دیش
مسلمانوں میں تعلیمی بیداری میں ہورہاہے اضافہ مگر رہنمائی اور معیاری اداروں کی اشد ضرورت :مشتاق انتولے
(پی این این)
ممبئی:مہاراشٹر حکومت کی مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن کے چیئرمین اور انجمن اسلام، ممبئی کے نائب صدر مشتاق انتولے کے ماہ رمضان میں معمولات میں زیادہ فرق نہیں پڑتا ہے۔ انجمن اسلام کے نائب صدر اور مالیاتی کارپوریشن کے چیئرمین کی حیثیت سے نوجوانوں کی تعلیمی بیداری کے لیے ان کی فکرمندی مسلسل جاری رہتی ہے۔
مشتاق انتولے نے اس تعلق سے اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں میں تعلیمی بیداری پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھی ہے، لیکن اس بیداری کو مؤثر سمت دینے کے لیے منظم رہنمائی، معیاری اداروں کے قیام اور مالی معاونت کے مضبوط نظام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تعلیمی خدمت کو محض وقتی امداد کے بجائے ایک مشن کے طور پر اختیار کیا جائے۔
ماہ رمضان میں ان کی مصروفیات میں زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ عام دنوں کی طرح مولانا آزاد مائناریٹی کارپوریشن اور انجمن اسلام میں ضروری میٹنگ اور دوسری تقریبات میں شرکت کے ساتھ ساتھ دفتری کام بھی انجام دیتے ہیں اور شام میں افطار سے قبل گھر روانہ ہو جاتے ہیں۔
تقریباً تیس سالہ سیاسی و سماجی تجربے کے حامل مشتاق انتولے، جو سابق وزیراعلیٰ عبد الرحمن انتولے کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں، ممبئی اور کوکن کے متعدد تعلیمی اداروں سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ ایک خصوصی گفتگو میں انہوں نے موجودہ تعلیمی منظرنامے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے اندر آگے بڑھنے کی خواہش میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کے بقول ہم نے محسوس کیا ہے کہ جو طلبہ خود وسائل نہیں رکھتے وہ آگے بڑھنے کی امنگ رکھتے ہیں۔ بعض اوقات خوشحال طبقے کے مقابلے میں کمزور پس منظر سے آنے والے طلبہ میں تعلیم کے ذریعے اپنی تقدیر بدلنے کا جذبہ زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری سطح پر پروفیشنل اور ٹیکنیکل کورسز کا آغاز ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم دیہی علاقوں میں ان کورسز کے نفاذ اور استفادے کی صورتحال واضح نہیں۔ ان کے مطابق ادارے تو سرگرم ہیں مگر طلبہ کی رفتار سست دکھائی دیتی ہے۔ ہمیں طلبہ کو بیدار کرنے، ان کی رہنمائی کرنے اور انہیں مواقع سے باخبر رکھنے کے لیے مزید منظم کوششیں کرنی ہوں گی۔ صرف کورسز شروع کر دینا کافی نہیں، ان تک رسانی بھی یقینی بنانا ہوگی۔
مشتاق انتولے نے بتایا کہ انجمن اسلام کے تمام ٹیکنیکل اور پروفیشنل کالجوں میں اور مخصوص طور پر کالسیکر ٹیکنیکل کیمپس پنویل اور صابو صدیق انجینئرنگ کالج کیمپس میں طلبہ کی رہنمائی کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد مختلف سرکاری اسکیموں، ریزرویشن پالیسیوں اور مالی امداد کے مواقع سے طلبہ کو مستفید کرنا ہے۔
ان کے مطابق او بی سی اور دیگر ریزرویشن پالیسیوں سے یقیناً فائدہ ہو رہا ہے مگر کئی طلبہ محض کاغذی کارروائی کی پیچیدگیوں کے باعث ان مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ سرٹیفکیٹ اور تحصیلدار کے انکم سرٹیفکیٹ کے حصول میں طلبہ کو دشواری ہوتی ہے۔ اس لیے ہمارا سیل نہ صرف رہنمائی کرتا ہے بلکہ عملی طور پر دستاویزی کارروائی میں بھی مدد فراہم کرتا ہے تاکہ کوئی طالب علم محض رسمی رکاوٹوں کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مالی مسائل آج کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں، خصوصاً جب ٹیکنیکل اور پروفیشنل تعلیم کی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادارہ اس وقت تقریباً پندرہ کروڑ روپے کے تعلیمی قرض جاری کر رہا ہے جبکہ تقریباً ساڑھے آٹھ کروڑ روپے کے قرض کی درخواستیں آ چکی ہیں۔
ان کے مطابق یہ قرضے طلبہ کو باعزت طریقے سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ طلبہ ان اسکیموں سے فائدہ اٹھائیں اور اعلیٰ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں۔
مشتاق انتولے نے تعلیمی ایجنڈے کے حوالے سے ایک اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں اب تعداد کے بجائے معیار پر توجہ دینی چاہیے۔ ہمیں اچھے اور معیاری ادارے قائم کرنے ہوں گے۔ ساتھ ہی نصاب، اساتذہ اور تربیتی ماحول پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ اگر بڑے اور مستحکم ادارے چھوٹے اور کمزور تعلیمی اداروں کو اڈاپٹ کریں تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر حکومت بھی محدود فیصد میں مدد فراہم کرے تو وہ بھی مؤثر ثابت ہوگی۔ اصل ضرورت نیت اور منظم حکمت عملی کی ہے۔
انٹر نیشنل
امریکہ کے بعدبرطانیہ میں بھی بھاگوت کی پرزور مخالفت
لندن:امریکہ کے بعد برطانیہ کی راجدھانی لندن کے میئر صادق خان کو سول سوسائٹی کے 20 تنظیموں نے مکتوب بھیج کر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے پروگرام کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔
مکتوب میں آر ایس ایس کو ایک تانا شاہ اور ملٹری فکر والی تنظیم بتایا گیا ہے۔ اور ایسا ہی ایک خط برطانیہ کے وزارت خارجہ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ غورطلب ہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکہ میں کئی ہندو تنظیموں نے آر ایس ایس سربراہ کے ’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن ‘پروگرام کی مخالفت کی تھی ، مظاہرہ کیا تھا۔
موہن بھاگوت کا یہ پروگرام نیویارک شہر کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقد ہوا تھا۔ لندن کی سوسائٹی کے تنظیموں نے مکتوب میں میئر کو گریٹر لندن اتھارٹی سے اپیل کرنے کو کہا کہ وہ موہن بھاگوت کو برطانیہ دورے کے درمیان آر ایس ایس کے ذریعہ منعقد پروگراموں کا بائیکاٹ کرے۔ موہن بھاگوت ہفتہ کے اختتام میں برطانیہ میں ہندنژاد طبقات کے لئے منعقد ایک پروگرام کو خطاب کریں گے۔
ان تنظیموں نے میئر صادق خان سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے پروگرام کیلئے جگہ کی اجازت نہ دیں۔ آرا یس ایس کے سو سال پورے ہونے کے موقع پر چلائے جارہے انٹرنیشنل آئوٹ ریچ پروگرام کے تحت بھاگوت کا دورہ امریکہ اور کینڈا میں ہوچکا ہے۔ دا انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے آر ایس ایس کو ایک تاناہی اور ملٹری فکر والی تنظیم قرار دیا ہے۔ جس سے یوروپین فاسی واد سے تحریک ملی تھی۔ اور تنظیم نے افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ برطانیہ کے الگ الگ ثقافت والے سماج کی تحفظ کےلئے بھی نظم کیا جائے۔ اس مکتوب میں ہندوزفار ہیومن رائٹرس ، یوکے انڈین مسلم کونسل ، انڈیا لیبر سالیڈیٹری اور ساوتھ ایشیا سالیڈیٹری جیسی تنظیموں نے دستخط کئے ہیں۔ مکتوب میں خاص طبقات کی سیکورٹی کے لئے میٹروپولٹن پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری مانگی گئی ہے۔
دیش
ٹی ایم سی کے 22 باغیوں کی رکنیت پر لٹکی تلوار
نئی دہلی:ترنمول کانگریس کے 22 باغی ممبران پارلیمنٹ جو این سی پی میں چلے گئے ہیں، ان کی رکنیت پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انھیں نوٹس جاری کردیا ہے کہ وہ 22 ستمبر تک جواب دیں کہ کیسے وہ این سی پی آئی میں گئے۔ غورطلب ہے کہ ٹی ایم سی کے لیڈر ابھشیک بنرجی نے اپنی عرضی میں ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو غیر قانونی طور پر ایک گمنام جماعت این سی پی آئی میں چلے گئے ہیں۔ واضح ہو کہ گزشتہ 18 جون 2026 کو ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی ابھشیک بنرجی نے اوم برلا سے ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف آئین کی دسویں شیڈیول کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر اوم برلا نے ان 20 این سی پی آئی ممبران پارلیمنٹ کو ٹی ایم سی اس عرضی کا جواب دینے کے لئے 22 ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتیجے آنے کے بعد 14 جون ٹی ایم سی کے 20 ارکان پارلیمنٹ نے بغاوت کردی تھی اور نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی ) کا دامن تھام لیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے این ڈی اے کو حمایت دینے کا اعلان کردیا تھا، مگر اب ان کی رکنیت پر آئینی سوال کھڑا ہوگیا ہے۔ ان باغی ارکان کی قیادت پارٹی کے سینئر رہنماؤں سدپ بندیوپادھیائے اور کاکولی گھوش دستیدار کر رہے ہیں۔ ان ارکان نے انتخابی شکست کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی اندرونی کشمکش کے دوران جون میں پارٹی سے الگ راہ اختیار کی تھی۔دسویں شیڈول یعنی پارٹی بدلنے سے متعلق قانون سے بچنے کے لیے، باغی گروپ نے، جو ٹی ایم سی کے 28 لوک سبھا ارکان میں سے دو تہائی سے زیادہ ارکان پر مشتمل ہے، تریپورہ میں قائم نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران اسپیکر اوم برلا نے 20 باغی ارکان کے لیے ایوان میں الگ نشستوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم ان کے انضمام کی ابھی توثیق نہیں کی ہے۔ ابھشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا سے باغی ارکان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر کارروائی تیز کرنے اور ٹی ایم سی کے باقی 8 وفادار ارکان کے لیے نشستوں کے انتظام میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
بنرجی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران لوک سبھا اسپیکر اور ایوان کے سکریٹری جنرل کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا تھا کہ اسپیکر نے دسویں شیڈول کے تحت ٹی ایم سی کی جانب سے دائر نااہلی کی درخواستوں پر 20 ارکان کو پہلے ہی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔بہرحال باغیوں میں حجان کی کیفیت ہے جبکہ ممتا بنرجی خیمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اطلاع یہ بھی ہے کہ یوسف پٹھان سمیت چار ممبران پارلیمنٹ ممتا بنرجی کے رابطہ میں ہیں۔
دیش
بی سی آئی کو قانون کے طلبا کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں
نئی دہلی:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) قانون کے طلبہ کو ان کے کالج یا یونیورسٹی کے اندر کیے گئے کسی طرز عمل پر سزا نہیں دے سکتی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ بی سی آئی کے پاس قانون کی تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے طلبہ کے طرز عمل اور ان کے نظم و ضبط سے متعلق فیصلہ ان کی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ بی سی آئی نے چیف جسٹس کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کی مخالفت کرنے والے نلسار کے طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے جو خطوط بھیجے تھے، وہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔یہ عرضی نالسار کے سابق طلبہ مہر سود اور ابھشیک تیواری نے دائر کی تھی۔ عرضی میں بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے 13 اگست کے اس سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے نالسار کے طلبہ کے کسی بھی بار کونسل میں وکیل کی حیثیت سے رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم مخالفت کے بعد منن مشرا نے یہ سرکلر واپس لے لیا تھا۔
دراصل نالسار کے طلبہ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ہاتھوں کانووکیشن تقریب میں ڈگری حاصل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد منن کمار مشرا نے یہ سرکلر جاری کیا تھا۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
