تازہ ترین
مظفرپور میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد،ماہر ڈاکٹروں نے دی صحت سے متعلق رہنمائی،سیوا ٹرسٹ کی پہل، بچوں اور خواتین سمیت مختلف امراض کے مریضوں کو ملی طبی سہولت، مفت ادویات بھی تقسیمسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیا جائیگا اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کا مقدمہ دائرارریہ: سدبھاونا منچ کے اراکین نے مختلف درگا پوجا پنڈالوں کاکیا دورہ، باہمی محبت اور بھائی چارے کا دیا پیغام،وسرجن میں شامل ہونے والے افراد کا استقبال اور کیا جائے گا اعزازسرسید احمد خاں نے قوم کو تعلیم کی اہمیت سے کرایاروشناس ،اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام یومِ سرسید کی پر تقریب کا انعقادوائس چانسلر نعیمہ خاتون کے ہاتھوں دس کتابوں کا اجرا ،یوم سر سید پر سر سید اکیڈمی کی جانب سےتقریب رسم اجرا کا انعقاددھام پور میں جشنِ سرسید تقریب کا انعقاد، عصری علوم کے حصول پرزور،سرسید احمد خاں کی خدمات کوپروقار اور شاندار انداز میںپیش کیاگیا خراجِ عقیدت5 افراد کی موت کے معاملے میں بہن، بہنوئی سمیت تین گرفتاردہلی حکومت جمنا کو صاف کرنے کے لیےکر رہی ہے کام : سی ایم ریکھا
Bihar

’دعوتِ گفتگو‘کے تحت ایک علمی و ادبی مذاکرہ کا انعقاد

گیا جی : شہر کے نیو کریم گنج میں واقع مولانا انوارالحق اردو لائبریری میں جمعہ کی شام ’’دعوتِ گفتگو‘‘ کے تحت ایک علمی و ادبی مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں ادب، علم اور فکر کے دو اہم موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ پہلا موضوع ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ ممتاز افسانہ نگار و ادیب پروفیسر حسین الحق کی شخصیت اور ادبی خدمات تھا، جبکہ دوسرا موضوع بھارت رتن اور سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی تصنیفی خدمات اور ان کے افکار کی عصری معنویت پر مشتمل تھا۔
مقررین نے کہا کہ پروفیسر حسین الحق نے اپنی تخلیقات میں انسانی رشتوں، سماجی تبدیلیوں اور عوامی زندگی کے مسائل کو نہایت حساس اور فنی انداز میں پیش کیا، جس کی وجہ سے انہیں اردو فکشن میں نمایاں مقام حاصل ہے۔
اس موقع پر ان کی غیر مطبوعہ تحریروں پر مشتمل دو کتابوں ’’حسین الحق: فن اور فنکار‘‘ اور ’’حسین الحق: مسافر کا خواب‘‘ کی رسمِ اجرا بھی انجام دی گئی۔ ان کتابوں کی تدوین ان کے صاحبزادے ڈاکٹر سید عینین علی حق نے کی ہے۔ مقررین نے اسے اردو ادب کے لیے ایک اہم اضافہ قرار دیا۔
دوسرے اجلاس میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی سائنسی، تعلیمی اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ان کی تحریریں نوجوانوں میں علم، تحقیق، سائنسی مزاج اور قومی خدمت کا جذبہ پیدا کرتی ہیں اور ان کی زندگی عزم، دیانت اور محنت کی روشن مثال ہے۔
جلسے کی صدارت پروفیسر سید احمد قادری نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض شارے علی حق نے انجام دیے۔ مذاکرے سے پروفیسر قاسم فریدی، پروفیسر عین تابش، ندیم جعفری، پروفیسر محمد بدیع الزماں، پروفیسر اصفر جمال ملک، پروفیسر مشیر الزماں، نوشاد ناداں، ڈاکٹر احسان اللہ دانش، پروفیسر پرویز وہاب اور امان الحق نے خطاب کیا۔ مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ مدثر ظفر اور غلام غوث نے بھی اظہارِ خیال کیا۔
اس موقع پر اسد الحق، آفتاب عالم، صحافی فیصل رحمانی، ممتاز احمد، معراج احمد، ایس ایم ثاقب، سید فضل الرحمن، ابو آلے، اشتیاق عالم اور لائبریرین محمد دانش سمیت بڑی تعداد میں اہلِ علم، ادباء، محققین اور کتاب دوست افراد موجود تھے۔
اختتام پر پروفیسر پرویز وہاب نے کہا کہ مولانا انوارالحق اردو لائبریری صرف کتابوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ علمی و ادبی مکالمے کا ایک فعال مرکز ہے۔ بعد ازاں پروفیسر عین تابش کے کلمات تشکر سے پروگرام اختتام پزیر ہوا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔