Bihar
بہار میں الگ نیتی آیوگ قائم کریں گے سمراٹ چودھری،ہر ضلع کے لیے تیارکیاجائے گا الگ الگ بجٹ ،ریاستی حکومت کو طویل مدتی ترقیاتی حکمت عملی اور پالیسی سازی میں رہنمائی فراہم کرے گاکمیشن
(پی این این)
پٹنہ:نیتی آیوگ کی طرز پر بہار میں بھی ایک الگ کمیشن قائم کیا جائے گا۔ اس کا اعلان وزیر اعلیٰ سمرت چودھری نے کیا ہے۔ اس کے تحت ریاست کی ترقی کے لیے ایک طویل مدتی وژن تیار کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر ضلع کے لیے الگ اور خود مختار بجٹ تیار کیا جائے گا، تاکہ مقامی ضروریات کے مطابق وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری ترقی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور مقررہ مدت میں تکمیل کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کل پٹنہ میں واقع ایک اَنے مارگ کے لوک سیوک آواس (وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ) کے سنکلپ سبھاگار میں منصوبہ بندی و ترقی محکمہ کی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ اس دوران انہوں نے محکمہ کی مختلف ترقیاتی اسکیموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور منصوبوں کے مؤثر نفاذ، نگرانی اور آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے ضروری ہدایات جاری کیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کی ہمہ جہت اور طویل مدتی ترقی کے لیے مرکزی حکومت کے نیتی آیوگ کی طرز پر بہار میں بھی ایک الگ کمیشن قائم کیا جائے گا۔ یہ کمیشن ریاست کی دیرپا ترقی کے لیے وژن دستاویز تیار کرے گا، مختلف شعبوں میں شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی کرے گا، ترقیاتی منصوبوں کے مؤثر نفاذ کی نگرانی کرے گا، مختلف محکموں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرے گا اور وقتاً فوقتاً حکومت کو پالیسی سے متعلق تجاویز بھی پیش کرے گا۔
وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا کہ بہار میں عوامی نمائندوں کی ترقیاتی اسکیموں کے مؤثر نفاذ اور ان میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ارکانِ اسمبلی (ایم ایل ایز) اور قانون ساز کونسل کے ارکان (ایم ایل سیز) کے لیے ایک مخصوص آن لائن پورٹل تیار کیا جائے گا، جس کے ذریعے منصوبوں کی نگرانی اور عمل درآمد کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے گا۔
وزیر اعلیٰ نے افسران کو ہدایت دی کہ بہار کی مختلف ترقیاتی اسکیموں پر عمل درآمد کے دوران معیار، شفافیت اور بروقت تکمیل کو اولین ترجیح دی جائے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ حکومت کی تمام فلاحی اور ترقیاتی اسکیموں کے فوائد معاشرے کے آخری فرد تک پہنچیں، جس کے لیے مسلسل نگرانی اور تمام متعلقہ محکموں کے باہمی تعاون سے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ریاست کے تمام اضلاع کی ہمہ جہت اور متوازن ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ہدایت دی ہے کہ ہر ضلع کی مقامی ضروریات، دستیاب وسائل اور ترقی کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع منصوبۂ عمل تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع کے لیے الگ بجٹ منصوبہ تیار کیا جائے گا، تاکہ مقامی ضروریات اور ترقیاتی ترجیحات کے مطابق وسائل کا مؤثر اور بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ ملک میں پہلے سے نیتی آیوگ قائم ہے، جو سماجی اور معاشی امور پر حکومت کو طویل مدتی حکمتِ عملی اور پالیسی سازی کے لیے تجاویز فراہم کرتا ہے۔ یہ ادارہ دراصل مرکزی حکومت کے تھنک ٹینک کے طور پر کام کرتا ہے۔ نیتی آیوگ کا سابقہ نام منصوبہ بندی کمیشن (پلاننگ کمیشن) تھا۔ اب اسی طرز پر بہار میں بھی ایک الگ کمیشن قائم کیا جائے گا، جو ریاستی حکومت کو طویل مدتی ترقیاتی حکمتِ عملی اور پالیسی سازی میں رہنمائی فراہم کرے گا۔
Bihar
طلبہ پر لاٹھی چارج جمہوری اقدار پر حملہ
دربھنگہ : راشٹریہ جنتا دل (راجد) کے رہنما و بوکھڑا بلاک کے سابق نائب پرمکھ آفتاب عالم منٹو نے پٹنہ میں اپنے مطالبات کے حق میں پُرامن مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر پولیس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار اور آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے بدھ کو جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا کہ جمہوری نظام میں ہر شہری کو اپنی بات رکھنے، احتجاج درج کرانے اور پُرامن مظاہرہ کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ ایسے میں طلبہ اور نوجوانوں کی جائز آواز کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ جمہوری روایات کے بھی منافی ہے۔
آفتاب عالم منٹو نے کہا کہ اگر طلبہ اپنی تعلیم، روزگار اور مستقبل سے متعلق سوالات اٹھا رہے ہیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی بات سنے اور مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بہار کی این ڈی اے حکومت نوجوانوں کے مسائل کو سمجھنے کے بجائے دباؤ اور طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کر رہی ہے، جو کسی بھی جمہوری حکومت کے لیے مناسب طرزِ عمل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاٹھیوں اور طاقت کے ذریعے وقتی طور پر سوالات کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن نوجوانوں کے خواب، امیدیں اور امنگیں ختم نہیں کی جا سکتیں۔ حکومت نے نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے میدان میں بڑے بڑے وعدے کیے تھے، مگر زمینی سطح پر ان وعدوں کی تکمیل نظر نہیں آ رہی، جس کے باعث نوجوانوں میں بے چینی اور ناراضگی فطری امر ہے۔
راجد رہنما نے مزید کہا کہ طلبہ کے مسائل کا حل مذاکرات، مثبت اقدامات اور جوابدہی میں پوشیدہ ہے، نہ کہ لاٹھی چارج اور گرفتاریوں میں۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے ٹھوس پالیسی اختیار کرے اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے۔
آفتاب عالم منٹو نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ عوام سب کچھ دیکھ رہی ہے اور جمہوری نظام میں عوام ہی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ وقت آنے پر عوام اپنے ووٹ کے ذریعے ہر فیصلے کا جواب دیتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تشدد اور دباؤ کی سیاست سے گریز کرتے ہوئے تعلیم، روزگار اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے حوالے سے اپنی حقیقی ذمہ داری نبھائے۔
Bihar
دہلی میں کانگریس رہنماؤں پر پولیس کی کارروائی کے خلاف مظاہرہ، وزیرِ اعظم کا پتلہ نذرِ آتش
بہار شریف:ضلع کانگریس کمیٹی، نالندہ کے زیرِ اہتمام نیٹ امتحان میں پیپر لیک، تعلیمی نظام میں بڑھتی بدعنوانی اور دہلی میں کانگریس اراکینِ پارلیمنٹ و رہنماؤں پر پولیس کے ذریعے کیے گئے بل کے استعمال اور پرتشدد کارروائی کے خلاف بہار شریف کے ہاسپٹل موڑ پر زبردست مظاہرہ کیا گیا۔ اس دوران کارکنوں نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی کا علامتی پتلا نذرِ آتش کیا۔
پروگرام کی قیادت ضلع کانگریس کمیٹی، نالندہ کے ضلع صدر شری وویک کمار سنہا نے کی۔اس موقع پر ضلع صدر وویک کمار سنہا نے کہا کہ نیٹ پیپر لیک نے لاکھوں محنتی طلبہ اور ان کے خاندانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کیا ہے۔ امتحانی نظام کی ساکھ پر سنگین سوال کھڑا ہو گیا ہے، لیکن مرکزی حکومت مجرموں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے مستقبل کی حفاظت کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، لیکن آج طلبہ مسلسل پیپر لیک، بے روزگاری اور بے ترتیبی سے جوجھ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہلی میں جمہوری طریقے سے احتجاج کر رہے کانگریس اراکینِ پارلیمنٹ و رہنماؤں کے ساتھ پولیس کا بل کا استعمال جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ جمہوریت میں ہر شہری اور سیاسی جماعت کو پرامن اور آئینی طریقے سے اپنی بات رکھنے کا حق ہے۔ احتجاجوں کے دوران قانون و نظم برقرار رکھنا ضروری ہے، ساتھ ہی پرامن اظہارِ رائے کے حق کا احترام بھی ہونا چاہیے۔
ضلع کانگریس کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ نیٹ پیپر لیک کے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور مقررہ وقت میں تحقیقات کر کے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور امتحانی نظام کو شفاف اور محفوظ بنایا جائے۔ ساتھ ہی جمہوری احتجاج کے دوران قانون کے مطابق طرزِ عمل یقینی بنایا جائے اور شہریوں کے پرامن اظہارِ رائے کے حق کا احترام کیا جائے۔
پروگرام میں بڑی تعداد میں کانگریس عہدیداران، کارکنان اور حامیان موجود تھے۔ آخر میں سب نے نوجوانوں کے مستقبل کی حفاظت، تعلیمی نظام میں شفافیت اور جمہوری اقدار کے دفاع کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عہد کیا۔
اس موقع پر موجود کارکنان: ویویکانند پاسوان، حیدر عالم، جمال اشرف جمالی، عثمان غنی، انجینئر ٹیپو، اجے کمار پانڈے، شیو کمار یادو، ستیندر سنگھ، مکیش کمار، امتیاز عالم، انیل کمار، پرمود کمار، رودراکش سنگھ یادو، ڈاکٹر اودھیش پرساد، اجے کمار پانڈے، انیل کمار، ودیانند یادو، سرفراز ملک، سجانی کمار، ممتا رانی، کرانی پاسوان، رجنیش کمار، اجیت راج “میڈیا انچارج”، چندن یادو، شیلش کمار، ستیندر کمار، انیل کمار، پرمود کمار، حافظ مہتاب عالم، سبھاش جی اور دیگر ضلع کانگریس کمیٹی کے عہدیداران، کارکنان اور بڑی تعداد میں عام شہری موجود تھے۔
Bihar
نالندہ کے ضلع مجسٹریٹ نے 36 عوامی شکایات پر طے کی افسران کی جواب دہی
بہار شریف:عوامی شکایات کے وقت پر ازالے کو اعلیٰ ترجیح دیتے ہوئے تمام متعلقہ افسران کو ہر درخواست پر فوری کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔
نہر میں کھاڑ ہونے، سرکاری پیمائش کے بعد لگائے گئے پلر کو اکھاڑنے، آمد و رفت کے راستے کو تجاوزات سے پاک کرانے، جمعبندی منسوخ کرنے، اسلحہ جاری کرنے اور زمین کے تنازع سے جڑے معاملات کا غیر جانبدارانہ، شفاف اور قانون کے مطابق حل یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔
ضلع مجسٹریٹ نے واضح کہا کہ عام شہریوں کی مشکلات کے حل میں کسی بھی سطح پر سستی قبول نہیں کی جائے گی۔جن-سنوائی کے دوران ضلع مجسٹریٹ، نالندہ محترمہ ادیتا سنگھ نے ضلع کے دور دراز پرکھنڈوں اور پنچایتوں سے آئے کل 36 فریادیوں سے براہِ راست مکالمہ کر کے ان کی شکایات کو انتہائی حساسیت اور سنجیدگی سے سنا اور متعلقہ افسران کی جواب دہی طے کرتے ہوئے موقع پر ہی سخت ہدایات جاری کیں۔
زمین کی فروخت کے باوجود مخالف فریق کے ذریعے سرکاری پیمائش کے بعد لگائے گئے پلر کو اکھاڑنے سے متعلق معاملات میں سب ڈویژنل افسر SDO اور سب ڈویژنل پولیس افسر، صدر SDPO، بہار شریف کو موقع پر امن و امان برقرار رکھتے ہوئے غیر جانبدارانہ حل نکالنے کی ہدایت دی گئی۔
جن-سنوائی کے دوران زمین کے تنازع اور محصول سے جڑی کئی پیچیدہ شکایات سامنے آئیں۔ جمعبندی منسوخ کرنے سے جڑے معاملات پر ضلع مجسٹریٹ نے ایڈیشنل کلکٹر-سہ-ضلع لوک شکایت افسر، نالندہ کو فوری ریکارڈ کی گہری جانچ کر کے وقت پر ازالہ کا حکم دیا۔
وہیں، عام راستے پر تجاوزات کر کے آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی شکایت پر بھی لوک شکایت افسر کو فوری کارروائی کرتے ہوئے راستہ تجاوزات سے پاک کرانے کے لیے ہدایت کی گئی۔
جن-سنوائی میں آئی دیگر تمام درخواستوں کو بھی متعلقہ محکمے کے افسران کو منتقل کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ نے واضح وارننگ دی کہ عام شہریوں کی مشکلات کے حل میں کسی بھی سطح پر غفلت یا سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
