Connect with us

دلی این سی آر

ہماری صدا ٹرسٹ کےزیر اہتمام تعلیمی وتربیتی کیمپ کا شاندار اختتام پذیر

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: ہماری صدا ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے 7-Day Future Creator AI CreativeLearning Summer Camp 2026 کا شاندار اختتام پذیر ہوا۔ سات روزہ اس تعلیمی و تربیتی کیمپ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو میڈلز، ٹرافیز اور تعریفی اسناد پیش کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
اختتامی تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی سینئر کمیونٹی لیڈر ڈاکٹر فخرِ عالم، سینئر انجینئر محمد عارض، SIO کے ریاستی صدر حارث نیازی، SIO دہلی کے زونل سیکریٹری سید عمیر افضل، سینئر منیجر سعید فہد اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ریسرچ اسکالر و SIO دہلی کے جونیئر ایسوسی ایٹ سرکل سیکریٹری محمد الفاظ خان شریک ہوئے۔ طلبہ نے تمام معزز مہمانوں کا گلدستے پیش کرکے پرتپاک استقبال کیا۔مہمانانِ خصوصی نے طلبہ کی صلاحیتوں، محنت اور تخلیقی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے انہیں مستقبل میں مزید محنت اور کامیابی کے لیے نیک تمناؤں سے نوازا۔تقریب کا آغاز ہماری صدا ٹرسٹ کے بانی و جنرل سیکریٹری محمد ارشاد عالم کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔
انہوں نے تمام مہمانوں، والدین، رضاکاروں اور طلبہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس کیمپ کا مقصد بچوں اور نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، تخلیقی صلاحیتوں اور عملی مہارتوں سے روشناس کرانا ہے تاکہ وہ مستقبل کے چیلنجز کا اعتماد کے ساتھ سامنا کر سکیں۔مختلف مقابلوں میں نمایاں کارکردگیکلاس اول تا ہشتم کے طلبہ کے درمیان مختلف مقابلے منعقد کیے گئے جن میں بہترین کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا۔سنگنگ مقابلہ میں آہل، انم، محمد عمر اور انکت کو اعزازات دیے گئے۔ڈرائنگ مقابلہ میں یوراج، حامد رضا اور پریم جبکہ رائٹنگ مقابلہ میں کنال ارہان اور شہزاد نے نمایاں پوزیشن حاصل کی۔اسپیچ مقابلہ میں فیض، محمد یاسین اور زارا کو انعامات سے نوازا گیا۔اسٹار آف دی کیمپ کیٹیگری میں جونیئر گروپ (کلاس 1 تا 5) سے جوہان، ونشیکا اور ماینک جبکہ سینئر گروپ (کلاس 6 تا 8) سے شاہینہ، زویا، علینہ اور ریحان کو اعزازات دیے گئے۔اسی طرح آیت، ابشام، شاریق، انوراگ، ہیبا اور آفیہ کو ابھرتے ہوئے ستاروں (Emerging Stars) کے طور پر سراہا گیا۔کلاس 9 تا گریجویشن کے طلبہ کے لیے منعقدہ خصوصی امتحان میں نازیہ نے پہلی، علمہ خان نے دوسری اور محمد عرفان خان نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ انہیں خصوصی شیلڈز اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا۔رضاکاروں کی خدمات کا اعترافکیمپ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے والے رضاکاروں کو بھی ان کی محنت، لگن اور خدمات کے اعتراف میں تعریفی اسناد اور یادگاری مومنٹوز پیش کیے گئے۔ رضاکاروں نے اس اعزاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ بھی سماجی خدمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔جدید تعلیم اور مستقبل کی مہارتوں کا منفرد پروگرامواضح رہے کہ مدن پور کھادر ایکسٹینشن، نئی دہلی میں واقع Rising Skill Development Centre (RSDC) میں منعقد ہونے والے اس سات روزہ کیمپ میں کلاس اول سے گریجویشن تک کے طلبہ نے شرکت کی۔کلاس 1 تا 8 کے بچوں کو AI آگاہی، سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال، آرٹ اینڈ کرافٹ، اخلاقی و سماجی اقدار، بھائی چارے اور مساوات جیسے موضوعات پر تربیت دی گئی۔
جبکہ کلاس 9 تا گریجویشن کے طلبہ کو Artificial Intelligence (AI)، Communication Skills، Public Speaking، Photography، Reel Making، Advertisement Creation اور Digital Content Production جیسی جدید اور عملی مہارتیں سکھائی گئیں۔
سات روزہ یہ کیمپ طلبہ کے لیے ایک یادگار تجربہ ثابت ہوا جس نے انہیں سیکھنے، تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے اور مستقبل کے لیے خود کو بہتر طور پر تیار کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا۔محمد ارشاد عالم نے کہا کہ ہماری صدا ٹرسٹ آئندہ بھی ایسے تعلیمی، ہنر مندی اور شخصیت سازی کے پروگرام جاری رکھے گی تاکہ نوجوان نسل کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے اور وہ ملک و قوم کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

دہلی میٹرو کی گولڈن لائن پر کام آخری مراحل میں

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی : دہلی میٹرو کی نئی گولڈن لائن پر کام تقریباً اپنے آخری مراحل میں ہے۔ جلد ہی، آپ اس لائن پر میٹرو کو آسانی سے چلتے ہوئے دیکھیں گے، جس سے ہوائی اڈے اور جنوبی دہلی کے علاقوں کے درمیان آسانی سے سفر کیا جا سکتا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس لائن کا پہلا حصہ سال کے آخر تک یعنی دسمبر تک کھل جائے گا۔ معلوم کریں کہ اس لائن کے کھلنے سے سفر کتنا آسان ہو جائے گا۔دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کے مطابق، ایروسٹی-تغلق آباد گولڈن لائن پر 83 فیصد سول ورک مکمل ہو چکا ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے اندازہ لگایا گیا ہے کہ پہلے مرحلے کا ایک حصہ اس سال دسمبر تک کھول دیا جائے گا۔ پہلا مرحلہ تغلق آباد اور سنگم وہار کے درمیان تقریباً ساڑھے آٹھ کلومیٹر کے حصے کو کھولے گا۔ اس سیکشن میں کل چار اسٹیشن ہوں گے۔ ان میں سے تین اسٹیشنز زیر زمین ہوں گے جبکہ باقی ایک ایلیویٹڈ ہوگا۔
گولڈن لائن دہلی میٹرو کے فیز 4 کے تحت تعمیر کی جانے والی ایک نئی میٹرو لائن ہے۔ اسے پہلے سلور لائن کا نام دیا گیا تھا۔ یہ تقریباً 25.8 کلو میٹر لائن جنوبی دہلی کو اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل 1 سے جوڑے گی۔ تعمیر جون 2022 میں شروع ہوئی اور اب اسے 2026 کے آخر تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔قطب مینار اور مہرولی آرکیالوجیکل پارک جیسے تاریخی مقامات کو نقصان پہنچانے سے بچنے کے لیے لائن کا راستہ تبدیل کر دیا گیا۔ جنوری 2024 میں اس کا نام سلور لائن سے بدل کر گولڈن لائن کر دیا گیا۔ سریتا وہار ڈپو کو بھی گولڈن لائن کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ ڈپو فی الحال دہلی میٹرو کی وائلٹ لائن کے لیے ٹرینیں چلاتا ہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

بڑے پیمانے پرنوجوانوں کو تباہ کر رہی ہےبی جے پی :کجریوال

Published

on

نئی دہلی :عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال نے منشیات کے مسئلے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت حملہ کیا ہے جو پنجاب کے نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر تباہ کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں آنے والی 80 فیصد منشیات بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں سے آرہی ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے زیر اقتدار کئی ریاستوں کا نام لیا، خاص طور پر اس کے لیے گجرات کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ دریں اثنا، کجریوال نے پنجاب میں بی جے پی کے انسداد منشیات مارچ کو بے شرمی قرار دیتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ اگر بی جے پی منشیات کے استعمال کو روکنا چاہتی ہے تو اسے پنجاب میں اے اے پی حکومت سے سیکھنا چاہئے۔ کیجریوال نے بی جے پی کو ہر چیز پر سیاست نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا۔سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں کیجریوال نے لکھا، “2022 میں جب ہماری حکومت بنی تو 80 فیصد منشیات پاکستان سے آتی تھیں، AAP حکومت نے اینٹی ڈرون سسٹم لگا کر پاکستان سے آنے والی منشیات کو کنٹرول کیا، جس کے نتیجے میں آج صرف 20 فیصد منشیات پاکستان سے آتی ہیں۔”
انہوں نے منشیات کی اسمگلنگ کے لیے بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا، “آج 80 فیصد منشیات بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں جیسے گجرات، راجستھان، ہریانہ، اتر پردیش، اور دہلی سے آرہی ہیں۔ کیا بی جے پی اپنی ریاستوں میں منشیات کے کاروبار کو روکنے میں ناکام رہی ہے، یا وہ نہیں چاہتی؟” وہ تیس سال سے گجرات میں برسراقتدار ہیں اور وہاں منشیات کا کاروبار سب سے زیادہ ہے۔پوسٹ کے آخر میں، AAP کنوینر نے لکھا، مندرا بندرگاہ کے ذریعے بھارت میں منشیات داخل ہوتی ہیں، جس کی ذمہ داری مرکزی بی جے پی حکومت پر عائد ہوتی ہے، اور ان کی بے شرمی دیکھیں، یہ لوگ پنجاب میں منشیات کے خلاف مارچ کر رہے ہیں۔ اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں تو پنجاب سے سیکھیں، AAP سے سیکھیں، اور اپنی ریاستوں میں بھی منشیات کا خاتمہ کریں۔ ہر چیز پر سیاست نہ کریں۔”
کیجریوال نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک مضمون بھی شیئر کیا، جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ جہاں پولس نے سرحد پار سے آنے والی منشیات کو روکنے میں زبردست کامیابی حاصل کی ہے، وہیں دوسری طرف ان ادویات کی مانگ پڑوسی ریاستوں سے فارماسیوٹیکل ادویات درآمد کرکے پوری کی جارہی ہے۔
مضمون میں پولیس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پنجاب میں داخل ہونے والی تقریباً 80 فیصد دوائیاں اب گجرات، اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ اور دہلی سے آتی ہیں۔ اس عرصے کے دوران، 2025 سے اب تک 1.154 ملین گولیاں اور کیپسول قبضے میں لیے جا چکے ہیں۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ جہاں پولیس ڈرونز اور پاکستان کی سرحد پر توجہ نے ایک سپلائی روٹ میں خلل ڈالا ہے، وہیں فارماسیوٹیکل چینلز کی شکل میں ایک نیا اور زیادہ خطرناک نیٹ ورک سامنے آیا ہے۔ پولیس نے اطلاع دی ہے کہ طبی مقاصد کے لیے منشیات کو غیر قانونی مارکیٹ میں موڑ دیا جا رہا ہے، جو اس چیلنج کو مجرمانہ اور ریگولیٹری دونوں بناتا ہے۔

 

 

Continue Reading

دلی این سی آر

جامعہ کے طلبہ کی وی ایم اے سی 2026 میں شاندار کارکردگی

Published

on

نئی دہلی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی فیکلٹی آف لاء نے ورچوئل میڈی ایشن ایڈووکیسی کمپٹیشن وی ایم اے سی) 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اپنے طلبہ عزیز عمر (تیسرے سال)، سیدہ یسرا (چوتھے سال) اور سارہ اظفر (تیسرے سال) کو مبارکباد پیش کی ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے طلبہ نے اس باوقار مقابلے میں 60 سے زائد ٹیموں کا مقابلہ کیا اور ثالثی (Mediation)، وکالت (Advocacy)، گفت و شنید (Negotiation) اور سہولت کاری (Facilitation) کے شعبوں میں غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
قابلِ تحسین کارکردگی کے اعتراف میں ٹیم کو 20,000 روپے کی وی ایم اے سی اسکالرشپ دی گئی۔ اس کے علاوہ ٹیم نے ‘اسپیشل ایوارڈز کیٹیگری’ میں پانچواں انعام بھی حاصل کیا، جس کے تحت اسے 1,000 روپے کی انعامی رقم دی گئی۔ اس طرح ٹیم نے مجموعی طور پر 21,000 روپے کے انعامات اور اعزازات حاصل کیے۔
یہ کامیابی طلبہ کی محنت، تیاری اور متبادل تنازعات کے حل (Alternative Dispute Resolution – ADR) کے شعبے میں اپنی مہارت کو فروغ دینے کے عزم کی عکاس ہے۔ ان کی شاندار کارکردگی سے فیکلٹی آف لاء کا وقار بلند ہوا ہے اور قومی و بین الاقوامی اے ڈی آر مقابلوں میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بڑھتی ہوئی موجودگی میں ایک اور اہم کامیابی کا اضافہ ہوا ہے۔
فیکلٹی نے فیکلٹی آف لاء کے ڈین پروفیسر (ڈاکٹر) غلام یزدانی اور فیکلٹی کنوینر ڈاکٹر علیشہ خاتون کی مسلسل حوصلہ افزائی اور تعاون کا بھی اعتراف کیا، جنہوں نے طلبہ کو ADR مقابلوں میں شرکت اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے مواقع فراہم کیے۔
میڈی ایشن ایڈووکیسی امتحان میں بھی ٹیم نے غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 100 فیصد مجموعی اسکور کے ساتھ کامیابی سے امتحان مکمل کیا، جو میڈی ایشن ایڈووکیسی کی مہارتوں پر ان کی مضبوط گرفت کو ظاہر کرتا ہے۔
ٹیم نے پورے مقابلے کے دوران وقف شدہ رہنمائی، قیمتی مشوروں اور مسلسل تعاون کے لیے محترمہ اسرا مختار اور محترمہ خدیجہ مرزا کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
فیکلٹی آف لاء نے اس قابلِ تحسین کامیابی پر عزیز عمر، سیدہ یسرا اور سارہ اظفر کو دلی مبارکباد پیش کی اور ان کی آئندہ کوششوں میں مسلسل کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network