشن میں لایا جائے گا۔ڈائل نے بتایا کہ رن وے کے جامع بحالی پروگرام اور تمام ضروری ریگولیٹری منظوریوں کے ملنے کے بعد اسے دوبارہ آپریشن کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ بحالی کا یہ پروجیکٹ فروری 2026 میں شروع ہوا تھا، جس میں آپریشنل حفاظت، کارکردگی، صلاحیت اور طویل مدتی استحکام کو بڑھانے کے مقصد سے جامع کام کیے گئے۔
پروجیکٹ کے تحت رن وے کی سطح کی تجدید، رن وے 29 ایل کے مستقل تھریشولڈ میں تبدیلی، نئی ریپڈ ایگزٹ ٹیکسی وے (آر ای ٹی زیڈ 1) کی تعمیر، ہوائی اڈے کے گراؤنڈ لائٹنگ سسٹم کی اپ گریڈیشن، رن وے کی سطح کو مضبوط بنانے کے کام اور متعلقہ سول و الیکٹریکل بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کی گئیں۔ ڈائل کے مطابق، ان اصلاحات سے رن وے کی فعال صلاحیت کو بڑھانے، طیاروں کی آمد و رفت کو بہتر طریقے سے منظم کرنے، رن وے پر طیاروں کے رہنے کا وقت کم کرنے اور مختلف موسمی حالات میں آپریشنل اعتماد کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔
پروجیکٹ کے دوران ڈائل نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے)، ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی)، ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی)، ایئر لائنز اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ تمام مقررہ حفاظتی، آپریشنل اور ریگولیٹری مراحل مکمل ہونے کے بعد 20 ستمبر سے رن وے پر آپریشن دوبارہ شروع کرنے کی منظوری ملی ہے۔ ڈائل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پردیپ پانیکر نے کہا کہ رن وے 11 آر/29 ایل کو دوبارہ چالو کیا جانا دہلی ہوائی اڈے کے مستقبل کے لیے تیار ہوا بازی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحالی کے پروگرام کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا جانا حفاظت، آپریشنل عمدگی اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید رن وے کے ساتھ نئی ریپڈ ایگزٹ ٹیکسی وے نیز بہتر نیویگیشن اور لائٹنگ کا نظام دہلی ہوائی اڈے کی صلاحیت اور استحکام کو مزید بڑھائے گا اور ملک میں بڑھتی ہوئی ہوا بازی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کرے گا۔ڈائل نے کہا کہ دوبارہ چالو ہونے والے رن وے دہلی ہوائی اڈے کی آپریشنل کارکردگی اور مستقبل میں بڑھنے والے ایئر ٹریفک کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کرے گا نیز عالمی ہوا بازی کی حفاظت اور بنیادی ڈھانچے کے معیار کے مطابق آپریشنز کو یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔ یہ رن وے 2008 میں شروع کیا گیا تھا اور گزشتہ 17 سالوں سے مسلسل آپریشن میں تھا، جس کے دوران اس کی باقاعدہ دیکھ بھال کی گئی اور 2017 میں اس کی معمولی بحالی بھی کی گئی تھی۔
دلی این سی آر
خواتین کمیشن کا 100 پولیس اہلکاروں کے ساتھ ا سپا سنٹر پر چھاپہ
گروگرام :گروگرام میں جائز کاروبار کی آڑ میں چلنے والی غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف ایک بڑی مشترکہ کارروائی میں گروگرام پولیس اور ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن نے سیکٹر 90 کے سفائر 90 مال میں ایک بڑا مشترکہ آپریشن کیا۔ رات 10 بجے سے صبح 3 بجے تک جاری رہنے والی چھ گھنٹے کی سخت چیکنگ مہم کے دوران 18 اسپائر سنٹروں کے اندر چھاپے مارے گئے۔ آپریشن کے دوران جائے وقوعہ پر موجود تقریباً 30 خواتین اور 20 مردوں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی طور پر آٹھ سپا سنٹرز میں سنگین غیر قانونی سرگرمیوں کے پختہ ثبوت ملے۔پولیس کو سیفائر 90 مال میں واقع سپا سنٹرز میں غیر اخلاقی اور مشکوک سرگرمیوں کی شکایات موصول ہو رہی تھیں اور اس خفیہ آپریشن کی منصوبہ بندی از خود کی گئی تھی۔ 100 سے زیادہ پولیس افسران کی ایک ٹیم نے بیک وقت مال کو گھیر لیا اور چھاپہ مار کارروائی شروع کر دی، جس سے ہلچل مچ گئی۔ آپریشن کے دوران 18 سپا سنٹرز میں سے 8 سے اہم الیکٹرانک آلات، ڈیجیٹل ڈیٹا، مجرمانہ دستاویزات اور دیگر جسمانی ثبوت قبضے میں لیے گئے۔ اس ثبوت کو استعمال کرتے ہوئے، پولیس اب اسپا سینٹرز کے حقیقی مالکان، آپریٹرز، منیجرز اور اس نیٹ ورک کے سہولت کاروں کے کردار کی مکمل تفتیش کر رہی ہے۔
چھاپے کے دوران سپا سنٹرز سے تقریباً 30 خواتین اور 20 مرد پائے گئے۔ ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن اوشا پریہ درشنی کی موجودگی میں ان خواتین سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کن حالات میں کام کر رہی تھیں اور کیا انہیں کسی گینگ نے ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے افراد کے کردار، ان کی موجودگی کی وجوہات اور ان کی شہادتوں کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ تحقیقات کی بنیاد پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔اس پورے آپریشن کی ابتدائی تفتیش اور ضبطی کا عمل ابھیلکش جوشی، اے سی پی ہیڈکوارٹر-1، غیر اخلاقی ٹریفک (روک تھام) ایکٹ 1956 کے تحت مقرر اسپیشل پولیس آفیسر کی نگرانی میں کیا گیا تھا۔ گروگرام پولیس انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی منظم جرم یا غیر اخلاقی سرگرمیوں کو تجارتی جگہوں کی آڑ میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس شہر میں ایسے دیگر مقامات پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور آنے والے دنوں میں مزید سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
دلی این سی آر
مظاہرین پر مسکرانا بے ضابطگی نہیں، دہلی ہائی کورٹ
نئی دہلی :دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلباء کو اختلاف رائے کا اظہار کرنے، احتجاج کرنے یا احتجاج کی حمایت میں جوش دکھانے کا اہم حق ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ مظاہرین کو دیکھ کر محض مسکرانا بے ضابطگی نہیں سمجھا جا سکتا۔ جسٹس جسمیت سنگھ کی بنچ نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے آٹھ طلباء پر لگائے گئے 19,000 روپے کے جرمانے پر اگلی سماعت تک روک لگا دی ہے۔یونیورسٹی نے ہر ایک طالب علم کو بے ضابطگی پر جرمانہ کیا تھا۔ طلباء نے یونیورسٹی کے چیف پراکٹر کی طرف سے جاری شوکاز نوٹس اور اس کے بعد پراکٹریل کمیٹی کی طرف سے جاری جرمانے کے حکم کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ یونیورسٹی نے الزام لگایا کہ پانچ طلبہ مبینہ طور پر جارحانہ انداز میں کیمرہ اسٹینڈ کو ہلا رہے تھے۔
وہ ایف آر ٹی سسٹم کی توڑ پھوڑ کرنے والے طلبا کو خوش کر رہے تھے۔ تین دیگر طلباء پر تالیاں بجا کر اور نعرے لگا کر توڑ پھوڑ کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام تھا۔ طلبا نے شوکاز نوٹس کے جواب میں الزامات کی تردید کی۔عبوری راحت دیتے ہوئے، بنچ نے مشاہدہ کیا کہ اگر شوکاز نوٹس میں لگائے گئے الزامات کو سچ مان لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طلباء مظاہرین کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ بنچ کے مطابق، اس طرح کا ایکٹ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی نہیں بنتا۔بنچ نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلباء کا اختلاف رائے، احتجاج اور مظاہرے کی حمایت کا حق ایک اہم حق ہے۔ اسے کسی بھی طرح سے دبا یا نہیں جا سکتا۔ بنچ نے کہا کہ درخواست گزار طالب علم ہونے کے ناطے اس طرح کی سرگرمی کے لیے سزا نہیں دی جا سکتی۔بنچ نے یہ بھی کہا کہ یونیورسٹی کی کارروائی درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق پر حملہ کے مترادف ہے اور اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ بنچ نے تسلیم کیا کہ طلباء نے اپنا پہلا مقدمہ قائم کر لیا ہے۔ لہٰذا، اس مرحلے پر جرمانے کو نافذ رہنے کی اجازت دینے سے ان کے بنیادی حقوق کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے بعد بنچ نے آٹھ طلباء پر عائد 19,000 روپے کے جرمانے کو اگلی سماعت تک روک دیا۔ کیس کی اگلی سماعت 12 جنوری 2027 کو ہوگی۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
