تازہ ترین
معمولی بات پر نوجوان کو گھیر چاقو سے قتلسیاسی دشمنی کا بدلہ بچوں سے لے رہی ہےبی جے پی: منیش سسودیامونارک سکینڈری سکول ہندوراہ میں متزکرہ بالا سوسائٹی کے زیر اہتمام محفل کا انعقادانسانی زندگی کو بہتر بناناہونا چاہیے ٹیکنالوجی کا مقصدبنہیڑہ ریلوے اسٹیشن پر سمینٹ کے مٹیریل اتارنے پر گائوں والوں کا احتجاجمولانا محمد مستقیم جمعیۃ علماء تحصیل نکوڑ کے کنوینر نامزد ، اصلاح معاشرہ کمیٹی کے ضلع کنوینر مولانا مشرف رشیدی نے لیٹر سونپابہارکو تعلیمی اور ترقی کے میدان میں آگے لے جاناضروری، ڈاکٹر شری کرشن سنگھ کے یومِ پیدائش پر بہار اسمبلی کے ایوان میں تقریب کا انعقاد،’بہار گورو سمان‘ تقریب میں مختلف شعبوں کی ممتاز شخصیات اعزاز سے سرفراز، تعلیم، طب، سماجی خدمت اور دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کی شرکتفاربس گنج ایئرپورٹ سے جلد شروع ہوگی ہوائی سروس، ارریہ میں ایئرپورٹ کا خواب بھی جلد ہوگا شرمندۂ تعبیر: پردیپ کمار
دلی این سی آر

این سی آر میں 10 کالونیوں پر بلڈوزر کا خطرہ!

 

(پی این این)
فریدآباد:دہلی سے متصل این سی آر کے ایک بڑے شہر فرید آباد میں 10 سے زیادہ غیر قانونی کالونیوں کو بلڈوزر کارروائی کے خطرے کا سامنا ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد شہر کی کئی غیر قانونی کالونیوں میں نوٹسز لگانے کا عمل تیز ہو گیا ہے جس سے مکینوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ اگر انہدام منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھا تو تین ہزار خاندان بے گھر ہو سکتے ہیں۔
محکمہ نے 10 سے زیادہ کالونیوں میں نوٹسز شائع کیے ہیں جن میں جیون نگر پارٹ 2، گاونچی، دیپاولی انکلیو، پنچشیل کالونی، گوٹھرا محبت آباد، اور مانگر شامل ہیں۔ جس سے مقامی باشندوں میں بڑے پیمانے پر بے چینی اور تذبذب کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔نوٹسز میں ان کالونیوں کے رہائشیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود ہی غیر قانونی تعمیرات ہٹا دیں۔
نہرو کالونی میں حالیہ بڑے پیمانے پر انہدام نے ان علاقوں کے مکینوں میں خوف کو مزید بڑھا دیا ہے۔ شہریوں کو خدشہ ہے کہ اگر انتظامیہ نے بلڈوزر کی کارروائی کی تو ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے محروم ہو سکتے ہیں۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ گھر برسوں کی محنت سے بنائے تھے۔ اب نوٹس ملنے کے بعد ان کے اہل خانہ کو اپنے مستقبل کے حوالے سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔
بہت سے لوگوں نے عوامی نمائندوں اور انتظامی حکام سے اس بحران سے نجات کی اپیل کی ہے۔جیون نگر پارٹ 2 کے رہائشی رام سنگھ نے بتایا کہ کالونی کے مکینوں کے چھوٹے چھوٹے مکان ہیں، جن میں لوگ برسوں سے رہ رہے ہیں۔ انہوں نے ایک ایک پیسہ بچا کر اور خواتین کے زیورات بیچ کر یہ پلاٹ خریدے۔ اب مکانات بنانے کے بعد انہیں گرانے کے لیے بلڈوزر استعمال کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ یہ سراسر غلط ہوگا۔ ہزاروں لوگ اپنے گھر بچانے کے لیے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔
ریاستی حکومت کی جانب سے غیر قانونی کالونیوں کے خلاف بروقت کارروائی کرنے اور بعد میں انہیں باقاعدہ بنانے میں ناکامی کی وجہ سے غیر قانونی کالونیوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں شہر میں 80 سے زائد غیر قانونی کالونیوں کو ریگولرائز کیا جا چکا ہے۔
مزید 100 کالونیوں کو ریگولرائز کرنے کا مطالبہ ہے۔

 

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔