Bihar
نقباء وذمہ داران تنظیم امارت ملی مسائل کے حل اورمعاشرتی اصلاح کے لیے آگے آئیں:حضرت امیر شریعت،شہر بتیا میں منعقد نقباء و ذمہ داران تنظیم امارت شرعیہ کے خصوصی اجلاس سے اکابر علماء کا خطاب
(پی این این)
پٹنہ:اس وقت ایک طرف اگر روز بروز ملی مسائل ومشکلات میں اضافہ ہورہاہے تو دوسری طرف سماجی اعتبار سے بھی خیر امت کالقب پانے والی ملت معاشرتی خرابیوں میں ڈوبتی چلی جارہی ہے ، گویا تباہی کے دوطرفہ حالات نے اس ملت کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے ، ایسے وقت میں ملت کے باشعور افراد بااثر سماجی ذمہ داران، علماء وائمہ کرام ،امارت شرعیہ کے نقباء ونائبین ،اورتنظیم امارت شرعیہ کے نمائندگان کی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ دل دردمند اورفکر ارجمند کے ساتھ ملی مسائل کے حل اور معاشرتی اصلاح کے لیے مؤثرعملی اقدام کریں ، اگر آپ حضرات نے اس ذمہ داری کا احساس نہیں کیا اور اپنے عملی اقدامات سے ملت کو فائدہ نہیں پہونچایا تو نہ صرف ملت نقصا ن سے دوچار ہوگی؛بلکہ آپ بھی اللہ کی عدالت میں جواب دہی سے نہیں بچ سکیں گے ۔ امارت شرعیہ کا یہ خصوصی اجلاس دراصل آپ جیسے ذمہ دار ، باشعور اورفکر مند احباب کے اندر کچھ اسی طرح کا احساس جگانے اور فکر مندی پیداکرنے کے لیے منعقد ہواہے ،ان خیالات کا اظہار بہار، اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ العالی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے مورخہ ۱۳؍جون کو شہر بتیا کے وسیع وبارونق سواگتم میرج ہال میں منعقد ضلع مغربی چمپارن کے نقباء ونائبین وذمہ داران تنظیم امارت شرعیہ کے خصوصی تربیتی اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر آپ نے دستوری نقطۂ نظر سے وندے ماترم کی لازمیت اور اس گیت میں موجو د فکر کی سنگینی اورشرکیہ کلمات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی لازمیت کسی طرح بھی آئینی اوردستوری نہیں ہے ؛بلکہ اس گیت کا بعض حصہ تو وہ ہے جو فکری اعتبار سے انصاف پسند برادران وطن کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا ،اسی طرح دینی مدارس جو ملت کے لیے دین کے پاور ہاؤس کی حیثیت رکھتے ہیں انہیں مختلف طرح کی جانچ کے گھیرے میں ڈال دیا گیا ہے جو یقینا باعث تشویش ہے ، مدارس انسان سازی کا سب سے عمدہ کارخانہ ہیں ، یہاں دَل نہیں بلکہ انسانوں کے دِل بنائے جاتے ہیں اور ملک وملت کی خدمت کے لیے اچھے افراد تیار ہوتے ہیں ، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مدارس کو اسی نگاہ سے دیکھے اور اس کے وجود وتحفظ کو ہرگز نقصان نہ پہونچنے دے۔ آپ نے ارباب مدارس کو بھی متوجہ کیا کہ وہ وقت اورحالات کو سامنے رکھتے ہوئے قانونی نقطۂ نظر سے اپنے پورے نظام کو صاف وشفاف رکھنے پر پوری توجہ دیں ، ہمت وحوصلہ سے کام لیں اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں ، حضرت امیر شریعت مدظلہ نے تربیتی اعتبار سے بھی حاضرین تک اپنا پیغام پہونچایا ، سوالات جوابات کا سلسلہ چلا ،شرکاء کو اظہا رخیال کا موقع دیا گیا اور تحریروبیان کے ذریعہ بھی قوت عمل اور جذبۂ خدمت کو بڑھانے ونکھارنے کی کوشش کی گئی ،اجلاس میں بڑی تعداد میں نقباء ونائبین اور ضلع وبلاک کی سطح پر قائم تنظیم امارت شرعیہ کے ذمہ داران وارکان نے شرکت کی ، اس اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے ناظم امارت شرعیہ وصدر مفتی جناب مولانا مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی صاحب نے امارت شرعیہ کی شرعی وتاریخی حیثیت ،وحدت واجتماعیت کے استحکام کے لیے بیعت امیر کی ضرورت ،امارت شرعیہ کے امراء شریعت کی علمی وعملی عظمت اور امارت شرعیہ کی ہمہ جہت خدمات پر مؤثرانداز میں روشنی ڈالی ، آپ نے کہا کہ امارت شرعیہ اس فکر اسلامی اور نطام شرعی کی عملی تصویر ہے جس کی بنیاد کائنات کے آخری پیغمبر جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی ، ہندوستان جیسے ملک میں امارت شرعیہ کا وجود ایک عظیم مذہبی نعمت اورایک ناگزیر ملی ضرورت ہے ، امارت شرعیہ نے اپنی صدسالہ تاریخ میں مختلف جہتوں سے ملت کو زندہ وبیدار رکھنے کا جومثالی کارنامہ انجام دیا ہے ، اس کی نظیر اگر نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے ، ضرورت ہے کہ آپ نقباء اورتنظیم امارت شرعیہ کے ذمہ داران فکر امارت کی عظمت سے ہر مسلمان کو واقف کرائیں اور شرعی ضرورت کی حیثیت سے ہر مردمسلماں کو اس سے وابستہ رکھنے کی فکرکریں ،امارت شرعیہ کے صدر قاضی جناب مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی صاحب نظام قضاء امارت شرعیہ کے موضوع پرایک جامع پریزینٹیشن پیش کیا اور نظام قضاء کے قیام ،اس کی افادیت ،اس کے فیصلوں کے اثرات ، دارالقضاء میں پیش ہونے والے مقدمات اورفیصلوں کے لیے درکار مدت کار جیسے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اگر ہم سب اپنے ایمان کی سلامتی ،وقت ومال کا تحفظ اورعزت وآبرو کی عافیت چاہتے ہیں تو ہمیں سول معاملات ہرحال میں دارالقضاء کے اندر پیش کرنا چاہیے ،آپ سب سے گزارش ہے کہ اس آواز کو گاؤں دیہات تک پہونچائیں اورتحریکی انداز میں اس مہم کو آگے بڑھائیں ۔ امارت شرعیہ کے نائب ناظم جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب انچارج شعبۂ تبلیغ وتنظیم نے شعبۂ تبلیغ وتنظیم کی اہمیت ،لفظ نقیب کی بلند نسبت اور بہ حیثیت نقیب منتخب ہونے کی عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے نقباء وذمہ داران تنظیم کو ان کی ذمہ داریاں بتائیں اور کہا کہ اللہ نے اس عہدہ کے ذریعہ آپ کو جو مقام بخشا ہے اورجس بڑے ادارہ کی نسبت سے جوڑ ا ہے اس کا حق یہ ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کے تئیں ہمیشہ فکر مند رہیں ، اللہ کی طرف سے جب تک خدمت کا یہ دروازہ کھلا ہے اسے اپنے لیے باعث سعادت سمجھیں ۔ اجلاس کا آغاز جناب مولانانسیم انظر ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ،مولانا عبداللہ نورالدین رحیمی نے نعت پاک پیش کیا اور استقبالیہ کلمات مولانا نیاز احمد قاسمی نائب صدر تنظیم امارت شرعیہ ضلع مغربی چمپارن نے کہے اور نظامت کی ذمہ داری نائب ناطم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے نبھائی ،جبکہ امارت شرعیہ کے رکن شوریٰ وعاملہ ، امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے چیئرمین اور تنظیم امارت شرعیہ ضلع مغربی چمپارن کے سکریٹری جناب ایڈوکیٹ ذاکر بلیغ صاحب نے حضرت امیر شریعت مدظلہ کی خدمت میں شال ،منظوم سپاس نامہ پیش کیے اور حاضرین کا شکریہ اداکیا ۔تنظیم کے دیگر ذمہ داروں نے امارت شرعیہ کے دیگر موجودذمہ داران کو شال پیش کرکے ان کا استقبال کیا ۔اس اجلاس کو مثالی طورپر کامیاب بنانے میںسکریٹری تنظیم جناب ایڈوکیٹ ذاکر بلیغ صاحب ، صدر تنظیم جنا ب مولانا محبوب عالم نعمانی صاحب ،نائب صدر مولانا نیاز احمد قاسمی صاحب ،نائب صدر جناب الحاج نیاز احمد صاحب مالک سواگتم میرج ہال ،جناب الحاج ڈاکٹر اکرام ،جناب سہراب صاحب ،جناب ارشاد اختر ،جناب سید امتیاز احمد،جناب مولانا نفیس ذوالقرنین قاسمی صاحب ،اور مبلغ امارت شرعیہ مولانا اسعداللہ نیموی ومولانا حشرالدین ندوی نیاہم رول اداکیا ۔اجلاس میں جناب حافظ احتشام رحمانی ، مولانا عبدالاحد رحمانی ازہری اور مولانا محمد منہاج عالم ندوی کی خصوصی شرکت رہی ۔
Bihar
بہار کونہیں بننے دیا جائے گا پولیس کی حکمرانی والی ریاست ،تیجسوی یادو کریں گے مارچ، طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان
(پی این این)
پٹنہ:بہار میں طلبہ تحریک کے دوران طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کے معاملے میں اب تک کارروائی نہ ہونے پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ آر جے ڈی 19 اگست کو ویرچند پٹیل پتھ واقع پارٹی دفتر سے لوک بھون تک مارچ کرے گی۔ قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے کل نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ مارچ میں پارٹی کے تمام ارکانِ پارلیمنٹ، ارکانِ اسمبلی، ارکانِ قانون ساز کونسل اور پارٹی کارکنان شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کو پولیس کی حکمرانی والی ریاست نہیں بننے دیا جائے گا۔
بہار کے قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ اس مارچ کے سلسلے میں اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔ انہیں بھی بہار میں طلبہ کو انصاف دلانے کے لیے اس مارچ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک یہ جاننا چاہتا ہے کہ طلبہ پر فائرنگ کس کے حکم پر کی گئی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے آواز اٹھائے جانے کے بعد ایک سپاہی کو معطل کر دیا گیا، لیکن اب تک ایس پی کو معطل کیوں نہیں کیا گیا؟ انہوں نے پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اٹھانے پر راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کا شکریہ بھی ادا کیا۔
تیجسوی یادو نے اس کے ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر داخلہ نے اس معاملے پر آج تک ایک لفظ تک نہیں کہا۔ وزیر اعلیٰ یا کسی نائب وزیر اعلیٰ نے زخمی طلبہ سے ملاقات کرنے تک کی زحمت نہیں کی۔ اگر ان معصوم طلبہ کی جان چلی جاتی تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟ پریس کانفرنس میں رکنِ پارلیمنٹ میسا بھارتی، ابھے کشواہا اور سریندر یادو بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے اس سے قبل اگست ہی میں بہار کے پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) ونے کمار سے ملاقات کی تھی اور 25 جولائی کو طلبہ کے احتجاج کے دوران اے کے-47 رائفل کے مبینہ استعمال کے معاملے میں سیوان کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اور دیگر سینئر افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو کی قیادت میں وفد نے کہا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ طلبہ کے خلاف اس طرح کی رائفل استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا تھا۔ آر جے ڈی لیڈر نے صحافیوں سے کہا تھا کہ مظاہرین کے خلاف اے کے-47 کا استعمال صرف وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری یا مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے حکم پر ہی کیا جا سکتا تھا۔ اس معاملے پر دونوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور کچھ بھی نہیں کہہ رہے ہیں۔ متعلقہ پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) اور دیگر سینئر افسران کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔
Bihar
بہار کو ایک بار پھر شراب کی لعنت میں دھکیلنے کی ہورہی ہے سازش،ریاست میں شراب بندی ختم کرنے کی سفارش پر سیاسی جنگ، جنتادل یونائیٹڈ این سی اے ای آر کوبھیجے گی قانونی نوٹس
(پی این این)
پٹنہ:بہار میں شراب بندی قانون پر نیشنل کونسل آف اپلائیڈ اکنامک ریسرچ (این سی اے ای آر) کی مطالعاتی رپورٹ کے بعد سیاسی ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ کونسل نے اپنی مطالعاتی رپورٹ میں شراب بندی قانون کو دس سال بعد بھی ناکام قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔
اس پر جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) نے این سی اے ای آر کو قانونی نوٹس بھیج کر قانونی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ پارٹی کے چیف ترجمان نیرج کمار نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ’’ہم انہیں چھوڑیں گے نہیں۔‘‘جے ڈی یو کے قانون ساز کونسلر و چیف ریاستی ترجمان نیرج کمار اور ریاستی ترجمان پوجا پیٹرک نے بہار میں شراب بندی کے حوالے سے نجی ادارے این سی اے ای آر کی جانب سے کرائے گئے سروے پر سخت حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کمپنی کے اعلیٰ عہدوں پر فائز عہدیداروں کے مفادات اور کردار پر سنگین سوالات اٹھائے۔ دونوں رہنما جمعرات کو جے ڈی یو دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی نجی ادارے کے عہدیداروں یا ارکان کے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایسے مالیاتی اداروں سے تعلقات ہوں، جو شراب کے کاروبار سے وابستہ کمپنیوں کو بینکاری سہولیات فراہم کرتے ہوں، تو ایسے ادارے کی جانب سے بہار میں شراب بندی کے حوالے سے کیے گئے سروے کی غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سروے کرانے والے نجی ادارے این سی اے ای آر کی گورننگ باڈی میں ایچ ڈی ایف سی بینک کے چیئرمین دیپک ایس پاریخ شامل ہیں، جن کے بارے میں جے ڈی یو رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ ان کی سرمایہ کاری شراب بنانے والی کمپنی میں ہے۔ وہیں سگریٹ بنانے والی کمپنی آئی ٹی سی کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر سنجیو پوری بھی اس ادارے کے بورڈ ممبر ہیں۔جے ڈی یو رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ یہ تحقیق شراب کمپنیوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے اور بہار کو ایک بار پھر شراب کی لعنت میں دھکیلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شراب بندی ختم کرکے بہار کی خواتین کو دوبارہ پریشان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن جے ڈی یو خاموش نہیں بیٹھے گا۔ نیرج کمار نے کہا کہ نتیش کمار نے خواتین کے مطالبے پر بہار کی اصلاح اور سماجی بہتری کے لیے شراب بندی کا قانون نافذ کیا تھا۔
Bihar
اردو اسکولوں اور مدارس کیلئے جمعرات کونصف دن کی چھٹی کی دی جائے منظوری:مفتی سعید الرحمٰن قاسمی
(پی این این)
پٹنہ:امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈو مغربی بنگال کے ناظم جناب مولانا مفتی محمد سعیدالرحمٰن قاسمی صاحب نے اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ محکمۂ تعلیم بہار نے سرکاری اسکولوں کے لئے سنیچر کے نصف دن کی چھٹی کی منظوری کانوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس سے اسکولوں کے اساتذہ کو راحت ملی ہے اور قدیم روایت کی پاسداری بھی ہوئی ہے۔
تاہم اردو اسکولس اور مدارس جہاں ہمیشہ سے جمعہ کو مکمل دن کی سرکاری چھٹی کا معمول جاری ہے ایسے اسکولوں اور مدارس کے لئے نوٹیفیکیشن میں جمعرات کے آدھے دن کی چھٹی کی کوئی صراحت نہیں ہے ،جس کی وجہ سے اردو اسکولوں اور مدارس کے اساتذہ میں بے حد بے چینی پائی جارہی ہے ،یہ بات اصولی ہے کہ اگر اتوار کی رعایت کرتے ہوئے سنیچر کو نصف دن کی چھٹی کا منظوری نامہ جاری ہوا ہے تو جمعہ کی چھٹی کی رعایت کرتے ہوئے جمعرات کو بھی نصف دن کی چھٹی منظور کی جائے اور اس کے لئے واضح منظوری نامہ جاری ہو،ایسا نہیں کرنے کی صورت میں اردو اسکولوں اور مدارس کے اساتذہ کواس رعایت کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا اور خواہ مخواہ سنیچر کو آدھے دن چھٹی کرنے کی وجہ سے تعلیمی نظام میں خلل بھی واقع ہوگا۔
اس لئے جناب ناظم صاحب نے اپنے اس پریس ریلیز کے ذریعہ محترم وزیر تعلیم حکومت بہار اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ ذمہ داران سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس طرف توجہ دیں اورجلد از جلد متعلقہ محکمہ کی طرف سے اردو اسکولوں اور مدارس کے لئے جمعرات کے نصف دن کی چھٹی کا واضح منظوری نامہ جاری کیا جائے ؛تاکہ سابقہ روایت کی پاسداری بھی ہواور ان اداروں کے اساتذہ کو مساوی فائدہ بھی حاصل ہو سکے ۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
