دلی این سی آر
لائسنس اور این او سی کیلئے نہیں لگانے پڑیں گے دفاتر کے چکر:ریکھا
(پی این این)
نئی دہلی:دہلی حکومت نے گڈ گورننس، شفافیت اور عوامی سہولیات کو مضبوط کرنے کی سمت میں اہم قدم اٹھاتے ہوئے 23 نئی خدمات کو دہلی رائٹ آف سٹیزن ٹو ٹائم باؤنڈ ڈیلیوری آف سروسز ایکٹ، 2011کے تحت مقررہ وقت میں خدمات کی فراہمی کے نظام میں شامل کیا ہے۔وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے پیر کو کہا کہ اس فیصلے سے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ صنعت، تجارت، ہوٹل، سیاحت، تعمیرات اور سروس سیکٹر سے جڑے کاروباریوں اور عام لوگوں کو براہ راست فائدہ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت کا مقصد شہریوں اور کاروباریوں کو سرکاری خدمات مقررہ وقت کے اندر فراہم کرنا ہے۔ اب مختلف محکموں سے ملنے والی اہم اجازت، لائسنس، رجسٹریشن اور نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) طے شدہ وقت کے اندر جاری کیے جائیں گے۔ اس سے غیر ضروری تاخیر اور دفاتر کے چکر لگانے کے مسئلے میں کمی آئے گی۔ حکومت ملک کے دارالحکومت دہلی کو سرمایہ کاری، تجارت اور روزگار کے لیے مزید سازگار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ مقررہ وقت میں خدمات کی فراہمی کا یہ نظام نہ صرف شہریوں کے حقوق کو یقینی بنائے گا بلکہ انتظامی جوابدہی کو بھی مضبوط کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک میں ایز آف ڈوئنگ بزنس کو فروغ دینے کے لیے مسلسل اصلاحات کی گئی ہیں۔ مرکزی حکومت کی اسی سوچ کو آگے بڑھاتے ہوئے دہلی حکومت بھی ایسے نظام تیار کر رہی ہے جس سے صنعتوں، تجارتی اداروں، اسٹارٹ اپس اور سروس سیکٹر کو زیادہ آسان ماحول مل سکے۔اب نئے نظام کے تحت محکمہ محنت میں فیکٹری پلان کی منظوری 15 دنوں میں اور شاپ اینڈ اسٹیبلشمنٹ ایکٹ کے تحت رجسٹریشن صرف ایک دن میں کیا جائے گا۔ دہلی جل بورڈ کے ذریعہ سیوریج کنکشن 15 دنوں میں فراہم کیا جائے گا، جبکہ دہلی ٹورازم اینڈ ٹرانسپورٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعہ فلم کی شوٹنگ کی اجازت 15 دنوں کے اندر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ محکمہ توانائی کے تحت بجلی کے میٹر سے متعلق درخواست اور کنکشن کے معاہدے کا عمل 60 دنوں میں مکمل کیا جائے گا۔ لیگل میٹرولوجی کے تحت دکانوں، صنعتوں اور تجارتی اداروں میں استعمال ہونے والے ناپ تول کے آلات کی رجسٹریشن کا کام 45 دنوں میں پورا کیا جائے گا۔ دہلی پلوشن کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی) کے ذریعہ بیٹری ویسٹ مینجمنٹ قوانین کے تحت بیٹری کے فضلے کو جمع کرنے، ذخیرہ کرنے، ٹرانسپورٹیشن اور ری سائیکلنگ سے متعلق سرگرمیوں کے لیے ضروری اجازت نامہ (آتھرائزیشن) 15 دنوں میں جاری کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن سے متعلق خدمات میں واٹر اسپورٹس اور ایڈونچر اسپورٹس آپریٹرز کی رجسٹریشن اور ایموزمنٹ پارک چلانے کی منظوری 60 دنوں میں، فوڈ بزنس کے لیے اسٹیٹ لائسنس کے واسطے مقامی ادارے کا این او سی 60 دنوں میں، ہوٹل رجسٹریشن یا آپریشن کی اجازت 60 دنوں میں اور مذبح کا لائسنس 60 دنوں میں جاری کیا جائے گا۔ موبائل ٹاور لگانے کی اجازت 30 دنوں میں اور تعمیراتی مواد کو جمع کرنے کی منظوری صرف ایک دن میں دستیاب کرائی جائے گی۔ محکمہ زراعت کے ذریعہ کیڑے مار دوا کنٹرول آپریشن لائسنس، فروخت کی رجسٹریشن اور بیج کے لائسنس کے عمل 21-21 دنوں میں مکمل کیے جائیں گے۔
محکمہ آبکاری کے تحت بار لائسنس 30 دنوں میں، آئی ایم ایف ایل کیٹیگری کے برانڈ؍لیبل کی رجسٹریشن 42 دنوں میں اور ایف ایل کیٹیگری کے برانڈ؍لیبل کی رجسٹریشن 42 دنوں میں کی جائے گی۔انہوں نے معلومات دی کہ محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کے ذریعہ دہلی پریزرویشن آف ٹریز ایکٹ کے تحت درختوں کی کٹائی سے متعلق اجازت کی درخواستوں پر 60 دنوں کے اندر فیصلہ کیا جائے گا۔ محکمہ پبلک ورکس (پی ڈبلیو ڈی) کے ذریعہ روڈ کٹنگ اور اس سے جڑے دیگر کاموں سے متعلق اجازت 45 دنوں میں فراہم کی جائے گی۔
دلی این سی آر
نوجوانوں میں دینی بیداری پیدا کریں مسلمان: مفتی مکرم
(پی این این)
نئی دہلی :شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میںمسلمانوں سے اپیل کی کہ اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کریں اور نوجوانوں میں دینی بیداری پیدا کریں تاکہ وہ گمراہ نہ ہو سکیں۔ انہوں نے احمد آباد سیریل بم دھماکوں کے معاملے میں گجرات ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ کے فیصلے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر متوقع اور انتہائی مایوس کن قرار دیا انہوں نے کہا کہ فیصلہ سے ظاہر ہے کہ ملزمین کی اپیلوں پر غور نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ملزمین کی طرف سے اپیلوں کی پیروی کرنے کے لیے فاضل وکلا کی بڑی ٹیم موجود تھی لیکن جو فیصلہ آیا وہ ناقابل یقین ہے اور چونکا دینے والا ہے ۔ مفتی مکرم نے کہا اس فیصلے نے انصاف پسند ہر شہری کو شدید غم میں مبتلا کر دیا ہے ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ میں انصاف ملے گا ۔ پہلے ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے کہ نچلی عدالتوں کے فیصلے سپریم کورٹ کے سامنے ٹک نہیں سکے انشاء اللہ اس مقدمے میں بھی ایسا ہی ہوگا ۔
مفتی مکرم نے چھتیس گڑھ حکومت کی طرف سے مدارس کے خلاف کاروائی کی مذمت کی انہوں نے چھتیس گڑھ وقف بورڈ کی بھی مذمت کی جس نے مدرسہ کے تعلیمی نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعلی کو خط لکھا ہے وقف بورڈ کا استدلال ہے کہ مدارس میں جدید تعلیم کے لیے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے سے طلبہ کی مجموعی ترقی متاثر ہوتی ہے مفتی مکرم نے کہا کہ اسکولوں میں پڑھائے جانے والا نصاب الگ ہوتا ہے۔
اور مدارس کا نصاب الگ ہوتا ہے اسکولوں کی تعلیم بھی مفید ہے اور مدرسہ کی تعلیم بھی مفید ہے اکثر و بیشتر مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کو بھی بقدر ضرورت شامل کیا جا رہا ہے لہذا اس پر اعتراض کرنا بالکل غلط ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چھتیس گڑھ وقف بورڈ نے سرکاری ایما پر مدرسہ کے تعلیمی نظام میں تبدیلی کے لیے وزیر اعلی کو خط لکھا ہے اس میں کوئی دنیاوی فائدہ مد نظر ہوگا ہمارا مطالبہ ہے کہ مدرسہ کی تعلیم کو کہیں بھی بند نہ کیا جائے مدرسہ ایجوکیشن کو آئین کی تائید حاصل ہے یہ اقلیتی طبقہ کو دین سے محروم کرنے کی سازش ہے اور سرکاری اسکول بھی بہت کم ہیں۔مفتی مکرم نے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی معاہدہ ختم ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ۔انہوں نے اپیل کی کہ جنگ بندی معاہدہ ختم نہ کیا جائے۔
دلی این سی آر
دہلی کی بسوں میں خواتین کے مفت سفر کا نیا سرکلرجاری
خواتین کے لیے یکم اگست سے دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ڈی ٹی سی) کی بسوں میں مفت سفر کرنے کے لیے گلابی سہیلی کارڈ لازمی کر دیا گیا ہے۔ ڈی ٹی سی نے کہا ہے کہ دہلی میں خواتین کے لیے یکم اگست سے پنک سہیلی کارڈ کے بغیر بس سروس مفت نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ خواتین یکم اگست سے اس کارڈ کے بغیر مفت بس سروس کا فائدہ نہیں اٹھا سکیں گی۔حکومت موجودہ پیپر پنک ٹکٹ سسٹم کو مرحلہ وار ختم کر رہی ہے۔تازہ ترین ڈی ٹی سی سرکلر کے مطابق، کاغذی گلابی ٹکٹ اب صرف 31 جولائی تک جاری کیے جائیں گے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یکم اگست 2026 سے صرف گلابی سہیلی کارڈ والی خواتین ہی مفت سفر کی اہل ہوں گی۔ خواتین کو ڈی ٹی سی اور دہلی انٹیگریٹڈ ملٹی ماڈل ٹرانزٹ سسٹم (ڈی آئی ایم ٹی ایس) کلسٹر بسوں میں داخل ہونے پر کارڈ کو ٹیپ کرنے کی ضرورت ہوگی۔سرکلر کے مطابق سمارٹ کارڈ کے بغیر سفر کرنے والی خواتین کو 31 جولائی کے بعد گلابی ٹکٹ جاری نہیں کیا جائے گا اور انہیں ٹکٹ خریدنا ہوگا۔ سہیلی پنک اسمارٹ کارڈ اسکیم کے تحت، حکومت دہلی ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ڈی ٹی سی) اور کلسٹر بسوں میں خواتین اور ٹرانس جینڈر لوگوں کو مفت سفر فراہم کرتی ہے۔دہلی میں 1.4 ملین سے زیادہ گلابی سہیلی کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ دہلی کے وزیر ٹرانسپورٹ پنکج سنگھ نے یہ جانکاری دی۔ ان کے مطابق، دہلی بھر میں تقریباً 73 تقسیمی مراکز اس وقت کارڈ جاری کر رہے ہیں، جن میں روزانہ تقریباً 11,000 کارڈ جاری کیے جاتے ہیں۔’گلابی سہیلی اسمارٹ کارڈ، جو خواتین کو سرکاری بسوں میں مفت سفر کی پیشکش کرتا ہے، انہیں کنڈکٹر سے بار بار بات چیت کیے بغیر سفر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ اصل میں یکم جولائی سے شروع ہونے والے پنک ٹکٹ کے بجائے صرف پنک اسمارٹ کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے دہلی بسوں میں سفر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، لیکن تاریخ ملتوی کر دی گئی۔ اب، 31 جولائی کو پنک ٹکٹ کے ذریعے سفر کرنے کا آخری دن قرار دیا گیا ہے۔
دلی این سی آر
ملک میں خالص پٹرول ملنا چاہیے 82روپےفی لیٹر: کجریوال
نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کجریوال نے ملک میں 102 روپے فی لیٹر فروخت ہونے والے ای-20 بلینڈڈ پٹرول کی قیمت کو لے کر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خالص پٹرول 82 روپے فی لیٹر ملنا چاہیے، لیکن حکومت عوام کو 102 روپے فی لیٹر میں ای-20 پٹرول فروخت کر رہی ہے۔ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت اس وقت 70 ڈالر فی بیرل ہے۔ اس قیمت کے حساب سے پٹرول تیار کرنے کی لاگت تقریباً 42 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ اگر تمام ٹیکس بھی شامل کر لیے جائیں تب بھی خالص پٹرول 82 روپے فی لیٹر اور ای-20 پٹرول تقریباً 70 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہونا چاہیے۔ اسی حساب سے ڈیزل کی قیمتیں بھی کم ہونی چاہئیں۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا مہنگائی پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ اگر ان کی قیمتیں کم ہوں گی تو مہنگائی بھی خود بخود کم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تیل کمپنیاں پہلے بھی 77 ہزار کروڑ روپے کا منافع کما چکی ہیں اور اب بھی مسلسل منافع کما رہی ہیں، لیکن چند دن جاری رہنے والی جنگ کا بہانہ بنا کر عوام سے غیر ضروری طور پر زیادہ قیمت وصول کی جا رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے گھٹ کر 70 ڈالر فی بیرل رہ گئی ہے۔ فروری، مارچ، اپریل اور مئی کے دوران قیمت تقریباً 115 ڈالر فی بیرل تھی، لیکن اب یہ کم ہو کر 70 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے۔ دوسری جانب، ملک میں مئی کے دوران ای-20 پٹرول کی قیمت 102 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی اور آج بھی وہی قیمت برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب خام تیل کی قیمت میں اتنی بڑی کمی آئی ہے تو ملک میں پٹرول کی قیمت بھی کم ہونی چاہیے۔ ہماری کیلکولیشن کے مطابق اس وقت پٹرول کی قیمت 82 روپے فی لیٹر یا اس سے بھی کم ہونی چاہیے، اور اس قیمت پر ای-20 نہیں بلکہ خالص پٹرول دستیاب ہونا چاہیے۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خام تیل کی موجودہ قیمت 70 ڈالر فی بیرل ہے۔ اگر اسے موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق روپے میں تبدیل کیا جائے تو خام تیل کی قیمت تقریباً 42 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ اس کے بعد ریفائننگ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) کے مارجن اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات تقریباً 9 روپے فی لیٹر، مرکزی ٹیکس 12 روپے فی لیٹر، ریاستوں کا اوسط وی اے ٹی 25 فیصد یعنی تقریباً 16 روپے فی لیٹر اور ڈیلر کمیشن 3 روپے فی لیٹر شامل کیا جائے تو مجموعی قیمت تقریباً 82 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ اگر اسی پٹرول کو ای-20 بنایا جائے تو اس کی قیمت تقریباً 70 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے، نہ کہ 102 روپے فی لیٹر۔ اروند کیجریوال نے مزید کہا کہ اسی اصول کے مطابق ڈیزل کی قیمتیں بھی کم کی جا سکتی ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل سستے ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوں گے، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ سمیت تقریباً ہر چیز کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور مہنگائی پر بڑا اثر پڑے گا، جس سے عوام کو خاطر خواہ راحت ملے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت یا مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ جنگ کے دوران تیل کمپنیوں کو جو نقصان ہوا تھا، اس کی تلافی اب منافع کما کر کی جا رہی ہے، لیکن یہ دلیل سراسر غلط ہے۔ 2014 سے اب تک بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں کم از کم چھ مرتبہ نمایاں کمی آئی، اس کے باوجود حکومت نے ملک میں پٹرول کی قیمتیں کم نہیں کیں۔ جب خام تیل سستا ہونے پر کمپنیوں نے بھاری منافع کمایا تو وہ رقم کہاں گئی؟اروند کیجریوال نے سوال کیا کہ کیا اس منافع سے تین چار ماہ جاری رہنے والی جنگ کے دوران ہونے والے محدود نقصان کی تلافی نہیں کی جا سکتی؟ اطلاعات کے مطابق صرف گزشتہ سال ہی سرکاری تیل کمپنیوں کو تقریباً 77 ہزار کروڑ روپے کا ریکارڈ منافع حاصل ہوا، جبکہ گزشتہ تین چار برسوں سے بھی وہ مسلسل بھاری منافع کما رہی ہیں۔ پھر اس منافع کو نقصانات پورے کرنے کے لیے کیوں استعمال نہیں کیا جا رہا؟آخر میں اروند کیجریوال نے کہا کہ اس وقت عوام سے 102 روپے فی لیٹر وصول کرنا سراسر غیر منصفانہ ہے۔ میری حکومت سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ملک کے عوام کو 82 روپے فی لیٹر کی قیمت پر خالص پٹرول فراہم کیا جائے، اور اگر ای-20 پٹرول ہی فروخت کیا جائے تو اس کی قیمت اس سے بھی کم مقرر کی جائے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر11 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
