Bihar
ضلع مجسٹریٹ کی امتحان کو شفاف، بدعنوانی سے پاک اور پرامن ماحول میں منعقدکرانے کی ہدایت
(پی این این)
ارریہ:سنٹرل سلیکشن بورڈ (کانسٹیبل رکروائرٹمنٹ) کے ذریعہ اشتہار نمبر-03/2025، 01/2026، 02/2026 کے تحت منعقد ہونے والے تحریری امتحان-2026 کے کامیاب، منصفانہ، بد عنوانی اور بدانتظامی سے پاک ماحول میں انعقاد کے لئے، پیروڈیئم کے زیر اہتمام ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن اور پولس سپرنٹنڈنٹ ارریہ مسٹر جتیندر کمار کی مشترکہ صدارت میں ایک بریفنگ میٹنگ کا انعقاد ہوا جس میں تمام سینٹر سپرنٹنڈنٹس، اسٹیٹک مجسٹریٹس، زونل مجسٹریٹ، فلائنگ اسکواڈ ٹیم، پولس افسران، سینئر ٹریژری افسران، ضلع تعلیمی افسران، سب ڈویژنل افسر ارریہ، سب ڈویژنل پولس افسران اور تمام امتحانی افسران سے متعلقہ افسران موجود تھے۔
میٹنگ میں بتایا گیا کہ سنٹرل سلیکشن بورڈ (کانسٹیبل بھرتی) امتناعی، ایکسائز اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ، جیل خانہ جات اور اصلاحی خدمات انسپکٹوریٹ، محکمہ داخلہ (جیل خانہ) اور محکمہ ٹرانسپورٹ میں مختلف آسامیوں کے لیے 14 جون اور 17 جون، 2026 کو دو نشستوں میں ضلع بھر کے امتحانی مراکز میں تحریری امتحانات کا انعقاد کرے گا۔
میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نے ہدایت دی کہ تمام تعینات افسران ایک دوسرے کے ساتھ تال میل بنائے رکھیں گے، تاکہ امتحان کو مکمل طور پر شفاف، بدعنوانی سے پاک اور پرامن ماحول میں منعقد کیا جائے۔ ضلع مجسٹریٹ نے ہدایت دی کہ کسی بھی امیدوار کو درست اڈمٹ کارڈ اور اصلی تصویری شناخت کے بغیر کسی بھی حالت میں امتحانی مرکز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امتحانی مرکز کے مرکزی دروازے کو غیر ضروری ہجوم سے دور رکھا جائے گا اور تمام امیدواروں کو سخت چیکنگ اور شناختی کارڈ کی جانچ کے بعد ہی قطار بند میں داخلہ دیا جائے گا۔ اورجنل تصویری شناختی کارڈ کے بغیر امیدواروں کو امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔ میٹنگ میں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ کسی بھی صورت میں امتحانی ہال یا کمرے میں موبائل فون یا کوئی اور الیکٹرانک ڈیوائس لے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اگر کسی امیدوار کے ساتھ سرپرست نہیں ہے اور اس کے پاس موبائل فون یا دیگر الیکٹرانک ڈیوائس ہے تو اسے امتحانی مرکز کے باہر محفوظ طریقے سے سوئچ آف موڈ میں رکھنے کے انتظامات کئے جائیں گے۔ اگر کوئی امیدوار کمرۂ امتحان میں موبائل فون یا الیکٹرانک ڈیوائس کے ساتھ پایا گیا تو اسے تحریری امتحان سے فوری طور پر نااہل قرار دے دیا جائے گا اور اسے بدعنوان تصور کیا جائے گا۔ سنٹر کے سپرنٹنڈنٹ اور انویجیلیٹر کے پاس امتحان شروع ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے سے لے کر امتحان کے اختتام تک موبائل فون یا الیکٹرانک ڈیوائسز بھی نہیں ہوں گی۔ کونسل نے سوالیہ کتابچوں کے ساتھ ایک مہر بند خانے میں OMR شیٹس پر لکھنے اور نشان لگانے کے لئے مطلوبہ تعداد میں قلم بھی فراہم کئے ہیں۔ یہ تمام موجود امیدواروں میں تقسیم کئے جائیں گے۔ امیدواروں کو امتحانی مراکز میں اپنا قلم لانے کی اجازت نہیں ہوگی اور انہیں فراہم کردہ قلم کا استعمال کرتے ہوئے اپنے جوابات پر نشان لگانا ہوگا۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ارریہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ تمام سینٹر سپرنٹنڈنٹس کے ساتھ تال میل بنائے رکھیں گے اور پینے کے پانی، بجلی، مناسب روشنی، بیت الخلا، بینچ اور ڈیسک، مرکزی دروازے سے امیدواروں کے بروقت داخلے، امتحانی مراکز میں ویڈیو گرافی، جنریٹرز، لاؤڈ اسپیکر اور دیگر ضروری سہولیات کے مناسب انتظامات کو یقینی بنائیں۔ متعین اسٹیٹک مجسٹریٹس کم مبصرین اور پولس افسران اپنے متعلقہ امتحانی مراکز پر صاف، پرامن اور بدانتظامی سے پاک امتحانات کے انعقاد کے ذمہ دار ہوں گے۔ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ صرف امیدواروں کو ان کے اڈمٹ کارڈ اور شناختی کارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد امتحانی مرکز میں داخل کیا جائے اور کسی بھی غیر مجاز شخص کا داخلہ سختی سے ممنوع ہے۔ تمام اسٹیٹک مجسٹریٹس کم آبزرور، پولس افسران اور سنٹر سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی گئی کہ وہ امتحانی مرکز میں داخل ہونے سے پہلے ہر امیدوار کو اچھی طرح سے چیک کرلیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی حالت میں موبائل فون یا دیگر الیکٹرانک آلات امتحانی ہال میں نہ پہنچیں۔ خواتین امیدواروں کو فکس کرنے کے لئے خواتین پولس افسران اور خواتین فورس کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولس (ریزرو) ارریہ تعینات کرے گا۔ اس کے علاوہ، متعلقہ سینٹر سپرنٹنڈنٹ خواتین امیدواروں کی جانچ کے لئے ہر امتحانی مرکز میں ایک الگ کمرے یا ایک گھیرے والے علاقے کے انتظام کو یقینی بنائے گا۔کونسل نے ہر امتحانی مرکز پر ڈیجیٹل میڈیم کے ذریعے فوٹو گرافی، ویڈیو گرافی اور بائیو میٹرک تصدیق کا بھی انتظام کیا ہے، تاکہ امتحان کی شفافیت اور ساکھ برقرار رہے۔
Bihar
بہار کونہیں بننے دیا جائے گا پولیس کی حکمرانی والی ریاست ،تیجسوی یادو کریں گے مارچ، طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان
(پی این این)
پٹنہ:بہار میں طلبہ تحریک کے دوران طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کے معاملے میں اب تک کارروائی نہ ہونے پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ آر جے ڈی 19 اگست کو ویرچند پٹیل پتھ واقع پارٹی دفتر سے لوک بھون تک مارچ کرے گی۔ قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے کل نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ مارچ میں پارٹی کے تمام ارکانِ پارلیمنٹ، ارکانِ اسمبلی، ارکانِ قانون ساز کونسل اور پارٹی کارکنان شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کو پولیس کی حکمرانی والی ریاست نہیں بننے دیا جائے گا۔
بہار کے قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ اس مارچ کے سلسلے میں اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔ انہیں بھی بہار میں طلبہ کو انصاف دلانے کے لیے اس مارچ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک یہ جاننا چاہتا ہے کہ طلبہ پر فائرنگ کس کے حکم پر کی گئی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے آواز اٹھائے جانے کے بعد ایک سپاہی کو معطل کر دیا گیا، لیکن اب تک ایس پی کو معطل کیوں نہیں کیا گیا؟ انہوں نے پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اٹھانے پر راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کا شکریہ بھی ادا کیا۔
تیجسوی یادو نے اس کے ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر داخلہ نے اس معاملے پر آج تک ایک لفظ تک نہیں کہا۔ وزیر اعلیٰ یا کسی نائب وزیر اعلیٰ نے زخمی طلبہ سے ملاقات کرنے تک کی زحمت نہیں کی۔ اگر ان معصوم طلبہ کی جان چلی جاتی تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟ پریس کانفرنس میں رکنِ پارلیمنٹ میسا بھارتی، ابھے کشواہا اور سریندر یادو بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے اس سے قبل اگست ہی میں بہار کے پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) ونے کمار سے ملاقات کی تھی اور 25 جولائی کو طلبہ کے احتجاج کے دوران اے کے-47 رائفل کے مبینہ استعمال کے معاملے میں سیوان کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اور دیگر سینئر افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو کی قیادت میں وفد نے کہا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ طلبہ کے خلاف اس طرح کی رائفل استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا تھا۔ آر جے ڈی لیڈر نے صحافیوں سے کہا تھا کہ مظاہرین کے خلاف اے کے-47 کا استعمال صرف وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری یا مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے حکم پر ہی کیا جا سکتا تھا۔ اس معاملے پر دونوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور کچھ بھی نہیں کہہ رہے ہیں۔ متعلقہ پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) اور دیگر سینئر افسران کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔
Bihar
بہار کو ایک بار پھر شراب کی لعنت میں دھکیلنے کی ہورہی ہے سازش،ریاست میں شراب بندی ختم کرنے کی سفارش پر سیاسی جنگ، جنتادل یونائیٹڈ این سی اے ای آر کوبھیجے گی قانونی نوٹس
(پی این این)
پٹنہ:بہار میں شراب بندی قانون پر نیشنل کونسل آف اپلائیڈ اکنامک ریسرچ (این سی اے ای آر) کی مطالعاتی رپورٹ کے بعد سیاسی ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ کونسل نے اپنی مطالعاتی رپورٹ میں شراب بندی قانون کو دس سال بعد بھی ناکام قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔
اس پر جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) نے این سی اے ای آر کو قانونی نوٹس بھیج کر قانونی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ پارٹی کے چیف ترجمان نیرج کمار نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ’’ہم انہیں چھوڑیں گے نہیں۔‘‘جے ڈی یو کے قانون ساز کونسلر و چیف ریاستی ترجمان نیرج کمار اور ریاستی ترجمان پوجا پیٹرک نے بہار میں شراب بندی کے حوالے سے نجی ادارے این سی اے ای آر کی جانب سے کرائے گئے سروے پر سخت حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کمپنی کے اعلیٰ عہدوں پر فائز عہدیداروں کے مفادات اور کردار پر سنگین سوالات اٹھائے۔ دونوں رہنما جمعرات کو جے ڈی یو دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی نجی ادارے کے عہدیداروں یا ارکان کے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایسے مالیاتی اداروں سے تعلقات ہوں، جو شراب کے کاروبار سے وابستہ کمپنیوں کو بینکاری سہولیات فراہم کرتے ہوں، تو ایسے ادارے کی جانب سے بہار میں شراب بندی کے حوالے سے کیے گئے سروے کی غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سروے کرانے والے نجی ادارے این سی اے ای آر کی گورننگ باڈی میں ایچ ڈی ایف سی بینک کے چیئرمین دیپک ایس پاریخ شامل ہیں، جن کے بارے میں جے ڈی یو رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ ان کی سرمایہ کاری شراب بنانے والی کمپنی میں ہے۔ وہیں سگریٹ بنانے والی کمپنی آئی ٹی سی کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر سنجیو پوری بھی اس ادارے کے بورڈ ممبر ہیں۔جے ڈی یو رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ یہ تحقیق شراب کمپنیوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے اور بہار کو ایک بار پھر شراب کی لعنت میں دھکیلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شراب بندی ختم کرکے بہار کی خواتین کو دوبارہ پریشان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن جے ڈی یو خاموش نہیں بیٹھے گا۔ نیرج کمار نے کہا کہ نتیش کمار نے خواتین کے مطالبے پر بہار کی اصلاح اور سماجی بہتری کے لیے شراب بندی کا قانون نافذ کیا تھا۔
Bihar
اردو اسکولوں اور مدارس کیلئے جمعرات کونصف دن کی چھٹی کی دی جائے منظوری:مفتی سعید الرحمٰن قاسمی
(پی این این)
پٹنہ:امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈو مغربی بنگال کے ناظم جناب مولانا مفتی محمد سعیدالرحمٰن قاسمی صاحب نے اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ محکمۂ تعلیم بہار نے سرکاری اسکولوں کے لئے سنیچر کے نصف دن کی چھٹی کی منظوری کانوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس سے اسکولوں کے اساتذہ کو راحت ملی ہے اور قدیم روایت کی پاسداری بھی ہوئی ہے۔
تاہم اردو اسکولس اور مدارس جہاں ہمیشہ سے جمعہ کو مکمل دن کی سرکاری چھٹی کا معمول جاری ہے ایسے اسکولوں اور مدارس کے لئے نوٹیفیکیشن میں جمعرات کے آدھے دن کی چھٹی کی کوئی صراحت نہیں ہے ،جس کی وجہ سے اردو اسکولوں اور مدارس کے اساتذہ میں بے حد بے چینی پائی جارہی ہے ،یہ بات اصولی ہے کہ اگر اتوار کی رعایت کرتے ہوئے سنیچر کو نصف دن کی چھٹی کا منظوری نامہ جاری ہوا ہے تو جمعہ کی چھٹی کی رعایت کرتے ہوئے جمعرات کو بھی نصف دن کی چھٹی منظور کی جائے اور اس کے لئے واضح منظوری نامہ جاری ہو،ایسا نہیں کرنے کی صورت میں اردو اسکولوں اور مدارس کے اساتذہ کواس رعایت کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا اور خواہ مخواہ سنیچر کو آدھے دن چھٹی کرنے کی وجہ سے تعلیمی نظام میں خلل بھی واقع ہوگا۔
اس لئے جناب ناظم صاحب نے اپنے اس پریس ریلیز کے ذریعہ محترم وزیر تعلیم حکومت بہار اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ ذمہ داران سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس طرف توجہ دیں اورجلد از جلد متعلقہ محکمہ کی طرف سے اردو اسکولوں اور مدارس کے لئے جمعرات کے نصف دن کی چھٹی کا واضح منظوری نامہ جاری کیا جائے ؛تاکہ سابقہ روایت کی پاسداری بھی ہواور ان اداروں کے اساتذہ کو مساوی فائدہ بھی حاصل ہو سکے ۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
