Connect with us

دلی این سی آر

ملک کو اب تعلیمی انقلاب کی سخت ضرورت: منیش سسودیا

Published

on

نئی دہلی، 19 جولائی: دہلی میں تعلیمی انقلاب کے معمار اور سابق وزیرِ تعلیم منیش سسودیا اتوار کو سونم وانگچک کی حمایت میں جنتر منتر پہنچے، جہاں انہوں نے تعلیمی نظام میں انقلابی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں کے حوصلے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک کو ایک حقیقی تعلیمی انقلاب کی اشد ضرورت ہے، اور اس انقلاب کا پہلا مرحلہ ملک کو پیپر مافیا سے نجات دلانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج صرف امتحانی پرچے ہی فروخت نہیں ہو رہے بلکہ ہمارے بچوں کا مستقبل بھی بازار میں نیلام کیا جا رہا ہے۔ یہ جدوجہد اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ ملک میں آگے وہ طالب علم بڑھے گا جو محنت کرتا ہے یا وہ شخص جو دولت اور رسوخ کے بل پر امتحانی پرچہ خرید لیتا ہے۔منیش سسودیا نے کہا کہ سونم وانگچک نے تعلیمی انقلاب کے لیے اپنی جان اور صحت کو داؤ پر لگا دیا ہے، مگر وزیرِ اعظم نے اپنے لوگوں کو بھیج کر “سفید چادر والا جادو” دکھایا اور سونم وانگچک کو وہاں سے ہٹا دیا۔ کاش! یہی جادو وزیرِ تعلیم کی کرسی پر دکھایا جاتا تو دھرمیندر پردھان اپنی کرسی سے غائب ہو جاتے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ یہ کسی سیاسی جماعت کی لڑائی نہیں بلکہ ہمارے بچوں کے مستقبل کی جنگ ہے۔ پیر کے روز ملک بھر کے نوجوان جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے، اس لیے تمام جماعتوں کے حامی اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے ضرور جنتر منتر پہنچیں۔منیش سسودیا نے کہا کہ وہ آج جنتر منتر اس لیے آئے ہیں تاکہ تعلیمی انقلاب کے سپاہیوں کو سلام پیش کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی طرح کے انقلابات آ چکے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ ایک تعلیمی انقلاب بھی برپا ہو۔ انہیں فخر ہے کہ آج نوجوان اور طلبہ اس انقلاب کی قیادت کر رہے ہیں۔ اگر تین ماہ پہلے کوئی کہتا کہ تعلیمی اصلاحات اور امتحانی گھوٹالوں کے خلاف انقلاب آئے گا تو شاید لوگ مذاق اڑاتے، مگر آج نئی نسل نے ثابت کر دیا ہے کہ تعلیمی انقلاب بھی ممکن ہے۔ ملک کو واقعی ایک تعلیمی انقلاب کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی انقلاب کی سب سے پہلی ضرورت ملک کو پیپر مافیا سے آزادی دلانا ہے۔ اسی مقصد کے لیے بڑی تعداد میں نوجوان جنتر منتر پر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہ دھرنا “کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)” کے بینر تلے جاری ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے لوگ یہاں آ رہے ہیں، لیکن درحقیقت یہ تحریک ملک کو پیپر مافیا سے نجات دلانے کی ایک تعلیمی تحریک ہے۔ اس تحریک کا بوجھ ابھیجیت دیپکے، آشوتوش رانکا، سوربھ داس، ہماری بیٹیوں اور سونم وانگچک نے اپنے کندھوں پر اٹھایا ہے، جنہوں نے اپنی جان تک داؤ پر لگا دی۔ منیش سسودیا نے کہا کہ وہ ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پر ویڈیوز دیکھ رہے تھے اور حیران تھے کہ وزیرِ اعظم مسلسل بیس دن تک سونم وانگچک کو نظر انداز کرتے رہے۔ جب انہیں محسوس ہوا کہ نوجوانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے تو انہوں نے “سفید چادر والا جادو” دکھایا۔ بچپن میں جیسے جادوگر سفید چادر لہرا کر کسی شخص کو غائب کر دیتا تھا، ویسے ہی سفید چادر اوڑھے افراد کو بھیج کر سونم وانگچک کو اسٹیج سے ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سوچ رہے تھے کہ اگر وزیرِ اعظم یہی جادو وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کی کرسی کے سامنے دکھا دیتے تو وہ بھی اپنی کرسی سے غائب ہو جاتے۔ اگر واقعی وزیرِ اعظم کو یہ جادو آتا ہے تو وہ دھرمیندر پردھان کی کرسی کے سامنے جا کر ایک بار ضرور دکھائیں۔ سونم وانگچک کو جنتر منتر سے ہٹا دینے سے یہ تحریک ختم نہیں ہوگی بلکہ ہفتہ کی صبح کے بعد سے یہ تحریک مزید مضبوط اور وسیع ہو گئی ہے۔ منیش سسودیا نے کہا کہ ہمارے ملک میں یہ نظام ہے کہ طالب علم نے صحیح تعلیم حاصل کی یا نہیں، اس کے لیے امتحان لیا جاتا ہے، جبکہ امتحان شفاف طریقے سے منعقد ہوا یا نہیں، یہ حکومت کا امتحان ہوتا ہے۔ اگر کوئی طالب علم امتحان میں ناکام ہو جائے تو اسے اگلی جماعت میں جانے سے روک دیا جاتا ہے، لیکن وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان خود امتحانات کے انعقاد میں ناکام ہو چکے ہیں، اس لیے عوام چاہتے ہیں کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ اگر ایک طالب علم امتحان میں ناکام ہونے پر کلاس چھوڑ دیتا ہے تو پورے ملک کے امتحانات میں ناکام ہونے والے وزیرِ تعلیم کو بھی اپنی کرسی چھوڑ دینی چاہیے۔ موجودہ نظام میں طالب علم کی ناکامی پر اس کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، مگر وزیرِ تعلیم کی ناکامی پر ان کی کرسی محفوظ رہتی ہے، جو بچوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ جدوجہد طویل ہوگی کیونکہ تعلیمی اصلاحات کوئی معمولی معاملہ نہیں۔ فی الحال نوجوان امتحانات اور پیپر لیک کے خلاف لڑ رہے ہیں، لیکن تعلیم کے شعبے میں کئی اور بنیادی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اور سیاست کو تعلیم کے لیے وقف کر رکھا ہے اور ان کا واحد نظریہ یہ ہے کہ ملک کے ہر بچے کو بہترین تعلیم ملنی چاہیے۔ گزشتہ بیس دن سے وہ دیکھ رہے تھے کہ وزیرِ اعظم سونم وانگچک اور دیگر نوجوانوں کو مسلسل نظر انداز کر رہے تھے، لیکن جب تحریک زور پکڑ گئی تو انہیں نظر بند کرا دیا گیا۔ منیش سسودیا نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی یہ نظر بندی کی سیاست کامیاب نہیں ہوگی۔ پیر کے روز ملک کے نوجوان اور عوام جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے۔ یہ کسی سیاسی جماعت یا اس کے رہنما کو آگے بڑھانے کی تحریک نہیں بلکہ ہر بچے کو دیانت دارانہ تعلیم، شفاف امتحانات اور منصفانہ روزگار دلانے کی تحریک ہے۔ انہوں نے سی جے پی کے اسٹیج سے تمام سیاسی جماعتوں، حتیٰ کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے بھی اپیل کی کہ اگر وہ اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں تو جنتر منتر آئیں اور پارلیمنٹ کی طرف مارچ میں شریک ہوں۔آخر میں منیش سسودیا نے کہا کہ یہ صرف سی جے پی، عام آدمی پارٹی، کانگریس یا سماجوادی پارٹی کی لڑائی نہیں بلکہ بی جے پی کے کارکنوں کے بچوں کی بھی لڑائی ہے، کیونکہ وہ بھی اسی ملک کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کارکنوں سے بھی اپیل کی کہ پیر کی صبح سیاست کو ایک طرف رکھ کر اپنے بچوں کا چہرہ دیکھیں اور عہد کریں کہ آج وہ کسی جماعت کے لیے نہیں بلکہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے جنتر منتر جائیں گے، پارلیمنٹ کا گھیراؤ کریں گے اور مطالبہ کریں گے کہ ملک کے وزیرِ تعلیم کو استعفیٰ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ 20 جولائی (پیر) کو تمام عوام کے ساتھ اس مارچ میں شریک ہوں گے۔

دلی این سی آر

اے پی سی آر تلنگانہ کی جانب سے ایس آئی آر پر وکلا کی ورکشاپ

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی، 10 اگست 2026: ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) تلنگانہ نے 9 اگست 2026 کو اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے موضوع پر وکلا کی ایک خصوصی ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس میں وکلا، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے آئندہ مراحل کے دوران پیدا ہونے والے ممکنہ قانونی و عملی مسائل، شہریوں کو جاری ہونے والے نوٹس، اعتراضات، اپیلوں، ضروری دستاویزات، قانونی چارہ جوئی اور شہریوں کے آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی تیاری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ورکشاپ کے آغاز میں ڈاکٹر محمد عثمان نے ایس آئی آر کے حوالے سے اے پی سی آر تلنگانہ کی اب تک کی سرگرمیوں سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تنظیم کی جانب سے عوامی بیداری پروگرامس، قانونی مشاورت، وکلا کے اجلاس، رضاکاروں کی شمولیت، ضلعی سطح پر کوارڈی نیشن اور دیگر ضروری اقدامات کے ذریعے شہریوں کی معاونت کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ نوٹس جاری ہونے کے بعد ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے پہلے ہی سے قانونی اور انتظامی تیاری مکمل کی جانی چاہیے، تاکہ شہری اپنے حقوق، متعلقہ طریقۂ کار اور دستیاب قانونی معاونت سے بروقت استفادہ حاصل کرسکیں۔
ایڈووکیٹ لارا جیسنی نے شہری اور آئینی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق معاملات میں اے پی سی آر کے طریقۂ کار، حکمتِ عملی اور مداخلت کے عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے ایس آئی آر کے عمل کو ملک کے وسیع تر آئینی اور جمہوری تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے عام شہریوں پر مرتب ہونے والے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے فیکٹ فائنڈنگ، دستاویزات کی تیاری، قانونی معاونت، وکالت اور ضرورت پڑنے پر قانونی فورمز سے رجوع کرنے کے طریقۂ کار کی وضاحت کی۔
ایڈووکیٹ لارا جیسنی نے واضح کیا کہ ہر انفرادی معاملے کی مناسب دستاویز بندی اور متعلقہ حقائق و ریکارڈ کی بنیاد پر تیاری ضروری ہے۔ انہوں نے وکلا، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کی اہمیت پر بھی زور دیا، تاکہ زمینی سطح پر سامنے آنے والی شکایات کی بروقت نشاندہی، مناسب دستاویز بندی اور ضرورت کے مطابق انہیں متعلقہ قانونی فورمز تک پہنچایا جاسکے۔
ایڈووکیٹ رگھو ناتھ نے موجودہ حالات میں ایس آئی آر کے جواز اور ضرورت پر سوالات اٹھاتے ہوئے ملک کی موجودہ صورتِ حال، جمہوری اداروں اور عدالتی نظام کے کردار اور مؤثریت پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کی شفافیت اور سالمیت اپنی جگہ اہم ہے، تاہم کسی بھی انتخابی مہم کے دوران شہریوں کے آئینی اور جمہوری حقوق سے انکار یا ان میں کمی واقع نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے قانونی برادری پر زور دیا کہ وہ آئینی حقوق اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کرے، خصوصاً ایسے حالات میں جب کسی بھی اقدام سے معاشرے کے کمزور یا متاثرہ طبقات کے حقوق پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہو۔
شازین صدیقی نے ایس آئی آر کے دوران شہریوں کو جاری ہونے والے ممکنہ نوٹس، ان کے جوابات، اعتراضات اور اپیلوں کے حوالے سے عملی رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے مختلف کیس اسٹڈیز اور عملی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی کہ نوٹس موصول ہونے کی صورت میں شہریوں کو کن امور کا جائزہ لینا چاہیے، نوٹس میں درج وجوہات اور قانونی بنیادوں کو کس طرح سمجھنا ضروری ہے، کون سی معاون دستاویزات درکار ہوسکتے ہیں اور مناسب جواب کس طریقے سے تیار کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اعتراضات اور اپیلوں کے بعد اختیار کیے جانے والے طریقۂ کار کی بھی وضاحت کی اور اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ دستاویزات محفوظ رکھے جائیں، مقررہ قانونی طریقۂ کار پر عمل کیا جائے اور متعلقہ مقررہ مدت کے اندر ضروری کارروائی مکمل کی جائے۔ورکشاپ کے اختتامی مرحلے میں ڈاکٹر عثمان نے ایس آئی آر کے دوران نوٹس جاری ہونے کے بعد اے پی سی آر تلنگانہ کی مجوزہ ریاست گیر حکمتِ عملی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ نوٹس جاری ہونے کے بعد تنظیم ریاست بھر میں ایک مربوط قانونی اور عوامی معاونتی نظام قائم کرنے کی کوشش کرے گی، تاکہ متاثرہ شہریوں کو ضلعی اور نچلی سطح تک بروقت قانونی و عملی مدد فراہم کی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کو محض معلومات، دستاویزات یا قانونی رہنمائی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ اے پی سی آر کا مقصد ریاست بھر میں ایسا مربوط نیٹ ورک تشکیل دینا ہے جو متاثرہ شہریوں تک ضلعی اور زمینی سطح پر پہنچ سکے اور انہیں دستیاب قانونی ذرائع اور حقوق سے آگاہ کرتے ہوئے ضروری معاونت فراہم کرے۔ورکشاپ کے اختتام پر وکلا، اے پی سی آر کی ضلعی ٹیموں، سماجی کارکنوں اور رضاکاروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران شہریوں کے آئینی حقوق، حقِ رائے دہی اور قانونی چارہ جوئی تک ان کی رسائی کے تحفظ کے لیے پرامن، منظم اور باہمی رابطے کے ساتھ کام کیا جائے گا۔اے پی سی آر تلنگانہ نے وکلا، سول سوسائٹی تنظیموں، سماجی کارکنوں اور تمام باشعور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کوشش کا حصہ بنیں اور ہر شہری کے آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

آپ اراکین اسمبلی نے سائیکل گھوٹالے پر کیا احتجاج، نعرہ والی ٹی شرٹ پہن کر پہنچے اسمبلی، مارشل نے 6 کو کیا باہر

Published

on

عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ایم ایل اے دہلی اسمبلی کے مانسون اجلاس میں ٹی شرٹس پہنے پہنچے جس پر لکھا تھا استعفی۔ اس نے بڑے پیمانے پر ہنگامہ کھڑا کر دیا، اور AAP کے 6 ایم ایل ایز کو باہر کر دیا گیا۔اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتا نے آپ کے ایم ایل اے کے اس طرح کی ٹی شرٹس پہننے پر اعتراض کیا۔ بی جے پی ایم ایل اے موہن سنگھ بشت بھی برہم ہوگئے۔ اس دوران وزیر پرویش صاحب سنگھ نے اسپیکر سے آپ ایم ایل اے کو ایوان کی کارروائی سے ہٹانے کو بھی کہا۔ اس کے بعد اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور ہنگامہ آرائی کے باعث اسمبلی کی کارروائی کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی گئی۔ایم ایل اے یہ ٹی شرٹس پہن کر وزیر آشیش سود کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے آئے تھے۔ جن ایم ایل ایز کو ایوان سے نکالا گیا ان میں سنجیو جھا، جرنیل سنگھ، کلدیپ کمار، پریم کمار، سوم دت اور اجے دت شامل ہیں۔
اپوزیشن لیڈر آتشی ایوان میں غیر حاضر پائے گئے تو اسپیکر نے اس پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ ایوان میں اپنا لیڈر مقرر کریں۔ عام آدمی پارٹی کی ریکھا گپتا حکومت پر طالبات کو بانٹنے والی سائیکلوں کی خریداری میں بدعنوانی کا الزام لگا رہی ہیں۔ AAP کا دعویٰ ہے کہ دہلی حکومت نے طے شدہ قیمت سے زیادہ قیمت پر سائیکلیں خریدیں۔AAP ایم ایل اے کلدیپ کمار نے انسٹاگرام پر لکھا، “آج، AAP ممبران اسمبلی سائیکلوں پر سوار ہو کر اسمبلی میں بی جے پی کی ریکھا گپتا حکومت کی لڑکیوں کے لیے سائیکلوں کی خریداری میں بدعنوانی کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ دہلی کے لوگوں کا صرف ایک ہی سوال ہے کہ جب وہی سائیکلیں 4,200 روپے میں دستیاب تھیں، تو فی سائیکل کی خریداری کے لیے 57,190 روپے کیوں ادا کیے گئے؟” سائیکل کا مطلب ہے کہ تقریباً 3000 روپے کا گھوٹالا یہ رقم کس کی جیب میں گئی؟مارشل آؤٹ سنجیو جھا نے کہا، “اگر ہماری بیٹیوں کو سہولیات اور تعلیم فراہم کرنے کی اسکیم میں بدعنوانی ہوئی ہے تو اس کا احتساب ہونا چاہیے۔ ہم اپنی بیٹیوں کے حق کے پیسے کو کرپشن پر قربان نہیں ہونے دیں گے۔ ہم سڑکوں سے لے کر اسمبلی تک عوام کی آواز اٹھاتے رہیں گے اور اس گھوٹالے کی حقیقت کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔”انہوں نے حکومت سے تین سوالات پوچھے: “طالبات کے لیے خریدی گئی سائیکلوں میں بے ضابطگیاں کیوں ہوئیں؟ سرکاری فنڈز کا حساب کون دے گا؟ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کب ہوں گی؟”دوپہر کے کھانے کے بعد کے اجلاس کے دوران، ہنگامہ آرائی کے بعد، حکمراں پارٹی کے ایم ایل ایز نے کہا کہ اگر وہ سجاوٹ کو برقرار رکھتے ہیں تو انہیں ایوان میں واپس بلایا جاسکتا ہے۔ اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے کہا، “تین اراکین نے ایوان کو نظرانداز کیا، یہ اپوزیشن کا کام ہے کہ وہ اپنے خیالات پیش کریں اور بامعنی بحث کریں، سجاوٹ کی خلاف ورزی کرنا درست نہیں ہے۔ میں انہیں وارننگ کے ساتھ ایوان میں داخل ہونے دیتا ہوں۔”

 

Continue Reading

دلی این سی آر

یمنا شہر میں کھلیں گی 4 مزید نئی یونیورسٹیاں

Published

on

(پی این این)
نوئیڈا:جیور ہوائی اڈے کی تعمیر کے ساتھ، تیزی سے بدلتے ہوئے یمنا سٹی کے دو شعبے جلد ہی تعلیمی مرکز بننے والے ہیں۔ 4 نئی یونیورسٹیاں کھولنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں جبکہ تین یونیورسٹیوں کی تعمیر پر کام جاری ہے۔یمنا سٹی کے سیکٹر 17A اور سیکٹر 22E کو تعلیمی مرکز کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ تین نئی یونیورسٹیوں کے لیے تعمیراتی کام جاری ہے جب کہ چار نئی یونیورسٹیوں کے لیے زمین مختص کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔یمنا ایکسپریس وے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (YEIDA) کے ایک اہلکار نے بتایا کہ سیکٹر 17 میں اس وقت گلگوٹیاس، نوئیڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی اور NIMS میڈیکل کالج ہیں۔ تین نئی یونیورسٹیوں نے زمین کی الاٹمنٹ حاصل کی ہے، منصوبے منظور کیے ہیں، اور تعمیر شروع کر دی ہے۔ سیکٹر 22 ای میں جے بی ایم یونیورسٹی کی تعمیر جاری ہے اور دسمبر تک مکمل ہو جائے گی۔
نرسی مونجی یونیورسٹی نے بھی اسی سیکٹر میں منصوبوں کی منظوری دے دی ہے اور تعمیر شروع کر دی ہے۔ یہ ادارہ، جو پہلی بار مہاراشٹر سے باہر منتقل ہوا ہے، جمنا سٹی میں 35 ایکڑ پر اپنا کیمپس بنائے گا۔ دریں اثنا، سیکٹر 17 اے میں جی ایل بجاج یونیورسٹی میں تعمیراتی کام جاری ہے۔ ایمیٹی یونیورسٹی، لائیڈ، بابو بنارسی داس، اور مہاتما گاندھی یونیورسٹیوں کے لیے زمین مختص کرنے کا عمل جاری ہے۔ ان اداروں کو اراضی کی الاٹمنٹ جلد متوقع ہے۔سیویتا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل اینڈ ٹیکنیکل سائنسز نے 250 ایکڑ اراضی کی درخواست کی ہے۔ یہ ادارہ 3000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔ ایم ڈی آئی گروگرام نے 50 ایکڑ اراضی کی درخواست کی ہے۔ یہ ادارہ IIM احمد آباد، اندور، اور کلکتہ سے اوپر ہے۔ لنک یونیورسٹی کالج ملائیشیا نے 100 ایکڑ اراضی کی درخواست کی ہے۔ مزید برآں، امریکن لیڈرشپ اکیڈمی نے 100 ایکڑ اراضی حاصل کی ہے۔ یہ گروپ 1,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔ شاردا ایجوکیشنل ٹرسٹ نے 10 بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے لیے کیمپس کھولنے کے لیے زمین کی درخواست کی ہے۔
یامونا سٹی اینیمیشن، ویژول ایفیکٹس، گیمنگ اور کامکس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کے علاوہ ٹیسٹنگ بھی پیش کرے گا۔ وزیراعلیٰ نے اے آئی پارک کی منظوری دے دی۔ اس سے نوجوانوں کو فائدہ ہوگا۔ فی الحال ان سرگرمیوں کی مانگ ہے۔ لیکن اس علاقے میں فی الحال ایسی سہولیات کا فقدان ہے۔
آر کے سنگھ، سی ای او، YEIDA، “شہر میں اس سال ایک یونیورسٹی شروع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ GBM یونیورسٹی پر کام جلد مکمل ہو جائے گا۔
ہندوستان اور بیرون ملک کی بڑی یونیورسٹیوں اور اداروں کو زمین فراہم کرنے کے لیے بھی تیاریاں جاری ہیں۔”
دریں اثنا، جیور میں نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب آئی ایس بی ٹی کے بعد ایک جدید بس اسٹینڈ بنانے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ جیور کے ایم ایل اے دھیندر سنگھ نے اس سلسلے میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بس سٹینڈ ہوائی اڈے کو ملک بھر میں عوامی نقل و حمل کی بہتر سہولیات سے جوڑنے کے لیے ضروری ہے۔ ایم ایل اے نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے اس تجویز پر مثبت موقف اختیار کیا ہے اور متعلقہ محکموں کو ضروری کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے ایک خط کے ذریعے ہوائی اڈے کے قریب ایک جدید بین ریاستی بس اسٹینڈ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ تجویز میں یمنا اتھارٹی سے زمین فراہم کرنے اور محکمہ ٹرانسپورٹ سے مزید کارروائی شروع کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔دھریندر سنگھ نے کہا کہ بس اسٹینڈ کی تعمیر اتر پردیش، دہلی، ہریانہ، راجستھان اور اتراکھنڈ سمیت کئی ریاستوں سے ہوائی اڈے تک براہ راست اور آسان بس رابطہ فراہم کرے گی۔ اس سے مسافروں کے لیے بذریعہ سڑک ہوائی اڈے تک پہنچنا آسان اور آسان ہو جائے گا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network