نئی دہلی: گذشتہ شب فنکار کلچرل گروپ کے زیر اہتمام غالب اکادمی دہلی میں مشہور مصنف اور ادیب نارنگ ساقی کی یاد میں ایک شاندار آل انڈیا مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جو ان کی زندگی اور ادبی وراثت کے نام منسوب رہا۔مشاعرے کی صدارت استاد شاعر خمار دہلوی صاحب نے کی اور نائب صدر خرم نور صاحب رہے۔
نظامت کے فرائض اسلم بے تاب نے اپنے خوبصورت انداز میں انجام دئے اس مشاعرے کے کنوینر احترام صدیقی (جاہل لکھنوی) نے بتایا کہ نارنگ ساقی اردو-ہندی شاعری کے اہم ستون تھے۔ ان کے کلام میں انسانیت اور محبت کی جھلک ملتی ہے۔اس مشاعرے میں سنجیو نارنگ (ابنِ نارنگ ساقی) سمیت 40 سے زائد شعراء، شاعرات و ادباء نے شرکت کی، جن میں ڈاکٹر عقیل احمد، سرفراز دہلوی، افضل منگلوری، پرمود شرما اثر، شہادت علی نظامی، درد دہلوی، پروین ویاس، ہاشم دہلوی، جاوید عباسی، سریندر ؐصفر، گولڈی غضب، عارف دہلوی، پون تومر، وویک کویشور، پنڈت پریم بریلوی، نعیم ہندوستانی، کوثر پروین کوثر، سرتاج سبینہ، کرشنا دامنی، رجنی بالا، پوجا بھاردواج ، نرمل رچنا وغیرہ شامل رہے۔قابلِ ذکر ہے کہ فنکار کلچرل گروپ پچھلے 20 برسوں سے دہلی میں ادبی و ثقافتی پروگراموں کے انعقاد میں سرگرم ہے۔
مرحوم نارنگ ساقی کی یاد میں آل انڈیا مشاعرہ
