Connect with us

uttar pradesh

صرف جانچ کے احکامات دینا کافی نہیں،لکھنؤ آتشزدگی پر ڈمپل یادو نے حکومت کو گھیرا، جوابدہی طے کر کے متاثرین کو انصاف دینے کا کیا مطالبہ

Published

on

(پی این این)
اٹاوہ:مین پوری سے سماجوادی پارٹی (ایس پی) کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے لکھنؤ کے علی گنج میں واقع کوچنگ ادارے میں ہوئے آتشزدگی کے واقعے پر صوبائی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے واقعے کی منصفانہ جانچ، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو زیادہ سے زیادہ مالی امداد دیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بڑے منگل کے آخری منگل پر سیفئی میں واقع نیتا جی ملائم سنگھ یادو اسمرتی استھل کے قریب ہنومان مندر میں منعقدہ بھنڈارے میں شرکت کے لیے پہنچیں رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے کہا کہ لکھنؤ میں پیش آیا آتشزدگی کا واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ نظام کے طریقہ کار پر سنگین سوال پیدا کرنے والا واقعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ آگ لگنے کے بعد راحت اور بچاؤ کے وسائل وقت پر موقع تک کیوں نہیں پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ حادثے میں جان گنوانے والے طلبہ کے اہل خانہ کے ساتھ ان کی گہری ہمدردی ہے۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری زخمیوں کے مناسب علاج کا انتظام یقینی بنانا ہے اور کسی بھی بچے کے علاج میں وسائل کی کمی بیچ میں نہیں آنی چاہیے۔
رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ واقعے کی تفصیلی جانچ کر کے یہ پتہ لگایا جانا چاہیے کہ آگ لگنے کے حالات کیا تھے اور فائر بریگیڈ سمیت ہنگامی خدمات کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں تاخیر کیوں ہوئی۔ اگر کہیں لاپرواہی پائی جاتی ہے تو متعلقہ حکام اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صرف جانچ کے احکامات دینا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے نتائج کو عام کر کے قصورواروں کو سزا بھی دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جن خاندانوں نے اپنے بچوں کو کھویا ہے، ان کے نقصان کی تلافی ممکن نہیں ہے، لیکن حکومت کو انسانی نقطہ نظر اپناتے ہوئے انہیں زیادہ سے زیادہ مالی امداد اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنا چاہیے۔ صوبے کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اتنے بڑے واقعے کے پیچھے کیا وجوہات تھیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی تکرار کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

کیمبرج یونیورسٹی میں اے ایم یو کی پروفیسر کی کتاب پر مذاکرہ منعقد

Published

on

علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ انگریزی کی پروفیسر سمیع رفیق کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ”اِنّوسینٹ ریپچرز: اسٹوریز آن دی نان ہیومن“ (ہواکال، 2026) پر برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے وولفسن کالج میں ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ کتاب انسانوں اور غیر انسانی دنیا کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالتی ہے۔
ہائبرڈ انداز میں منعقد ہونے والے اس مذاکرے میں کیمبرج یونیورسٹی کے طلبہ، محققین اور اساتذہ نے شرکت کی، جبکہ دنیا کے مختلف حصوں سے متعدد شرکاء آن لائن شریک ہوئے۔
اپنی کتاب پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر سمیع رفیق نے بتایا کہ ان کی تحریروں پر بچپن کے تجربات اور چرند و پرند سے ان کے تعلق کا گہرا اثر رہا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیات کے تحفظ اور قدرتی ماحول کی دیکھ بھال کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
کنگز کالج لندن کے پی ایچ ڈی اسکالر عبدالصبور قدوائی اور اے ایم یو کے شعبہ انگریزی کے ڈاکٹر آیوش گوڑ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مذاکرے کی نظامت کیمبرج یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی اسکالر مس مدیحہ نعمان نے کی۔ تقریب کا اختتام سوال و جواب کے سیشن اور کتاب پر دستخط کی تقریب کے ساتھ ہوا۔

Continue Reading

uttar pradesh

قبرستان میں پہنچا بارش کا پانی ،باہر آئیںکئی لاشیں ، لوگوں کااظہارغم

Published

on

دیوبند:سہارنپور ضلع کے گاگلہیڑی علاقہ کے سونا سید ماجرا گاؤں میں دریا کا تیزی سے کٹاؤ قبرستان تک پہنچ گیا اور کئی لاشیں باہر نکل گئی، اس کی اطلاع ملتے ہی گاؤں والے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور آنسو بہاتے ہوئے اپنے پیاروں کی لاشوں کو تلاش کرنے لگے۔ لاشوں کو مذہبی رسومات کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔
سونا سید ماجرا قبرستان ہنڈن ندی کے کنارے واقع ہے۔ پچھلے دو دنوں سے مسلسل بارش اور شیوالک علاقہ سے تیز دھارے کی وجہ سے ندی کی سطح آب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پانی قبرستان تک پہنچ گیا اور کٹاؤ شروع ہو گیا۔ دریں اثنا، تقریباً چھ ماہ قبل دفن کی گئی دو لاشیں ان کی قبروں سے نکلیں۔ اس کی اطلاع ملتے ہی گاؤں والے قبرستان پہنچ گئے اور اپنی قبریں تلاش کرنے لگے۔
گاؤں کے پردھان شاہ زیب حسین نے بتایا کہ ندی میں تجاوزات اور واٹر کورس میں تبدیلی کی وجہ سے دریا کا بہاؤ قبرستان کی طرف بڑھ گیا ہے۔ نتیجتاً ندی کا پانی قبرستان کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے جس سے مسلسل کٹاؤ ہو رہا ہے۔ اطلاع ملنے پر تھانہ انچارج دھرمیندر کمار اور محکمہ ریونیو کی ایک ٹیم نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قبرستان اور ندی کے پانی کی سطح کا معائنہ کیا۔
نائب تحصیلدار ببلو کمار اور نائب تحصیلدار اسمرتی شکلا نے بتایا کہ دونوں لاشوں کو ریونیو ٹیم کی موجودگی میں دوبارہ دفنایا گیا ہے۔ پورے معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ تیار کرکے اعلیٰ حکام کو بھیجی جائے گی تاکہ ضروری کارروائی کی جاسکے۔
اس پورے واقعہ سے گاؤں میں تشویش اور غم کا ماحول ہے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ دریا کے تیز بہاؤ سے قبرستان کا بڑا حصہ متاثر ہوا ہے جس سے خدشہ ہے کہ اگر پانی کی سطح مزید بلند ہوئی تو دیگر قبروں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

سہارنپور میں فوڈ سیفٹی محکمہ کی کارروائی

Published

on

دیوبند:ریاستی حکومت کی ہدایات اور ضلع مجسٹریٹ کے احکامات کے مطابق ضلع میں غذائی اشیاء کے معیار کو یقینی بنانے اور ملاوٹ پر مؤثر روک لگانے کے لیے فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن محکمہ کی خصوصی مہم مسلسل جاری ہے۔
اسی سلسلے میں چیف فوڈ سیفٹی آفیسر پنکج کمار گپتا کی قیادت میں چھجوپورہ انڈسٹریل ایریا میں واقع شیو لوک فوڈ پروڈکٹ پر چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔
معائنہ کے دوران ادارے میں اچار، ٹماٹو ساس، ریڈ چلی ساس، سویا ساس اور مصنوعی سرکہ فروخت کے لیے تیار حالت میں پائے گئے، جبکہ موقع پر اچار کی پیکنگ کا کام بھی جاری تھا۔ فوڈ سیفٹی ٹیم نے شبہ کی بنیاد پر فروخت کے لیے تیار رکھے گئے ٹماٹو ساس اور ریڈ چلی ساس کے دو نمونے حاصل کر کے فوڈ اینالیسس لیبارٹری بھیج دیے ہیں۔ محکمہ کے مطابق جانچ رپورٹ موصول ہونے کے بعد فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ معائنہ کے دوران ادارے میں پائی جانے والی بعض خامیوں کی بنیاد پر انتظامیہ کو امپروومنٹ نوٹس جاری کیا جا رہا ہے اور مقررہ مدت کے اندر ضروری اصلاحات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اس کارروائی میں فوڈ سیفٹی آفیسران جگدمبا پرساد، جواہر لال، ونود کمار، کلدیپ تیواری اور امت گوتم بھی شریک رہے۔ چیف فوڈ سیفٹی آفیسر پنکج کمار گپتا نے کہا کہ ضلع میں عوام کو معیاری اور خالص غذائی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں اور سیمپلنگ کی مہم آئندہ بھی مسلسل جاری رہے گی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network