Connect with us

بہار

نارتھ ایسٹرن ریلوے پنشنرز ایسوسی ایشن کی میٹنگ میں ٹرمز آف ریفرنس میں ترمیم کا مطالبہ

Published

on

(پی این این)
چھپرہ :نارتھ ایسٹرن ریلوے پنشنرز ایسوسی ایشن کی میٹنگ بھگوان بازار میں منعقد ہوئی۔ڈپٹی سکریٹری ڈاکٹر اے ایچ انصاری نے آٹھویں تنخواہ کمیشن کی شرائط پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پنشن خیرات یا تحفہ نہیں ہے۔یہ ایک ملازم کو اس کی زندگی بھر کی خدمات اور محنت کے بدلے میں دیا جانے والا حق ہے۔مرکزی حکومت کو آٹھویں پے کمیشن میں ٹرمز آف ریفرنس میں ترمیم کرکے پنشنرز کو شامل کرنا چاہیے۔بڑھاپے میں زندہ رہنے کا واحد سہارا پنشن ہے۔اس لیے پنشنرز کو چاہیے کہ وہ اپنے حقوق سے آگاہ ہوں۔اپنی آواز بلند کریں اور اپنے مقاصد کے حصول تک جدوجہد کریں۔یہ ہر اس بزرگ شہری اور پنشنر کا مطالبہ ہے جس نے اپنی قیمتی جانیں قوم کی تعمیر کے لیے وقف کی ہیں۔
ایگزیکٹو صدر او پی پاراشر نے مرکزی حکومت کے ارادوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پنشنرز کو حکومت پر بوجھ سمجھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ٹرمز آف ریفرنس میں پنشنرز کا ذکر نہیں ہے۔تمام پنشنرز اس بات کو سمجھیں اور اتحاد کا مظاہرہ کریں۔چھپرہ برانچ کی کامیابیوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے برانچ سکریٹری متھیلیش کمار سنگھ نے کہا کہ آج برانچ میں کسی پنشنر کا مسئلہ زیر التوا نہیں ہے۔یہ شاخ کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔اگر ایک پنشنر بھی ممبر کے طور پر اندراج کرتا ہے تو ہماری تعداد میں اضافہ ہوتا رہے گا۔رکنیت ہمارے اتحاد کی نمائندگی کرتی ہے۔ٹرمز آف ریفرنس کی مذمت کرتے ہوئے کمیٹی نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ ہمیں حکمت عملی بنا کر جدوجہد لڑنے کی ضرورت ہے۔
سریندر سنگھ نے پنشنرز کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے ٹرمز آف ریفرنس پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ٹرمز آف ریفرنس میں ترمیم کے لیے ایک قرارداد منظور کی گئی۔جس میں مطالبہ کیا گیا کہ مرکزی حکومت مندرجہ ذیل مطالبات کو آٹھویں تنخواہ کمیشن کی ترامیم میں شامل کرے کہ 69 لاکھ موجودہ پنشنرز اور فیملی پنشنرز کو آٹھویں تنخواہ کمیشن کے دائرہ کار میں شامل کیا جائے۔پرانی پنشن کو غیر فنڈ شدہ لاگت،بوجھ کہنے والا جملہ ہٹا دیا جائے۔بنیادی تنخواہ اور پنشن پر فوری 20 فیصد عبوری ریلیف دیا جائے۔کموٹڈ پنشن 15 سال کی بجائے 11 سال بعد بحال کی جائے۔ریٹائرمنٹ کے بعد ہر پانچ سال بعد 5 فیصد اضافی پنشن فراہم کی جائے۔پرانی پنشن اسکیم (او پی ایس) کو بحال کیا جائے۔پنشنرز کو کم از کم 9,000 کے علاوہ مہنگائی الاؤنس اور طبی سہولیات دی جائے۔ایک رینک،ایک پنشن (OROP)جو دفاعی اہلکاروں پر لاگو ہوتا ہے مرکزی حکومت کے تمام ریٹائرڈ ملازمین کے لیے بھی لاگو کیا جانا چاہیے۔طبی سہولیات کو کیش لیس بنایا جائے اور بڑھتی عمر کے ساتھ بہتر بنایا جائے اور FMA کو بڑھا کر روپے 5,000 ماہانہ کیا جائے۔ریلوے کی جو رعایت بزرگ شہریوں کے لیے بند کی گئی ہے اسے بحال کیا جائے۔
میٹنگ سے خطاب کرنے والوں میں پی کے مانجھی،سریندر سنگھ،رامانند مہتو،سدھیر کمار سریواستو،راجکمار سریواستو،گنیش پرساد وغیرہ شامل تھے۔موقع پر لائنز کلب آف چھپرہ نے کیمپ لگایا اور پنشنرز کا بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر چیک کیا۔

Bihar

حاجی پور:ٹیچروں کے مسائل سے متعلق تنظیم کا اجلاس

Published

on

(پی این این)
حاجی پور:بہار راجیہ پرارمبھک شکشک سنگھ ویشالی کی ایک اہم میٹنگ صوبائی کمیٹی کی ہدایات کے مطابق شیرو منی مارکیٹ، دگھی کلا پشچم (سمراٹ اشوک سینا کے مرکزی دفتر) حاجی پور میں منعقد ہوئی۔ اجلاس میں اساتذہ کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلعی سکریٹری پنکج کشواہا نے کہا کہ اساتذہ کو تین تین ماہ تک تنخواہ نہ ملنا انتہائی افسوسناک اور بدقسمتی کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ہی بنائی گئی قواعد و ضوابط کے مطابق نہ تو اساتذہ کو ترقی (پروموشن) دے رہی ہے اور نہ ہی وقت پر تنخواہ ادا کر رہی ہے، جس کی وجہ سے اساتذہ میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ ضلعی صدر اُتکل کانت نے کہا کہ صوبائی کمیٹی کی ہدایات کے مطابق تنظیم کو مزید مضبوط بنانے کے لیے فعال اراکین کی رکنیت سازی مہم چلائی جائے گی اور بلاک سطح پر کانفرنسوں کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مانسون اجلاس کے دوران بہار اسمبلی کے سامنے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔اجلاس میں موجود تمام مقررین نے واضح طور پر کہا کہ گریجویٹ اور اساتذہ حلقۂ انتخاب سے منتخب ہونے والے نمائندے اسمبلی یا میڈیا میں اساتذہ کے مسائل اٹھا دینے کو ہی مسئلے کا حل سمجھتے ہیں، جبکہ عملی طور پر مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
اجلاس کے اختتام پر ضلعی تعلیم افسر (ڈی ای او) ویشالی کے ذریعے وزیراعلیٰ بہار کو 21 نکاتی مطالبات پر مشتمل ایک یادداشت بھیجی گئی۔ یادداشت میں مقررہ ابتدائی اساتذہ کو 12 سالہ خدمات کی بنیاد پر ترقی دینے، بیسک گریڈ میں کام کر رہے گریجویٹ اہل اساتذہ کو 8 سال مکمل ہونے پر گریجویٹ گریڈ میں ترقی دینے، تمام زمروں کے اساتذہ کو ضلع کے اندر اور بین اضلاع رضاکارانہ تبادلے کی سہولت فراہم کرنے، خصوصی اساتذہ کی ترقی کے عمل کو فوری طور پر مکمل کرنے سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔ اجلاس کی صدارت ضلعی صدر اُتکل کانت نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ضلعی سکریٹری پنکج کشواہا نے انجام دیے۔
اجلاس میں نائب صدر للت داس، مشترکہ سکریٹری آنند موہن، خزانچی رویندر کمار، بلاک صدر وکیل رائے، اکبر علی، محمد شاہنواز عطا، سنجے کمار، سمن سنجے داس، منیش کمار، رام دیال یادو، راج نارائن مہتو، نریش کمار سمیت بڑی تعداد میں تنظیم کے کارکنان اور اساتذہ موجود تھے۔

Continue Reading

Bihar

آنند پشکر نے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے کی ملاقات

Published

on

(پی این این)
چھپرا :سارن ٹیچرس حلقہ سے جے ڈی یو کے سابق امیدوار آنند پشکر نے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے ملاقات کی۔
میٹنگ کے دوران بہار میں تعلیم کے روڈ میپ،ریاست کی مجموعی ترقی اور آئندہ سارن ٹیچرس حلقہ انتخاب کی تیاریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران آنند پشکر نے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی حمایت اور آشیرواد کے لیے اظہار تشکر کیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ نتیش کمار نے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے انہیں سارن ٹیچرس حلقہ کے لئے جے ڈی یو امیدوار کے طور پر نامزد کیا تھا۔آنے والے انتخابات کے لیے ان کی رہنمائی اور تجربے پر بھروسہ کرنا متاثر کن ہے۔
آنند پشکر نے کہا کہ بہار کی سیاست میں اہم مقام رکھنے والے نتیش کمار نے انتخابی حکمت عملی،تنظیم کو مضبوط بنانے اور اساتذہ اور ووٹروں کے درمیان موثر رابطہ قائم کرنے کے حوالے سے قیمتی تجاویز پیش کیں۔
اس موقع پر جے ڈی یو کے ریاستی سکریٹری دھیرج کمار،قانون ساز کونسلر کے وہپ اور ریاستی خزانچی للن صراف بھی موجود تھے۔آنند پشکر نے کہا کہ ان کا عزم اساتذہ کے مسائل کو حل کرنا،تعلیمی نظام کو مضبوط کرنا اور سارن ٹیچر حلقہ کی مجموعی ترقی کے لیے مسلسل کام کرنا ہے۔

Continue Reading

Bihar

بنکروں کی ترقی کیلئے ریاستی حکومت پُرعزم ،نالندہ کی باون بوٹی دستکاری ملک کی میراث، اسے بچانا اور بڑھانا ہم سب کی ذمہ داری: وزیر شراون کمار

Published

on

(پی این این)
نالندہ:جے ڈی یو قانون ساز پارٹی کے رہنما، بہار حکومت کے دیہی ترقی اور اطلاعات و عام رابطہ محکمہ کے وزیر شراون کمارنے آج بہار شریف کے بَسوان بگہا میں باون بوٹی کی آرائشی اشیاء بنانے میں مصروف بنکروں سے ملاقات کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ جی آئی ٹیگ نالندہ کی پہچان اور بنکروں کی محنت کا اعزاز ہے۔ اب نالندہ کی باون بوٹی ساڑی ملک و دنیا میں اپنی خاص شناخت کے ساتھ فروخت ہوگی۔ جِیوِکا کے ذریعے تمام سرکاری پروگراموں میں انگوتر کے طور پر استعمال کر کے اس کا پرچار و نشر کر کے ترقی دی جائے گی۔ گرام شری میلوں میں دیہی ترقی کے ذریعے اسٹال لگا کر باون بوٹی کے فن کو وسعت دی جائے گی۔
باون بوٹی کی کاریگری صدیوں پرانی ہے۔ ہر ایک ساڑی میں بنکروں کی کلا اور روایت نظر آتی ہے۔ جی آئی ٹیگ ملنے سے نقل پر روک لگے گی اور بنکروں کو ان کے مصنوعات کی مناسب قیمت ملے گی۔ انہوں نے بنکروں کو یقین دلایا کہ ریاستی حکومت ان کی ترقی کے لیے پُرعزم ہے۔ مارکیٹنگ، ڈیزائن کی ترقی اور تربیت میں ہر مدد دی جائے گی۔ ای-کامرس پلیٹ فارم سے جوڑ کر ان ساڑیوں کی فروخت بڑھائی جائے گی تاکہ بنکروں کی آمدنی دوگنی ہو سکے۔
بہار کی دستکاری ہماری دھروہر(میراث، ثقافتی سرمایہ، قومی ورثہ) ہے۔ اسے بچانا اور بڑھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ بَسوان بگہا اور نیپورہ گاؤں کے بنکر بہار کا فخر ہیں۔ حکومت ان کے ہنر کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔ سابق وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار نے اس کلا کو بڑھانے اور سنوارنے کا کام کیا ہے۔ بہار کی حکومت ہر ممکن مدد کرتی رہی ہے اور آگے بھی کرتی رہے گی۔ دھروہر کو بچانے اور سنوارنے کے لیے ہماری حکومت پُرعزم ہے۔قومی سطح پر باون بوٹی کی آرائشی اشیاء کی وجہ سے ہی بَسوان بگہا کو پہچان اور عزت ملی، جس میں پدم شری مرحوم کپل دیو کامت کی سخت محنت اور لگن کا نتیجہ ہے۔
رکنِ پارلیمنٹ کوشلندر کمار نے کہا کہ یہاں کے بنکر خود کفیل بن رہے ہیں۔ حکومت کے ذریعے ہر ممکن مدد پہنچا کر بنکروں کی معاشی حالت کو مضبوط اور مستحکم کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ میں باون بوٹی کی ترقی کی بات مضبوطی سے اٹھاؤں گا۔لاکھوں دیوی نے کہا کہ باون بوٹی کی کلا کا آغاز مرحوم کپل بابو نے کیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں محترم صدرِ جمہوریہ کے ہاتھوں پدم شری اعزاز سے نوازا گیا۔ اب باون بوٹی کے فن کو جی آئی ٹیگ دیا گیا ہے، جس سے بنکروں کے دن پھریں گے اور ان کا خواب ساکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔اس موقع پر بڑی تعداد میں بنکر، خواتین خود امدادی گروہ کی رکنیں، گلریز انصاری، ضلع ترجمان، ڈاکٹر دھننجے کمار، دیو کمار منگلم، رِکی کمار، پشپ راج پانڈے، سچیدانند پرساد وغیرہ موجود تھے۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network