Bihar
’دارالقضاء سے باہمی تنازعات کا حل تلاش کرنا ایمانی فریضہ‘،اصلاح معاشرہ کے تحت ضلع سمستی پور کی مختلف مساجد میں علماء امارت شرعیہ کا خطاب
(پی این این)
سمستی پور: حسب ہدایت مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم، امیر شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال، حسب ایماء حضرت مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال، امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کا ایک دعوتی و اصلاحی وفد، حضرت مولانا قمر انیس قاسمی صاحب دامت برکاتہم، معاون ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کی قیادت میں، ضلع سمستی پور کے دورے پر ہے۔
وفد میں مفتی راشد انور قاسمی، معاون قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ، مولانا امان اللہ قاسمی، قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ دھرم پور سمستی پور، مفتی نیرالاسلام قاسمی صاحب، استاذ حدیث دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ، مولانا محمد جمیل اختر رحمانی، مبلغ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اور مولانا رضوان احمد مظاہری، مبلغ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ شریک ہیں۔
چک عبد الغنی کی جامع مسجد میں جمعہ سے قبل عوام الناس سے خطاب کرتے ہوئے قائد وفد مولانا قمر انیس قاسمی ، معاون ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے امارت شرعیہ کے تمام شعبہ جات کا تعارف کراتے ہوئے نظام قضاء پر تفصیل سے روشنی ڈالی، آپ نے فرمایا کہ نظام قضاء اللہ کے نبی جناب محمد رسول اللہؐ وسلم کی سنت ہے، پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام خود قاضی شریعت تھے، دور نبوت میں مسجد نبوی میں بیٹھ کر آپ مقدمات کے فیصلے کیا کرتے تھے، آپؐنے متعدد صحابہ کرام کو مختلف جگہوں کے لیے قاضی مقرر فرمایا، قائد وفد نے فرمایا کہ اللہ کے نبی کے اسی سنت کو زندہ رکھتے ہوئے اکابرین امارت شرعیہ نے بھی بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال میں نظام قضاء قائم فرمایا، آج امارت شرعیہ کے تحت تقریبا سو مقامات پر دارالقضاء کا نظام قائم ہے، جہاں سے ہر سال کم خرچ اور کم وقت میں تقریبا آٹھ ہزار معاملات حل ہوتے ہیں، دارالقضاء کے ذریعہ کے باہمی تنازعات کا حل کرانا مسلمانوں کا ایمانی فریضہ ہے، چنانچہ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی مسلمان اپنے عائلی تنازعات کا حل دارالقضاء کے ذریعہ کرائیں، نیز قائد وفد نے موجودہ حالات کے تناظر میں لوگوں سے اپیل کی کہ آپ اپنا معاشرہ صالح اور پاکیزہ بنائیں، اتحاد و اجتماعیت کے ساتھ زندگی گزاریں، ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں۔
مفتی راشد انور قاسمی معاون قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے جمعہ سے قبل بی بی فاطمہ بی ایڈ کالج بکرم پور باندے کی جامع مسجد میں خطابکرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانوں کی زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہ گزرے جس میں اس کا کوئی امیر نہ ہو، انہوں نے فرمایا کہ ایک امیر کی ماتحتی میں رہ کر اجتماعیت کے ساتھ زندگی گزارنا ہر حال میں مسلمانوں پر لازم ہے۔
، امیر شریعت کی اطاعت ایمان کا حصہ ہے، نیز انہوں نئی نسل کی بہترین تربیت پر زور دیتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ آپ اپنے بچوں کے دلوں میں ایمان اتنا مظبوط کر دیں کہ یہ بچے آپ کی گود سے نکل کر دنیا کے جسں کونے میں جائیں اور چاہے جس طرح کے حالات کا انہیں سامنا کرنا پڑے کسی بھی صورت میں ان کا قدم لغزش نہ کھائے، یہ اپنے ایمان اور عقیدے پر ثابت قدم رہ سکیں۔
مفتی امان اللہ قاسمی قاضی شریعت دارالقضاء امارت شرعیہ سمستی پور نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ معاشرہ میں پھیلی ہوئی برائیوں کے سد باب کے لیے نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا، تلک، جہیز، بارات پر روک لگانا ہوگا، سموہ لون جیسے خطرناک سازشوں سے اپنی بہن اور بیٹیوں کو بچانا ہوگا۔
مفتی نیر الاسلام قاسمی صاحب استاذ حدیث دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے مسلمانوں سے اپیل کہ کہ ہرکام میں نیت کو خالص اللہ کے لیے رکھیں، انہوں نے فرمایا کہ اچھا اور خالص عمل اللہ کو مطلوب ہے، اس لیے جتنا بھی عمل کریں، خلوص و للہیت کے ساتھ کریں، نام و نمود اور شہرت سے بچیں۔
مولانا جمیل اختر رحمانی صاحب مبلغ امارت شرعیہ اور مولانا رضوان صاحب مظاہری مبلغ امارت شرعیہ وفد کے اس دورے کو کامیاب بنانے میں مسلسل جد و جہد کر رہیں، محی الدین پور وارث نگر کے جناب سلیمان صاحب، ماسٹر یاسین صاحب، اور مولانا آفتاب صاحب امام جامع مسجد محی الدین پور، چک عبد الغنی کے جناب اقبال زاہد صاحب، بی بی فاطمہ بی ایڈ کالج بکرم پور باندے کے ڈائرکٹر جناب پروفیسر انجم اصغر صاحب، شکرام پور باندے کی جامع مسجد کے نام جناب مولانا مطیع الرحمان صاحب، ڈیہ بکرم پور باندے کے جناب مصطفیٰ صاحب، مصطفی پور کے جناب مکھیا رحمت اللہ صاحب، موہن پور کے جناب ماسٹر حیدر امام غزالی اور جناب پرویز صاحب اور بھمرو پور کے جناب حافظ عبد الجبار صاحب، جناب ابرار صاحب، اور جناب مولانا معصوم صاحب، ان تمام حضرات نے وفد کا والہانہ استقبال کیا۔ واضح رہے کا وفد کا یہ دورہ مؤرخہ 10/ جون 2026 سے 17/ جون 2026 تک جاری رہے گا۔
Bihar
بہار حکومت خودہوچکی ہے ’لیک‘،سمراٹ سرکار میں بدعنوان اور جرائم پیشہ عناصر کاہے بول بالا، انہی کی چل رہی ہےحکمرانی، بڑے بھائی تیج پرتاپ یادو کی گرفتاری کے خلاف اورگرفتار طلبہ کی رہائی کولےکر آرجے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے حکومت کو دیا الٹی میٹم
(پی این این)
پٹنہ:پٹنہ میں نیٹ پرچہ لیک معاملے پر ہوئے احتجاج کے بعد پولیس نے جن شکتی جنتا دل کے سربراہ تیج پرتاپ یادو کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔ پولیس کی اس کارروائی پر تیج پرتاپ یادو کے چھوٹے بھائی تیجسوی یادو سخت برہم ہو گئے ہیں۔ بڑے بھائی کی گرفتاری پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو وہ بڑے پیمانے پر تحریک شروع کریں گے۔پٹنہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا، ’’ہمارے بڑے بھائی تیج پرتاپ یادو کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔‘‘
ہم حکومت کو مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ اس تحریک کے سلسلے میں جن طلبہ یا دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، انہیں واپس لیا جائے، کیونکہ دہلی میں پہلے ہی یہ طے ہو چکا تھا کہ تمام مقدمات واپس لیے جائیں گے۔ہم صرف درخواست نہیں کرنا چاہتے بلکہ حکومت کو واضح انتباہ دیتے ہیں کہ اگر کل تک جیل بھیجے گئے افراد کو رہا نہ کیا گیا اور جن طلبہ کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں وہ واپس نہ لیے گئے، تو ہم ایک بڑی عوامی تحریک شروع کریں گے۔سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کے چھوٹے بیٹے تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ گزشتہ 21 برسوں کے دوران بہار میں جتنے بھی پیپرلیک ہوئے ہیں، خواہ وہ سپاہی بھرتی کا امتحان ہو، بی پی ایس سی کا، نیٹ کا یا کوئی اور امتحان، ہر جگہ بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں اور گھوٹالے سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’یہ حکومت خود ہی لیک ہو چکی ہے۔ اسی لیے جب تک ہم سب متحد ہو کر موجودہ حکومت کو اقتدار سے بے دخل نہیں کر دیتے، اس طرح کے واقعات کا سلسلہ بند نہیں ہوگا۔ اس حکومت میں بدعنوان اور جرائم پیشہ عناصر کا بول بالا ہے اور انہی کی حکمرانی چل رہی ہے۔‘‘
بہار اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ سیوان میں طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کی گئی، جس میں تین طلبہ زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے مختلف اضلاع سے ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ پولیس نے طلبہ کے خلاف ناجائز کارروائیاں کی ہیں، لاٹھی چارج کیا گیا اور بے بنیاد مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کل تک گرفتار افراد کو رہا نہ کیا گیا تو ان کی جماعت ایک بڑی عوامی تحریک شروع کرے گی۔
تیجسوی یادو نے پٹنہ کے میدانتا اسپتال جا کر ان زخمی طلبہ سے بھی ملاقات کی جو ہفتہ کے روز احتجاج کے دوران زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے زخمی طلبہ کے اہل خانہ سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ’’جن طلبہ نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی، میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے اپنے حق کی لڑائی لڑی ہے۔ جب یہ طے ہو چکا ہے کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں گے، اس کے باوجود بہار میں طلبہ کے خلاف مقدمات درج کرکے انہیں زبردستی جیل بھیجا جا رہا ہے۔‘‘
واضح ہوکہ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ اور طلبہ پر لاٹھی چارج کے خلاف ہفتہ کے روز بہار بند کے دوران ریاست کے 13 اضلاع میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ ادھر پولیس نے رات گئے سابق وزیر اور جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے سربراہ تیج پرتاپ یادو کو گرفتار کر لیا۔پولیس کا الزام ہے کہ رام گلام چوک پر احتجاج کے دوران تیج پرتاپ یادو نے طلبہ کو تشدد پر اکسایا تھا۔
تیج پرتاپ یادو کے وکیل کا دعویٰ ہے کہ ان کے خلاف تعزیرات کی دفعہ 307 (اقدامِ قتل) بھی عائد کی گئی ہے۔جے جے ڈی سربراہ کی گرفتاری پر پارٹی رہنما وینا مانوی نے بھی شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے یہ تک نہیں بتایا کہ تیج پرتاپ یادو کو کس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
Bihar
بہار کو روزگار کا نیا مرکزبنانے پرحکومت کی توجہ مرکوز،وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت میں ریاستی سرکار کے100 دنوں کے بعد اگلا ہدف سرمایہ کاری، صنعت اور روزگار
(پی این این)
پٹنہ:وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت میں حکومت کے پہلے 100 دنوں کے دوران متعدد اہم پالیسی فیصلے کیے گئے۔ ان پالیسیوں کی بنیاد رکھنے کے بعد اب حکومت کا اگلا مرحلہ ان تمام منصوبوں کو مؤثر انداز میں عملی جامہ پہنانا ہے۔ اب حکومت کی پوری توجہ بہار میں سرمایہ کاری اور صنعتوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ ریاست کو روزگار کا نیا مرکزبنانے پرہوگی۔ اس مقصد کے لیے ریاستی حکومت نے ایک جامع دستاویز تیار کی ہے تاکہ مستقبل کی تمام منصوبہ بندی کو منظم اندازمیں نافذ کیا جا سکے۔
100 دنوں کے دوران اعلان کی گئی صنعتی، سرمایہ کاری اور کاروبارکے موافق پالیسیاں آنے والے مہینوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بنیاد ثابت ہوں گی۔بہار خود کو مشرقی ہندوستان کے ایک ابھرتے ہوئے صنعتی اور سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر قائم کرنے کی سمت اہم پیش رفت کر سکتا ہے۔ اس 100 روزہ کتابچہ میں صنعت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹلائزیشن اورعوام پر مبنی طرزِ حکمرانی پر حکومت کی ترجیحات کی عکاسی ہے۔
ریاست میں سنگل ونڈو سسٹم متعارف کرایا گیا ہے تاکہ صنعتوں کو ہر سطح پر سہولت اورمعاونت فراہم کی جا سکے۔ حکومت سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق مضبوط پالیسیوں کو سرمایہ کاروں تک آسانی سے پہنچانے کے لیے اقدامات کرے گی۔لائسنس، این او سی اور دیگر ضروری دستاویزات کی بروقت منظوری دینے کی سہولت کے ساتھ ہی زمین کا الاٹمنٹ اورمنصوبوں پر تیز رفتارعمل درآمد کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔صنعت قائم کرنے کے عمل کو مزید آسان، ڈیجیٹل اور شفاف بنا کر بہار کو سرمایہ کاری کے لیے ایک مسابقتی ریاست کے طور پر فروغ دیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ریاست میں گنے اور ایتھنول کی صنعت کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
بہار گنا صنعت سرمایہ کاری فروغ پالیسی 2026 کے تحت نئی چینی ملوں، ایتھنول ڈسٹلری، کو-جنریشن اور کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) منصوبوں میں سرمایہ کاری کو تیز کیا جائے گا، تاکہ دیہی معیشت مضبوط ہو اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو۔گرین انڈسٹری اورای وی ایکو سسٹم:الیکٹرک وہیکل پالیسی 2026 کے تحت بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے چارجنگ نیٹ ورک، مینوفیکچرنگ یونٹس اور بیٹری ری سائیکلنگ صنعتوں کو فروغ دیا جائے گا۔ اس سے گرین موبیلیٹی کو تقویت ملے گی اور بہار صاف ستھری صنعتی ترقی کی جانب آگے بڑھے گا۔ایم ایس ایم ای اور اسٹارٹ اپس کو نئی توانائی:چھوٹے، درمیانے اور خرد درجے کی صنعتوں، مقامی کاروباری افراد اور اسٹارٹ اپس کے ذریعے روزگار پیدا کرنے کے لیے حکومتی منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد کو ترجیح دی جائے گی۔
ڈیجیٹل اور شفاف حکمرانی:پیپر لیس رجسٹریشن، ای-اسٹامپ، آن لائن خدمات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی انتظامی نظام کو وسعت دے کر صنعتوں اور عام شہریوں کے لیے سرکاری خدمات کو مزید آسان اور شفاف بنایا جائے گا۔ سڑک، توانائی، شہری ترقی اور صنعتی کوریڈور سے متعلق منصوبوں کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے بہتر بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جائے گا۔’’برانڈ بہار‘‘ کو عالمی شناخت:ریاست کی نئی پالیسیوں اور صنعتی مواقع کو قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں تک پہنچانے کے لیے سرمایہ کاری پر مبنی برانڈنگ کو فروغ دیا جائے گا۔ سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے مختلف شہروں میں روڈ شوز اور اسی نوعیت کی تقریبات کا انعقاد ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے گا۔
Bihar
ضلع مجسٹریٹ ارریہ نے پنچایت وکاس دیوس پرسنے عوامی مسائل،ونود دوہن نے پنچایت کے ترقیاتی کاموں میں عوام کی شراکت بڑھانے کادیا پیغام
(پی این این)
ارریہ:ماہ کے آخری اتوار کو ضلع کی تمام گرام پنچایتوں میں پنچایت ترقی کا دن جوش و خروش سے منایا گیا۔ ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن نے ضلع کے بھرگاما بلاک کی سرسیا کلاں پنچایت میں منعقدہ پروگرام میں حصہ لیا اور پنچایت نمائندوں، عوامی نمائندوں، عہدیداروں اور گاؤں والوں کے ساتھ ترقیاتی اسکیموں اور مستقبل کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ میٹنگ کے دوران پنچایت کی مجموعی ترقی سے متعلق مختلف موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ای گرام سوراج اور ای پنچایت پورٹل کے ذریعے لاگو کی گئی اسکیموں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔ موجودہ آپریشنل اسکیموں پر ہونے والے اخراجات، ان کی پیشرفت اور آئندہ ترقیاتی منصوبوں کے خاکہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مقامی ضروریات کے مطابق نئی اسکیموں کو شامل کرنے کا معاہدہ بھی طے پایا۔ ضلع مجسٹریٹ نے پنچایتوں کی مجموعی اور پائیدار ترقی کے لیے دستیاب وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ اجلاس میں سکیموں پر بروقت اور معیاری عملدرآمد، عوامی شرکت اور شفافیت کو یقینی بنانے کی ہدایات دی گئیں۔
ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ پنچایت وکاس دیوس کا مقصد گاؤں کے لوگوں کو منصوبہ بندی کے عمل میں شامل کرنا، پنچایت سطح پر شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینا اور گرام پنچایتوں کو بااختیار بنانا ہے۔
انہوں نے پنچایت کے نمائندوں اور دیہاتیوں پر زور دیا کہ وہ ترقیاتی منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ مقامی ضروریات کے مطابق اسکیموں کے موثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس تناظر میں ضلع مجسٹریٹ نے گاؤں والوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنجیدگی سے سنے ۔ انہوں نے پنچایت کی مجموعی ترقی، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور عوامی بہبود کی اسکیموں کے موثر نفاذ کے سلسلے میں گاؤں والوں سے تجاویز بھی حاصل کیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ موصول ہونے والی تجاویز اور شکایات پر ضروری کارروائی کو یقینی بنائیں اور مقامی ضروریات کے مطابق ترقیاتی کاموں کو ترجیح دیں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
