Connect with us

Bihar

رام مندر میں چڑھاوے کی مبینہ چوری کے قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا ،چندہ چوری معاملے پر چراغ پاسوان کا دوٹوک مؤقف

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:لوک جن شکتی پارٹی کے قومی صدر چراغ پاسوان نے کہا کہ بھگوان شری رام کے نام پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ جس کسی نے بھی شری رام کے بھکتوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے، اسے سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔
اتوار کو لکھنؤ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چراغ پاسوان نے کہا کہ شری رام مندر میں چڑھاوے کی مبینہ چوری کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ایس آئی ٹی اپنا کام کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں کارروائی بھی کی جا چکی ہے۔ جو بھی قصوروار پایا جائے گا، اسے سزا ضرور ملے گی۔ عقیدت مندوں کے مذہبی جذبات سے کھلواڑ کرنے والے کسی بھی شخص کو ہرگز بخشا نہیں جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھرت تیواری معاملے میں بھی جو کوئی قصوروار ثابت ہو، اسے سخت ترین سزا دی جانی چاہیے۔
اس سے قبل چراغ پاسوان نے لکھنؤ کے اندرا گاندھی پرتشٹھان میں لوک جن شکتی پارٹی کے بانی اور سابق مرکزی وزیر، مرحوم رام ولاس پاسوان کی یومِ پیدائش کے موقع پر منعقدہ تقریب میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کیا۔چراغ پاسوان نے کانگریس اور سماجوادی پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابات کے دوران ان جماعتوں نے عوام میں یہ غلط فہمی پھیلائی کہ ریزرویشن اور آئین خطرے میں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارلیمنٹ میں ہاتھ میں آئین کی کاپی لے کر لوک سبھا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔چراغ پاسوان نے کہا، ’’میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ جب تک چراغ پاسوان زندہ ہے، نہ ریزرویشن کو کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی آئین کو۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ بار بار یہ تاثر دیتے ہیں کہ ریزرویشن اور آئین خطرے میں ہیں، انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق ذات پات، مذہب اور فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر پورے معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنا ہوگا۔
چراغ پاسوان نے کہا کہ بابا صاحب کو بھارت رتن سے سرفراز کرانے میں ہمارے رہنما رام ولاس پاسوان نے اہم کردار ادا کیا۔ انہی کی کوششوں سے پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں بابا صاحب کی تصویر نصب کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سب سے پہلے کسی نے ریزرویشن کا مطالبہ اٹھایا تو وہ رام ولاس پاسوان تھے۔ دلت سماج کی ترقی اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے بھی رام ولاس پاسوان نے نمایاں خدمات انجام دیں، جبکہ کانگریس نے کبھی اس طبقے کی حقیقی فکر نہیں کی۔چراغ پاسوان نے مزید کہا کہ کانگریس اور سماجوادی پارٹی نے ہمیشہ ذات پات اور مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرکے سیاست کی ہے۔ ایسے عناصر کا احتساب ہونا چاہیے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

بانکی پور میں پرشانت کشور کو تیج پرتاپ یادو کی حمایت

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کی بانکی پور اسمبلی نشست سے انتخاب لڑ رہے جن سوراج پارٹی کے سرپرست پرشانت کشور کو جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔ جے جے ڈی کے قومی صدر تیج پرتاپ یادو نے ضمنی انتخاب میں پرشانت کشور کی حمایت کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔
انہوں نے اپنے والد لالو پرساد یادو اور چھوٹے بھائی تیجسوی یادو کی جماعت، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بانکی پور سے پارٹی کی امیدوار ریکھا گپتا کے بجائے پرشانت کشور کی حمایت کرے اور جن سوراج کا ساتھ دے۔واضح رہے کہ بانکی پور سے جے جے ڈی کی امیدوار وینا مانوی عرف وینا مانڈوی کا پرچۂ نامزدگی مسترد ہو گیا تھا، جس کے بعد تیج پرتاپ یادو کی پارٹی اس انتخابی مقابلے سے باہر ہو گئی۔
بہار کے سابق وزیر اور جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے سربراہ تیج پرتاپ یادو نے ہفتہ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بانکی پور سے صحیح اور اہل نمائندے منتخب ہو کر آئیں تاکہ عوام کو انصاف مل سکے۔انہوں نے کہا کہ بانکی پور سے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی امیدوار بھی میدان میں ہیں، لیکن ان کی خواہش ہے کہ آر جے ڈی کی امیدوار ریکھا گپتا بھی پرشانت کشور کی حمایت کریں۔
بانکی پور اسمبلی نشست کے ضمنی انتخاب سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مسلسل پرشانت کشور کو سیاسی جھٹکے دے رہی ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران جن سوراج پارٹی کے کئی سرکردہ رہنما پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو چکے ہیں۔ ان میں کے سی سنہا، چیتنا جھانب سمیت درجنوں رہنما شامل ہیں۔
بی جے پی کی جانب سے لگاتار ملنے والے ان سیاسی جھٹکوں کے درمیان تیج پرتاپ یادو نے پرشانت کشور کی اخلاقی حمایت کا اعلان کرکے انہیں سیاسی تقویت فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔تیج پرتاپ یادو نے سماجی کارکن وینا مانوی کو بانکی پور ضمنی انتخاب کے لیے اپنی پارٹی کا ٹکٹ دیا تھا۔ وینا مانوی نے 13 جولائی کو اپنا پرچۂ نامزدگی بھی داخل کر دیا تھا، تاہم الیکشن کمیشن کی جانچ پڑتال (اسکروٹنی) کے دوران ان کا پرچۂ نامزدگی مسترد کر دیا گیا، جس کے بعد وہ انتخابی دوڑ سے باہر ہو گئیں۔اس کے بعد سے سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیرِ بحث تھا کہ بانکی پور ضمنی انتخاب میں تیج پرتاپ یادو آخر کس امیدوار کی حمایت کریں گے۔
تین روز قبل جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے سربراہ تیج پرتاپ یادو نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔ اس کے بعد انہوں نے جن سوراج پارٹی کے امیدوار پرشانت کشور کی حمایت کا باضابطہ اعلان کر دیا۔تاہم، اس معاملے پر تاحال جن سوراج پارٹی کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل یا بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

Continue Reading

Bihar

طلبہ وطالبات کو نصابی تعلیم کے ساتھ مقابلہ جاتی امتحانات کے تقاضوں سے آگاہ کیاجانا ضروری:پروفیسر مشتاق احمد

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ:ہمارا عہد انفارمیشن ٹکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے انقلابات کا ہے اور دیگر شعبوں کی طرح تعلیمی شعبے میں بھی روز نئے نئے ایجادات ہو رہے ہیں اس لئے ہم تمام اساتذہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ طلبا وطالبات کو نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ مقابلہ جاتی امتحانات کے تقاضوں سے بھی آگاہ کریں تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بیروزگار نہیں رہیں بلکہ دوسروں کے لئے بھی وہ روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر مشتاق احمد، پرنسپل سی۔ایم کالج، دربھنگہ نے کیا ۔
پروفیسر احمد کالج کے صدورِ شعبہ کی میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے ذریعہ پوسٹ گریجویٹ سمسٹر اول اور انڈر گریجویٹ سمسٹر اول میں داخلہ چل رہاہے لیکن اکیڈمک سیشن کا آغاز ہو چکا ہے ۔انہوں نے صدورِ شعبہ سے کہا کہ وہ یو جی سی کے اصول وضابطے کے مطابق انڈکشن پروگرام کے اختتام کے بعد یہ یقینی بنائیں کہ داخلہ لینے والے صد فی صد طلبا کالج آئیں اور کلاس میں شامل ہوں پروفیسر احمد نے کہا کہ سی۔ایم کالج، دربھنگہ میں اس سال سے ایک نیا کورس بی اے بی ایڈاور بی کام بی ایڈ کا آغاز ہواہے اور اس نئے کورس میں طلبا کی بہت دلچسپی ہے ۔لیکن صدر شعبۂ ایجوکیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کورس کے نصاب کے ساتھ سی ٹیٹ اور ایس ٹیٹ کی تیاری بھی کرائیں تاکہ وہ ڈگری لینے کے بعد تعلیمی شعبے میں ملازمت حاصل کر سکیں ۔
میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ ماسٹر روٹین کے ساتھ ساتھ شعبہ جاتی روٹین بھی طلبا کے درمیان تقسیم کیا جائے اور بالخصوص سوشل میڈیا گروپ کے ذریعہ انہیں تمام تر معلومات فراہم کرائی جائیں۔اس موقع پر الگ الگ شعبے کے صدر نے بھی اپنے مسائل پیش کئے جس پر سنجیدگی سے غوروخوض کیا گیا اور ان مسائل کو فوری طورپر دور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ۔میٹنگ میں یہ بھی طے ہو ا کہ جو طلبا وطالبات مسلسل سات دنوں تک کالج نہیں آئیں گے ان کا داخلہ رد کیا جائے گا۔انٹرنل امتحان وقت پر مکمل کئے جائیں گے اور اس میں غیر حاضر رہنے والے طلبا وطالبات کو یونیورسٹی امتحان کا فارم بھرنے سے روک دیا جائے گا کیوں کہ اب انٹر نل امتحان لازمی ہے ۔
میٹنگ میں ڈاکٹر مینک سریواستو، ڈاکٹر للت شرما، ڈاکٹر سبرت کمار داس، ڈاکٹر آلوک کما ر رائے، ڈاکٹر محمد خالد انجم عثمانی، ڈاکٹر وجے سین پانڈے، ڈاکٹر سدھانشو کمار ، ڈاکٹر سنجیت کمار جھا ، ڈاکٹر راگنی رنجن ، ڈاکٹر انوپم کمار سنگھ ، ڈاکٹر اکھلیش کمار ویبھو، ڈاکٹر ششانک شکلا اور ڈاکٹر محمد ابصار عالم نے شرکت کی اور معیاری تعلیم کو بلند کرنے کے لئے مفید مشورے دئے۔

Continue Reading

Bihar

گیاجی میں سیٹکون ٹی ایم ٹی ایف ای 600 کی ’’ڈیلرز میٹ‘‘ کا شاندار انعقاد،’’بارش میں چاندی کی بَوچھار‘‘کے نام سے دلکش اورپروقار ’مانسون اسکیم‘ کا آغاز،تقریب میں ممتاز ڈیلروں اور تجارتی شراکت داروں نے بڑی تعداد میں کی شرکت

Published

on

(پی این این)
گیا جی:تعمیراتی اسٹیل کے ممتاز برانڈ سیٹکون ٹی ایم ٹی ایف ای 600 کی جانب سے گیاجی میں ایک شاندار ’ڈیلرز میٹ‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں گیا اور آس پاس کے علاقوں کے ممتاز ڈیلروں اور تجارتی شراکت داروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں کمپنی نے اپنے ڈیلروں کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے نئی مانسون پروموشنل اسکیم’’بارش میں چاندی کی بَوچھار‘‘کا بھی باضابطہ آغاز کیا۔
اس موقع پر سٹی الائز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر نریندر گوپال سنگھل اور متل ٹیک اسٹیل اینڈ سیمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کنال اگروال نے ڈیلرز سے خطاب کرتے ہوئے کمپنی کی مستقبل کی حکمت عملی، معیاری مصنوعات اور ڈیلر فلاح سے متعلق منصوبوں پر روشنی ڈالی۔نریندر گوپال سنگھل نے اپنے خطاب میں کہا کہ کمپنی کی اصل طاقت اس کے ڈیلرز ہیں، جو برانڈ کی ترقی اور کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیٹکون ٹی ایم ٹی ایف ای 600 ہمیشہ اعلیٰ معیار، باہمی اعتماد اور ڈیلرز کے مفادات کو اولین ترجیح دیتا ہے، کیونکہ ڈیلرز کی ترقی ہی کمپنی کی پائیدار کامیابی کی بنیاد ہے۔
اس موقع پر کنال اگروال نے کہا کہ سیٹکون ٹی ایم ٹی ایف ای 600 محض ایک پروڈکٹ نہیں بلکہ اعتماد، اعلیٰ معیار اور مضبوط شراکت داری کی علامت ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کا مقصد اپنے ڈیلرز کے کاروبار کو نئی بلندیوں تک پہنچانا اور انہیں زیادہ سے زیادہ منافع کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’Stronger Than The Best‘‘(بہترین سے بھی زیادہ مضبوط) صرف کمپنی کا نعرہ نہیں بلکہ معیار کے تئیں اس کے غیرمتزلزل عزم کی حقیقی عکاسی ہے۔
تقریب کے دوران کمپنی نے اپنے برانڈ پیغام’’Stronger Than The Best‘‘ کے ساتھ نئی مانسون پروموشنل اسکیم’’بارش میں چاندی کی بَوچھار‘‘متعارف کرائی۔ اس اسکیم کے تحت 12 میٹرک ٹن کی بکنگ پر 30 گرام چاندی، 25 میٹرک ٹن کی بکنگ پر 70 گرام چاندی اور 30 میٹرک ٹن کی بکنگ پر 100 گرام چاندی دی جائے گی۔ کمپنی کی جانب سے آرڈر بک ہوتے ہی ڈیلرز کو موقع پر ہی چاندی فراہم کی گئی، جبکہ اس اسکیم کے تحت بک کیا گیا مال 30 جولائی 2026 تک لازماً اٹھانا ہوگا۔کمپنی نے اس موقع پر اپنی ٹرک اسکیم کی تفصیلات بھی ڈیلرز کے ساتھ شیئر کیں، جس کے تحت مقررہ شرائط پوری کرنے والے اہل ڈیلرز کو خصوصی اور پُرکشش فوائد فراہم کیے جائیں گے۔
تقریب میں شریک ڈیلرز نے سیٹکون ٹی ایم ٹی ایف ای 600 کے اعلیٰ معیار، بروقت سپلائی، مؤثر خدمات اور منفرد پروموشنل اسکیموں کو سراہتے ہوئے کمپنی کے ساتھ اپنے کاروباری تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔پروگرام کے اختتام پر کمپنی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے ڈیلرز کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری کو مزید مضبوط بناتے ہوئے معیار، بہترین خدمات اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر بہار کے تعمیراتی شعبے میں سیٹکون ٹی ایم ٹی ایف ای 600 کو ایک صفِ اول اور قابلِ اعتماد برانڈ کے طور پر مزید مستحکم کرے گی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network