تازہ ترین
آیوروید اور ہربل طب کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پرنس محبوب رحمانی کوڈاکٹریٹ کی ڈگری سےکیا گیا سرافرازبی جے پی کی خواتین رہنماؤں نے مرمو سے کی ملاقاتریکھا کپتا نےفضائی آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کالیا جائزہسوربھ داس، آشوتوش رنکا، اور شنڈے کےحراست کے بارے میں سی جے پی پریشانمرد وخواتین کیلئے عمرہ کی تربیتی کیمپ کا انعقاداے ایم یو میں عالمی یومِ دماغی صحت پر بیداری پروگرام منعقدمعاوضہ میں اضافہ کے مطالبات کو لے کر سڑکوں پر اتریں آشا ملازمینخواتین کے وقار کے معاملے پر کانگریس کا دوہرا معیار: بانسری سوراج
دلی این سی آر

بی جے پی کی خواتین رہنماؤں نے مرمو سے کی ملاقات

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی خاتون اراکینِ پارلیمنٹ کے ایک وفد نے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ انگومچا بمول اکوئجم کی طرف سے مبینہ جنسی ہراسانی کے معاملے میں لوک سبھا رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔مسٹر اکوئجم کو حال ہی میں جنسی ہراسانی کے معاملے میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ بی جے پی مہیلا مورچہ کی سربراہ روپ کماری چودھری نے کہا، “ہم نے صدرِ جمہوریہ مرمو سے جے این یو میں جنسی ہراسانی کا شکار خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کی التجا کی ہے۔” بی جے پی رہنما کے مطابق صدرِ جمہوریہ نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس معاملے کی جانچ کرائیں گی اور اپنے سطح پر مناسب کارروائی کو یقینی بنائیں گی۔محترمہ چودھری نے کہا، “منی پور سے کانگریس رکنِ پارلیمنٹ پروفیسر بمول اکوئجم نے مبینہ طور پر یونیورسٹی میں 11 طالبات کے ساتھ بدسلوکی کی تھی۔
خواتین نے ایک تحریری شکایت درج کرائی، جس کے بعد معاملے کی جانچ کے لیے ایک داخلی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی نے انہیں قصوروار پایا اور انہیں یونیورسٹی سے برطرف کر دیا گیا۔ خواتین کے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کا دعویٰ کرنے والے کانگریس رہنما راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور سونیا گاندھی نے اس معاملے پر ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ آج وہ تمام نوجوان خواتین خوفزدہ اور اندیشوں میں مبتلا ہیں، کیونکہ مسٹر اکوئجم لوک سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ اور بااثر کانگریسی رہنما ہیں اور انہیں پارٹی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ شکایت کنندگان خوفزدہ ہیں، اس لیے صدرِ جمہوریہ سے درخواست کی گئی ہے کہ انہیں پارلیمنٹ سے ہٹایا جانا ان لڑکیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہوگا جنہوں نے آگے آ کر شکایت درج کرانے میں زبردست ہمت دکھائی ہے۔منی پور کے رکنِ پارلیمنٹ ان الزامات کو مسترد کر چکے ہیں، لیکن یونیورسٹی کے مطابق 11 طالبات کی جانب سے دی گئی شکایتوں کے بعد معاملے کی جانچ انٹرنل کمپلینٹس کمیٹی نے کی اور کمیٹی نے انہیں جنسی بدسلوکی کا قصوروار پایا۔ اس کے بعد انہیں برطرف کرنے کی کارروائی کی گئی۔ دہلی پولیس نے بھی کانگریس رکنِ پارلیمنٹ کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ دوسری جانب جے این یو ٹیچرز ایسوسی ایشن (جے این یوٹی اے ) نے اس برطرفی کی مذمت کرتے ہوئے اس فیصلے کو جلد بازی میں اٹھایا گیا قدم قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں