Connect with us

Bihar

رابڑی دیوی نے سرکاری سکیورٹی واپس کرکے این ڈی اے حکومت کے منصوبوں کی کھول دی قلعی : شکتی سنگھ یادو

Published

on

(پی این این)
پٹنہ: راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ریاستی ترجمان مسٹر شکتی سنگھ یادو نے ہفتہ کو کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی نے اپنی سرکاری سکیورٹی واپس کرکے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) حکومت کے منصوبوں کا پول کھول دیا ہے۔
مسٹر یادو نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے گزشتہ دنوں لالو-رابڑی خاندان کے ارکان کو ذلیل کرنے کے ارادے سے ان کی سکیورٹی کا نظام کم کیا تھا اور آج رابڑی دیوی نے ان کی سکیورٹی واپس لوٹا کر ان کے ارادوں کی پول کھول دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسی حکومت جو اپنے ضلع سطح اور بہت کم حیثیت والے لیڈروں کو معیارات کی پرواہ کیے بغیر اعلیٰ سکیورٹی فراہم کر رہی ہے، وہی دو سابق وزرائے اعلیٰ کی سکیورٹی میں کٹوتی کر کے کیا پیغام دینا چاہتی ہے۔ آر جے ڈی ترجمان نے کہا کہ سکیورٹی میں کٹوتی تو ایک بہانہ ہے اور اصل منشا اپوزیشن کو کچلنے کی پالیسی سے جڑی ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ ایسا ہی برتاؤ سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ کیوں نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لالو-رابڑی دونوں سابق وزیر اعلیٰ رہے ہیں اور حکومت نے پہلے ان پر گھر خالی کرنے کا دباؤ بنایا اور اب پورے خاندان کی سکیورٹی میں کٹوتی کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جمہوریت ہے اور اس میں عوام ہی سب کچھ ہے، جو سب دیکھ رہی ہے۔
مسٹر یادو نے کہا کہ این ڈی اے حکومت اپنی بڑی تعداد میں سیٹیں گن رہی ہے، لیکن یہ بھول گئی ہے کہ اس ریاست میں اپوزیشن ایک کروڑ نوے لاکھ لوگوں کے ووٹوں کی نمائندہ ہے اور اسے خارج کرنا مستقبل میں مہنگا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تو شروعات ہے اور لالو-رابڑی خاندان کے لوگوں کی جانب سے سکیورٹی واپس لوٹانے کے بہادرانہ فیصلے کے بعد اپوزیشن کے اور بھی لیڈر اس مہم میں شامل ہوں گے اور حکومت کے منصوبوں کا پول کھولیں گے۔

Bihar

اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نالندہ ضلع کو ملی نئی سوغات

Published

on

بہار شریف: ریاست حکومت کے سات نشچے-3 2025-30 کے چوتھے نشچے اُنت شِکشا اُجّول بھوش کے تحت نالندہ ضلع میں قائم 09 نئے سرکاری ڈگری کالجوں کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ریاست سطحی پروگرام کا افتتاح معزز وزیرِ اعلیٰ، بہار جناب سمراٹ چودھری کے ہاتھوں سرکاری ڈگری کالج، گوراڈیہ بھاگلپور میں منعقدہ تقریب کے ذریعے کیا گیا۔ اسی پروگرام کے ساتھ ریاست کے تمام 211 نئے قائم شدہ ڈگری کالجوں میں ایک ساتھ تدریس کا آغاز کیا گیا۔
یہ پہل ریاست حکومت کے اس عزم کی علامت ہے جس کے تحت ہر علاقے کے طلبہ کو اپنے ہی پرکھنڈ میں معیاری اعلیٰ تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔نالندہ ضلع میں ان نئے ڈگری کالجوں کے شروع ہونے سے خاص طور پر دیہی اور دور دراز کے علاقوں کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے دوسرے شہروں کی طرف ہجرت نہیں کرنی پڑے گی۔ اس سے طلبہ و طالبات، بالخصوص طالبات کو اپنے قریبی علاقے میں تعلیم حاصل کرنے کا بہتر موقع ملے گا اور ضلع میں اعلیٰ تعلیم کا دائرہ مزید مستحکم ہوگا۔اب گریجویشن کی تعلیم کے لیے طلبہ کو دور دراز شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ ہر پرکھنڈ میں اعلیٰ تعلیم دستیاب ہونے سے وقت اور پیسے دونوں کی بچت ہوگی اور زیادہ سے زیادہ نوجوان اعلیٰ تعلیم سے جڑ سکیں گے۔
ان تمام کالجوں میں 6 اہم مضامین میں پڑھائی شروع کی گئی ہے۔ ان میں ہندی، انگریزی، سیاسیات، معاشیات، تاریخ اور سماجیات شامل ہیں۔
طلبہ کے داخلے، تدریس، بنیادی سہولیات اور تعلیمی ماحول کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے تمام ضروری انتظامات وقت کی حد میں یقینی بنائے جائیں۔
نالندہ ضلع میں ان 09 سرکاری ڈگری کالجوں کا آغاز اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک اہم کامیابی ہے۔ حکومت کے اُنت شِکشا اُجّول بھوش کے ہدف کو نئی رفتار ملے گی۔

Continue Reading

Bihar

بوچی گاؤں میں نوجوان کا تیز دھار ہتھیار سے قتل

Published

on

ارریہ: بیرگاچھی تھانہ حلقہ کے تحت بوچی گاؤں میں بدھ کی شب ایک نوجوان کو تیز دھار ہتھیار سے قتل کر دیا گیا۔ مقتول کی لاش اس کے گھر بوچی بکرا ندی سے متصل سڑک پر خون سے لت پت حالت میں برآمد ہوئی۔ مقتول کے سر پر گہرے زخم کے نشانات پائے گئے، جس سے ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نامعلوم افراد نے تیز دھار ہتھیار سے وار کرکے اس کی جان لے لی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بیرگاچھی تھانہ کے انچارج نودیپ گپتا بدھ کی رات ہی موقع واردات پر پہنچ گئے اور قتل کے معمہ کو حل کرنے کے لیے تفتیش شروع کر دی۔ پولیس نے جمعرات کو لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجنے کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈی ایس پی سشیل کمار سنگھ جمعرات کی صبح بوچی گاؤں پہنچے اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کرتے ہوئے پولیس کو ضروری ہدایات دیں۔ اسی دوران آئی ایف ایس ایل کی ٹیم بھی موقع پر پہنچی اور تحقیقات کے لیے کئی نمونے جمع کیے۔ مقتول کی شناخت ارریہ بلاک کے بیرگاچھی تھانہ حلقہ، بوچی پنچایت کے وارڈ نمبر چار کے بکرا ٹولہ باشندہ نورالحسن کے 35 سالہ بیٹے خواجہ حسین کے طور پر کی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق مقتول خواجہ حسین اپنے گھر سے پچھم کی جانب سڑک پر خون سے لت پت حالت میں پڑا ہوا تھا۔ کسی راہگیر کی نظر اس پر پڑی تو اس نے فوری طور پر پنچایت کے مکھیا محمد علی حسن کو موبائل فون کے ذریعے واقعہ کی اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی مکھیا محمد علی حسن گاؤں والوں کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے، جہاں اہل خانہ نے مقتول کی شناخت کی اور بیرگاچھی تھانہ پولیس کو واقعہ سے آگاہ کیا۔
ورثا کا کہنا ہے کہ مقتول کے سر پر تیز دھار ہتھیار سے سیدھا وار کر کے اس کا قتل کیا گیاہے۔ بیرگاچھی تھانہ صدر نودیپ گپتا نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، پوسٹ مارٹم کی کارروائی مکمل کرائی گئی اور آئی ایف ایس ایل ٹیم کو بھی طلب کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، ورثا کی جانب سے تحریری درخواست موصول ہونے کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی اور جلد ہی واقعہ کا انکشاف کر لیا جائے گا۔

Continue Reading

Bihar

جعلی آدھار کارڈ اور سرکاری دستاویزات بنانے والے گروہ کا پردہ فاش، ایک گرفتار

Published

on

سیتامڑھی: ضلع کے پریہار تھانہ علاقے میں جعلی آدھار کارڈ اور دیگر سرکاری دستاویزات تیار کرنے والے ایک گروہ کا پولیس نے پردہ فاش کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ امت رنجن کی ہدایت پر جرائم پر قابو پانے کی مہم کے تحت پروہا چوک میں واقع ایک دکان پر چھاپہ مارا گیا، جہاں سے بڑی تعداد میں بایومیٹرک آلات اور دیگر الیکٹرانک سامان برآمد کیا گیا۔ پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع ملی تھی کہ مذکورہ دکان میں غیر قانونی طور پر آدھار کارڈ اور دیگر سرکاری دستاویزات تیار کیے جا رہے ہیں۔ اطلاع کی تصدیق کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم گجیندر کمار (35) ولد سورج رائے، ساکن ببروبن، تھانہ پریہار، ضلع سیتامڑھی کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تفتیش کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ آن لائن مختلف سرکاری سرٹیفکیٹ تیار کرتا تھا اور برآمد شدہ بایومیٹرک آلات آدھار کارڈ کے لیے فنگر پرنٹ لینے میں استعمال کیے جاتے تھے۔ تاہم وہ آدھار اندراج یا اپڈیٹ سے متعلق کوئی مجاز اجازت نامہ یا قانونی دستاویز پیش نہیں کر سکا، جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔ چھاپے کے دوران پولیس نے دو لیپ ٹاپ، ایک مورفو فنگر پرنٹ اسکینر، ایک لائیو اسکین فنگر پرنٹ شناختی ڈیوائس، ایک ویب کیم اور ایک ایپسن فوٹو پرنٹر ضبط کیا ہے۔ اس سلسلے میں پریہار تھانہ کاند نمبر 191/26 درج کر کے پولیس پورے نیٹ ورک کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے۔ یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس جعلسازی میں اور کون لوگ شامل ہیں اور اس کے روابط کہاں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ امت رنجن نے کہا کہ سیتامڑھی پولیس جرائم پر قابو پانے اور عوامی تحفظ کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ جعلی دستاویزات تیار کرنے والوں اور سائبر جرائم سے وابستہ عناصر کے خلاف آئندہ بھی سخت کارروائی جاری رہے گی۔
Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network