uttar pradesh
عالمی یومِ ہنرمندیِ نوجوانان کے موقع پر3 روزہ کروشیا ورکشاپ اور ہنر نمائش کا انعقاد
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینٹر فار اسکل ڈیولپمنٹ اینڈ کیریئر پلاننگ (سی ایس ڈی اینڈ سی پی) کے زیر اہتمام عالمی یومِ ہنرمندیِ نوجواناں 2026 کے موقع پر 13 تا 15 جولائی ”ہک، یارن اینڈ کری ایٹوٹی: لرن کروشیا فرام اسکریچ“ کے عنوان سے تین روزہ عملی تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی، جس کے اختتام پر شرکاء کی تیار کردہ مصنوعات کی ایک ہنر نمائش بھی سجائی گئی۔
نمائش میں گارمنٹ میکنگ، فیشن السٹریشن اینڈ اسکیچنگ، ٹیکسٹائل ڈیزائننگ اور مرکز کی جانب سے گزشتہ چند ماہ کے دوران منعقد کیے گئے دیگر ہنر مندی پروگراموں میں شریک طلبہ کے تیار کردہ منصوبے اور تخلیقی نمونے پیش کیے گئے۔ اس موقع پر سینٹر آف کنٹی نیواِنگ اینڈ ایڈلٹ ایجوکیشن اینڈ ایکسٹینشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمیم اختر، جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے پروفیسر سلمان خلیل اور شعبہ تعلیم کے ڈاکٹر محمد شاکر بھی موجود تھے۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر شمیم اختر نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور زندگی بھر سیکھنے کے رجحان کو مستحکم کرنے میں ہنر پر مبنی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی یومِ ہنرمندیِ نوجواناں کے جذبے کے مطابق پیشہ ورانہ مہارتوں اور پائیدار دستکاری کو فروغ دینے کے لیے مرکز کی کوششوں کو سراہا۔
پروفیسر سلمان خلیل نے شرکاء کی تخلیقی صلاحیتوں اور کاروباری امکانات کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ترغیب دی کہ وہ اپنے حاصل کردہ ہنر کو خود روزگار اور آمدنی کے مواقع میں تبدیل کریں۔
ڈاکٹر محمد شاکر نے طلبہ کے جوش و جذبے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام شخصیت سازی، روزگار کے امکانات میں اضافے اور نوجوانوں میں ہنر پر مبنی تعلیم کے بڑھتے ہوئے رجحان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نمائش کی نگرانی سینٹر کی اسٹوڈنٹ کاؤنسلر ڈاکٹر ثمرین حسن خان نے ٹرینرز ادیبہ سلیم، صنوبر اور زینت بانو کے تعاون سے کی۔ ڈاکٹر ثمرین حسن خان نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں طلبہ میں عملی مہارت، تخلیقی صلاحیت، خود انحصاری اور چھوٹے پیمانے پر کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔
کروشیا کی تربیتی نشستیں کری ایٹو کروشیا کی سربراہ محترمہ زینت بانو نے منعقد کیں، جنہوں نے عملی مشقوں اور تعاملی مظاہروں کے ذریعے شرکاء کو کروشیا کے بنیادی اصول، مختلف ٹانکے، دھاگے کے استعمال، ڈیزائن سازی، تکمیلی تکنیکوں اور آرائشی و استعمالی اشیا کی تیاری کی تربیت دی۔
ورکشاپ میں تقریباً 50 طلبہ نے شرکت کی، جبکہ عالمی یومِ ہنرمندیِ نوجواناں 2026 کے موضوع ”اسکِلس فار اے شیئرڈ فیوچر“ پر منعقدہ نعرہ نویسی مقابلے میں بھی 20 سے زائد طلبہ نے پُرجوش انداز میں حصہ لیا۔
پروگرام کے اختتام پر ورکشاپ، مقابلوں، اورینٹیشن سیشنز اور مرکز کی جانب سے منعقدہ دیگر ہنر مندی سرگرمیوں میں شریک طلبہ کو اسناد تقسیم کی گئیں۔
uttar pradesh
جرائم پیشہ افراد پر قابو پانا پولیس کی اولین ترجیح
دیوبند:دیوبند میں آنے والے نئے کوتوالی انچارج سندیپ بالیان نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد قانونی نظم ونسق سے متعلق اپنا موقف واضح کیا اور جرائم پیشہ افراد کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ دیوبند میں کسی بھی طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ جرائم پر قابو پانے کے لئے پولیس پوری سنجیدگی کے ساتھ کارروائی کرے گی ۔
کوتوالی انچارج سندیپ بالیان نے کہا کہ دیوبند اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں جوا ،سٹہ ،نشہ خوری اور گئوکشی سمیت تمام مجرمانہ سرگرمیوں پر پولیس کی خصوصی نظر رہے گی ۔انہوں نے واضح کیا کہ قانون سے کھلواڑ کرنے یا جرائم میں اضافہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ پولیس اصل مقصد علاقہ میں امن وامان قائم رکھنا ،حفاظتی انتظامات کو درست رکھنا اور قانون کی بالادستی کو قائم رکھنا ہے ۔
اسی لئے جرائم پیشہ افراد ،غیر سماجی عناصر کی سرگرمیوں پر خاص نظر رکھی جائے گی ۔اور ضرورت کے اعتبار سے کارروائی بھی کی جائے گی ،نیز کسی بھی شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔کوتوالی انچارج سندیپ بالیان نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جرائم پر قابو پانے کے لئے عوامی تعاون بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ،انہوں نے کہا کہ علاقہ میں کسی بھی طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں کی اطلاع فوراً پولیس کو دیں ۔انہوں نے دیوبند کے باشندوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ سنا جائے گا اورقانونی اعتبار سے کارروائی کی جائے گی۔
،انہوں نے کہا عوام اور پولیس کے باہمی تعاون سے علاقہ میں مضبوط قانونی نظم ونسق قائم کیا جاسکتا ہے ،سندیپ بالیان کے اس سخت پیغام کے بعد جرائم پیشہ افراد میں افراتفری پیدا ہوگئی ہے ۔
uttar pradesh
سہارنپور میں قبر کھود کر بچی کا لیا گیا ڈی این اے نمونہ
دیوبند:اتراکھنڈ پولس کی ایک ٹیم منگل کو دوپہر 12 بجے سہارنپور پہنچی تاکہ ایک نابالغ لڑکی کی عصمت دری کی تحقیقات کی جاسکے۔ ڈاکٹروں کے ہمراہ ٹیم سڑک دودھلی کے علاقے میں گیس گودام کے قریب قبرستان پہنچی۔ ٹیسٹ کے لیے چھ ماہ کی بچی کی قبر سے ڈی این اے کے نمونے لیے گئے۔ پولیس اور میڈیکل ٹیم کو دیکھ کر گاؤں والے اور کنبہ کے لوگ جائے وقوعہ پر جمع ہوگئے۔ سیکورٹی کے لیے پولیس اہلکار بھی تعینات تھے۔
سڑک دودھلی گیس گودام کے قریب رہنے والے انس ولد منورپر الزام ہے کہ اس نے اتراکھنڈ کے منگلور علاقے کی ایک نابالغ لڑکی کو سہارنپور لے جا کر اس کی عصمت دری کی۔ جب لڑکی کے گھر والوں کو اس واقعہ کا علم ہوا تو وہ لڑکی کو واپس اپنے ساتھ لے گئے۔ انس کے اہل خانہ کے مطابق لڑکی کچھ وقت کے بعد انس کے پاس واپس آگئی۔ بتایا گیا ہے کہ لڑکی تقریباً دو سال قبل متعدد بار انس کے ساتھ گئی تھی۔ دونوں نے بعد میں شادی کر لی۔ دسمبر 2025 میں انس نے لڑکی کو طلاق دے دی۔ اس دوران اس جوڑے کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی، جو کچھ دنوں کے بعد فوت ہوگئی۔
لڑکی کے خاندان کی شکایت پر اتراکھنڈ پولیس نے ملزم انس کے خلاف پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسوئل آفنس (پاکسو) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ تقریباً چار ماہ قبل پولیس نے اسے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا تھا۔ پولیس نے اس معاملے میں چارج شیٹ بھی داخل کر دی ہے۔ اب تفتیش کے دوران اضافی شواہد اکٹھے کرنے کے لیے بچی کا ڈی این اے نمونہ لیا گیا ہے۔
uttar pradesh
تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے راکھی و تھال سجاوٹ مقابلے کا انعقاد
لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ ہوم سائنس کی جانب سےوائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا کی سرپرستی اور پروفیسر تطہیر فاطمہ کی رہنمائی میں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو پلیٹ فارم فراہم کرنے اور ہندوستانی فن، ثقافت و روایات کے تئیں ان کی دلچسپی کو فروغ دینے کے مقصد سے ’’راکھی سازی و تھال سجاوٹ مقابلے‘‘ کا انعقادکیا گیا۔
اس مقابلے میں طلبہ نے اپنی تخلیقی سوچ اور فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوبصورت اور دلکش راکھیوں کی تیاری کی۔ اس کے ساتھ ہی پھولوں، رنگوں، آرائشی اشیا اور روایتی سامان کا استعمال کرتے ہوئے خوبصورت اور فنکارانہ تھالیاں بھی سجائیں۔مقابلے کا مقصد طلبہ میں تخلیقی فکر، جمالیاتی ذوق، دستکاری کی مہارت اور ہندوستانی روایتی فنون کے تئیں بیداری و دلچسپی پیدا کرنا تھا۔ اس مقابلے کے ذریعے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کو تخلیقی انداز میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صحت مند مسابقت کے ماحول میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں اور ہنر کو نکھارنے کا موقع ملا۔
اس مقابلے میں شریک طالبات کی حوصلہ افزائی اور ہندوستانی روایت و ثقافت میں راکھی کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ راکھی محض ایک دھاگا نہیں بلکہ یہ بھائی اور بہن کے درمیان محبت، اعتماد، خلوص اور تحفظ کے مقدس رشتے کی علامت ہے۔ ہندوستانی تہذیب و ثقافت میں رکشا بندھن کی روایت کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس طرح کے مقابلوں کے ذریعے طلبہ نہ صرف اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنی شاندار تہذیبی و ثقافتی روایات سے جڑنے کا بھی موقع ملتا ہے۔انھوںنے کہا کہ طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اس طرح کی غیر نصابی اور ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد بھی ضروری ہے۔
ایسی سرگرمیاں طلبہ میں خود اعتمادی، فنکارانہ ذوق، ہنرمندی اور ٹیم ورک کے جذبے کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے مقابلے میں حصہ لینے والی تمام طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس مقابلے میںبہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شرکاء کو انعامات سے نوازا گیا۔ مقابلے میں طلبہ نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
