Bihar
نقباء وذمہ داران تنظیم امارت ملی مسائل کے حل اورمعاشرتی اصلاح کے لیے آگے آئیں:حضرت امیر شریعت،شہر بتیا میں منعقد نقباء و ذمہ داران تنظیم امارت شرعیہ کے خصوصی اجلاس سے اکابر علماء کا خطاب
(پی این این)
پٹنہ:اس وقت ایک طرف اگر روز بروز ملی مسائل ومشکلات میں اضافہ ہورہاہے تو دوسری طرف سماجی اعتبار سے بھی خیر امت کالقب پانے والی ملت معاشرتی خرابیوں میں ڈوبتی چلی جارہی ہے ، گویا تباہی کے دوطرفہ حالات نے اس ملت کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے ، ایسے وقت میں ملت کے باشعور افراد بااثر سماجی ذمہ داران، علماء وائمہ کرام ،امارت شرعیہ کے نقباء ونائبین ،اورتنظیم امارت شرعیہ کے نمائندگان کی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ دل دردمند اورفکر ارجمند کے ساتھ ملی مسائل کے حل اور معاشرتی اصلاح کے لیے مؤثرعملی اقدام کریں ، اگر آپ حضرات نے اس ذمہ داری کا احساس نہیں کیا اور اپنے عملی اقدامات سے ملت کو فائدہ نہیں پہونچایا تو نہ صرف ملت نقصا ن سے دوچار ہوگی؛بلکہ آپ بھی اللہ کی عدالت میں جواب دہی سے نہیں بچ سکیں گے ۔ امارت شرعیہ کا یہ خصوصی اجلاس دراصل آپ جیسے ذمہ دار ، باشعور اورفکر مند احباب کے اندر کچھ اسی طرح کا احساس جگانے اور فکر مندی پیداکرنے کے لیے منعقد ہواہے ،ان خیالات کا اظہار بہار، اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال کے امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ العالی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے مورخہ ۱۳؍جون کو شہر بتیا کے وسیع وبارونق سواگتم میرج ہال میں منعقد ضلع مغربی چمپارن کے نقباء ونائبین وذمہ داران تنظیم امارت شرعیہ کے خصوصی تربیتی اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر آپ نے دستوری نقطۂ نظر سے وندے ماترم کی لازمیت اور اس گیت میں موجو د فکر کی سنگینی اورشرکیہ کلمات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی لازمیت کسی طرح بھی آئینی اوردستوری نہیں ہے ؛بلکہ اس گیت کا بعض حصہ تو وہ ہے جو فکری اعتبار سے انصاف پسند برادران وطن کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا ،اسی طرح دینی مدارس جو ملت کے لیے دین کے پاور ہاؤس کی حیثیت رکھتے ہیں انہیں مختلف طرح کی جانچ کے گھیرے میں ڈال دیا گیا ہے جو یقینا باعث تشویش ہے ، مدارس انسان سازی کا سب سے عمدہ کارخانہ ہیں ، یہاں دَل نہیں بلکہ انسانوں کے دِل بنائے جاتے ہیں اور ملک وملت کی خدمت کے لیے اچھے افراد تیار ہوتے ہیں ، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مدارس کو اسی نگاہ سے دیکھے اور اس کے وجود وتحفظ کو ہرگز نقصان نہ پہونچنے دے۔ آپ نے ارباب مدارس کو بھی متوجہ کیا کہ وہ وقت اورحالات کو سامنے رکھتے ہوئے قانونی نقطۂ نظر سے اپنے پورے نظام کو صاف وشفاف رکھنے پر پوری توجہ دیں ، ہمت وحوصلہ سے کام لیں اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں ، حضرت امیر شریعت مدظلہ نے تربیتی اعتبار سے بھی حاضرین تک اپنا پیغام پہونچایا ، سوالات جوابات کا سلسلہ چلا ،شرکاء کو اظہا رخیال کا موقع دیا گیا اور تحریروبیان کے ذریعہ بھی قوت عمل اور جذبۂ خدمت کو بڑھانے ونکھارنے کی کوشش کی گئی ،اجلاس میں بڑی تعداد میں نقباء ونائبین اور ضلع وبلاک کی سطح پر قائم تنظیم امارت شرعیہ کے ذمہ داران وارکان نے شرکت کی ، اس اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے ناظم امارت شرعیہ وصدر مفتی جناب مولانا مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی صاحب نے امارت شرعیہ کی شرعی وتاریخی حیثیت ،وحدت واجتماعیت کے استحکام کے لیے بیعت امیر کی ضرورت ،امارت شرعیہ کے امراء شریعت کی علمی وعملی عظمت اور امارت شرعیہ کی ہمہ جہت خدمات پر مؤثرانداز میں روشنی ڈالی ، آپ نے کہا کہ امارت شرعیہ اس فکر اسلامی اور نطام شرعی کی عملی تصویر ہے جس کی بنیاد کائنات کے آخری پیغمبر جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی ، ہندوستان جیسے ملک میں امارت شرعیہ کا وجود ایک عظیم مذہبی نعمت اورایک ناگزیر ملی ضرورت ہے ، امارت شرعیہ نے اپنی صدسالہ تاریخ میں مختلف جہتوں سے ملت کو زندہ وبیدار رکھنے کا جومثالی کارنامہ انجام دیا ہے ، اس کی نظیر اگر نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے ، ضرورت ہے کہ آپ نقباء اورتنظیم امارت شرعیہ کے ذمہ داران فکر امارت کی عظمت سے ہر مسلمان کو واقف کرائیں اور شرعی ضرورت کی حیثیت سے ہر مردمسلماں کو اس سے وابستہ رکھنے کی فکرکریں ،امارت شرعیہ کے صدر قاضی جناب مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی صاحب نظام قضاء امارت شرعیہ کے موضوع پرایک جامع پریزینٹیشن پیش کیا اور نظام قضاء کے قیام ،اس کی افادیت ،اس کے فیصلوں کے اثرات ، دارالقضاء میں پیش ہونے والے مقدمات اورفیصلوں کے لیے درکار مدت کار جیسے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اگر ہم سب اپنے ایمان کی سلامتی ،وقت ومال کا تحفظ اورعزت وآبرو کی عافیت چاہتے ہیں تو ہمیں سول معاملات ہرحال میں دارالقضاء کے اندر پیش کرنا چاہیے ،آپ سب سے گزارش ہے کہ اس آواز کو گاؤں دیہات تک پہونچائیں اورتحریکی انداز میں اس مہم کو آگے بڑھائیں ۔ امارت شرعیہ کے نائب ناظم جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب انچارج شعبۂ تبلیغ وتنظیم نے شعبۂ تبلیغ وتنظیم کی اہمیت ،لفظ نقیب کی بلند نسبت اور بہ حیثیت نقیب منتخب ہونے کی عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے نقباء وذمہ داران تنظیم کو ان کی ذمہ داریاں بتائیں اور کہا کہ اللہ نے اس عہدہ کے ذریعہ آپ کو جو مقام بخشا ہے اورجس بڑے ادارہ کی نسبت سے جوڑ ا ہے اس کا حق یہ ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کے تئیں ہمیشہ فکر مند رہیں ، اللہ کی طرف سے جب تک خدمت کا یہ دروازہ کھلا ہے اسے اپنے لیے باعث سعادت سمجھیں ۔ اجلاس کا آغاز جناب مولانانسیم انظر ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ،مولانا عبداللہ نورالدین رحیمی نے نعت پاک پیش کیا اور استقبالیہ کلمات مولانا نیاز احمد قاسمی نائب صدر تنظیم امارت شرعیہ ضلع مغربی چمپارن نے کہے اور نظامت کی ذمہ داری نائب ناطم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے نبھائی ،جبکہ امارت شرعیہ کے رکن شوریٰ وعاملہ ، امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے چیئرمین اور تنظیم امارت شرعیہ ضلع مغربی چمپارن کے سکریٹری جناب ایڈوکیٹ ذاکر بلیغ صاحب نے حضرت امیر شریعت مدظلہ کی خدمت میں شال ،منظوم سپاس نامہ پیش کیے اور حاضرین کا شکریہ اداکیا ۔تنظیم کے دیگر ذمہ داروں نے امارت شرعیہ کے دیگر موجودذمہ داران کو شال پیش کرکے ان کا استقبال کیا ۔اس اجلاس کو مثالی طورپر کامیاب بنانے میںسکریٹری تنظیم جناب ایڈوکیٹ ذاکر بلیغ صاحب ، صدر تنظیم جنا ب مولانا محبوب عالم نعمانی صاحب ،نائب صدر مولانا نیاز احمد قاسمی صاحب ،نائب صدر جناب الحاج نیاز احمد صاحب مالک سواگتم میرج ہال ،جناب الحاج ڈاکٹر اکرام ،جناب سہراب صاحب ،جناب ارشاد اختر ،جناب سید امتیاز احمد،جناب مولانا نفیس ذوالقرنین قاسمی صاحب ،اور مبلغ امارت شرعیہ مولانا اسعداللہ نیموی ومولانا حشرالدین ندوی نیاہم رول اداکیا ۔اجلاس میں جناب حافظ احتشام رحمانی ، مولانا عبدالاحد رحمانی ازہری اور مولانا محمد منہاج عالم ندوی کی خصوصی شرکت رہی ۔
Bihar
بانکی پور میں پرشانت کشور کو تیج پرتاپ یادو کی حمایت
(پی این این)
پٹنہ:بہار کی بانکی پور اسمبلی نشست سے انتخاب لڑ رہے جن سوراج پارٹی کے سرپرست پرشانت کشور کو جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔ جے جے ڈی کے قومی صدر تیج پرتاپ یادو نے ضمنی انتخاب میں پرشانت کشور کی حمایت کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔
انہوں نے اپنے والد لالو پرساد یادو اور چھوٹے بھائی تیجسوی یادو کی جماعت، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بانکی پور سے پارٹی کی امیدوار ریکھا گپتا کے بجائے پرشانت کشور کی حمایت کرے اور جن سوراج کا ساتھ دے۔واضح رہے کہ بانکی پور سے جے جے ڈی کی امیدوار وینا مانوی عرف وینا مانڈوی کا پرچۂ نامزدگی مسترد ہو گیا تھا، جس کے بعد تیج پرتاپ یادو کی پارٹی اس انتخابی مقابلے سے باہر ہو گئی۔
بہار کے سابق وزیر اور جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے سربراہ تیج پرتاپ یادو نے ہفتہ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بانکی پور سے صحیح اور اہل نمائندے منتخب ہو کر آئیں تاکہ عوام کو انصاف مل سکے۔انہوں نے کہا کہ بانکی پور سے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی امیدوار بھی میدان میں ہیں، لیکن ان کی خواہش ہے کہ آر جے ڈی کی امیدوار ریکھا گپتا بھی پرشانت کشور کی حمایت کریں۔
بانکی پور اسمبلی نشست کے ضمنی انتخاب سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مسلسل پرشانت کشور کو سیاسی جھٹکے دے رہی ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران جن سوراج پارٹی کے کئی سرکردہ رہنما پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو چکے ہیں۔ ان میں کے سی سنہا، چیتنا جھانب سمیت درجنوں رہنما شامل ہیں۔
بی جے پی کی جانب سے لگاتار ملنے والے ان سیاسی جھٹکوں کے درمیان تیج پرتاپ یادو نے پرشانت کشور کی اخلاقی حمایت کا اعلان کرکے انہیں سیاسی تقویت فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔تیج پرتاپ یادو نے سماجی کارکن وینا مانوی کو بانکی پور ضمنی انتخاب کے لیے اپنی پارٹی کا ٹکٹ دیا تھا۔ وینا مانوی نے 13 جولائی کو اپنا پرچۂ نامزدگی بھی داخل کر دیا تھا، تاہم الیکشن کمیشن کی جانچ پڑتال (اسکروٹنی) کے دوران ان کا پرچۂ نامزدگی مسترد کر دیا گیا، جس کے بعد وہ انتخابی دوڑ سے باہر ہو گئیں۔اس کے بعد سے سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیرِ بحث تھا کہ بانکی پور ضمنی انتخاب میں تیج پرتاپ یادو آخر کس امیدوار کی حمایت کریں گے۔
تین روز قبل جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے سربراہ تیج پرتاپ یادو نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔ اس کے بعد انہوں نے جن سوراج پارٹی کے امیدوار پرشانت کشور کی حمایت کا باضابطہ اعلان کر دیا۔تاہم، اس معاملے پر تاحال جن سوراج پارٹی کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل یا بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
Bihar
طلبہ وطالبات کو نصابی تعلیم کے ساتھ مقابلہ جاتی امتحانات کے تقاضوں سے آگاہ کیاجانا ضروری:پروفیسر مشتاق احمد
(پی این این)
دربھنگہ:ہمارا عہد انفارمیشن ٹکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے انقلابات کا ہے اور دیگر شعبوں کی طرح تعلیمی شعبے میں بھی روز نئے نئے ایجادات ہو رہے ہیں اس لئے ہم تمام اساتذہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ طلبا وطالبات کو نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ مقابلہ جاتی امتحانات کے تقاضوں سے بھی آگاہ کریں تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بیروزگار نہیں رہیں بلکہ دوسروں کے لئے بھی وہ روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر مشتاق احمد، پرنسپل سی۔ایم کالج، دربھنگہ نے کیا ۔
پروفیسر احمد کالج کے صدورِ شعبہ کی میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے ذریعہ پوسٹ گریجویٹ سمسٹر اول اور انڈر گریجویٹ سمسٹر اول میں داخلہ چل رہاہے لیکن اکیڈمک سیشن کا آغاز ہو چکا ہے ۔انہوں نے صدورِ شعبہ سے کہا کہ وہ یو جی سی کے اصول وضابطے کے مطابق انڈکشن پروگرام کے اختتام کے بعد یہ یقینی بنائیں کہ داخلہ لینے والے صد فی صد طلبا کالج آئیں اور کلاس میں شامل ہوں پروفیسر احمد نے کہا کہ سی۔ایم کالج، دربھنگہ میں اس سال سے ایک نیا کورس بی اے بی ایڈاور بی کام بی ایڈ کا آغاز ہواہے اور اس نئے کورس میں طلبا کی بہت دلچسپی ہے ۔لیکن صدر شعبۂ ایجوکیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کورس کے نصاب کے ساتھ سی ٹیٹ اور ایس ٹیٹ کی تیاری بھی کرائیں تاکہ وہ ڈگری لینے کے بعد تعلیمی شعبے میں ملازمت حاصل کر سکیں ۔
میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ ماسٹر روٹین کے ساتھ ساتھ شعبہ جاتی روٹین بھی طلبا کے درمیان تقسیم کیا جائے اور بالخصوص سوشل میڈیا گروپ کے ذریعہ انہیں تمام تر معلومات فراہم کرائی جائیں۔اس موقع پر الگ الگ شعبے کے صدر نے بھی اپنے مسائل پیش کئے جس پر سنجیدگی سے غوروخوض کیا گیا اور ان مسائل کو فوری طورپر دور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ۔میٹنگ میں یہ بھی طے ہو ا کہ جو طلبا وطالبات مسلسل سات دنوں تک کالج نہیں آئیں گے ان کا داخلہ رد کیا جائے گا۔انٹرنل امتحان وقت پر مکمل کئے جائیں گے اور اس میں غیر حاضر رہنے والے طلبا وطالبات کو یونیورسٹی امتحان کا فارم بھرنے سے روک دیا جائے گا کیوں کہ اب انٹر نل امتحان لازمی ہے ۔
میٹنگ میں ڈاکٹر مینک سریواستو، ڈاکٹر للت شرما، ڈاکٹر سبرت کمار داس، ڈاکٹر آلوک کما ر رائے، ڈاکٹر محمد خالد انجم عثمانی، ڈاکٹر وجے سین پانڈے، ڈاکٹر سدھانشو کمار ، ڈاکٹر سنجیت کمار جھا ، ڈاکٹر راگنی رنجن ، ڈاکٹر انوپم کمار سنگھ ، ڈاکٹر اکھلیش کمار ویبھو، ڈاکٹر ششانک شکلا اور ڈاکٹر محمد ابصار عالم نے شرکت کی اور معیاری تعلیم کو بلند کرنے کے لئے مفید مشورے دئے۔
Bihar
گیاجی میں سیٹکون ٹی ایم ٹی ایف ای 600 کی ’’ڈیلرز میٹ‘‘ کا شاندار انعقاد،’’بارش میں چاندی کی بَوچھار‘‘کے نام سے دلکش اورپروقار ’مانسون اسکیم‘ کا آغاز،تقریب میں ممتاز ڈیلروں اور تجارتی شراکت داروں نے بڑی تعداد میں کی شرکت
(پی این این)
گیا جی:تعمیراتی اسٹیل کے ممتاز برانڈ سیٹکون ٹی ایم ٹی ایف ای 600 کی جانب سے گیاجی میں ایک شاندار ’ڈیلرز میٹ‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں گیا اور آس پاس کے علاقوں کے ممتاز ڈیلروں اور تجارتی شراکت داروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں کمپنی نے اپنے ڈیلروں کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے نئی مانسون پروموشنل اسکیم’’بارش میں چاندی کی بَوچھار‘‘کا بھی باضابطہ آغاز کیا۔
اس موقع پر سٹی الائز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر نریندر گوپال سنگھل اور متل ٹیک اسٹیل اینڈ سیمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کنال اگروال نے ڈیلرز سے خطاب کرتے ہوئے کمپنی کی مستقبل کی حکمت عملی، معیاری مصنوعات اور ڈیلر فلاح سے متعلق منصوبوں پر روشنی ڈالی۔نریندر گوپال سنگھل نے اپنے خطاب میں کہا کہ کمپنی کی اصل طاقت اس کے ڈیلرز ہیں، جو برانڈ کی ترقی اور کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیٹکون ٹی ایم ٹی ایف ای 600 ہمیشہ اعلیٰ معیار، باہمی اعتماد اور ڈیلرز کے مفادات کو اولین ترجیح دیتا ہے، کیونکہ ڈیلرز کی ترقی ہی کمپنی کی پائیدار کامیابی کی بنیاد ہے۔
اس موقع پر کنال اگروال نے کہا کہ سیٹکون ٹی ایم ٹی ایف ای 600 محض ایک پروڈکٹ نہیں بلکہ اعتماد، اعلیٰ معیار اور مضبوط شراکت داری کی علامت ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کا مقصد اپنے ڈیلرز کے کاروبار کو نئی بلندیوں تک پہنچانا اور انہیں زیادہ سے زیادہ منافع کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’Stronger Than The Best‘‘(بہترین سے بھی زیادہ مضبوط) صرف کمپنی کا نعرہ نہیں بلکہ معیار کے تئیں اس کے غیرمتزلزل عزم کی حقیقی عکاسی ہے۔
تقریب کے دوران کمپنی نے اپنے برانڈ پیغام’’Stronger Than The Best‘‘ کے ساتھ نئی مانسون پروموشنل اسکیم’’بارش میں چاندی کی بَوچھار‘‘متعارف کرائی۔ اس اسکیم کے تحت 12 میٹرک ٹن کی بکنگ پر 30 گرام چاندی، 25 میٹرک ٹن کی بکنگ پر 70 گرام چاندی اور 30 میٹرک ٹن کی بکنگ پر 100 گرام چاندی دی جائے گی۔ کمپنی کی جانب سے آرڈر بک ہوتے ہی ڈیلرز کو موقع پر ہی چاندی فراہم کی گئی، جبکہ اس اسکیم کے تحت بک کیا گیا مال 30 جولائی 2026 تک لازماً اٹھانا ہوگا۔کمپنی نے اس موقع پر اپنی ٹرک اسکیم کی تفصیلات بھی ڈیلرز کے ساتھ شیئر کیں، جس کے تحت مقررہ شرائط پوری کرنے والے اہل ڈیلرز کو خصوصی اور پُرکشش فوائد فراہم کیے جائیں گے۔
تقریب میں شریک ڈیلرز نے سیٹکون ٹی ایم ٹی ایف ای 600 کے اعلیٰ معیار، بروقت سپلائی، مؤثر خدمات اور منفرد پروموشنل اسکیموں کو سراہتے ہوئے کمپنی کے ساتھ اپنے کاروباری تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔پروگرام کے اختتام پر کمپنی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے ڈیلرز کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری کو مزید مضبوط بناتے ہوئے معیار، بہترین خدمات اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر بہار کے تعمیراتی شعبے میں سیٹکون ٹی ایم ٹی ایف ای 600 کو ایک صفِ اول اور قابلِ اعتماد برانڈ کے طور پر مزید مستحکم کرے گی۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
