اتر پردیش
اعظم خان کی رہائی میں نیا موڑ،عدالت میں پیش ہونے کاحکم
(پی این این)
رام پور:الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے دونوں معاملوں میں ضمانت ملنے کے باوجود ایس پی لیڈر اعظم خان سیتا پور جیل میں بند ہیں، ان کی رہائی میں اب کانٹےآنےلگے ہیں۔رام پور کے ایم پی-ایم ایل اے مجسٹریٹ ٹرائل کورٹ نے ایک اور کیس میں اعظم خان کے خلاف دائر اضافی چارج شیٹ کا نوٹس لیا۔یہ کیس ریکارڈ روم میں ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے متعلق ہے جو دشمن کی جائیداد اور شواہد کو تباہ کرنے سے متعلق ہے۔ مزیدتفتیش کے بعد پولیس نے اعظم خان کے خلاف تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی تین نئی سنگین دفعات شامل کی ہیں۔467 (جعل سازی)، 471 (جعلی دستاویز کو حقیقی طور پر استعمال کرنا) اور 201 (ثبوت کو تباہ کرنا)۔ عدالت نے ان نئی دفعات کے تحت اعظم خان کو 20 ستمبر 2025 کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
واضح ہوکہ 18 اکتوبر 2023 کو سیشن کورٹ نے اعظم خان کو ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کے دو پیدائشی سرٹیفکیٹس کے معاملے میں سزا سنائی۔ عدالت نے اس کیس میں ان کی اہلیہ ڈاکٹر تزئین فاطمہ اور بیٹے عبداللہ اعظم خان کو بھی سزا سنائی۔ تینوں کو جیل بھیج دیا گیا۔ اعظم خان کو سیتا پور جیل،ان کی اہلیہ ڈاکٹر تزئین فاطمہ کو رام پور اور بیٹے عبداللہ اعظم خان کو ہردوئی جیل بھیج دیا گیا۔ تینوں کو پہلے ہائی کورٹ نے برتھ سرٹیفکیٹ کیس میں ضمانت دی تھی لیکن اعظم خان کو ڈونگر پور کیس میں 10 سال کی سزا کی وجہ سے رہائی سے روک دیا گیا تھا۔حال ہی میں ہائی کورٹ نے انہیں ڈونگر پور کیس میں ضمانت دی تھی اور اب ہائی کورٹ نے انہیں کوالٹی بار کیس میں بھی ضمانت دے دی ہے۔ ہائی کورٹ کی ریلیف سے ان کی رہائی کی امیدیں بڑھ گئی ہیں لیکن اب انہیں سول لائن پولیس تھانے میں درج اینمی پراپرٹی کیس میں اضافی الزامات کے تحت ضمانت حاصل کرنی ہوگی۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ ودیا ساگر مشرا نے بتایا کہ دشمن کی جائیداد کے معاملے میں تین الزامات شامل کیے گئے ہیں۔ایس پی لیڈر اعظم خان 27 ماہ کے لیے جیل میں تھے اور اب 23 ماہ بعد ہائی کورٹ سے انہیں ضمانت مل گئی ہے۔ اعظم خان دو بار قید ہو چکے ہیں۔ برتھ سرٹیفکیٹ کے دو مقدمات میں سزا پانے کے بعدایس پی لیڈر اعظم خان 18 اکتوبر 2023 کو جیل چلے گئے۔ان کی اہلیہ ڈاکٹر تزئین فاطمہ اور بیٹا عبداللہ اعظم بھی ان کے ساتھ جیل گئے۔ تزئین فاطمہ کو 8 ماہ قید میں رہنے کے بعد ضمانت مل گئی تھی، جب کہ ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو 17 ماہ بعد ریلیف دے کر جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔ اب ایس پی لیڈر اعظم خان کو 23 ماہ بعد ہائی کورٹ نے راحت دی ہے۔
uttar pradesh
اردو کے فروغ میں دہلی کالج کی انفرادی خصوصیات کو نہیں کیا جاسکتا نظر انداز:پروفیسر اے آر فتیحی
uttar pradesh
نرجلا ایکادشی کے موقع پر مختلف تنظیموں نے سبیل لگا کر ٹھنڈے مشروبات تقسیم کئے
دیوبند:نرجلا ایکادشی کے موقع پر جمعرات کے روز دیوبند میں جگہ جگہ سبیل لگا کر راہ گیروں کو شربت اور ٹھنڈا پانی پلایا گیا ۔دیوبند کے ریلوے روڑ پر واقع قدیم شیو مندر کے بڑے پجاری پنڈت کالیکاپرساد کی سرپرستی میں سبیل لگا کر ٹھنڈا شربت تقسیم کیا گیا ،انہوں نے کہا کہ سناتن تہذیب میں خدمت خلق کو سب سے اہم کام بتایا گیا ہے اس لئے انسانوں کو اپنی زندگی میں ہمیشہ خدمت خلق کے کام انجام دیتے رہنا چاہئے ۔بی جے پی کے شہر صدر ارون گپتا نے پنڈت کالیکا پرساد کو پگڑی پہنا کر اعزاز سے نوازا ۔اس موقع پر وطن گرگ پنڈت بھونیشور پرساد پروہت رام موہن سینی ،وپن پنڈت ،شبھم شرما ،وشال گرگ امیش سینی اور مانگے رام دھیمان وغیرہ موجود رہے ۔وہیں دوسری جانب وشنو چوک پر واقع شری وشنو بھگوان مندر سیوا ٹرسٹ کی جانب سے لگائی جانے والی سبیل کا افتتاح لوک جن شکتی پارٹی کی خواتین سیل کی صوبائی صدر پوجا گرگ نے شمع روشن کرکے کیا ۔اس سبیل سے بھی راہ گیروں کو ٹھنڈا پانی اور شربت تقسیم کیا گیا ۔اس موقع پر منجو شرما ،ریما بنسل ،چھوی بنسل ،ببلی ٹنڈن ،انیتا اگروال وغیرہ موجود رہے ۔اسی طرح گرودوارہ صاحب کی جانب سے لگائی جانے والی سبیل سے بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو شربت پلایا گیا ۔ان مقامات کے علاوہ تلہیڑی ،چندینا کولی ،انبولی ،کھیڑی آسا اور دیگر دیہی علاقوں میں بھی عقیدت مندوں نے نرجلا ایکادشی سبیلیں لگاکر راہگیروں کو شربت اور ٹھنڈا پانی پلایا ۔
uttar pradesh
صرف جانچ کے احکامات دینا کافی نہیں،لکھنؤ آتشزدگی پر ڈمپل یادو نے حکومت کو گھیرا، جوابدہی طے کر کے متاثرین کو انصاف دینے کا کیا مطالبہ
(پی این این)
اٹاوہ:مین پوری سے سماجوادی پارٹی (ایس پی) کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے لکھنؤ کے علی گنج میں واقع کوچنگ ادارے میں ہوئے آتشزدگی کے واقعے پر صوبائی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے واقعے کی منصفانہ جانچ، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو زیادہ سے زیادہ مالی امداد دیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بڑے منگل کے آخری منگل پر سیفئی میں واقع نیتا جی ملائم سنگھ یادو اسمرتی استھل کے قریب ہنومان مندر میں منعقدہ بھنڈارے میں شرکت کے لیے پہنچیں رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے کہا کہ لکھنؤ میں پیش آیا آتشزدگی کا واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ نظام کے طریقہ کار پر سنگین سوال پیدا کرنے والا واقعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ آگ لگنے کے بعد راحت اور بچاؤ کے وسائل وقت پر موقع تک کیوں نہیں پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ حادثے میں جان گنوانے والے طلبہ کے اہل خانہ کے ساتھ ان کی گہری ہمدردی ہے۔ حکومت کی بنیادی ذمہ داری زخمیوں کے مناسب علاج کا انتظام یقینی بنانا ہے اور کسی بھی بچے کے علاج میں وسائل کی کمی بیچ میں نہیں آنی چاہیے۔
رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ واقعے کی تفصیلی جانچ کر کے یہ پتہ لگایا جانا چاہیے کہ آگ لگنے کے حالات کیا تھے اور فائر بریگیڈ سمیت ہنگامی خدمات کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں تاخیر کیوں ہوئی۔ اگر کہیں لاپرواہی پائی جاتی ہے تو متعلقہ حکام اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صرف جانچ کے احکامات دینا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کے نتائج کو عام کر کے قصورواروں کو سزا بھی دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جن خاندانوں نے اپنے بچوں کو کھویا ہے، ان کے نقصان کی تلافی ممکن نہیں ہے، لیکن حکومت کو انسانی نقطہ نظر اپناتے ہوئے انہیں زیادہ سے زیادہ مالی امداد اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنا چاہیے۔ صوبے کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اتنے بڑے واقعے کے پیچھے کیا وجوہات تھیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی تکرار کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
بہار7 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر10 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
