Connect with us

دیش

حج 2026 کے لیے عازمینِ حج کی میڈیکل اسکریننگ اور ویکسینیشن مکمل

Published

on

چھتیس گڑھ سے اس سال 815 عازمین حج روانہ ہوں گے: مرزا اعجاز بیگ
(پی این این)
رائے پور: چھتیس گڑھ ریاست سے حج 2026 کے لیے جانے والے عازمینِ حج کی میڈیکل اسکریننگ اور ویکسینیشن کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ چھتیس گڑھ اسٹیٹ حج کمیٹی کے چیئرمین مرزا اعجاز بیگ نے بتایا کہ حج 2026 کی تیاریاں تیزی کے ساتھ جاری ہیں اور سعودی حکومت کی جانب سے مقررہ صحت کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی حکومت کے لازمی صحت معیارات کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز نئی دہلی کی ہدایات پر ریاستی محکمۂ صحت کے تعاون سے 9 فروری 2026 سے ریاست کے 29 ضلعی اسپتالوں میں عازمینِ حج کی میڈیکل اسکریننگ اور ویکسینیشن کا عمل شروع کیا گیا تھا، جو اب مکمل ہو چکا ہے۔ اس سہولت کو عازمین کے اپنے اضلاع میں فراہم کیا گیا جس سے انہیں خاصی آسانی ہوئی اور عازمین نے اس انتظام پر اطمینان اور تشکر کا اظہار کیا۔ رمضان المبارک کے پیش نظر روزہ افطار کے بعد بھی ویکسینیشن کی خصوصی سہولت فراہم کی گئی۔
مرزا اعجاز بیگ نے بتایا کہ ریاست کے قیام کے بعد اس سال سب سے زیادہ تعداد میں عازمینِ حج روانہ ہوں گے۔ ریاست کے 29 اضلاع سے مجموعی طور پر 815 عازمین حج کے لیے روانہ ہوں گے جن میں 417 مرد اور 398 خواتین شامل ہیں۔ عازمین کے منتخب کردہ ایمبارکیشن پوائنٹس کے مطابق 453 عازمین ممبئی، 290 ناگپور، 14 دہلی، 2 احمد آباد، 6 بنگلور، 42 حیدرآباد، 1 جے پور، 5 لکھنؤ اور 2 کولکاتا سے روانہ ہوں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عازمینِ حج 18 اپریل 2026 سے 20 مئی 2026 کے درمیان حج کے لیے روانہ ہوں گے جبکہ حج کی ادائیگی کے بعد 2 جون سے 30 جون 2026 کے درمیان ان کی واپسی متوقع ہے۔ اس سال متعارف کرائی گئی نئی سہولت شارٹ حج کے تحت 99 عازمین جبکہ نارمل حج کے تحت 716 عازمین حج کی سعادت حاصل کریں گے۔ تمام 815 عازمین کے لیے فلائٹس کی الاٹمنٹ مکمل کر لی گئی ہے اور رمضان المبارک کے فوراً بعد انہیں حج کے مناسک کی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دیش

آسام میں سیلاب سے 61 ہلاک،8لاکھ افراد متاثر،گجرات میں بھار ی بارش سے 8کی موت،تمام تعلیمی ادارے بند

Published

on

گوہاٹی/احمد آباد:آسام میں سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 61 سے تجاوز کرگئی ہے۔چوبیس  گھنٹے میں 15 لوگوں کی موت کی خبریں ہیں۔ ریاست کے بارہ اضلاع زیر آب ہیں۔8 لاکھ سے زائد کو دوسری جگہ منتقل کرایا گیا ہے۔ادھر گجرات میں بھی بارش نے تباہی مچائی ہے۔ وہاں مسلسل بارش ہورہی ہے۔ 50 ہزار سے زائد لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔بارش سے جڑے حادثات میں 8 لوگوں کی موت کی خبریں ہین۔ احمد آباد میں تمام اسکول ، کالج، آنگن باڑی ودیگر تعلیمی ادارے بند کردیے گئے۔ادھر اترپردیش اور راجستھان میں بھی بارش کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔اترپردیش میں گزشتہ پندرہ دنوں سے لگاتار بارش ہورہی ہے،آج تیس اضلاع میں زبردست بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ راجستھان میں بھی بارش کا دور جاری ہے۔محکمہ موسمیات نے ریاست کے مختلف حصوں کے لئے الرٹ جاری کردیا ہے۔ حالانکہ جموں وکشمیر میں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے آمدورفت ٹھپ تھی لیکن اب چھ دنوں کے بعد آمدورفت جاری ہوئی ہے۔ امرناتھ یاترا بھی شروع کردی گئی ہے۔

Continue Reading

دیش

سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میںشامل کرنے کا معاملہ، فیصلہ محفوظ

Published

on

نئی دہلی:رائوایونیو کورٹ نے سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کئے جانے سے منسلک نظرثانی اپیل پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ ہندوستانی شہریت ملنے سے پہلے سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ عرضی دہندہ نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جسے مجسٹریٹ نے خارج کردیا تھا۔ اسی حکم کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کی ۔کانگریس کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ ایسی عرضیاں داخل کی جاتی ہیں تاکہ شہرت مل سکے۔ یہ سب سیاست کا ایک حصہ ہے۔ سونیا گاندھی کے کردار پر کوئی انگلیاں نہیں اٹھا سکتا ، اسی طرح ان کی شہریت اور حب الوطنی بھی ایک مثال ہے۔

Continue Reading

دیش

ہندوستان کے ماضی ہیں وزیر اعظم نریندر مودی،ماضی کبھی مستقبل کا نہیں کرسکتا مقابلہ،راہل گاندھی سمیت اپوزیشن رہنمائوں کا ردعمل

Published

on

نئی دہلی: وزیر تعلیم پردھان کے استعفیٰ کے بعد اپوزیشن میں جشن کا ماحول ہے۔کانگریس نے کہا ہے کہ یہ سچ کی جیت ہے، وزیر اعظم کی ضد ہار چکی ہے۔کانگریس نے کہا کہ نریندر مودی ہندوستان کے ماضی ہیں اور وہ مستقبل کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔اس سے قبل راہل گاندھی نے ایک پریس کانفرنس میں حکومت کو طلبا مخالف بتاتے ہوئے تعلیمی نظام میں اصلاح کی بات کہی تھی۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں آئیسا کی قومی صدر نیہا بورا وغیرہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کیا۔ اور کہا کہ طلبا کے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
دریں اثنا دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے اسے ہمارے تعلیمی نظام کی اصلاح کی طرف ایک بڑا قدم قرار دیا اور ملک بھر کے طلباء کو ان کے عزم کے لیے مبارکباد دی۔
دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ یہ لاکھوں نوجوانوں، سچائی اور متحد اپوزیشن کی جیت ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ضد کی شکست ہے۔ کھرگے نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہندوستان کے طلباء کی آواز آخر کار متکبر حکومت کی دہلیز تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لاکھوں نوجوانوں کی جیت ہے جو ملک بھر میں تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ یہ سچائی کی جیت اور مودی کی ضد کی شکست ہے۔کانگریس لیڈر پون کھیرا نے اس فیصلے کو ناکافی اور تاخیری قدم قرار دیا۔ کھیرا نے کہا یہ بہت دیر سے نامکمل قدم ہے لیکن ہم نے آخر کار اس مسئلے سے چھٹکارا حاصل کر لیا ہے۔دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر، سپریا سولے نے کہا، “وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ پرامن مظاہرین، طلباء اور اپوزیشن کے مسلسل دباؤ کے بعد آیا ہے۔ میں ہر اس مظاہرین کو مبارکباد پیش کرتی ہوں جو نیٹ یو جی کے معاملے پر ڈٹے رہے۔
ششی تھرور نے بھی دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ اس بات کا اعتراف ہے کہ جمہوریت میں احتساب سے ہمیشہ کے لیے گریز نہیں کیا جا سکتا۔
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر پوری قوم کو مبارکباد۔ یہ جمہوریت کی بڑی جیت ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network