Bihar
وفاق المدارس الاسلامیہ کا سہ روزہ تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر، اجلاس میں مدارس کے تعلیمی و تربیتی نظام کو مزید مؤثر بنانے پردیا گیا زور
(پی این این)
مونگیر:امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر و صدر وفاق المدارس الاسلامیہ نے اپنے پر مغز صدارتی خطاب و پریزینٹیشن میں فرمایا کہ موجودہ دور میں دینی مدارس کو محض تحفظ کی فکر تک محدود رہنے کے بجائے ترقی، معیار اور مؤثریت کی جانب سنجیدگی سے قدم بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مدارس امت کی عظیم علمی امانت ہیں، لیکن آج مسلم بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد مدارس کے نظامِ تعلیم سے باہر ہے، جس کے نتیجے میں وہ مختلف فکری اور تہذیبی چیلنجوں سے متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے اساتذۂ کرام اور ذمہ دارانِ مدارس پر زور دیا کہ وہ طلبہ میں مطلوبہ مہارتیں پیدا کرنے، تدریسی نظام کو منظم بنانے، اساتذہ کی مسلسل تربیت اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے پر خصوصی توجہ دیں۔ حضرت امیرِ شریعت نے کہا کہ مدارس کے انفراسٹرکچر، انتظامی شفافیت، قانونی تقاضوں، طلبہ کے تحفظ اور عصری قوانین سے آگہی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ موجودہ حالات میں ان امور کی رعایت اداروں کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر مدارس منصوبہ بندی، باہمی تعاون، معیاری تعلیم اور مسلسل تربیت کو اپنا شعار بنائیں تو وہ مستقبل میں بھی ملت کی دینی، علمی اور فکری قیادت کا فریضہ کامیابی کے ساتھ انجام دیتے رہیں گے۔
حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ صاحب رحمانی، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانیہ مالیگاؤں مہاراشٹرا و خلیفۂ و مجاز حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ، نے اساتذۂ کرام کی تعلیمی و تربیتی ذمہ داریوں پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ نسلوں کی تعمیر اور قوموں کی تشکیل میں معلم کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ کو مطالعہ، تحقیق، احساسِ ذمہ داری اور مسلسل خودسازی اختیار کرنے کی تلقین کی اور طلبہ کے اندر علم دوستی، وقت کی قدر اور اعلیٰ مقاصد کے حصول کا جذبہ پیدا کرنے پر زور دیا۔نائب امیرِ شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی صاحب قاسمی، استاذِ حدیث و فقہ دارالعلوم وقف دیوبند نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مدارسِ اسلامیہ کی تاریخی خدمات اور وفاق المدارس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ مدارس دینِ اسلام کے تحفظ اور ملت کی علمی و فکری رہنمائی کے عظیم مراکز ہیں۔ انہوں نے وفاق کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، مدارس کے درمیان اتحاد و ہم آہنگی پیدا کرنے اور نصاب و نظامِ تعلیم میں یکسانیت کو فروغ دینے پر زور دیا۔جناب مولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن صاحب قاسمی نے فرمایا کہ تنظیمی ذمہ داریاں ایک عظیم امانت ہیں، اس لیے انتخاب میں اہلیت، دیانت اور احساسِ ذمہ داری کو بنیادی معیار بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے وفاق المدارس کے استحکام، تعلیمی معیار کی بلندی اور مشترکہ تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ذمہ داران کو اتحاد و باہمی اشتراک کی تلقین کی۔ انہوں نے دستورِ وفاق اور انتخابی ضوابط کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کورم مکمل نہ ہونے کی وجہ سے انتخاب مؤخر کیا گیا ہے، اور آئندہ انتخاب حضرت امیرِ شریعت کی ہدایت کے مطابق منعقد ہوگا۔جناب مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ صاحب قاسمی، نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال و ناظم وفاق نے اپنے خطاب میں وفاق کے اجتماعی نظام کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اطلاع، رابطہ اور تعاون ہی وفاق کی مضبوطی کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے مدارس سے اپیل کی کہ وہ وفاق کے ساتھ مضبوط تعلق قائم رکھیں تاکہ تعلیمی و تربیتی نظام مزید مؤثر اور منظم بن سکے۔جناب مولانا و مفتی اختر امام عادل صاحب قاسمی سرپرست جامعہ ربانی منروا شریف نے علماء اور معلمین کے مقام و مرتبہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک عالم اور معلم کی اصل ذمہ داری علمِ دین کو عام کرنا اور معاشرے کی فکری و اخلاقی رہنمائی کرنا ہے۔ انہوں نے وفاق المدارس کے پلیٹ فارم کو خدمتِ دین اور اجتماعی اصلاح کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔
جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے ناظمِ تعلیمات جناب مولانا جمیل احمد صاحب مظاہری نے اساتذۂ کرام کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ مدرسے کا تعلیمی و تربیتی نظام اساتذہ کے اخلاص، محنت اور کردار پر قائم ہوتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ کو طلبہ کی دینی، اخلاقی اور فکری تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی تلقین کی۔جناب مولانا مفتی و قاضی انظار عالم صاحب قاسمی، قاضی القضاء امارتِ شرعیہ، نے اساتذۂ کرام کی تربیت اور تعلیمی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ تدریس کو محض ملازمت نہیں بلکہ دینی خدمت سمجھ کر انجام دینا چاہیے۔ انہوں نے مدارس کے درمیان مضبوط رابطہ، باہمی مشاورت اور مسلسل تربیت کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔مولانا مفتی قاضی وصی احمد صاحب قاسمی، نائب قاضی امارتِ شرعیہ، نے وفاق المدارس کے مقاصد اور افادیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کا مقصد دینی مدارس کے درمیان علمی و تعلیمی ہم آہنگی پیدا کرنا اور نصاب و نظامِ تعلیم کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے تمام مدارس کو وفاق کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ رہنے کی تلقین کی۔”وسائل، تجربات اور صلاحیتوں کا مشترکہ استعمال” کے عنوان پر مولانا و مفتی محمد سہراب صاحب قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے باہمی تعاون، اشتراک اور اجتماعی جدوجہد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں مدارس کی ترقی اور استحکام کے لیے وسائل اور تجربات کا تبادلہ ناگزیر ہے۔
مولانا و مفتی ارشد صاحب نے وفاق المدارس کی حالیہ سرگرمیوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امیرِ شریعت کی سرپرستی میں وفاق کے کاموں میں نمایاں استحکام اور فعالیت پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے مدارس کے درمیان مضبوط رابطے، تنظیمی استحکام اور اجتماعی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔اپنے مختصر خطاب میں مولانا نور الہدیٰ صاحب، دربھنگہ، نے فرمایا کہ کسی بھی نظام کی اصلاح کے لیے اس کی کمزوریوں اور خامیوں کی درست نشاندہی ضروری ہے، کیونکہ صحیح تشخیص ہی کامیاب اصلاح کی بنیاد بنتی ہے۔جامعہ رحمانی میں اس سہ روزہ ورکشاپ کے انتظٓام و انصرام میں جامعہ رحمانی کے ناظم الحاج مولانا محمد عارف رحمانی صاحب،مولانا رضی احمد رحمانی صاحب،مولانا مفتی احمد صاحب مظاہری، مولانا سیف الرحمٰن صاحب ندوی، مولانا جوہر نیازی صاحب رحمانی، مولانا نہال صاحب رحمانی، جناب فضل رحمٰں رحمانی صاحب، مولانا عبدالاحد رحمانی ازہری، مولانا عبدالعلیم رحمانی ازہری، مفتی قیام الدین قاسمی اور جامعہ رحمانی کے جملہ اساتذہ کرام و کارکنان نے سرگرم رول ادا کیا۔ وہیں اس پورے پروگرام کی نشر و اشاعت میں فکر و نظر ٹی وی کا اہم کردار رہا۔
پروگرام کا آغاز جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے شعبۂ حفظ کے استاذ جناب مولانا قاری وسیم اختر صاحب قاسمی کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ مولانا منظر صاحب قاسمی اور عزیزی مولوی محمد اظہار سلمہ متعلم جامعہ رحمانی مونگیر نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرکے سامعین کو محظوظ کیا۔ نظامت کے فرائض مولانا و مفتی ثناء الہدیٰ صاحب قاسمی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔دوران نظامت انہوں نے تمام شرکاء، محاضرین اور معاونین کا شکریہ ادا کیا، جبکہ حضرت امیرِ شریعت کی دعاء کے ساتھ سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
Bihar
محمد علی جوہر یونیورسٹی کے انہدام پر روک کیلئے منوج کمار جھا کا وزیر اعظم کو خط
مظفرپور:راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکنِ پارلیمنٹ (راجیہ سبھا) پروفیسر منوج کمار جھا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک کھلا خط ارسال کرتے ہوئے رام پور، اتر پردیش میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کی مجوزہ انہدامی کارروائی پر فوری روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ اتر پردیش حکومت کو فوری ہدایت دیں کہ یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم کو معطل کیا جائے اور معاملے کا قانونی و آئینی تقاضوں کے مطابق حل نکالا جائے۔پروفیسر منوج کمار جھا نے اپنے خط میں کہا ہے کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی ایک فعال تعلیمی ادارہ ہے جہاں تقریباً تین ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی ممکنہ تعمیراتی یا انتظامی بے ضابطگی کو ریگولرائزیشن، جرمانے، نظرِ ثانی شدہ منظوری یا دیگر قانونی طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے، مگر ایک پوری یونیورسٹی کے بنیادی ڈھانچے کو منہدم کرنا نہ تو معقول اقدام ہے اور نہ ہی قانون کے تقاضوں سے ہم آہنگ۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سپریم کورٹ متعدد مواقع پر من مانی اور انتقامی انہدامی کارروائیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کر چکی ہے اور مناسب قانونی عمل، تناسب اور ریاستی احتساب کو لازمی قرار دیا ہے۔ ایسے میں کسی بھی تعلیمی ادارے کی تقریباً تمام عمارتوں کو منہدم کرنا انصاف اور آئین کی روح کے خلاف ہوگا۔اپنے خط میں پروفیسر جھا نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ کارروائی سیاسی انتقام اور فرقہ وارانہ امتیاز کا تاثر پیدا کرتی ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے تعلیمی ادارے کے خلاف کی جا رہی ہے جسے اپوزیشن کے ایک سرکردہ رہنما(اعظم خان)نے قائم کیا تھا اور جو بالخصوص مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس انہدامی کارروائی کو عملی جامہ پہنایا گیا تو یہ ہندوستان کی تعلیمی تاریخ کا ایک انتہائی افسوسناک باب ثابت ہوگا اور عالمی سطح پر ملک کی جمہوری، آئینی اور تعلیمی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ کلاس رومز، لائبریریوں اور لیبارٹریوں کو ملبے میں تبدیل کرنے کی تصاویر پوری دنیا میں جائیں گی، جو ہندوستان کے تعلیم، مساوات اور قانون کی حکمرانی کے دعووں پر سوالیہ نشان کھڑا کریں گی۔
پروفیسر منوج کمار جھا نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت کو انہدامی کارروائی روکنے، یونیورسٹی کو محفوظ رکھنے اور قانونی و آئینی دائرے میں رہتے ہوئے مسئلے کا منصفانہ حل تلاش کرنے کی ہدایت دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی تعلیمی ادارے اور اس میں زیرِ تعلیم ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو اس کے بانی کی سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔
Bihar
دہلی پولیس کی کارروائی کے خلاف آئیسا کا احتجاجی مارچ
چھپرہ :طلبہ تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے دہلی کے جنتر منتر پر سونم وانگچنگ اور آئیسا کی قومی صدر نیہا کے خلاف مبینہ پولیس بدسلوکی اور کارروائی کے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔یہ مارچ نگر پالیکا چوک سے شروع ہو کر تھانہ چوک پر ختم ہوا۔جہاں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے رہنماؤں نے کہا کہ پرامن اور جمہوری طریقے سے طلبہ کے حقوق کا مطالبہ کرنے والے طلبہ،نوجوانوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف طاقت کا استعمال جمہوری اقدار کے منافی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اختلاف رائے کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔جس کی طلبہ برادری جمہوری طریقے سے مخالفت کرے گی۔مارچ کے دوران مظاہرین نے پولیس کے جبر کے خلاف نعرے لگائے اور جمہوری حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔مقررین نے کہا کہ جابرانہ پالیسیوں کے خاتمے تک تحریک جاری رہے گی۔احتجاجی مارچ میں رانی،ریا،راج لکشمی،سنجنا،کالی داس،اکھلیش،روشن، بٹو ،نیرج،پریانشو،شیوم،پردیپ سمیت متعدد کارکن و طلبا نے شرکت کی۔
Bihar
نالندہ کالج میںگریجویٹ طلبہ کے لیے’دیکشا آرمبھ سماروہ ‘ کا انعقاد
بہار شریف:نالندہ کالج، بہار شریف کے کیمپس میں آج گریجویٹ کے نئے سیشن کے نومرتبہ شدہ طالبعلموں کے لیے ایک شاندار دیکشا آرمبھ سماروہ کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کا آغاز پرنسپل پروفیسر سنیتا سنہا اور سینئر اساتذہ پروفیسر کچوے، ڈاکٹر شیام سندر پرساد اور ڈاکٹر منجو کماری کے ذریعے مشترکہ طور پر روایتی دیپ پرجولن کر کے کیا گیا۔ اس پورے سماروہ کی نظامت معاشیات شعبے کے شعبہ صدر ڈاکٹر سَروَدامن کشیپ نے نہایت مہارت، توانائی اور دلچسپ انداز میں کی، جنہوں نے درمیان میں تحریکی خیالات سے طلبہ میں نیا جوش بھرا۔
سماروہ کی صدارت کرتے ہوئے کالج کی پرنسپل پروفیسر سنیتا سنہا نے نئے طلبہ کا کالج خاندان میں خیرمقدم کیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ نالندہ کی سرزمین قدیم زمانے سے ہی علم اور علم والوں کی سرزمین رہی ہے۔ آج کے نوجوان اس شاندار ورثے کے امیدار ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو باقاعدگی سے کلاسوں میں حاضر رہنے، نظم و ضبط پر عمل کرنے اور صرف ڈگری حاصل کرنے کے بجائے اپنی شخصیت کی جامع ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے متاثر کیا۔
پروگرام کے دوران طلبہ کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کئی سینئر ماہرینِ تعلیم نے بطور موٹیویشنل اسپیکر اپنے خیالات پیش کیے۔ پروفیسر آر. پی. کچوے نے طلبہ کو وقت کا انتظام اور سخت محنت کی اہمیت سمجھائی۔ ڈاکٹر شیام سندر پرساد نے زندگی میں مثبت نقطہ نظر اور اونچے اہداف طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جبکہ ڈاکٹر منجو کماری نے طالبات کو خود کفیل بننے اور زندگی کی ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے متاثر کیا۔
نئے طلبہ کو کالج کے نظام سے آشنا کرانے کے لیے ڈاکٹر سمیت کمار اور جتیندر سنہا کے ذریعے ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔ انہوں نے طلبہ کو کالج کے سخت قواعد، چوائس بیسڈ کریڈٹ سسٹم نصاب، امتحانی نظام، لائبریری کی سہولیات کے ساتھ ساتھ، این ایس ایس اور کھیل کود جیسی نصابی سرگرمیوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔
پروگرام کے آخری مرحلے میں ڈاکٹر شاہد الرحمان نے شکریہ کا کلمہ پیش کیا، جس میں انہوں نے پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے پرنسپل، مہمانوں، انعقاد کمیٹی اور طلبہ کا احسان مندی کا اظہار کیا۔
اس دیکشا آرمبھ سماروہ میں کالج کے تمام شعبوں کے شعبہ صدر، تمام تعلیمی عملہ اور غیر تعلیمی عملہ موجود رہے۔ پروگرام کے اختتام کے بعد تمام نومرتبہ شدہ طلبہ کو ان کے متعلقہ شعبوں میں بھیجا گیا، جہاں اساتذہ نے ان سے براہ راست مکالمہ کیا۔
ڈاکٹر کماری چمپا، ڈاکٹر بھاونا، ڈاکٹر اوپین منڈل، ڈاکٹر شردھا کماری، ڈاکٹر وجے کمار، ڈاکٹر مرتیونجے، ڈاکٹر ششاک شیکھر جھا، ڈاکٹر علی، ڈاکٹر راج دیو، ڈاکٹر ششی بھوشن، ڈاکٹر سنتوش، ڈاکٹر غازی، ڈاکٹر سندھو کماری سمیت دیگر اساتذہ اور عملہ موجود تھے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
