Bihar
نیٹ کےدوبارہ امتحان کیلئے بہار حکومت مستعد،شفاف، منصفانہ اور نقل سے پاک بنانے کیلئے وسیع پیمانے پرسخت حفاظتی انتظامات
(پی این این)
پٹنہ: 21 جون کو منعقد ہونے والے نیٹ (یو جی) 2026 کے دوبارہ امتحان کو مکمل طور پر شفاف، منصفانہ اور نقل سے پاک بنانے کے لیے بہار حکومت نے وسیع پیمانے پر حفاظتی اور انتظامی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
اس سلسلے میں منگل کے روز چیف سکریٹری پرتیہ امرت اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ونئے کمار کی مشترکہ صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں امتحان کے انعقاد سے متعلق کئی اہم ہدایات جاری کی گئیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری اس معاملے پر پہلے ہی اعلیٰ سطحی جائزہ لے چکے ہیں اور ریاستی حکومت امتحان کے کامیاب، شفاف اور بے عیب انعقاد کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔
سوالیہ پرچوں کی رازداری یقینی بنانے کے لیے ہندوستانی فضائیہ اور محکمہ ڈاک کے اشتراک سے پرچوں کو خصوصی طیاروں کے ذریعے براہِ راست ریاستی مرکز (اسٹیٹ ہب) تک پہنچایا جائے گا، تاکہ آخری مرحلے کی ترسیل صرف دو سے تین گھنٹوں میں مکمل ہو سکے۔
ریاست کے 34 اضلاع کے 35 شہروں میں مجموعی طور پر 331 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں ایک لاکھ 56 ہزار 61 امیدوار امتحان میں شرکت کریں گے۔ ان میں 81 ہزار 165 طلبہ اور 74 ہزار 896 طالبات شامل ہیں۔ سب سے زیادہ 95 امتحانی مراکز ضلع پٹنہ میں قائم کیے گئے ہیں، جہاں 46 ہزار 29 امیدوار امتحان دیں گے۔
ڈی جی پی ونئے کمار نے سوشل میڈیا پر چوبیس گھنٹے نگرانی رکھنے، سوالیہ پرچہ لیک ہونے سے متعلق افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف فوری کارروائی اور پیشگی گرفتاری کی ہدایت دی ہے۔ اس کے علاوہ مشتبہ کوچنگ اداروں پر خصوصی نظر رکھی جائے گی اور ہر امتحانی مرکز پر مجسٹریٹ اور پولیس اہلکاروں کی تعیناتی یقینی بنائی جائے گی تاکہ امتحان پرامن اور شفاف انداز میں منعقد ہو سکے۔
Bihar
اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نالندہ ضلع کو ملی نئی سوغات
بہار شریف: ریاست حکومت کے سات نشچے-3 2025-30 کے چوتھے نشچے اُنت شِکشا اُجّول بھوش کے تحت نالندہ ضلع میں قائم 09 نئے سرکاری ڈگری کالجوں کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ریاست سطحی پروگرام کا افتتاح معزز وزیرِ اعلیٰ، بہار جناب سمراٹ چودھری کے ہاتھوں سرکاری ڈگری کالج، گوراڈیہ بھاگلپور میں منعقدہ تقریب کے ذریعے کیا گیا۔ اسی پروگرام کے ساتھ ریاست کے تمام 211 نئے قائم شدہ ڈگری کالجوں میں ایک ساتھ تدریس کا آغاز کیا گیا۔
یہ پہل ریاست حکومت کے اس عزم کی علامت ہے جس کے تحت ہر علاقے کے طلبہ کو اپنے ہی پرکھنڈ میں معیاری اعلیٰ تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔نالندہ ضلع میں ان نئے ڈگری کالجوں کے شروع ہونے سے خاص طور پر دیہی اور دور دراز کے علاقوں کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے دوسرے شہروں کی طرف ہجرت نہیں کرنی پڑے گی۔ اس سے طلبہ و طالبات، بالخصوص طالبات کو اپنے قریبی علاقے میں تعلیم حاصل کرنے کا بہتر موقع ملے گا اور ضلع میں اعلیٰ تعلیم کا دائرہ مزید مستحکم ہوگا۔اب گریجویشن کی تعلیم کے لیے طلبہ کو دور دراز شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ ہر پرکھنڈ میں اعلیٰ تعلیم دستیاب ہونے سے وقت اور پیسے دونوں کی بچت ہوگی اور زیادہ سے زیادہ نوجوان اعلیٰ تعلیم سے جڑ سکیں گے۔
ان تمام کالجوں میں 6 اہم مضامین میں پڑھائی شروع کی گئی ہے۔ ان میں ہندی، انگریزی، سیاسیات، معاشیات، تاریخ اور سماجیات شامل ہیں۔
طلبہ کے داخلے، تدریس، بنیادی سہولیات اور تعلیمی ماحول کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے تمام ضروری انتظامات وقت کی حد میں یقینی بنائے جائیں۔
نالندہ ضلع میں ان 09 سرکاری ڈگری کالجوں کا آغاز اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک اہم کامیابی ہے۔ حکومت کے اُنت شِکشا اُجّول بھوش کے ہدف کو نئی رفتار ملے گی۔
Bihar
بوچی گاؤں میں نوجوان کا تیز دھار ہتھیار سے قتل
ارریہ: بیرگاچھی تھانہ حلقہ کے تحت بوچی گاؤں میں بدھ کی شب ایک نوجوان کو تیز دھار ہتھیار سے قتل کر دیا گیا۔ مقتول کی لاش اس کے گھر بوچی بکرا ندی سے متصل سڑک پر خون سے لت پت حالت میں برآمد ہوئی۔ مقتول کے سر پر گہرے زخم کے نشانات پائے گئے، جس سے ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نامعلوم افراد نے تیز دھار ہتھیار سے وار کرکے اس کی جان لے لی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بیرگاچھی تھانہ کے انچارج نودیپ گپتا بدھ کی رات ہی موقع واردات پر پہنچ گئے اور قتل کے معمہ کو حل کرنے کے لیے تفتیش شروع کر دی۔ پولیس نے جمعرات کو لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجنے کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈی ایس پی سشیل کمار سنگھ جمعرات کی صبح بوچی گاؤں پہنچے اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کرتے ہوئے پولیس کو ضروری ہدایات دیں۔ اسی دوران آئی ایف ایس ایل کی ٹیم بھی موقع پر پہنچی اور تحقیقات کے لیے کئی نمونے جمع کیے۔ مقتول کی شناخت ارریہ بلاک کے بیرگاچھی تھانہ حلقہ، بوچی پنچایت کے وارڈ نمبر چار کے بکرا ٹولہ باشندہ نورالحسن کے 35 سالہ بیٹے خواجہ حسین کے طور پر کی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق مقتول خواجہ حسین اپنے گھر سے پچھم کی جانب سڑک پر خون سے لت پت حالت میں پڑا ہوا تھا۔ کسی راہگیر کی نظر اس پر پڑی تو اس نے فوری طور پر پنچایت کے مکھیا محمد علی حسن کو موبائل فون کے ذریعے واقعہ کی اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی مکھیا محمد علی حسن گاؤں والوں کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے، جہاں اہل خانہ نے مقتول کی شناخت کی اور بیرگاچھی تھانہ پولیس کو واقعہ سے آگاہ کیا۔
ورثا کا کہنا ہے کہ مقتول کے سر پر تیز دھار ہتھیار سے سیدھا وار کر کے اس کا قتل کیا گیاہے۔ بیرگاچھی تھانہ صدر نودیپ گپتا نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، پوسٹ مارٹم کی کارروائی مکمل کرائی گئی اور آئی ایف ایس ایل ٹیم کو بھی طلب کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، ورثا کی جانب سے تحریری درخواست موصول ہونے کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی اور جلد ہی واقعہ کا انکشاف کر لیا جائے گا۔
Bihar
جعلی آدھار کارڈ اور سرکاری دستاویزات بنانے والے گروہ کا پردہ فاش، ایک گرفتار
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
