Connect with us

اتر پردیش

اے ایم یو کے شعبہ جراحت میں نظامِ حیدرآباد کے وارث کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد

Published

on

(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے شعبہ جراحت میں حیدرآباد کے ساتویں نظام میر عثمان علی خاں کے پوتے اور پرنس حشم جاہ بہادر کے صاحبزادے میر نجف علی خان کے اعزاز میں ایک پروقار استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔
مہمان خصوصی میر نجف علی خان نے اے ایم یو کی شاندار علمی و تہذیبی وراثت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ یونیورسٹی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ وہ اور اُن کا کنبہ آئندہ بھی اس ادارے کی ترقیاتی سرگرمیوں میں اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔ ڈاکٹر سیمیں عثمانی نے شعبہ کی علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا خاکہ پیش کیا۔ مہمانِ اعزازی، اے ایم یو سے فارغ التحصیل اور اس وقت راجستھان یونانی میڈیکل کالج کے شعبہ معالجات کے سربراہ پروفیسر نذر عباس نے نظامِ حیدرآباد کی اے ایم یو کے قیام و استحکام میں تاریخی خدمات پر روشنی ڈالی۔
ڈین، فیکلٹی آف یونانی میڈیسن پروفیسر سید محمد صفدر اشرف نے صدارتی خطاب کیا، جب کہ کالج کے پرنسپل پروفیسر بدرالدجیٰ خان نے بھی اپنے تاثرات پیش کیے۔شعبہ جراحت کے چیئرمین پروفیسر تفسیر علی نے مہمانِ خصوصی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ انہیں ایسے معزز مہمان کی میزبانی کا موقع ملا جن کے آباء و اجداد نے اے ایم یو اور طبیہ کالج و اسپتال کے قیام و ارتقاء میں گراں قدر مالی و اخلاقی تعاون دیا۔ انہوں نے نظام خاندان کی علمی و فلاحی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی سمیت کئی ممتاز تعلیمی و طبی اداروں کی سرپرستی کی۔
شعبہ کے سابق چیئرمین پروفیسر اقبال عزیز نے کلمات تشکر ادا کیے، جب کہ آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر محمد طارق نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ ڈاکٹر رابعہ ریاض نے سپاس نامہ پڑھ کر سنایا۔ تقریب میں فیکلٹی ممبران، محققین، طلبہ و عملہ سمیت ممتاز شخصیات بشمول ڈاکٹر سید احمد عباس،چانسلر، حلیمہ عزیز یونیورسٹی، منی پور، خالد مسعود، سابق صدر، اے ایم یو طلبہ یونین، پروفیسر سید شاہ عالم،ڈائریکٹر، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن، بنگلورو، ڈاکٹر سید عباس حیدر زیدی،ڈائریکٹر، ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن، اور توقیر رضا،سکریٹری، امامیہ سوسائٹی موجود تھے۔

uttar pradesh

اعظم خان کیساتھ غلط سلوک کررہی ہے یوپی حکومت،خودبی جے پی رہنماؤں کی ہیں لکھنؤ میں سب سے زیادہ غیر قانونی عمارتیں :اکھلیش یادو

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ:سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے جمعرات کو لکھنؤ میں پارٹی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بی جے پی حکومت پر حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت ہمارے پروگرام منعقد نہیں ہونے دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلند شہر میں سماج وادی پارٹی کا ساون کے دوران ایک پروگرام ہونا تھا۔ حکام نے پروگرام کے لیے میدان کی اجازت دینے کی کئی بار یقین دہانی کرائی، بعد میں ساون کا مہینہ ہونے کی وجہ سے پروگرام کی تاریخ آگے بڑھانے کا مشورہ دیا۔ سماج وادی پارٹی نے پروگرام آگے بڑھا دیا، لیکن اس کے باوجود اجازت نہیں دی گئی۔ کہا گیا کہ پولیس لائن میں پانی بھرا ہوا ہے، جس کی وجہ سے ہیلی پیڈ پر ہیلی کاپٹر نہیں اتر سکے گا۔اکھلیش یادو نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سوچا شاید کالی ندی میں سیلاب تو نہیں آگیا ہے۔ اس کے بعد اکھلیش نے پولیس لائن کی ایک ویڈیو دکھائی، جس میں کہیں بھی پانی نظر نہیں آ رہا تھا۔ اکھلیش نے کہا کہ آخر حکومت ہمارے پروگرام سے پریشان کیوں ہے؟ ہم نے اس سے خراب حکومت پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
دراصل بلند شہر میں 11 ستمبر(آج) کو سماج وادی پارٹی کا پروگرام مقرر تھا۔ ایس پی صدر نے کہا کہ جہاں ہیلی کاپٹر اترنا تھا، وہاں ہیلی پیڈ پر دور دور تک پانی جمع نہیں ہے۔ صرف زبردستی سیمنٹ، گارا اور پیور بلاکس دکھا کر، حکومت کی خفیہ ہدایت پر انتظامیہ ہمارے 11 ستمبر کے پروگرام کو منسوخ کرنے کا بہانہ تلاش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے عہدیداران کی موجودگی میں غیر جانب دار ماہرین سے جانچ کراکر حقیقت سامنے لائی جائے۔ اگر ہم سڑک کے راستے آئیں گے تو کیا ایکسپریس وے، ہائی وے یا سڑکوں کی خراب حالت کا بہانہ بھی بنایا جائے گا؟ کیونکہ یہ تمام سڑکیں واقعی آمدورفت کے قابل نہیں ہیں۔عوام پوچھ رہی ہے کہ ہیلی پیڈ اور موسم صرف اپوزیشن کے لیے ہی کیوں خراب ہوتا ہے؟
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ ہم ضلع وار انتخابی منشور تیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ریاست کے لیے تو انتخابی منشور تیار کریں گے ہی، ساتھ ہی ضلع وار منشور بھی بنائیں گے، جس میں ہر ضلع کے مسائل کو ترجیح دی جائے گی۔بی جے پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ درست خبریں چلانے پر صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور انہیں اسکولوں میں جانے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت جانے والی ہے اور سماج وادی پارٹی اسے اقتدار سے ہٹانے کا عزم کر رہی ہے۔
اکھلیش نے اعظم خان کے خلاف کارروائی کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے ساتھ غلط سلوک کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لکھنؤ میں سب سے زیادہ غیر قانونی عمارتیں بی جے پی رہنماؤں کی ہیں۔ انہوں نے ریزرویشن اور مدارس کے معاملے پر بھی بی جے پی کو گھیرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے معاملے پر حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے، اسی لیے وہ دوسرے مسائل کو سامنے لا رہی ہے۔
جی ڈی پی کے اعداد و شمار پر سوال اٹھاتے ہوئے اکھلیش نے جھانسی کے واقعے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص کے پاس اپنی اہلیہ کی لاش لے جانے اور آخری رسومات ادا کرنے تک کے پیسے نہیں تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسی جی ڈی پی ہے؟ اکھلیش نے الزام لگایا کہ اپنے خاص لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے جی ڈی پی کے اعداد و شمار میں اضافہ دکھایا جا رہا ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

دانش آزاد انصاری کی ڈاکٹر عمار رضوی سے ملاقات،سیتاپور میں ڈگری کالج، آئی ٹی آئی، پولی ٹیکنک اور یونانی و آیورویدک کالج کے قیام پر زور

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ:ریاستی وزیر برائے اقلیتی بہبود، مسلم وقف و حج، اتر پردیش حکومت دانش آزاد انصاری نے آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق کارگزار وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عمار رضوی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس دوران ریاست میں اقلیتوں سے متعلق مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ملاقات کے دوران تعلیم، تجارت، روزگار اور سماجی و معاشی مسائل سمیت متعدد موضوعات زیرِ بحث آئے۔ دانش آزاد انصاری نے ڈاکٹر عمار رضوی کو بتایا کہ اقلیتی طبقے کے تعلیمی فروغ اور مجموعی پیش رفت کے لیے حکومت کی جانب سے ان اضلاع میں، جہاں اقلیتی آبادی تقریباً 25 فیصد ہے، ڈگری کالج، آئی ٹی آئی، پولی ٹیکنک، یونانی اور آیورویدک کالج قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے ریاستی وزیر کی توجہ ضلع سیتاپور کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی اقلیتی آبادی قابلِ ذکر تعداد میں ہے، اس لیے ضلع میں اعلیٰ تعلیم اور فنی تربیت سے متعلق اداروں کے قیام کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اداروں کے قیام سے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم اور ہنر حاصل کرنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے، جس سے روزگار کے امکانات بڑھنے کے ساتھ سیتاپور کی مجموعی ترقی کو بھی تقویت ملے گی۔
دانش آزاد انصاری نے ڈاکٹر عمار رضوی کو یقین دلایا کہ وہ سیتاپور کے معاملے میں خصوصی توجہ دیں گے اور اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ ضلع کے لیے کون کون سی سرکاری اسکیمیں اور منصوبے فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ دستیاب امکانات کے مطابق ضروری اقدامات کے لیے متعلقہ سطح پر کوشش کی جائے گی۔ڈاکٹر عمار رضوی نے اقلیتی بہبود سے متعلق ریاستی حکومت کی فلاحی اسکیموں کے نفاذ میں دانش آزاد انصاری کی سرگرمی اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں مبارک باد اور نیک خواہشات پیش کیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقلیتوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی ترقی کے لیے حکومت کی کوششوں کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جائے گا۔یہ اطلاع آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبۂ نشر و اشاعت کے سیکریٹری ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی۔

Continue Reading

uttar pradesh

شمیم حنفی نے تنقیدی و تحقیقی کا رناموں کے علاوہ ڈرا ما نگاری کے حوالے سے بھی انجام دی ہیں لائق تحسین خدمات:پروفیسر کوثر مظہری

Published

on

میرٹھ:تخلیق سے ہی تنقید بنی ہے۔ ریڈیائی ڈرامے اسٹیج پر کامیاب نہیں ہوتے کیونکہ ان کے لیے موسیقی اور پردہ بھی ضروری ہو تا ہے۔ ریڈیائی اور اسٹیج ڈرامے میں جو فرق ہوتا ہے وہ پردہ ہو تا ہے اور یہ پردہ بھی اس طرح کا ہوتا ہے کہ سامعین و ناظرین کو پردہ جوڑے رکھتا ہے۔ شمیم حنفی نے زندگی کے آخری دور میں ڈرامے نہیں لکھے۔یہ الفاظ تھے سابق صدر شعبہئ اردو،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسرصغیر افراہیم کے جو شعبہئ اردو اور ایو ساکے زیر اہتمام منعقد ”شمیم حنفی کی ڈراما نگاری“ موضوع پر اپنی صدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”شمیم حنفی کا”زندگی کی طرف“ ایک اہم ڈراما ہے جس میں پردہ کے پیچھے سے عجیب و غریب آ وازیں آ تی ہیں جن کا تعلق زندگی سے ہوتا ہے۔ ریڈیا ئی ڈراموں میں بہت سی پریشانیاں ہوتی ہیں۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔پروگرام کی سرپرستی معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض معروف ادیب وناقدپروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔ مہمانان کے طور پروفیسر کوثر مظہری ]سابق صدر شعبہئ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی[،پروفیسر عارفہ بشریٰ]صدر شعبہئ اردو، کشمیر یونیورسٹی[، اسلم پرویز]ممبئی[ نے آن لائن شر کت فرمائی۔ لکھنؤ سے ایوسا کی صدر پروفیسر ریشما پروین بھی موجود رہیں۔ استقبالیہ اور تعارفی کلمات فر حت اختر، نظا مت کے فرا ئض شعبہئ اردو کے ریسرچ اسکالر شاہِ زمن اورشکریے کی رسم ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے اداکی۔
پروگرام کا تعارف پیش کرتے ہوئے پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ ریوتی سرن شرما ڈرا ما نگاری کے حوالے سے بڑا نام ہے۔حبیب تنویر اور شمیم حنفی نے ریڈیا ئی ڈراموں کے حوالے سے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ ریڈیو کے لیے ڈرا مے لکھنا آسان کام نہیں ہے۔آواز کے ذریعے کوئی کہانی یا ڈرا ما پیش کرنا بہت مشکل کام ہے۔ شمیم حنفی، عارف نقوی، کرشن چندر،منٹو وغیرہ نے ریڈیو کے لیے ڈرا مے لکھے مگر شمیم حنفی کے ڈراموں کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ شمیم حنفی نے ڈراموں کے حوالے سے جو کام کیے ہیں انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
پروفیسر کوثر مظہری نے کہا کہ پروفیسر شمیم حنفی کا ادبی دائرہ کافی پھیلا ہوا ہے۔ ان کے ڈرا موں کے مجمو عوں ”زندگی کی طرف“، ”مٹی کا بلا وا“ وغیرہ نے شمیم حنفی کو بڑا مقبول کیا ہے۔ ہما رے شعبے میں بھی شمیم حنفی پر دو ریسرچ اسکالر تحقیق کررہے ہیں اور آپ کے یہاں بھی کام ہورہا ہے تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شمیم حنفی نے تنقیدی و تحقیقی کا رناموں کے ساتھ ساتھ ساتھ ڈرا ما نگاری کے حوالے سے بھی لائق تحسین خدمات انجام دی ہیں۔
پروفیسر عارفہ بشریٰ نے کہا کہ شمیم حنفی نے تحقیق اور تنقید کے میدان میں متعدد کتابیں تحریر کیں۔ ان کو بہت سے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ اگر ان کے ڈرا موں کی بات کریں تو ان کے ڈراموں میں ذہنی کشمکش، زبان کا حسن تہذیبی مسائل کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ زندگی کے بہت سے نئے تجربات ان کے ڈرا موں میں ملتے ہیں۔”مٹی کا بلا وا“ میں چھ ڈرا مے شا مل ہیں۔ اس مجمو عے کا بہترین ڈرا ما”مٹی کا بلا وا“ ہے۔ ”مجھے گھر یاد آتا ہے1988ء میں منظر عام پر آ یا۔ شمیم حنفی کے ڈرا موں میں زمین داری، تہذیب و ثقا فت،ماضی و حال کی کشمکش ملتی ہے۔
اسلم پرویز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شمیم حنفی نے زیادہ تر ریڈیو ڈرا مے لکھے ہیں اور انہیں ”اندھوں کا رنگ منچ“ کہا جاتا ہے۔ آنکھوں دیکھا حال جو ڈرا موں میں ملتا ہے وہ زیادہ متاثر کرتا ہے۔ شمیم حنفی کے ریڈیو ڈرا موں میں علمی و ادبی کار کردگی ملتی ہے۔ ان کے ریڈیو ڈراموں کو تھو ڑی تبدیلی کے ساتھ اسٹیج پر کھیلا جاسکتا ہے۔ شمیم حنفی کے بیشتر کردار جیتے جاگتے ہوتے ہیں۔ سماجی، سیاسی زندگی کا انتشار ان کے ڈرا موں کی خوبی ہے۔ان کے ریڈیا ئی ڈراموں میں مختلف کردار، خوبصورت مکالمے اور لفظوں کا معنیٰ خیز استعمال ملتا ہے۔ ان کے بیشتر ڈرا موں میں ڈرامائی غزلیات شدت کے سا تھ موجود ہیں۔شمیم حنفی نے اپنے ڈراموں میں بڑی حد تک سماج کی حقیقت کو پیش کیا ہے۔
پروفیسر ریشما پروین نے کہا کہ آج کا مو ضوع بہت اہم ہے۔ آج ہم نے شمیم حنفی کے ڈرا موں کے بارے میں جانا۔ میں آج کے پروگرام سے کا فی استفادہ کیا ہے۔ ہم کبھی کبھی یہ سوچتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسٹیج ڈرامے اور ریڈیا ئی ڈراموں کے درمیان کیا فرق ہوتا ہے۔ آج کے پروگرام نے بہت سے نئے نکات پر روشنی ڈا لی۔پروگرام سے ڈاکٹرآصف علی،ڈاکٹرشاداب علیم،ڈاکٹر الکا وششٹھ، سیدہ مریم الٰہی،محمد شمشاد اور دیگر طلبہ وطالبات جڑے رہے۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network