مظفرپور: (پی این این)صحت کی بنیادی سہولتوں کو عام لوگوں تک پہنچانے اور ضرورت مند خاندانوں کو طبی جانچ کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے شفیع احمد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن (سیوا) ٹرسٹ کے زیر اہتمام برہم پورہ کے قلعہ میدان میں مفت طبی کیمپ لگایا گیا۔ پروجیکٹ ماں کے اشتراک سے منعقدہ اس کیمپ میں مختلف امراض کے ماہر ڈاکٹروں نے اپنی خدمات پیش کیں۔ اس دوران مجموعی طور پر ۵۳۷ مریضوں کی جانچ کی گئی اور طبی ضرورت کے مطابق انہیں مفت دوائیں بھی دی گئیں۔
کیمپ میں معروف معالج اطفال ڈاکٹر کفیل خان کے علاوہ ڈاکٹر انظر احمد، ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر تبسم خاتون، ڈاکٹر شہبان ریاض، ڈاکٹر مراد اور ڈاکٹر ریحان احمد خان نے مریضوں کا معائنہ کیا۔ بچوں کی صحت، خواتین کے امراض اور دانتوں سے متعلق مسائل کیلئے بھی طبی خدمات فراہم کی گئیں، جس سے مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کو ایک ہی جگہ پر ڈاکٹروں سے مشورہ لینے کا موقع ملا۔
کیمپ کے تناظر میں بچوں کی صحت سے متعلق معلومات کو اہمیت دیتے ہوئے ڈاکٹر کفیل خان نے متوازن غذا، صاف پانی، ذاتی صفائی اور وقت پر طبی معائنہ کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ بچوں میں بیماری کی ابتدائی علامات کو نظر انداز کرنے کے بجائے بروقت ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ مسلسل بخار، سانس لینے میں دشواری، کھانے پینے میں کمی یا غیر معمولی سستی جیسی علامات پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔صحت کے تحفظ کے لیے بچوں کی مقررہ وقت پر ویکسینیشن، بیماری کی صورت میں مستند معالج سے مشورہ اور خود سے دوائیں دینے سے گریز بھی اہم احتیاطی تدابیر ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق بیماریوں سے بچاؤ کے لیے علاج کے ساتھ صحت سے متعلق بنیادی معلومات عام لوگوں تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ مفت طبی کیمپ اس سمت میں ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے ایسے افراد کو بھی ابتدائی طبی مشورہ مل جاتا ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر باقاعدہ علاج نہیں کرا پاتے۔طبی کیمپ کے انعقاد اور انتظامی امور میں انجینئر ظفر اعظم ربانی، حاجی ریاض احمد گڈو، انجینئر محمد نیاز عالم اور حاجی جاوید نے اہم کردار ادا کیا۔ وہیں لکی، نوشاد، ہریش، اعجاز ببلو اور شاہد نے رضاکاروں کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور مریضوں کی رہنمائی سمیت دیگر انتظامات میں تعاون کیا۔
کیمپ میںمنتظمین نے مقامی سطح پر صحت کی سہولتوں کو عام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔ ایسے پروگراموں سے نہ صرف ضرورت مند مریضوں کو معائنے اور ادویات کی سہولت ملتی ہے، بلکہ صحت سے متعلق احتیاطی تدابیر اور بروقت علاج کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
