(پی این این)
علی گڑھ:سرسید اکیڈمی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیر اہتمام یوم سرسید پر منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان، رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر، سرسید اکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر شافع قدوائی اور ڈپٹی ڈائرکٹر ڈاکٹر مشتاق احمد صدف کی موجودگی میں 8 کتابوں اور’تہذیب الاخلاق‘ اور’فکر و نظر‘ کے خصوصی شماروں کا اجرا کیا۔ وائس چانسلر نے اس موقع پر مولانا آزاد لائبریری اور سرسید اکیڈمی کے اشتراک سے منعقدہ کتب و نوادرات کی نمائش کا بھی افتتاح کیا۔
جن مطبوعات کی رونمائی کی گئی ان میں سرسید کی تفسیر القرآن کی دو جلدیں، اچاریہ پرمانند شاستری کی سنسکرت تصنیف ”سر سید احمد خان چریتم“ کا ہندی ترجمہ از پروفیسر ساریکا وارشنے، ڈاکٹر اسعد فیصل فاروقی کی تصنیف ”سرسید کی مطالعاتی سوانح“،پروفیسر ارشد مسعود ہاشمی کی تدوین”علی گڑھ کالج اور شیراز (مکمل سفرنامہ)“، تہذیب الاخلاق اور فکر و نظر کے خصوصی شمارے، عاطف سید کی کتاب ”علی گڑھ: دی سٹی دَیٹ لاسٹیڈ ایمپائرس“، ڈاکٹر شمس بدایونی کی مرتبہ کتاب”مطالعہ حیاتِ جاوید کے 125 سال“، مظہر سعید کی تصنیف ”سر سید کی کہانی اشعار کی زبانی“، ڈاکٹر ایم فیروز خان اور ڈاکٹر شگفتہ نیاز کی مرتبہ کتاب ”بھارتیہ نوجاگرن کے نایک: سر سید احمد خان“،اور ڈاکٹر راحت ابرار کی مرتبہ کتاب ”سر سید: رواداری اور امن کے علمبردار“ شامل ہیں۔ یہ مطبوعات سر سید احمد خان کی زندگی، فکر، ادبی ورثے اور تعلیم و معاشرے کے لیے ان کی دیرپا خدمات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔
وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے اس موقع پر سرسید اکیڈمی کی جانب سے سرسید کی حیات و خدمات پر علمی اشاعتوں کو سراہا اور تمام مصنفین کو مبارکباد پیش کی۔پروفیسر شافع قدوائی، ڈائرکٹر، سرسید اکیڈمی نے کتابوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہاکہ سرسید کی تفسیر القرآن دو جلدوں میں شائع کی گئی ہے۔ اس میں اس تفسیر کے بارے میں الطاف حسین حالی کا ایک اہم مضمون شامل ہے جو تحفظات و شبہات کا ازالہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جمشید ندوی کا ایک مضمون بھی ہے جو سرسید کی عربی دانی، تفسیر کے عربی مصادر اور حوالہ جات کا احاطہ کرتا ہے۔ سرسید کی تفسیر ان کی زندگی میں ایک بار شائع ہوئی تھی۔ پھر خدا بخش لائبریری نے اسے شائع کیا۔ سرسید اکیڈمی کی اشاعت میں اغلاط کی اصلاح کی گئی ہے اور مشکل الفاظ کی تشریح بھی کی گئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ”علی گڑھ کالج اور شیراز“ 1903میں علی گڑھ سے ایران کا دورہ کرنے والے سید جلال الدین حیدر اور ولایت حسین کا سفرنامہ ہے جو اس غرض سے کیا گیا کہ مدرسۃ العلوم کا تعارف کرایا جائے اور ایران سے طلبہ کو علی گڑھ لایا جائے۔ اس دورے کے نتیجہ میں ایران سے دس طلبہ حصول تعلیم کے لئے علی گڑھ آئے۔ ”سرسید کی مطالعاتی سوانح“ پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر قدوائی نے کہا کہ سرسید کے مطالعہ میں جو کتب اور رسائل رہے اور جن کتابوں سے انھوں نے استفادہ کیا اس کا تفصیلی احاطہ یہ کتاب کرتی ہے اور اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک منفرد کتاب ہے۔
”مطالعہ حیاتِ جاوید کے 125 سال“ کا تعارف کراتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سرسید کی سوانح حیات جاوید پر کس نے کیا لکھا اس کا احاطہ یہ کتاب کرتی ہے۔ مصنف ڈاکٹر شمس بدایونی نے تحقیق کا اعلیٰ معیار اپناتے ہوئے کئی اہم گوشے وا کئے ہیں۔ مثال کے طور پر حالی کے نام سرسید کے چند نادر خطوط اس اشاعت میں شامل کرکے انھوں نے سرسید اور حالی کے باہمی تعلق کی نوعیت واضح کی ہے۔ پروفیسر ساریکا وارشنے، چیئرپرسن، شعبہ سنسکرت، اے ایم یو کی جانب سے سرسید کی سنسکرت سوانح کا ہندی میں ترجمہ کو پروفیسر قدوائی نے ہندی قارئین کے لئے ایک قیمتی تحفہ قرار دیا۔ اسی طرح ”سر سید کی کہانی اشعار کی زبانی“ مسٹر مظہر سعید کی جانب سے سرسید کو منظوم خراج عقیدت ہے۔ انھوں نے دیگر کتب کا بھی مختصر تعارف کرایا۔
سرسید اکیڈمی کے ڈپٹی ڈائرکٹر ڈاکٹر مشتاق احمد صدف نے اس موقع پر سرسید اکیڈمی کی اشاعتوں کی مختصر روداد پیش کی اور حاضرین سے درخواست کی کہ وہ بانی درسگاہ سرسید احمد خاں کی حیات و خدمات کی مختلف جہات سے واقفیت کے لئے ان کتابوں سے ضرور استفادہ کریں۔انہوں نے جلسے کی نظامت بھی کی۔ آخر میں ڈاکٹر حسین حیدر نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔
وائس چانسلر نعیمہ خاتون کے ہاتھوں دس کتابوں کا اجرا ،یوم سر سید پر سر سید اکیڈمی کی جانب سےتقریب رسم اجرا کا انعقاد
