انٹر نیشنل
ٹرمپ کا یوٹرن،لبنانی صدر کو دیا سیکورٹی کا بھروسہ،نتن یاہو سے دوری اختیار کررہا ہے امریکہ،ہم آپ کے ساتھ ہیں، روبیو کی یقین دہانی
واشنگٹن:ایران سے ڈیل کے بعد ٹرمپ بھی اب اسرائیل سے دوری اختیار کررہے ہیں۔ انھوں نے لبنان کی کھلی حمایت کردی ہے۔ آج امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے لبنان کے صدر جوزف عون سے فون پر بات کرکے ملک کی سلامتی، استحکام اور خود مختاری کے تئیں واشنگٹن کے عزائم کا اعادہ کیا۔
یہ بات چیت ایسے وقت ہوئی ہے جب لبنان، اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں کچھ ماہرین اسے ٹرمپ انتظامیہ کی علاقائی حکمت عملی کے اہم اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ حالانکہ امریکہ نے عوامی طور سے اسرائیل سے دوری بنانے جیسی کوئی بات نہیں کہی ہے۔مارکو روبیو نے صدر جوزف عون سے گفتگو کے دوران کہا کہ امریکہ لبنان کی حفاظت اور استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات زور دیا کہ لبنانی حکومت کا اختیار ملک کے تمام حصوں پر موثر طور پر قائم ہونا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے لبنان کی فوج اور دیگر جائز سیکورٹی اداروں کو اپنی حمایت جاری رکھنے کا یقین بھی دلایا۔
یہ پیغام ایسے وقت آیا ہے جب لبنان اپنی سرحدوں پر بڑھتی کشیدگی اور سیکورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔جوزف عون نے امریکہ کی حمایت کے لیے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کی زمین پر اسرائیلی فوجی کارروائی بند ہونی چاہئے۔ انہوں نے جنگ بندی کو بے حد ضروری بتایا۔ صدرعون کے مطابق اگلے ہفتے واشنگٹن میں مجوزہ لبنان-امریکہ- اسرائیل مذاکرات کی کامیابی کے لیے پہلے زمین پر امن قائم ہونا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی صرف عارضی راحت نہیں بلکہ علاقائی استحکام اور مستقبل کی بات چیت کی بنیاد ہے۔لبنان، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مجوزہ مذاکرات کا مقصد سیکورٹی سے متعلق زیر التویٰ مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ صدر عون نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد لبنان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان چاہتا ہے کہ تمام فریق بات چیت کے ذریعہ تنازعات کو حل کریں اور سرحدی علاقوں میں پائیدار امن قائم ہو۔
اسی وجہ سے لبنان حکومت جنگ بندی کو بات چیت کی سب سے اہم شرط مان رہی ہے۔حال ہی میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان پھر سے جنگ بندی نافذ ہوئی ہے۔ یہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ مانا جا رہا ہے۔ سفارتی کوششوں کے بعد نافذ ہوئی اس جنگ بندی سے سرحد پر حالات معمول پر آنے کی امیدوں کو تقویت ملی ہے۔ اگر یہ جنگ بندی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کو مثبت ماحول مل سکتا ہے۔ اس وقت امریکہ، قطر اور دیگر ثالثی کرنے والے ممالک خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور بات چیت کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں آنے والے دنوں میں مغربی ایشیا کی سیاست پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز رہیں گی۔
انٹر نیشنل
مصر تک پہنچی جنگ کی آگ ،دمیاتا بندرگاہ پر گیس سے لدے امریکی ٹینکروںپر ایران کا حملہ،بھاری تباہی
قاہرہایران امریکہ کے درمیان جاری جنگ اب مصرف تک پہنچ گئی ہے۔ نیو یارک ٹائمس کے مطابق ایران نے مصرکے دمیاتا پورٹ پر گیس سے لدے دو امریکی جہازوں کو ڈرون سے نشانہ بنایا ہے۔ جس سے دونوں میں آگ لگ گئی۔ مصرف کی حکومت نے بھی اس کی تصدیق کی ہے ، کہا ہے کہ یہ ڈرون حملے کا نتیجہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈرون سے امریکی کمپنی کے نیچورک گیس اسٹوریج ٹینکر انرگاس ہیٹر کو شدید نقصان پہنچاہے۔ جس کے بعد آگ پاس میں کھڑے دوسرے ٹینکر گیس لاک سلیم تک پھیل گئی ۔ حالانکہ فائر بریگیڈ ٹیم نے آگ پر قابو پالیا ہے۔ لیکن کافی نقصان کا اندیشہ ہے۔ اس حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔
نیویارک ٹائمس نے دو ایرانی حوالوں سے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے حملے کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ اگر جنگ مزید بڑھی تو دنیا کے سمندری شپنگ اور انرجی سپلائی سنگین طور سے متاثر ہوسکتی ہے۔ ادھر امریکہ کے صدر ٹرمپ نے ایران پر پھر دو فوجی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ اور کہا ہے کہ اگر ایران نے حالات بگاڑے تو اس پر زور دار حملہ کیا جائے گا۔
غورطلب ہے کہ اس سے قبل سعودی عرب میں بھی کل عراق میں ایران حامی پی ایم ایف کے ٹھکانوں پر مشترکہ حملہ کیا تھا۔ پی ایم ایف کے مطابق حملوں میں کم ازکم بیس جنگجو مارے گئے تھے اور کئی زخمی ہوئے تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ اسی کے ردعمل میں مصرکے دمیاتا بندرگاہ پر ایران نے امریکی گیس اسٹوریج ٹینکر کو ڈرون سے نشانہ بنایا۔ جس کے بعد آگ لگ گئی ۔حالانکہ ایران نے اس حملے کی ذمہ داری نہیں لی ہے لیکن جو شواہد مل رہے ہیں یہ ایران کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
بہرحال مشرق وسطیٰ میں جنگ تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ کروڈ آئل 90 ڈالر سے 100 ڈالر فی بیرل پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالات مزید بگڑے تو قیمت 100 ڈالر سے اوپر جاسکتی ہے۔ ادھر ایران نے دو ٹوک کہا ہے کہ ہماری اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے کوئی جہاز نہیں گزر سکتا ۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ارد گرد تمام بحری راستوں پر ایران کا کنٹرول ہے۔
ادھر ایران کی خلیجی ملکوں پر حملے کے پیش نظر ہندوستانی شہریوں کو ایک خوف لاحق ہوگئی ہے ۔دبئی میں ایرانی اسپتال بند ہونے سے وہاں 130 سے زائد کام کرنے والے ہندوستانی شہریوں کو ہرممکن مدد دی جارہی ہے۔
انٹر نیشنل
ایران کا امریکی ٹھکانوںپر بڑا حملہ
کویت/عمان:ایران نے اردن اور کویت میں امریکی ٹھکانوں پر زبردست حملہ کیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق اردن میں تعینات تھاڈ (ٹرمنل ہائی ایلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس) پر ائیر ڈیفنس سسٹم کو تباہ کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کویت میں امریکی ایم کیو -9 پراپر ڈرون کے آپریشن فورس پر بھی حملہ کیا گیا۔ جس سے وہ کافی نقصان پہنچا ہے۔ غورطلب ہے کہ امریکہ نے کل ایران پر ہوائی حملہ کیا تھا ، جس میں دو لوگوں کی موت کی خبریں ہیں۔ اس کے جواب میں ایران نے کویت اور اردن پر حملے کئے، امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکرائو کولیکر کچے تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی آگئی ہے۔
کروڈ آئل چار فیصد سے بڑھ کر 9.8 ڈالر فی بیرل کو پار کرچکا ہے جو گزشتہ ایک ہفتے کے اندر پہلی بار ہے۔ ادھر فرانس میں ایران حامی حوثی باغیوں سے سعودی عرب کے تیل ٹینکروں پر حملہ نہ کرنے کی اپیل کی اور فرانس نے کہا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی۔ بہرحال امریکہ نے مسلسل 12ویں رات ایران پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ ایرانی میڈیا آؤٹ لیٹ پریس ٹی وی کے مطابق جنوبی ایران کے علاقے سریک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس سے قبل امریکی فوج نے ایران کے متعدد علاقوں اور جزیروں کو نشانہ بنایا تھا۔
انٹر نیشنل
امریکی حملہ کے جواب میں ایران کا امریکی ٹھکانوں پر نشانہ
تہران:امریکہ نے کل ایران کے کئی ٹھکانوں پر حملے کئے ،امریکی فوج نے میزائل ڈرون ٹھکانوں اور رڈار سسٹم کو نشانہ بنایا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نے ان کے جہاز کو غرقاب کرکے جنگ شروع کردی ہے۔ دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج میں موجود امریکہ کے کئی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کے اہم لیڈر ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایک بار پھر گفتگو کے دوران حملہ کیا ہے ، جنگ بندی امریکہ کے لئےشرمندگی ہوگی۔
غورطلب ہے کہ عمان کے ساحل کے پاس ایک مال بردار جہاز پر حملہ ہوا جہاز کے کئی حصے پر نقصان پہنچے۔ اس کے بعد جہاز کے کارکنان کو نکالنے کا کام شروع ہوا، بتایا جاتا ہے کہ یہ جہاز امریکہ کا ہے۔
اس حملے کے بعد امریکہ نے ایران پر حملہ کیا، اس کے جواب میں ایران نے کئی امریکی ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ بہرحال دونوں ملکوں کے درمیان اب بھی معاہدہ کو حتمی صورت اختیار کرنے کے لئے گفتگو کو دور جاری ہے۔ پاکستان اس میں ثالث کا رول ادا کررہا ہے۔ حالانکہ ہرمز کو بند نہیں کیا گیا ہے۔ معاہدہ کی رو سے ی ساٹھ دنوں تک کھلا رہے گا۔
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر11 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
