تازہ ترین
خواتین کے وقار کے معاملے پر کانگریس کا دوہرا معیار: بانسری سوراجپٹنہ میں 11 تھانوں کے 72 پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں روکنے کا حکم، مقررہ ہدف پورا نہ کرنے پر ایس پی کی بڑی کارروائیاےایم یو الومنائی ایسوسی ایشن، ارریہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ مقابلہ میں ضلع کے 18اسکول کے طلبہ اور طالبات نے لیا حصہمجلس شعرادب کشن گنج کے زیرِ اہتمام تقریب تقسیم ایوارڈ کا انعقاد,پروفیسر انور ایرج، رضی احمد تنہا اور رضوان ندوی ایوارڈ سے سرفرازجنتر منتر اب ہوا خاموش،نہیں کر سکیں گے احتجاجدہلی ہائی کورٹ کا پولیس سے سوال، اے پی سی آر کے سکریٹری ندیم خان کی مبینہ حراست پر نوٹسجیور ہوائی اڈے سے بین الاقوامی پروازیںہوں گی شروعطالبات کی شکایات کا موثر ازالہ بنانا حکومت کی اولین ترجیح: ریکھا
دیش

وندے ماترم کسی پر لازم نہیں، سپریم کورٹ کی وضاحت

(پی این این)
نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے وندے ماترم سے متعلق سپریم کورٹ آف انڈیا کے ذریعہ آج ظاہر کردہ موقف پر ردِّعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا یہ واضح اور اصولی موقف ہے کہ وندے ماترم ہمارے بنیادی عقیدۂ توحید کے خلاف ہے، اس لیے کسی بھی حکم یا ہدایت کے ذریعے اسے گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ کسی شہری کو اس کے مذہب، عقیدہ اور ضمیر کے خلاف کسی عمل پر مجبور کرنا نہ صرف آئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے پر براہِ راست حملہ ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ بھارت کا آئین ہر شہری کو ضمیر اور مذہب کی آزادی کا مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، جسے کسی بھی انتظامی ہدایت، سرکاری دباؤ یا سماجی جبر کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آج ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے یہ حقیقت دوٹوک انداز میں بیان کی ہے کہ 28؍جنوری 2026 کو وندے ماترم سے متعلق سرکاری گائیڈلائن محض ایک ’’مشورہ‘‘ ہے اور اس کی کوئی لازمی حیثیت نہیں ہے، نیز اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کوئی تعزیری کارروائی بھی مقرر نہیں۔
مولانا مدنی نے خبردار کیا کہ اگر ملک کے کسی بھی حصے میں کسی فرد، طالب علم یا ادارے کو اس معاملے میں مجبور کیا گیا، یا اس کے مذہبی و آئینی حقوق کو پامال کرنے کی کوشش کی گئی، تو جیسا کہ سپریم کورٹ نے آج خود واضح کیا ہے، جمعیۃ علماء ہند عدالت سے رجوع کرے گی اور ہر ممکن قانونی جنگ لڑے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ وقت ملک میں آئین کی بالادستی کو مضبوط کرنے کا ہے، نہ کہ ایسے اقدامات کو فروغ دینے کا جو شہریوں کے درمیان خوف، دباؤ اور تفریق کو جنم دیں۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حساس معاملے میں واضح ہدایات جاری کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ کسی بھی سطح پر کسی شہری کے ساتھ جبر، امتیاز یا زیادتی نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔