Connect with us

Bihar

گیاجی اور بودھ گیا میں آج کئی راستے رہیں گے بند، وزیراعلیٰ کے دورے کے پیش نظر کنونشن سینٹر میں نئے فوجداری قوانین کے نفاذ سے متعلق 2 روزہ ریاستی سطحی کانفرنس کے انعقاد سے متعلق ضلع انتظامیہ نے جاری کی خصوصی ٹریفک ایڈوائزری

Published

on

(پی این این)
گیاجی : اگر آپ ہفتہ 4 جولائی کو گیا یا بودھ گیا جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو گھر سے نکلنے سے پہلے اپنا راستہ ضرور طے کرلیں، کیونکہ وزیراعلیٰ بہار کے دورۂ گیا اور بودھ گیا کنونشن سینٹر میں نئے فوجداری قوانین کے نفاذ سے متعلق دو روزہ ریاستی سطحی کانفرنس کے انعقاد کے پیشِ نظر ضلع انتظامیہ نے خصوصی ٹریفک ایڈوائزری جاری کی ہے۔انتظامیہ کی جانب سے جاری ہدایت کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک شہر اور بودھ گیا کے کئی اہم راستوں پر ٹریفک کی آمد و رفت محدود یا مکمل طور پر بند رہے گی۔ اس دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں گے تاکہ وزیراعلیٰ کی نقل و حرکت اور سرکاری پروگرام پرامن اور منظم انداز میں مکمل ہو سکے۔
ضلع انتظامیہ کے مطابق مان پور سے بائی پاس کے راستے بودھ گیا جانے والی تمام بھاری گاڑیوں کی آمد و رفت مکمل طور پر ممنوع رہے گی۔ اس کے علاوہ کھٹک چک، بیپارڈ (BIPARD)، گیٹ نمبر 5، ایئرپورٹ موڑ، دھنواں موڑ (ٹیکونا فارم) اور دوموہان سے بودھ گیا کنونشن سینٹر جانے والے تمام راستوں پر ہر قسم کی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد رہے گی۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ایمبولینس، فائر بریگیڈ، پولیس اور دیگر ہنگامی خدمات سے وابستہ گاڑیوں کو ان پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں عوام کو دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ضلع انتظامیہ نے سکریا موڑ – مگدھ میڈیکل کالج – چیرکی روڈ کو متبادل راستے کے طور پر مختص کیا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اسی راستے کا استعمال کریں تاکہ غیر ضروری ٹریفک جام سے بچا جا سکے اور سفر آسان رہے۔پولیس اور ٹریفک محکمہ کے افسران نے شہریوں، سیاحوں اور دیگر مسافروں سے درخواست کی ہے کہ وہ ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کی ہدایات پر عمل کریں، متبادل راستوں کا استعمال کریں اور ٹریفک قوانین کی پابندی کرتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
قابلِ ذکر ہے کہ بودھ گیا کنونشن سینٹر میں منعقد ہونے والی دو روزہ ریاستی کانفرنس میں ریاست بھر کے سینئر پولیس افسران، انتظامی حکام، عدالتی شعبے سے وابستہ نمائندگان اور دیگر اعلیٰ افسران شرکت کریں گے، جبکہ وزیراعلیٰ بھی اس اہم پروگرام میں شریک ہوں گے۔
اسی وجہ سے بودھ گیا اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور ٹریفک نظام میں عارضی تبدیلیاں نافذ کی گئی ہیں۔ضلع انتظامیہ نے کہا ہے کہ یہ پابندیاں صرف عوامی تحفظ، وی آئی پی سیکیورٹی اور ٹریفک کے منظم نظام کو برقرار رکھنے کے مقصد سے عائد کی گئی ہیں۔ شہری اگر پیشگی منصوبہ بندی کے ساتھ سفر کریں اور متبادل راستوں کا استعمال کریں تو انہیں کسی بڑی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

Bihar

طلبہ پر لاٹھی چارج جمہوری اقدار پر حملہ

Published

on

دربھنگہ : راشٹریہ جنتا دل (راجد) کے رہنما و بوکھڑا بلاک کے سابق نائب پرمکھ آفتاب عالم منٹو نے پٹنہ میں اپنے مطالبات کے حق میں پُرامن مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر پولیس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار اور آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے بدھ کو جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا کہ جمہوری نظام میں ہر شہری کو اپنی بات رکھنے، احتجاج درج کرانے اور پُرامن مظاہرہ کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ ایسے میں طلبہ اور نوجوانوں کی جائز آواز کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ جمہوری روایات کے بھی منافی ہے۔
آفتاب عالم منٹو نے کہا کہ اگر طلبہ اپنی تعلیم، روزگار اور مستقبل سے متعلق سوالات اٹھا رہے ہیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی بات سنے اور مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بہار کی این ڈی اے حکومت نوجوانوں کے مسائل کو سمجھنے کے بجائے دباؤ اور طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کر رہی ہے، جو کسی بھی جمہوری حکومت کے لیے مناسب طرزِ عمل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاٹھیوں اور طاقت کے ذریعے وقتی طور پر سوالات کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن نوجوانوں کے خواب، امیدیں اور امنگیں ختم نہیں کی جا سکتیں۔ حکومت نے نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے میدان میں بڑے بڑے وعدے کیے تھے، مگر زمینی سطح پر ان وعدوں کی تکمیل نظر نہیں آ رہی، جس کے باعث نوجوانوں میں بے چینی اور ناراضگی فطری امر ہے۔
راجد رہنما نے مزید کہا کہ طلبہ کے مسائل کا حل مذاکرات، مثبت اقدامات اور جوابدہی میں پوشیدہ ہے، نہ کہ لاٹھی چارج اور گرفتاریوں میں۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے ٹھوس پالیسی اختیار کرے اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔
آفتاب عالم منٹو نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ عوام سب کچھ دیکھ رہی ہے اور جمہوری نظام میں عوام ہی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ وقت آنے پر عوام اپنے ووٹ کے ذریعے ہر فیصلے کا جواب دیتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تشدد اور دباؤ کی سیاست سے گریز کرتے ہوئے تعلیم، روزگار اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے حوالے سے اپنی حقیقی ذمہ داری نبھائے۔

Continue Reading

Bihar

دہلی میں کانگریس رہنماؤں پر پولیس کی کارروائی کے خلاف مظاہرہ، وزیرِ اعظم کا پتلہ نذرِ آتش

Published

on

بہار شریف:ضلع کانگریس کمیٹی، نالندہ کے زیرِ اہتمام نیٹ امتحان میں پیپر لیک، تعلیمی نظام میں بڑھتی بدعنوانی اور دہلی میں کانگریس اراکینِ پارلیمنٹ و رہنماؤں پر پولیس کے ذریعے کیے گئے بل کے استعمال اور پرتشدد کارروائی کے خلاف بہار شریف کے ہاسپٹل موڑ پر زبردست مظاہرہ کیا گیا۔ اس دوران کارکنوں نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی کا علامتی پتلا نذرِ آتش کیا۔
پروگرام کی قیادت ضلع کانگریس کمیٹی، نالندہ کے ضلع صدر شری وویک کمار سنہا نے کی۔اس موقع پر ضلع صدر وویک کمار سنہا نے کہا کہ نیٹ  پیپر لیک نے لاکھوں محنتی طلبہ اور ان کے خاندانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کیا ہے۔ امتحانی نظام کی ساکھ پر سنگین سوال کھڑا ہو گیا ہے، لیکن مرکزی حکومت مجرموں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل کی حفاظت کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، لیکن آج طلبہ مسلسل پیپر لیک، بے روزگاری اور بے ترتیبی سے جوجھ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہلی میں جمہوری طریقے سے احتجاج کر رہے کانگریس اراکینِ پارلیمنٹ و رہنماؤں کے ساتھ پولیس کا بل کا استعمال جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ جمہوریت میں ہر شہری اور سیاسی جماعت کو پرامن اور آئینی طریقے سے اپنی بات رکھنے کا حق ہے۔ احتجاجوں کے دوران قانون و نظم برقرار رکھنا ضروری ہے، ساتھ ہی پرامن اظہارِ رائے کے حق کا احترام بھی ہونا چاہیے۔
ضلع کانگریس کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ نیٹ  پیپر لیک کے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور مقررہ وقت میں تحقیقات کر کے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور امتحانی نظام کو شفاف اور محفوظ بنایا جائے۔ ساتھ ہی جمہوری احتجاج کے دوران قانون کے مطابق طرزِ عمل یقینی بنایا جائے اور شہریوں کے پرامن اظہارِ رائے کے حق کا احترام کیا جائے۔
پروگرام میں بڑی تعداد میں کانگریس عہدیداران، کارکنان اور حامیان موجود تھے۔ آخر میں سب نے نوجوانوں کے مستقبل کی حفاظت، تعلیمی نظام میں شفافیت اور جمہوری اقدار کے دفاع کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عہد کیا۔

اس موقع پر موجود کارکنان: ویویکانند پاسوان، حیدر عالم، جمال اشرف جمالی، عثمان غنی، انجینئر ٹیپو، اجے کمار پانڈے، شیو کمار یادو، ستیندر سنگھ، مکیش کمار، امتیاز عالم، انیل کمار، پرمود کمار، رودراکش سنگھ یادو، ڈاکٹر اودھیش پرساد، اجے کمار پانڈے، انیل کمار، ودیانند یادو، سرفراز ملک، سجانی کمار، ممتا رانی، کرانی پاسوان، رجنیش کمار، اجیت راج “میڈیا انچارج”، چندن یادو، شیلش کمار، ستیندر کمار، انیل کمار، پرمود کمار، حافظ مہتاب عالم، سبھاش جی اور دیگر ضلع کانگریس کمیٹی کے عہدیداران، کارکنان اور بڑی تعداد میں عام شہری موجود تھے۔

Continue Reading

Bihar

نالندہ کے ضلع مجسٹریٹ نے 36 عوامی شکایات پر طے کی افسران کی جواب دہی

Published

on

بہار شریف:عوامی شکایات کے وقت پر ازالے کو اعلیٰ ترجیح دیتے ہوئے تمام متعلقہ افسران کو ہر درخواست پر فوری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔
نہر میں کھاڑ ہونے، سرکاری پیمائش کے بعد لگائے گئے پلر کو اکھاڑنے، آمد و رفت کے راستے کو تجاوزات سے پاک کرانے، جمعبندی منسوخ کرنے، اسلحہ جاری کرنے اور زمین کے تنازع سے جڑے معاملات کا غیر جانبدارانہ، شفاف اور قانون کے مطابق حل یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔
ضلع مجسٹریٹ نے واضح کہا کہ عام شہریوں کی مشکلات کے حل میں کسی بھی سطح پر سستی قبول نہیں کی جائے گی۔جن-سنوائی کے دوران ضلع مجسٹریٹ، نالندہ محترمہ ادیتا سنگھ نے ضلع کے دور دراز پرکھنڈوں اور پنچایتوں سے آئے کل 36 فریادیوں سے براہِ راست مکالمہ کر کے ان کی شکایات کو انتہائی حساسیت اور سنجیدگی سے سنا اور متعلقہ افسران کی جواب دہی طے کرتے ہوئے موقع پر ہی سخت ہدایات جاری کیں۔
زمین کی فروخت کے باوجود مخالف فریق کے ذریعے سرکاری پیمائش کے بعد لگائے گئے پلر کو اکھاڑنے سے متعلق معاملات میں سب ڈویژنل افسر SDO اور سب ڈویژنل پولیس افسر، صدر SDPO، بہار شریف کو موقع پر امن و امان برقرار رکھتے ہوئے غیر جانبدارانہ حل نکالنے کی ہدایت دی گئی۔
جن-سنوائی کے دوران زمین کے تنازع اور محصول سے جڑی کئی پیچیدہ شکایات سامنے آئیں۔ جمعبندی منسوخ کرنے سے جڑے معاملات پر ضلع مجسٹریٹ نے ایڈیشنل کلکٹر-سہ-ضلع لوک شکایت افسر، نالندہ کو فوری ریکارڈ کی گہری جانچ کر کے وقت پر ازالہ کا حکم دیا۔
وہیں، عام راستے پر تجاوزات کر کے آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی شکایت پر بھی لوک شکایت افسر کو فوری کارروائی کرتے ہوئے راستہ تجاوزات سے پاک کرانے کے لیے ہدایت کی گئی۔
جن-سنوائی میں آئی دیگر تمام درخواستوں کو بھی متعلقہ محکمے کے افسران کو منتقل کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نے واضح وارننگ دی کہ عام شہریوں کی مشکلات کے حل میں کسی بھی سطح پر غفلت یا سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network