Connect with us

Bihar

وقف کی زمین پر قبضے کی کوشش یا انتظامی سرپرستی؟،بھاگلپور کے تہبل پورگاؤں میں وقف جائیداد پرجے سی بی سے کھدائی، درختوں کی کٹائی اور باؤنڈری تعمیرکولے کر معاملہ گرم

Published

on

(پی این این)
بھاگلپور:ضلع کے سبور انچل کے تحت موضع تہبل پور، حلقہ لودی پور میں واقع شہامت حسین وقف اسٹیٹ نمبر-263 کی وقف جائیداد پر مبینہ قبضے کی کوشش نے انتظامی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ الزام ہے کہ جے سی بی مشین لے کر پہنچے افراد نہ صرف زمین پر کھدائی اور باؤنڈری کی تعمیر کر رہے ہیں بلکہ کئی دہائیوں پرانے 95-96 آم کے درختوں کو کاٹنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔تادم تحریر کئی درخت کاٹے بھی جا چکے ہیں۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب معاملہ عدالت میں مقدمہ نمبر TA 72/15 کے تحت زیرِ سماعت ہے اور زمین کو وقف بورڈ کی ملکیت قرار دیا جا چکا ہے، تو آخر کس کی سرپرستی میں یہ سب ہو رہا ہے؟وقف جائیداد کے متولی کے وکیل ابو ناصر نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کو دی گئی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ فاروق طاہر، ولد مرحوم محمد ابو طاہر، ساکن شہامت حسین روڈ برہ پورہ، اپنے ساتھیوں اور سماج دشمن عناصر کے ساتھ جے سی بی لے کر پہنچے اور مبینہ طور پر زبردستی قبضے کی نیت سے گزشتہ دو تین دنوں سے زمین کی کھدائی اور باؤنڈری تعمیر کا کام انجام دے رہے ہیں۔ابو ناصر کا دعویٰ ہے کہ یہ زمین بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کی رجسٹرڈ جائیداد ہے اور وہ اس پراپرٹی کے متولی ہیں، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں بھی اس کا واضح اندراج موجود ہے۔
اس معاملے پر بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے صدر محمد ارشاد اللہ نے بذریعہ فون بتایا کہ انہوں نے کئی مرتبہ ضلع مجسٹریٹ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو خط لکھ کر کارروائی کا مطالبہ کیا، لیکن کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا:”اب میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔ وقف جائیداد ایکٹ 1995 کی دفعہ 51(1-4) کے تحت نہ اسے خریدا جا سکتا ہے اور نہ فروخت کیا جا سکتا ہے۔ یہ وقف نمبر-263 بورڈ میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہے اور اس کی سالانہ آمدنی کا حساب کتاب بھی مستقل طور پر رکھا جاتا ہے۔”
واضح رہے کہ بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے صدر کی جانب سے قبل ازیں ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی کو خط ارسال کر کے واضح کیا گیا تھا کہ متعلقہ کھاتہ نمبر 1 اور خسرہ نمبر 28 (پرانا کھاتہ نمبر 27، خسرہ نمبر 15) کی زمین وقف بورڈ کی ملکیت ہے۔خط میں یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ محمد فاروق طاہر نے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے اپنے نام داخل خارج کرا لیا، جس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔معلوم ہو کہ سبور انچل افسر کی جانب سے مبینہ غلط میوٹیشن کو چیلنج کرتے ہوئے ڈی سی ایل آر عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ مقدمہ نمبر ایم اے-393/2026-27 فی الحال زیرِ غور ہے۔اس کے علاوہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج-16، بھاگلپور کی عدالت میں بھی معاملہ زیرِ سماعت ہے۔ مزید یہ کہ ضلع مجسٹریٹ اور بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کی درخواست پر ضلعی رجسٹری دفتر کی جانب سے مذکورہ جائیداد کو مبینہ طور پر پابندی کی فہرست میں بھی شامل کیا جا چکا ہے۔ایسی صورتِ حال میں بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو، زمین پابندی کی فہرست میں درج ہو اور انتظامیہ کو پہلے سے معلومات ہوں، تو پھر مبینہ طور پر جے سی بی لے کر پہنچنے اور تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے کی ہمت آخر کس کے بھروسے پر ہوئی؟وہیں اس معاملے میں لودی پور تھانہ انچارج کا بیان بھی قابلِ غور ہے۔
انہوں نے کہا:”سب ڈویژنل افسر نے دوسرے فریق کے حق میں فیصلہ دیا ہے، انہی سے پوچھئے۔ میری یہاں ڈیوٹی لگی ہوئی ہے۔”تھانہ انچارج کے اس بیان نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو کیا کسی انتظامی حکم کی بنیاد پر موجودہ صورتِ حال کو تبدیل کیا جا سکتا ہے؟قانونی ماہرین کے مطابق وقف جائیداد کی حیثیت مستقل ہوتی ہے۔ ایک بار کوئی جائیداد وقف قرار دے دی جائے تو نہ اسے فروخت کیا جا سکتا ہے، نہ خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی بنیادی نوعیت تبدیل کی جا سکتی ہے۔ایسے میں اگر زمین وقف بورڈ کے ریکارڈ میں درج ہے تو پھر کسی نجی شخص کے نام داخل خارج کیسے ہو گیا؟ کیا انتظامی سطح پر سنگین کوتاہی ہوئی یا قوانین کو نظر انداز کیا گیا؟
اب سوالات براہِ راست انتظامی نظام پر اٹھ رہے ہیں۔ کیا “بڑھتا بہار اور بدلتا بہار” میں حقیقی مالکان کی جائیداد محفوظ نہیں؟ کیا عدالت میں زیرِ سماعت معاملے کے باوجود زمین پر قبضے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی یا انہیں تحفظ فراہم کیا جاتا رہے گا؟اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وقف جائیدادوں کا تحفظ صرف سرکاری فائلوں تک محدود رہ گیا ہے؟فی الحال متاثرہ فریق نے انتظامیہ سے موجودہ صورتِ حال برقرار رکھنے، مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں پر روک لگانے اور باغ کی حفاظت کے لیے پولیس فورس فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اب نظریں انتظامی کارروائی اور عدالتی عمل پر مرکوز ہیں۔

Bihar

وزیر اعظم مودی نے جمہوریت کوفراہم کی ہے مضبوطی ،آئندہ سال ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے نام سے عوام کے لیے وقف کیا جائے گاایک شاندار پارک: سمراٹ چودھری

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے منگل کو کہا کہ اگلے سال ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے یومِ شہادت کے موقع پر ان کے نام سے ایک عظیم الشان نیا پارک عوام کے لیے وقف کیا جائے گا۔
مسٹر چودھری نے آج بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی دفتر میں بھارتیہ جن سنگھ کے بانی، ممتاز قوم پرست مفکر اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی برسی (یومِ شہادت) کے موقع پر منعقدہ خراجِ عقیدت تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی کی زندگی قومی مفاد، اکھنڈ بھارت اور ثقافتی خودداری کے لیے وقف تھی اور وہ سب کے لیے ایک عظیم تحریک کا سرچشمہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک ان کی قومی خدمات اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنڈت چانکیہ کے بعد اگر کسی رہنما نے اکھنڈ بھارت کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کی سمت میں کام کیا تو وہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ایک ملک میں دو آئین، دو وزیر اعظم اور دو نشان نہیں چلیں گے‘‘ کا نعرہ بھارتیہ جن سنگھ کے بانی ڈاکٹر مکھرجی نے دیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ جب ملک میں جمہوریت بحران کا شکار تھی تو جن سنگھ کے کارکنوں نے جمہوریت کے تحفظ کے لیے اپنی جماعت تک کو ضم کر دیا تھا اور بعد میں 1980 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا قیام عمل میں آیا۔مسٹر چودھری نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمہوریت کو مضبوطی فراہم کی ہے۔ 2019 میں ملک کے عوام نے انہیں اتنا مضبوط مینڈیٹ دیا کہ جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کا خاتمہ ممکن ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیے سب سے پہلے ملک، پھر فرد اور اس کے بعد پارٹی کی اہمیت ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 1984 میں بی جے پی کے صرف دو ارکانِ پارلیمنٹ تھے، جبکہ 2014 میں پارٹی کے 282 ارکانِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں متعدد جماعتوں کا اتحاد قائم ہوا تھا، اسی طرح آج وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) بھی مضبوطی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نریندر مودی کو ملک کے سب سے طویل عرصے تک منتخب رہنے والے وزیر اعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔اس تقریب میں سابق مرکزی وزیر اور رکنِ پارلیمنٹ رادھا موہن سنگھ، وزیر برائے محصولات و اراضی اصلاحات ڈاکٹر دلیپ کمار جیسوال، رکنِ اسمبلی رتنیش کشواہا، سابق رکنِ اسمبلی ہری بھوشن ٹھاکر بچول، سابق رکنِ اسمبلی پون جیسوال سمیت بڑی تعداد میں عوامی نمائندوں اور بی جے پی کارکنوں نے شرکت کی۔

Continue Reading

Bihar

ضلع مجسٹریٹ نالندہ نے صغریٰ پلس ٹو ہائی اسکول کی ایڈہاک کمیٹی بنانے اور اسکول کی سرگرمیوں کی جانچ کاجاری کیا حکم

Published

on

(پی این این)
نالندہ:ادھر ضلع مجسٹریٹ نالندہ نے اپنے لیٹر نمبر 5471 مورخہ 20.6.2026 کو ایک خط جاری کر کے 19.8.2025 کو صغریٰ پلس ٹو ہائی اسکول کی انتظامی کمیٹی کی مدت ختم ہونے کے بعد ایڈہاک کمیٹی کی تشکیل، اسکول میں مختلف قسم کی بے قاعدگیوں کی مسلسل ملنے والی اطلاع کے بعد اسکول کی جانچ کرنے کا حکم ضلع تعلیم افسر نالندہ کو دیا ہے۔
ضلع مجسٹریٹ نے اس کے لیے سخت حکم جاری کیا اور کہا کہ اس پر جلد کارروائی کی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سے قبل بھی کمیٹی کی مدت ختم ہونے کے بعد ہونے والے کاموں پر سوال اٹھایا گیا تھا، اس کے باوجود ضلع تعلیم افسر نے الزام کی سمت بدل دی تھی، جس پر ضلع مجسٹریٹ نے سخت موقف اپناتے ہوئے 20 جون کو یہ خط جاری کیا۔بتایا جاتا ہے کہ ایڈہاک کمیٹی کی تشکیل کی روایت کافی پرانی ہے۔ ابھی حال ہی میں پاٹلی پترا یونیورسٹی نے صغریٰ کالج میں ہونے والی بے قاعدگیوں پر کارروائی کرتے ہوئے ایڈہاک کمیٹی کی تشکیل اور جانچ کا حکم جاری کیا۔
اس سے قبل بھی علامہ اقبال کالج میں بھی ایڈہاک کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے۔ اب ایک بار پھر ضلع مجسٹریٹ نالندہ نے صغریٰ پلس ٹو ہائی اسکول میں ایڈہاک کمیٹی کی تشکیل اور جانچ کا حکم ضلع تعلیم افسر نالندہ کو دیا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ اسکول کی بے قاعدگیوں کی جانچ اور ایڈہاک کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کئی سماجی و سیاسی رہنماؤں نے بھی پہلے ضلع مجسٹریٹ نالندہ اور ضلع تعلیم افسر سے کر رکھا تھا۔

Continue Reading

Bihar

بیگوسرائے: محرم کی مناسبت سے یک روزہ تربیتی ورکشاب کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
بیگو سرائے:ماہ مقدس محرم الحرام میں فعال ومتحرک نوجوان محمد مبشر عالم و محمد مدثر عالم کی مشترکہ قیادت میں طلبہ وطالبات کے اندر دینی تعلیمی بیدار ی کے تحت تکیہ بیگوسرائے میں ’’یک روزہ تربیتی ورکشاب‘‘ کا انعقاد ملی وسماجی رہنما جناب ماسٹر انوار احمد رحمانی رکن شوریٰ و عاملہ وٹرسٹی امارت شرعیہ کی صدارت میں کیا گیا۔
جامع مسجد تکیہ بیگوسرائے کے امام وخطیب جناب قاری عابد حسین عرفانی صاحب نے علمی ،دینی واخلاقی تربیتی محاضرہ پیش فرمایا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان نسل کو علم دین کے زیور سے آراستہ ہونا وقت کی اہم پکار ہے، اور اخلاقی اقدار کو اپنا کر ہی طلبہ و طالبات معاشرے کے اچھے شہری بن سکتے ہیں۔
انہوں نے محرم الحرام کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ ہمیں قربانی، حق گوئی اور باطل کے سامنے سر نہ جھکانے کا درس دیتا ہے، اس لیے نئی نسل کو اس ماہِ مقدس کے تاریخی و تربیتی پیغامات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا چاہیے۔
ماسٹر انوار احمد رحمانی نے اپنے صدارتی خطاب میں تعلیم وتربیت کی اہمیت ،ضرورت ،معنویت اور افادیت پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی کامیابی کے لیے تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ اس لیے والدین اور سرپرست اپنے بچوں کی تعلیمی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ محرم الحرام ہمیں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنےاور اسلامی اقدار کے تحفظ کا پیغام دیتا ہےاور ہمیں اس نئے اسلامی سال کا آغاز تعلیمی و اصلاحی بیداری اور اپنے کردار و عمل کی درستگی کے پختہ عزم کے ساتھ کرنا چاہیے۔
اس موقع پر ملی وسماجی کارکنان ، خاص ماسٹر غیاث الدین رحمانی ،الحاج عبد الربان رحمانی ،الحاج نصیر احمد فاروقی ،الحاج عبد الجلیل صاحب ،محمد مرتضیٰ عالم صاحب سابق سرپنچ ،محمد شکیل کے علاوہ محلے کے نوجوانان اور خواتین حضرات بڑی تعداد میں موجود تھے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network