Bihar
وفاق المدارس الاسلامیہ کا سہ روزہ تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر، اجلاس میں مدارس کے تعلیمی و تربیتی نظام کو مزید مؤثر بنانے پردیا گیا زور
(پی این این)
مونگیر:امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر و صدر وفاق المدارس الاسلامیہ نے اپنے پر مغز صدارتی خطاب و پریزینٹیشن میں فرمایا کہ موجودہ دور میں دینی مدارس کو محض تحفظ کی فکر تک محدود رہنے کے بجائے ترقی، معیار اور مؤثریت کی جانب سنجیدگی سے قدم بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مدارس امت کی عظیم علمی امانت ہیں، لیکن آج مسلم بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد مدارس کے نظامِ تعلیم سے باہر ہے، جس کے نتیجے میں وہ مختلف فکری اور تہذیبی چیلنجوں سے متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے اساتذۂ کرام اور ذمہ دارانِ مدارس پر زور دیا کہ وہ طلبہ میں مطلوبہ مہارتیں پیدا کرنے، تدریسی نظام کو منظم بنانے، اساتذہ کی مسلسل تربیت اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے پر خصوصی توجہ دیں۔ حضرت امیرِ شریعت نے کہا کہ مدارس کے انفراسٹرکچر، انتظامی شفافیت، قانونی تقاضوں، طلبہ کے تحفظ اور عصری قوانین سے آگہی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ موجودہ حالات میں ان امور کی رعایت اداروں کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر مدارس منصوبہ بندی، باہمی تعاون، معیاری تعلیم اور مسلسل تربیت کو اپنا شعار بنائیں تو وہ مستقبل میں بھی ملت کی دینی، علمی اور فکری قیادت کا فریضہ کامیابی کے ساتھ انجام دیتے رہیں گے۔
حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ صاحب رحمانی، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانیہ مالیگاؤں مہاراشٹرا و خلیفۂ و مجاز حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ، نے اساتذۂ کرام کی تعلیمی و تربیتی ذمہ داریوں پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ نسلوں کی تعمیر اور قوموں کی تشکیل میں معلم کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ کو مطالعہ، تحقیق، احساسِ ذمہ داری اور مسلسل خودسازی اختیار کرنے کی تلقین کی اور طلبہ کے اندر علم دوستی، وقت کی قدر اور اعلیٰ مقاصد کے حصول کا جذبہ پیدا کرنے پر زور دیا۔نائب امیرِ شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی صاحب قاسمی، استاذِ حدیث و فقہ دارالعلوم وقف دیوبند نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مدارسِ اسلامیہ کی تاریخی خدمات اور وفاق المدارس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ مدارس دینِ اسلام کے تحفظ اور ملت کی علمی و فکری رہنمائی کے عظیم مراکز ہیں۔ انہوں نے وفاق کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، مدارس کے درمیان اتحاد و ہم آہنگی پیدا کرنے اور نصاب و نظامِ تعلیم میں یکسانیت کو فروغ دینے پر زور دیا۔جناب مولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن صاحب قاسمی نے فرمایا کہ تنظیمی ذمہ داریاں ایک عظیم امانت ہیں، اس لیے انتخاب میں اہلیت، دیانت اور احساسِ ذمہ داری کو بنیادی معیار بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے وفاق المدارس کے استحکام، تعلیمی معیار کی بلندی اور مشترکہ تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ذمہ داران کو اتحاد و باہمی اشتراک کی تلقین کی۔ انہوں نے دستورِ وفاق اور انتخابی ضوابط کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کورم مکمل نہ ہونے کی وجہ سے انتخاب مؤخر کیا گیا ہے، اور آئندہ انتخاب حضرت امیرِ شریعت کی ہدایت کے مطابق منعقد ہوگا۔جناب مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ صاحب قاسمی، نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال و ناظم وفاق نے اپنے خطاب میں وفاق کے اجتماعی نظام کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اطلاع، رابطہ اور تعاون ہی وفاق کی مضبوطی کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے مدارس سے اپیل کی کہ وہ وفاق کے ساتھ مضبوط تعلق قائم رکھیں تاکہ تعلیمی و تربیتی نظام مزید مؤثر اور منظم بن سکے۔جناب مولانا و مفتی اختر امام عادل صاحب قاسمی سرپرست جامعہ ربانی منروا شریف نے علماء اور معلمین کے مقام و مرتبہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک عالم اور معلم کی اصل ذمہ داری علمِ دین کو عام کرنا اور معاشرے کی فکری و اخلاقی رہنمائی کرنا ہے۔ انہوں نے وفاق المدارس کے پلیٹ فارم کو خدمتِ دین اور اجتماعی اصلاح کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔
جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے ناظمِ تعلیمات جناب مولانا جمیل احمد صاحب مظاہری نے اساتذۂ کرام کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ مدرسے کا تعلیمی و تربیتی نظام اساتذہ کے اخلاص، محنت اور کردار پر قائم ہوتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ کو طلبہ کی دینی، اخلاقی اور فکری تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی تلقین کی۔جناب مولانا مفتی و قاضی انظار عالم صاحب قاسمی، قاضی القضاء امارتِ شرعیہ، نے اساتذۂ کرام کی تربیت اور تعلیمی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ تدریس کو محض ملازمت نہیں بلکہ دینی خدمت سمجھ کر انجام دینا چاہیے۔ انہوں نے مدارس کے درمیان مضبوط رابطہ، باہمی مشاورت اور مسلسل تربیت کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔مولانا مفتی قاضی وصی احمد صاحب قاسمی، نائب قاضی امارتِ شرعیہ، نے وفاق المدارس کے مقاصد اور افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کا مقصد دینی مدارس کے درمیان علمی و تعلیمی ہم آہنگی پیدا کرنا اور نصاب و نظامِ تعلیم کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے تمام مدارس کو وفاق کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ رہنے کی تلقین کی۔”وسائل، تجربات اور صلاحیتوں کا مشترکہ استعمال” کے عنوان پر مولانا و مفتی محمد سہراب صاحب قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے باہمی تعاون، اشتراک اور اجتماعی جدوجہد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں مدارس کی ترقی اور استحکام کے لیے وسائل اور تجربات کا تبادلہ ناگزیر ہے۔
مولانا و مفتی ارشد صاحب نے وفاق المدارس کی حالیہ سرگرمیوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امیرِ شریعت کی سرپرستی میں وفاق کے کاموں میں نمایاں استحکام اور فعالیت پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے مدارس کے درمیان مضبوط رابطے، تنظیمی استحکام اور اجتماعی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔اپنے مختصر خطاب میں مولانا نور الہدیٰ صاحب، دربھنگہ، نے فرمایا کہ کسی بھی نظام کی اصلاح کے لیے اس کی کمزوریوں اور خامیوں کی درست نشاندہی ضروری ہے، کیونکہ صحیح تشخیص ہی کامیاب اصلاح کی بنیاد بنتی ہے۔جامعہ رحمانی میں اس سہ روزہ ورکشاپ کے انتظٓام و انصرام میں جامعہ رحمانی کے ناظم الحاج مولانا محمد عارف رحمانی صاحب،مولانا رضی احمد رحمانی صاحب،مولانا مفتی احمد صاحب مظاہری، مولانا سیف الرحمٰن صاحب ندوی، مولانا جوہر نیازی صاحب رحمانی، مولانا نہال صاحب رحمانی، جناب فضل رحمٰں رحمانی صاحب، مولانا عبدالاحد رحمانی ازہری، مولانا عبدالعلیم رحمانی ازہری، مفتی قیام الدین قاسمی اور جامعہ رحمانی کے جملہ اساتذہ کرام و کارکنان نے سرگرم رول ادا کیا۔ وہیں اس پورے پروگرام کی نشر و اشاعت میں فکر و نظر ٹی وی کا اہم کردار رہا۔
پروگرام کا آغاز جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے شعبۂ حفظ کے استاذ جناب مولانا قاری وسیم اختر صاحب قاسمی کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ مولانا منظر صاحب قاسمی اور عزیزی مولوی محمد اظہار سلمہ متعلم جامعہ رحمانی مونگیر نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرکے سامعین کو محظوظ کیا۔ نظامت کے فرائض مولانا و مفتی ثناء الہدیٰ صاحب قاسمی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔دوران نظامت انہوں نے تمام شرکاء، محاضرین اور معاونین کا شکریہ ادا کیا، جبکہ حضرت امیرِ شریعت کی دعاء کے ساتھ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
Bihar
بہار حکومت خودہوچکی ہے ’لیک‘،سمراٹ سرکار میں بدعنوان اور جرائم پیشہ عناصر کاہے بول بالا، انہی کی چل رہی ہےحکمرانی، بڑے بھائی تیج پرتاپ یادو کی گرفتاری کے خلاف اورگرفتار طلبہ کی رہائی کولےکر آرجے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے حکومت کو دیا الٹی میٹم
(پی این این)
پٹنہ:پٹنہ میں نیٹ پرچہ لیک معاملے پر ہوئے احتجاج کے بعد پولیس نے جن شکتی جنتا دل کے سربراہ تیج پرتاپ یادو کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔ پولیس کی اس کارروائی پر تیج پرتاپ یادو کے چھوٹے بھائی تیجسوی یادو سخت برہم ہو گئے ہیں۔ بڑے بھائی کی گرفتاری پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو وہ بڑے پیمانے پر تحریک شروع کریں گے۔پٹنہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا، ’’ہمارے بڑے بھائی تیج پرتاپ یادو کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔‘‘
ہم حکومت کو مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ اس تحریک کے سلسلے میں جن طلبہ یا دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، انہیں واپس لیا جائے، کیونکہ دہلی میں پہلے ہی یہ طے ہو چکا تھا کہ تمام مقدمات واپس لیے جائیں گے۔ہم صرف درخواست نہیں کرنا چاہتے بلکہ حکومت کو واضح انتباہ دیتے ہیں کہ اگر کل تک جیل بھیجے گئے افراد کو رہا نہ کیا گیا اور جن طلبہ کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں وہ واپس نہ لیے گئے، تو ہم ایک بڑی عوامی تحریک شروع کریں گے۔سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کے چھوٹے بیٹے تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ گزشتہ 21 برسوں کے دوران بہار میں جتنے بھی پیپرلیک ہوئے ہیں، خواہ وہ سپاہی بھرتی کا امتحان ہو، بی پی ایس سی کا، نیٹ کا یا کوئی اور امتحان، ہر جگہ بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں اور گھوٹالے سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’یہ حکومت خود ہی لیک ہو چکی ہے۔ اسی لیے جب تک ہم سب متحد ہو کر موجودہ حکومت کو اقتدار سے بے دخل نہیں کر دیتے، اس طرح کے واقعات کا سلسلہ بند نہیں ہوگا۔ اس حکومت میں بدعنوان اور جرائم پیشہ عناصر کا بول بالا ہے اور انہی کی حکمرانی چل رہی ہے۔‘‘
بہار اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ سیوان میں طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کی گئی، جس میں تین طلبہ زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے مختلف اضلاع سے ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ پولیس نے طلبہ کے خلاف ناجائز کارروائیاں کی ہیں، لاٹھی چارج کیا گیا اور بے بنیاد مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کل تک گرفتار افراد کو رہا نہ کیا گیا تو ان کی جماعت ایک بڑی عوامی تحریک شروع کرے گی۔
تیجسوی یادو نے پٹنہ کے میدانتا اسپتال جا کر ان زخمی طلبہ سے بھی ملاقات کی جو ہفتہ کے روز احتجاج کے دوران زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے زخمی طلبہ کے اہل خانہ سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ’’جن طلبہ نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی، میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے اپنے حق کی لڑائی لڑی ہے۔ جب یہ طے ہو چکا ہے کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں گے، اس کے باوجود بہار میں طلبہ کے خلاف مقدمات درج کرکے انہیں زبردستی جیل بھیجا جا رہا ہے۔‘‘
واضح ہوکہ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ اور طلبہ پر لاٹھی چارج کے خلاف ہفتہ کے روز بہار بند کے دوران ریاست کے 13 اضلاع میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ ادھر پولیس نے رات گئے سابق وزیر اور جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے سربراہ تیج پرتاپ یادو کو گرفتار کر لیا۔پولیس کا الزام ہے کہ رام گلام چوک پر احتجاج کے دوران تیج پرتاپ یادو نے طلبہ کو تشدد پر اکسایا تھا۔
تیج پرتاپ یادو کے وکیل کا دعویٰ ہے کہ ان کے خلاف تعزیرات کی دفعہ 307 (اقدامِ قتل) بھی عائد کی گئی ہے۔جے جے ڈی سربراہ کی گرفتاری پر پارٹی رہنما وینا مانوی نے بھی شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے یہ تک نہیں بتایا کہ تیج پرتاپ یادو کو کس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
Bihar
بہار کو روزگار کا نیا مرکزبنانے پرحکومت کی توجہ مرکوز،وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت میں ریاستی سرکار کے100 دنوں کے بعد اگلا ہدف سرمایہ کاری، صنعت اور روزگار
(پی این این)
پٹنہ:وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت میں حکومت کے پہلے 100 دنوں کے دوران متعدد اہم پالیسی فیصلے کیے گئے۔ ان پالیسیوں کی بنیاد رکھنے کے بعد اب حکومت کا اگلا مرحلہ ان تمام منصوبوں کو مؤثر انداز میں عملی جامہ پہنانا ہے۔ اب حکومت کی پوری توجہ بہار میں سرمایہ کاری اور صنعتوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ ریاست کو روزگار کا نیا مرکزبنانے پرہوگی۔ اس مقصد کے لیے ریاستی حکومت نے ایک جامع دستاویز تیار کی ہے تاکہ مستقبل کی تمام منصوبہ بندی کو منظم اندازمیں نافذ کیا جا سکے۔
100 دنوں کے دوران اعلان کی گئی صنعتی، سرمایہ کاری اور کاروبارکے موافق پالیسیاں آنے والے مہینوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بنیاد ثابت ہوں گی۔بہار خود کو مشرقی ہندوستان کے ایک ابھرتے ہوئے صنعتی اور سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر قائم کرنے کی سمت اہم پیش رفت کر سکتا ہے۔ اس 100 روزہ کتابچہ میں صنعت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹلائزیشن اورعوام پر مبنی طرزِ حکمرانی پر حکومت کی ترجیحات کی عکاسی ہے۔
ریاست میں سنگل ونڈو سسٹم متعارف کرایا گیا ہے تاکہ صنعتوں کو ہر سطح پر سہولت اورمعاونت فراہم کی جا سکے۔ حکومت سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق مضبوط پالیسیوں کو سرمایہ کاروں تک آسانی سے پہنچانے کے لیے اقدامات کرے گی۔لائسنس، این او سی اور دیگر ضروری دستاویزات کی بروقت منظوری دینے کی سہولت کے ساتھ ہی زمین کا الاٹمنٹ اورمنصوبوں پر تیز رفتارعمل درآمد کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔صنعت قائم کرنے کے عمل کو مزید آسان، ڈیجیٹل اور شفاف بنا کر بہار کو سرمایہ کاری کے لیے ایک مسابقتی ریاست کے طور پر فروغ دیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ریاست میں گنے اور ایتھنول کی صنعت کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
بہار گنا صنعت سرمایہ کاری فروغ پالیسی 2026 کے تحت نئی چینی ملوں، ایتھنول ڈسٹلری، کو-جنریشن اور کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) منصوبوں میں سرمایہ کاری کو تیز کیا جائے گا، تاکہ دیہی معیشت مضبوط ہو اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو۔گرین انڈسٹری اورای وی ایکو سسٹم:الیکٹرک وہیکل پالیسی 2026 کے تحت بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے چارجنگ نیٹ ورک، مینوفیکچرنگ یونٹس اور بیٹری ری سائیکلنگ صنعتوں کو فروغ دیا جائے گا۔ اس سے گرین موبیلیٹی کو تقویت ملے گی اور بہار صاف ستھری صنعتی ترقی کی جانب آگے بڑھے گا۔ایم ایس ایم ای اور اسٹارٹ اپس کو نئی توانائی:چھوٹے، درمیانے اور خرد درجے کی صنعتوں، مقامی کاروباری افراد اور اسٹارٹ اپس کے ذریعے روزگار پیدا کرنے کے لیے حکومتی منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد کو ترجیح دی جائے گی۔
ڈیجیٹل اور شفاف حکمرانی:پیپر لیس رجسٹریشن، ای-اسٹامپ، آن لائن خدمات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی انتظامی نظام کو وسعت دے کر صنعتوں اور عام شہریوں کے لیے سرکاری خدمات کو مزید آسان اور شفاف بنایا جائے گا۔ سڑک، توانائی، شہری ترقی اور صنعتی کوریڈور سے متعلق منصوبوں کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے بہتر بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جائے گا۔’’برانڈ بہار‘‘ کو عالمی شناخت:ریاست کی نئی پالیسیوں اور صنعتی مواقع کو قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں تک پہنچانے کے لیے سرمایہ کاری پر مبنی برانڈنگ کو فروغ دیا جائے گا۔ سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے مختلف شہروں میں روڈ شوز اور اسی نوعیت کی تقریبات کا انعقاد ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے گا۔
Bihar
ضلع مجسٹریٹ ارریہ نے پنچایت وکاس دیوس پرسنے عوامی مسائل،ونود دوہن نے پنچایت کے ترقیاتی کاموں میں عوام کی شراکت بڑھانے کادیا پیغام
(پی این این)
ارریہ:ماہ کے آخری اتوار کو ضلع کی تمام گرام پنچایتوں میں پنچایت ترقی کا دن جوش و خروش سے منایا گیا۔ ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن نے ضلع کے بھرگاما بلاک کی سرسیا کلاں پنچایت میں منعقدہ پروگرام میں حصہ لیا اور پنچایت نمائندوں، عوامی نمائندوں، عہدیداروں اور گاؤں والوں کے ساتھ ترقیاتی اسکیموں اور مستقبل کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ میٹنگ کے دوران پنچایت کی مجموعی ترقی سے متعلق مختلف موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ای گرام سوراج اور ای پنچایت پورٹل کے ذریعے لاگو کی گئی اسکیموں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔ موجودہ آپریشنل اسکیموں پر ہونے والے اخراجات، ان کی پیشرفت اور آئندہ ترقیاتی منصوبوں کے خاکہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مقامی ضروریات کے مطابق نئی اسکیموں کو شامل کرنے کا معاہدہ بھی طے پایا۔ ضلع مجسٹریٹ نے پنچایتوں کی مجموعی اور پائیدار ترقی کے لیے دستیاب وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ اجلاس میں سکیموں پر بروقت اور معیاری عملدرآمد، عوامی شرکت اور شفافیت کو یقینی بنانے کی ہدایات دی گئیں۔
ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ پنچایت وکاس دیوس کا مقصد گاؤں کے لوگوں کو منصوبہ بندی کے عمل میں شامل کرنا، پنچایت سطح پر شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینا اور گرام پنچایتوں کو بااختیار بنانا ہے۔
انہوں نے پنچایت کے نمائندوں اور دیہاتیوں پر زور دیا کہ وہ ترقیاتی منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ مقامی ضروریات کے مطابق اسکیموں کے موثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس تناظر میں ضلع مجسٹریٹ نے گاؤں والوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنجیدگی سے سنے ۔ انہوں نے پنچایت کی مجموعی ترقی، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور عوامی بہبود کی اسکیموں کے موثر نفاذ کے سلسلے میں گاؤں والوں سے تجاویز بھی حاصل کیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ موصول ہونے والی تجاویز اور شکایات پر ضروری کارروائی کو یقینی بنائیں اور مقامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی کاموں کو ترجیح دیں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
