تازہ ترین
بہار محکمۂ تعلیم میں 98 لاکھ روپے کی بدعنوانی ،معاملے کے انکشاف کے بعد ڈی ای او اور ڈی پی او معطلویشالی میں ترہت گریجویٹ اور ٹیچر انتخابات سے متعلق پولنگ ٹیموں کی مشترکہ بریفنگارریہ:ایم ایل سی انتخابات کےشفاف انعقاد کیلئےمیٹنگ کا انعقاد،  ڈی ایم نے مکمل اور منصفانہ ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لئے حکام دی ضروری ہدایاتدارالعلوم وقف دیوبند میں سالانہ انعامی جلسہ کے انعقاد ،حالات حاضرہ کے پیش نظر مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے طلبہ سے کیا خصوصی خطاباے ایم یو گرلز اسکول میں عالمی یومِ دماغی صحت کے موقع پرنشست کاانعقادصحافی نسیم احمد کے قتل کیخلاف نانوتہ میں صحافیوں کا احتجاجنیو نوئیڈا کو350 کسان دیں گے اپنی زمینرجیم چینج کی بات کرنے میں کچھ غلط نہیں،نیہا بورا کی دہلی ہائی کورٹ میں دلیل
uttar pradesh

میں اہم تھا، یہی میرا وہم تھا، تدفین کے بعد سامنے آ جائے گی حقیقت

آگرہ: مسجد نہر والی کے خطیب محمد اقبال نے خطبۂ جمعہ میں نمازیوں کو آخرت کی یاد دلاتے ہوئے دنیا کی حقیقت اور انسانی غفلت پر مؤثر گفتگو کی۔انہوں نے ایک جنازے میں شریک شخص کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ تدفین کے موقع پر قبرستان میں ایک قبر پر یہ جملہ لکھا دیکھا: میں اہم تھا، یہی میرا وہم تھا۔ یہ جملہ دیکھ کر میرے قدم چند لمحوں کے لیے رک گئے۔
خطیب محمد اقبال نے کہا کہ انسان دنیا میں عہدے، دولت، شہرت اور فالوورز کی وجہ سے خود کو بہت اہم سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ موت کے بعد انسان کو اپنی اصل حقیقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم دنیا کی زندگی کو کھیل، تماشا، زینت اور باہمی فخر قرار دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم سورۃ التکاثر میں انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ مال و جاہ کی کثرت کی طلب اسے غفلت میں ڈال دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ قبر تک پہنچ جاتا ہے۔ قبر میں انسان کا عہدہ، دولت اور شہرت کام نہیں آئے گی، بلکہ تقویٰ اور نیک اعمال کام آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بغیر دفتر، دکان، فیکٹری یا ادارہ نہیں چل سکتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی دنیا اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے۔
خطیب محمد اقبال نے کہا کہ اہم وہ نہیں جو لوگوں میں مشہور ہو، بلکہ اہم وہ ہے جو اللہ کے نزدیک مقبول ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انسان کی صورتوں اور مال کو نہیں بلکہ اس کے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔انہوں نے نمازیوں سے اپیل کی کہ دنیا کی خوش فہمی اور غفلت میں زندگی گزارنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا، تقویٰ اور نیک اعمال کے حصول کی کوشش کی جائے، کیونکہ حقیقی کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔