Connect with us

انٹر نیشنل

ٹوکیو، نیویارک، انکاش اور پیرس کو ملاٹورائز ایوارڈز 2025

Published

on

ایوارڈز کے پہلے فاتحین کا اعلان کر دیا گیا ہے، جو جدید سیاحوں کیلئے تلاش، مہمان نوازی اور ثقافتی تعلق کی نئی تعریف کرتے ہوئے، جدت اور عمدگی کے لیے نئے معیارات قائم کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں ناقابل فراموش سیاحوں کے تجربات فراہم کرتے ہیں۔ سعودی عرب کے وزیر اعظم اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی افتتاحی ٹورائز سمٹ کے ایک حصے کے طور پر منعقد ہونے والا، مجموعی طور پر بہترین کا مائشٹھیت ٹائٹل جیت کر بڑے فاتح کے طور پر ابھرا ۔ منزل۔ اس کے علاوہ، ٹوکیو کو بھی بہترین خوراک اور پاک اور بہترین تفریحی منزل، جدت، توانائی، اور ناقابل فراموش تجربات کے عالمی دارالحکومت کے طور پر اپنی حیثیت کی تصدیق کرتی ہے۔
2025 انفرادی زمرہ کے فاتح:ایک آزاد کراس سیکٹر جیوری کے ذریعے منتخب کیا گیا اور دنیا بھر میں مسافروں، صنعت کے رہنماؤں، اور تنظیموں کی طرف سے جمع کرائی گئی نامزدگیوں کی ایک وسیع سلیٹ سے منتخب کیا گیا، اس سال کے فاتحین روح کو ہلانے والے کلچر، حدود کو آگے بڑھانے کے تجربات اور بامعنی، دیرپا مثال پیش کرتے ہیں۔یادیں جیتنے والے ان منزلوں کی نمائندگی کرتے ہیں جنہوں نے ثقافت اور فنون کو عمیق تجربات میں بلند کیا، مہم جوئی کو نئی سطحوں تک پہنچایا، مقامی پیداوار کو عالمی معیار کے پاک ماحولیاتی نظام میں تبدیل کیا، خوردہ کو تخلیقی جگہ سازی کے طور پر نئے سرے سے متعین کیا اور حدود کو توڑنے والی تفریح کے ساتھ متحرک شہر کے مناظر۔
اس سال کے زمرے کے فاتحین کی مکمل فہرست یہ ہیں:بہترین فنون ampثقافت کی منزل: نیو یارک، USA – ایک شہری شہر جہاں مارکی میوزیم اور عالمی اسٹیجز آف براڈوے محلے کی روح سے ملتے ہیں اور آپ کو کسی بھی کونے میں اپنا منظر مل سکتا ہے۔ ایڈونچر کی بہترین منزل: انکاش، پیرو – مہم جوئی کی مشہور سائٹ جو کورڈیلیرا بلانکا کے فیروزی کے درمیان کلاسک اینڈین بکٹ لسٹ ایڈونچر کو اینکر کرتی ہے۔جھیلیں، اونچائی پر چلنے والی پگڈنڈیاں، اور ڈرامائی چوٹیوں۔ بہترین خوراک اور کھانا پکانے کی منزل: ٹوکیو، جاپان – ایک عالمی شہرت یافتہ دارالحکومت جو بے مثال پاک گہرائی سے شادی کرتا ہے، شائستہ کاؤنٹرز سے لے کر ملٹی کورس کیسیکی تک جدت۔ خریداری کا بہترین مقام: پیرس، فرانس – اشرافیہ “روشنیوں کا شہر” اور عالمی دارالحکومت، عصری کنارے کے ساتھ زندہ ورثے کو فیوز کرتے ہوئے ایٹیلیئرز، تصوراتی اسٹورز، اور احیاء شدہ اضلاع کے ذریعے خریداری کو ثقافتی دریافت کے طور پر دوبارہ تصور کرتے ہوئے۔
بہترین تفریحی مقام: ٹوکیو، جاپان – عالمی سطح پر پہچانے جانے والے تھیم پارکس سے لے کر موسیقی اور ثقافتی منظر کیلئے دلکش انڈور پرکشش مقامات، ٹوکیو میں واقعی ہر کسی کیلئے کچھ نہ کچھ ہے۔’’فاتح صرف نقشے پر جگہیں نہیں ہوتے، وہ زندہ ہوتے ہیں، جو ثقافتوں کو متحد کرتے ہیں اور تخیلات کو جنم دیتے ہیں‘‘، احمد الخطیب، وزیر سیاحت اور بورڈ آف ٹورائز کے چیئرمین نے کہا۔سیاحت اگلے 50 سالوں کے سفر کی تشکیل کر رہی ہےاور یہ منزلیں اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ کیا بامقصد اور تبدیلی لانے والا ہے۔سیاحت حاصل کر سکتے ہیں۔آج کا مسافر تیزی سے تلاش کر رہا ہے۔ صداقت، تخلیقی صلاحیت، اور تجربات جو لوگوں کو جگہ اور مقصد سے جوڑتے ہیں۔ ہم ان کے وژن اور عزائم سے تحریک لیتے ہیں، جیسا کہ ہم مل کر ایک سیاحتی مستقبل کی تشکیل کرتے ہیں جو ترقی کی تحریک دیتا ہے، برادریوں کو مضبوط کرتا ہے، اور دنیا کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔”
یہ ایک یادگار رات تھی:یہ باوقار ایوارڈز ریاض کے رٹز کارلٹن میں ایک شاندار گالا ڈنر میں پیش کیے گئے، جس میں شیف نوال الخلاوی کی طرف سے تیار کیا گیا کھانا پکانے کا سفر اور بین الاقوامی گلوکارہ لورین آلریڈ کی ایک شو اسٹاپنگ لائیو پرفارمنس کے ساتھ جس نے سعودی فیشن ڈیزائنر مشائل الفاریس کے ایک شاندار گاؤن میں کمرے کو موہ لیا۔کھانے کی زبان کے ذریعے کہانی سنانے پر توجہ دینے کے ساتھ، مینو نے سعودی عرب کے متنوع علاقائی کھانوں کو خراج تحسین پیش کیا، مہمانوں کو حیران اور خوش کرنے کیلئے عالمی اثرات سے سوچ سمجھ کر متاثر کیا گیا۔ عالمی شبیہیں کی طرف سے فیصلہ:ایوارڈز کے آزاد، کراس سیکٹر جیوری پینل میں فوربس ٹریول گائیڈ، میکلین گائیڈز، ٹیٹ ماڈرن، کونڈے ناسٹ، برٹش فیشن کونسل، اور مزید کے سابق رہنما شامل تھے، جو سفر، فیشن، خوراک اور دنیا بھر سے بے مثال مہارت کو اکٹھا کرتے ہیں۔
مندرجہ ذیل ماہرین جیوری پینل میں تھے۔مندرجہ ذیل ماہرین جیوری پینل میں تھے۔ فلپ بوئن، سابق سی ای او، فوربس ٹریول گائیڈ۔ مائیکل ایلس، سابق عالمی ڈائریکٹر، مشیلن گائیڈز، فیونا جیفری، سابق چیئر، ورلڈ ٹریول مارکیٹ؛ سابق چیئر، ٹورازم فار ٹومارو ایوارڈز، ریناؤڈ ڈی لیسکون، سابق سی ای او، گیونچی؛ سابق صدر، ڈائر اے ایم، لارس نیتوے، سابق بانی ڈائریکٹر، ٹیٹ ماڈرن۔ البرٹ ریڈ، سابق مینیجنگ ڈائریکٹر، کونڈے ناسٹ۔ کیرولین رش، سابق سی ای او، برٹش فیشن کونسل۔ عمر سمرا، اقوام متحدہ کے خیر سگالی سفیر، کوہ پیما اور پولر ایکسپلورر۔ برنولڈ شروڈر، سابق سی ای او، کیمپنسکی؛ پین پیسیفک ۔ 2025 ٹورائز ایوارڈز کے فاتحین کے اعلان کے ساتھ، ثقافت، کھانوں، مہم جوئی اور تفریح میں ایک نیا معیار قائم کیا گیا ہے۔ جیسا کہ سفر جاری ہے، TOURISE نئی نسل کو حیران اور خوش کرنے والی منزلوں کو دریافت کرنے اور منانے کیلئے پرعزم ہے ۔مسافروں کی منزلیں جو تجسس کو جنم دیتی ہیں، روابط قائم کرتی ہیںاور ناقابل فراموش یادیں تخلیق کرتی ہیں۔ اپنی عالمی برادری کے ساتھ مل کر، ہم اگلے باب اور چمکنے والی اگلی قابل ذکر منزلوں کے منتظر ہیں۔

انٹر نیشنل

قطر گیس پلانٹ میں دھماکہ،12ہندوستانیوں سمیت 13ہلاک

Published

on

دوحہ:قطر کے گیس پلانٹ میں زبردست دھماکہ ہوا ہے ، جس میں 12 ہندوستانی اور ایک پاکستانی شہری شامل ہے۔ راس لفان صنعتی شہر میں واقع برزان مقامی گیس سپلائی سہولت میں اتوار کے روز ہونے والے ہولناک دھماکے میں 12 ہندوستانیوں سمیت 13 افراد ہلاک جبکہ 66 افراد زخمی ہو گئے۔ ہندوستان کے سفارت خانے کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد کی حالت فی الحال مستحکم ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔ سفارت خانے نے یہ بھی بتایا کہ جاں بحق افراد کی میتیں جلد بھارت بھیجنے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ اور انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ برزان پلانٹ کو ضروری دیکھ بھال اور مرمت کے لیے دسمبر 2025 سے بند رکھا گیا تھا اور دھماکے سے صرف دو دن قبل ہی اسے دوبارہ فعال کیا گیا تھا۔دارالحکومت دوحہ سے 80 کلومیٹر شمال مشرق میں نارتھ فیلڈ کے قریب واقع راس لفان صنعتی شہر قطر کے اہم ترین صنعتی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں تقریباً ایک لاکھ پندرہ ہزار افراد کام کرتے ہیں۔
قطر نیوز کے مطابق توانائی امور کے وزیرِ مملکت اور قطر انرجی کے صدر و چیف ایگزیکٹو افسر سعد شریدہ الکابی نے پیر کے روز حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے دوحہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ دھماکہ اتوار 21 جون کو رات تقریباً ساڑھے دس بجے پیش آیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایک حادثہ تھا، کسی تخریب کاری یا دشمنانہ کارروائی کا نتیجہ نہیں تھا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں بھارتی اور پاکستانی شہری شامل تھے۔ ان کے مطابق زخمی ہونے والے 66 افراد میں سے کسی کی حالت تشویشناک یا جان لیوا نہیں ہے۔ زخمیوں میں قطر، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، کینیا، ایران، تنزانیہ، نائجیریا اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ برزان پلانٹ دسمبر 2025 سے ضروری دیکھ بھال کے لیے بند تھا اور دھماکے سے صرف دو دن قبل دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔ قطر انرجی کی ہنگامی امدادی ٹیم اور قطر سول ڈیفنس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
قطر انرجی کے مطابق 2022 میں شروع کیے گئے برزان کمپلیکس سے گھریلو سطح پر پائپ لائن گیس فراہم کی جاتی ہے۔ اس مرکز میں مقامی بجلی پیدا کرنے والے اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس کے ساتھ ساتھ مقامی صنعتوں کو روزانہ 1.4 ارب معیاری مکعب فٹ گیس فراہم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ مرکز مقامی منڈی اور برآمدات دونوں کے لیے ایتھین، کنڈینسیٹ اور سلفر جیسی ہائیڈروکاربن مصنوعات بھی فراہم کرتا ہے۔ کارپوریٹتربیت دریں اثنا بھارتی سفارت خانے نے متاثرہ خاندانوں کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن نمبرز +974-55647502 اور +974-55384683 جاری کیے ہیں۔ اس کے علاوہ cons.doha@mea.gov.in ای میل کے ذریعے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔دوحہ میں واقع بھارتی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا کہ وہ قطری حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور زخمیوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ سفارت خانے نے سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ راس لفان انڈسٹریل سٹی میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کی جاتی ہے۔

Continue Reading

انٹر نیشنل

ٹرمپ کی دھمکی سے ایران ناراض،دبائو میں نہیں کریں گے بات،مذاکرات بند

Published

on

تہران:سوئٹزرلینڈ میں ایران امریکہ مذاکرات کو بڑا دھکا لگا ہے۔ ٹرمپ کے بیانات اور دھمکی سے ایران ناراض ہوگیا ہے۔ مذاکرات ختم ہوگئی ہے۔ ناراضگی اس حد تک تھی کہ امریکی نائب صدر ودیگر سینئر امریکی اہلکاروں سے ہاتھ ملائے بغیر ایرانی وفد اجلاس چھوڑ کر چلا گیا۔
ایرانی وفد میں شامل سینئر لیڈر محمد باگھیر گولیباف نے کہا کہ 80 منٹ کی گفتگو کے دوران مجھے پتہ چلا کہ ٹرمپ مسلسل ہمارے صدر ، ہماری مذاکرات ٹیم اور ہمارے علاقے کولیکر دھمکی بھرے بیان دے رہے ہیں۔ ایسے میں اب بات چیت نہیں کی جاسکتی۔ گولیباف نے کہا کہ اس کے بعد ایرانی ڈیلیگیشن نے مٹنگ ختم کردی ہے اور وہاں سے چلا آیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ امریکی فریق نے ثالثی کے ذریعہ ایک اور مٹنگ کرنے کی خواہش جتائی لیکن ایران نے اسے نامنظور کردیا۔ خاص بات تو یہ بھی ہے ایرانی ٹیم نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ہاتھ ملانے اور مشترکہ فوٹو سیشن میں شامل ہونے سے بھی انکارکردیا۔ اس بات کولیکر امریکی نائب صدر سے صحافیوں نے سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ حالانکہ سوچتے ہیں کہ نتن یاہو کے گفتگو کولیکر بات چیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن کئی بار ٹرمپ کے اچانک اور سخت بیانات سے کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ تنائو پیدا ہوتا ہے۔ بہرحال ہم لوگ اب دوسرے سیشن کی تیاری کررہے ہیں۔
غورطلب ہے کہ جس وقت ایران اور امریکہ کا ڈیلیگیشن مذاکرات کررہا تھا تبھی ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ایران فوری طور پر لبنان میں حذب اللہ کو پریشانی پیدا کرنے سے روکے۔ اگر ایسا نہیں کیا تو ہم ایران پر سخت حملہ کریں گے۔ حالانکہ دوسرے مذاکرات کی تیاری ہورہی ہے امریکہ نے ایران کو 60دنوں تک تیل بیچنے کی سہولت دی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جاری رکھنے کے لئے ایران کی منظوری کے بعد لیا گیا۔ بہرحال ایران کا کہنا ہے کہ تمام تر گفتگو کے باوجود ایرانی افواج پوری طرح الرٹ ہیں۔ ہم امریکہ پر زیادہ بھروسہ نہیں کرسکتے۔حالانکہ اس معاملے میں پاکستان ثالثی کررہا ہے مگر مبصرین کا کہنا ہے کہ بات چیت کو بگاڑنے میں ٹرمپ کے بے تکے بیانات رخنہ اندازی پیدا کررہے ہیں۔

Continue Reading

انٹر نیشنل

ٹرمپ کا یوٹرن،لبنانی صدر کو دیا سیکورٹی کا بھروسہ،نتن یاہو سے دوری اختیار کررہا ہے امریکہ،ہم آپ کے ساتھ ہیں، روبیو کی یقین دہانی

Published

on

واشنگٹن:ایران سے ڈیل کے بعد ٹرمپ بھی اب اسرائیل سے دوری اختیار کررہے ہیں۔ انھوں نے لبنان کی کھلی حمایت کردی ہے۔ آج امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے لبنان کے صدر جوزف عون سے فون پر بات کرکے ملک کی سلامتی، استحکام اور خود مختاری کے تئیں واشنگٹن کے عزائم کا اعادہ کیا۔
یہ بات چیت ایسے وقت ہوئی ہے جب لبنان، اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں کچھ ماہرین اسے ٹرمپ انتظامیہ کی علاقائی حکمت عملی کے اہم اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ حالانکہ امریکہ نے عوامی طور سے اسرائیل سے دوری بنانے جیسی کوئی بات نہیں کہی ہے۔مارکو روبیو نے صدر جوزف عون سے گفتگو کے دوران کہا کہ امریکہ لبنان کی حفاظت اور استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات زور دیا کہ لبنانی حکومت کا اختیار ملک کے تمام حصوں پر موثر طور پر قائم ہونا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے لبنان کی فوج اور دیگر جائز سیکورٹی اداروں کو اپنی حمایت جاری رکھنے کا یقین بھی دلایا۔
یہ پیغام ایسے وقت آیا ہے جب لبنان اپنی سرحدوں پر بڑھتی کشیدگی اور سیکورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔جوزف عون نے امریکہ کی حمایت کے لیے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کی زمین پر اسرائیلی فوجی کارروائی بند ہونی چاہئے۔ انہوں نے جنگ بندی کو بے حد ضروری بتایا۔ صدرعون کے مطابق اگلے ہفتے واشنگٹن میں مجوزہ لبنان-امریکہ- اسرائیل مذاکرات کی کامیابی کے لیے پہلے زمین پر امن قائم ہونا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی صرف عارضی راحت نہیں بلکہ علاقائی استحکام اور مستقبل کی بات چیت کی بنیاد ہے۔لبنان، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مجوزہ مذاکرات کا مقصد سیکورٹی سے متعلق زیر التویٰ مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ صدر عون نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد لبنان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان چاہتا ہے کہ تمام فریق بات چیت کے ذریعہ تنازعات کو حل کریں اور سرحدی علاقوں میں پائیدار امن قائم ہو۔
اسی وجہ سے لبنان حکومت جنگ بندی کو بات چیت کی سب سے اہم شرط مان رہی ہے۔حال ہی میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان پھر سے جنگ بندی نافذ ہوئی ہے۔ یہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ مانا جا رہا ہے۔ سفارتی کوششوں کے بعد نافذ ہوئی اس جنگ بندی سے سرحد پر حالات معمول پر آنے کی امیدوں کو تقویت ملی ہے۔ اگر یہ جنگ بندی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کو مثبت ماحول مل سکتا ہے۔ اس وقت امریکہ، قطر اور دیگر ثالثی کرنے والے ممالک خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور بات چیت کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں آنے والے دنوں میں مغربی ایشیا کی سیاست پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز رہیں گی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network