Connect with us

دلی این سی آر

JNUSU انتخابات کی الٹی گنتی تیز , صدر عہدے کے لیے 48 طلبہ نے کاغذات نامزدگی کیے داخل

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی :جواہر لال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (جے این یو ایس یو) کے انتخابات کی الٹی گنتی تیز ہوگئی ہے۔ جے این یو میں طلبہ یونین کے انتخابات کے لیے نامزدگی ہوئی۔ صدر کے عہدے کے لیے سب سے زیادہ 48 طلبہ نے کاغذات نامزدگی داخل کیے۔ کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 16اپریل ہے۔

جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات 25 اپریل کو ہوں گے اور نتائج کا اعلان 28 اپریل کو کیا جائے گا۔جے این یو اسٹوڈنٹس یونین الیکشن کمیٹی کو سینٹرل پینل کے چار عہدوں کے لیے 160 سے زیادہ نامزدگیاں موصول ہوئی ہیں، جب کہ 16 اسکولوں میں ‘اسکول کونسلر’ کے عہدوں کے لیے 250 طلبہ نے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔ الیکشن کمیٹی کے مطابق صدر کے عہدے کے لیے 48، نائب صدر کے عہدے کے لیے 41، جنرل سیکریٹری کے عہدے کے لیے 42 اور جوائنٹ سیکریٹری کے عہدے کے لیے 34 کاغذات نامزدگی موصول ہوئے۔ اس طرح سینٹرل پینل کے لیے 165 امیدوار میدان میں ہیں۔ ج

جے این یو طلبہ یونین کے انتخابات کے لیے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا عمل منگل کو مکمل ہو گیا تھا جبکہ نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ بدھ ہے۔ اس کے بعد سہ پہر تین بجے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کی جائے گی۔جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے الیکشن آفیسر وکاس کمار نے کہا کہ ‘جنرل باڈی میٹنگز’ (جی بی ایم) اسکول کی سطح پر 17 اور 21 اپریل کو منعقد ہوں گی۔

22 اپریل کو یونیورسٹی بھر میں جی بی ایم کے لیے تاریخ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے، جب کہ صدارتی مباحثہ 23 اپریل کو ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 24 اپریل کو کوئی انتخابی مہم نہیں ہوگی، 25 اپریل کو دو سیشنز میں ووٹنگ ہوگی۔پہلے سیشن میں صبح 9 بجے سے ایک بجے تک اور دوسرے سیشن میں دوپہر 2:30 سے5:30 بجے تک ووٹنگ ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی اسی رات 9 بجے شروع ہوگی اور حتمی نتائج کا اعلان 28 اپریل کو کیا جائے گا۔اتوار 13 اپریل کو جے این یو اسٹوڈنٹس یونین الیکشن کمیٹی کی طرف سے جاری ووٹر لسٹ کے مطابق اس سال ہونے والے انتخابات میں 7906 طلبہ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ ووٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز میں 43 فیصد خواتین ہیں، جبکہ باقی مرد ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ پچھلے سال جے این یو ایس یو کے انتخابات چار سال کے وقفے کے بعد 22 مارچ 2024 کو ہوئے تھے۔ متحدہ بائیں اتحاد نے مرکزی پینل کے چار میں سے تین عہدوں پر کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ برسا امبیڈکر پھولے اسٹوڈنٹس یونین (بی اے پی ایس اے) نے چوتھی پوزیشن حاصل کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق طلبا نے منگل کو دن بھر کیمپس میں اپنی اپنی تنظیموں کے لیے مہم چلائی۔ قوی امکان ہے کہ اس بار بھی بائیں بازو کی تنظیمیں طلبہ یونین کے انتخابات مل کر لڑیں گی۔ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد نے جے این یو طلبہ یونین کے انتخابات کے لیے اپنے ممکنہ امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔اس بار اے بی وی پی سے تھیٹے شمبھوی پرمود، انوج دمادا، کنال رائے، وکاش پٹیل، راجیشور کانت دوبے، شیکھا سوراج، نیتو گوتم، ارون شریواستو اور آکاش کمار راوانی میدان میں ہیں۔ ان تمام ممکنہ امیدواروں نے منگل کو اپنے کاغذات نامزدگی داخل کئے۔
کاغذات نامزدگی کی جانچ کے بعد جے این یو اسٹوڈنٹس یونین سینٹرل پینل کے لیے ان ناموں میں سے چار ناموں کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اے بی وی پی اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیمیں کیمپس کے مسائل کو لے کر طلبہ سے ملاقات کر رہی ہیں۔

دلی این سی آر

اردو زبان ہماری مشترکہ تہذیب کی جیتی جاگتی مثال: لیکھ راج

Published

on

نئی دہلی:اردو اکادمی، دہلی گزشتہ تین دہائیوں سے اردو تھیٹر ورکشاپ کا انعقاد کرتی آ رہی ہے۔ گزشتہ سال سے اکادمی کی جانب سے سمر کیمپ کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔ دہلی سرکار اور وزیر برائے فن و ثقافت و السنہ جناب کپل مشراکی خصوصی توجہ اور سرپرستی کے سبب اس سال بھی سمر کیمپ اور اردو تھیٹر ورکشاپ کا کامیاب انعقاد ممکن ہو سکا۔اس سال سمر کیمپ 14 مئی تا 2 جون 2026 اردو اکادمی، دہلی میں منعقد ہوا، جس میں خطاطی، غزل گائیکی، پینٹنگ، شخصیت سازی، اردو زبان دانی اور داستان گوئی جیسے موضوعات شامل تھے۔سمر کیمپ کے اختتام کے بعد یکم جون تا 22 جون 2026 ’’اردو تھیٹر ورکشاپ‘‘ کا انعقاد کریسنٹ اسکول، موجپور اور اردو اکادمی، کشمیری گیٹ، دہلی میں کیا گیا۔ ورکشاپ میں ماہرینِ ڈراما نے طلبا کو فنِ اداکاری، اسٹیج پرفارمنس اور ڈرامے کی مختلف تکنیکوں سے روشناس کرایا۔ ورکشاپ کے دوران دونوں مراکز پر طلبا کے ذریعے دو ڈرامے تیار کیے گئے۔آج کریسنٹ اسکول، موجپور مرکز پر طلبا کے ذریعے تیار کیا گیا ڈراما ’’چیونٹی، چیونٹے اور چینی‘‘ پیش کیا گیا، جسے ناظرین نے بے حد پسند کیا۔
جس طرح اردو اکادمی، دہلی کا اردو ڈراما فیسٹیول فنکاروں کے حلقے میں توجہ کا مرکز ہوتا ہے، اسی طرح بچوں کے لیے منعقد ہونے والی ’’اردو تھیٹر ورکشاپ‘‘ میں تیار کیے گئے ڈرامے بھی اردو برادری میں خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی یہ پروگرام دہلی کے قلب میں واقع سری رام سینٹر، منڈی ہاؤس کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔اس سال پروگرام میں داستان گوئی اور ڈرامے کے ساتھ غزل گائیکی کا بھی اضافہ کیا گیا۔پروگرام اپنے مقررہ وقت پر جناب اطہر سعید کی نظامت میں شروع ہوا۔ تمام فنکاروں کا اردو اکادمی، دہلی کے سکریٹری محترم لیکھ راج نے پودا پیش کرکے استقبال کیا۔
اپنے خطاب میں سکریٹری اکادمی نے کہا کہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے اردو اکادمی، دہلی جو کام انجام دیتی ہے، ان میں سمر کیمپ کا انعقاد سب سے اہم ہے، جس کے نتائج ادارے کے احاطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ ڈرامے کے مرکزی مرکز منڈی ہاؤس تک پہنچتے ہیں۔ ایسی عمدہ کارکردگی کسی اور ادارے میں نظر نہیں آتی۔انھوں نے کہا کہ ہمارے یہ ننھے منے بچے ثقافت اور تہذیب کو بڑی دلچسپی سے سیکھتے ہیں۔ یہی بچے مستقبل کے فنکار بنیں گے اور ہماری ثقافت کی نمائندگی بھی کریں گے۔ مجھے فخر ہے کہ مجھے اردو اکادمی، دہلی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، کیونکہ یہاں کے اسٹاف دہلی کی دیگر اکادمیوں کے مقابلے میں زیادہ پرجوش اور پُرعزم نظرآتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ اردو زبان ہماری مشترکہ تہذیب کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ ہم روزمرہ زندگی میں اردو ہی بولتے ہیں۔ اب ہم اپنے حلقوں اور گھروں میں بھی سب کو اردو سیکھنے کی ترغیب دیتے ہیں اور میں خود بھی اس سلسلے میں کوشش کر رہا ہوں۔
پروگرام کا باضابطہ افتتاح داستان گوئی سے ہوا، جس کے ہدایت کار جناب ساحل آغا اور محترمہ اسما رحمان تھیں۔ اِنایہ عظیم نے ’’تعریف اس خدا کی‘‘، الویہ خان نے ’’ایک نئی صبح کا سبق‘‘، محمد حاشر نے ’’ملا نصرالدین اور چاند‘‘، عنایہ خان نے ’’پیاسا کوا‘‘، افرا افتخار نے ’’ایک بکری، اس کے سات بچے اور ایک بھیڑیا‘‘، عائشہ تمحیدنے ’’امانت کا چراغ‘‘، مسکان راجو نے ’’پیتل کا مٹکا‘‘ اور ابوبکر نے ’’ایماندار لکڑہارا‘‘ کے عنوانات سے اپنی داستانیں پیش کیں۔اس کے بعد الویہ اور فوزیہ نے غزل گائیکی کے فن کا مظاہرہ کیا۔ الویہ نے قتیل شفائی کی غزل ’’پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیے‘‘ اور فوزیہ نے تسلیم فاضلی کی مشہور غزل ’’رفتہ رفتہ وہ مری ہستی کا ساماں ہو گئے‘‘ پیش کی۔ ان کے استاد ڈاکٹر ذیشان ضمیر نے ہارمونیم پر ان کا ساتھ دیا۔
اس کے بعد ننھے منے بچوں کی ایک بڑی ٹیم نے ڈراما ’’چیونٹی، چیونٹے اور چینی‘‘ پیش کیا۔ تقریباً آدھے گھنٹے پر مشتمل اس ڈرامے نے ناظرین کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ کہانی میں تجسس، اداکاری میں چابک دستی، مکالموں کی برجستہ ادائیگی اور موسیقی کی عمدہ پیشکش کے ساتھ تحفظِ ماحولیات کا ایک اہم پیغام بھی پیش کیا گیا۔ یہ ایک عمدہ ڈراما تھا جس کے ہدایت کار جناب فہد خان تھے۔
بعد ازاں سکریٹری اکادمی جناب لیکھ راج کے ذریعہ تمام بچوںکو اسناد تقسیم کی گئیں۔ پروگرام میں اساتذہ، والدین، سرپرستوں اور علم دوست افراد کی شرکت قابلِ ذکر رہی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بین الاقوامی ٹرمینل پر کام جلد ہوں گے مکمل

Published

on

نوئیڈا:اتر پردیش کے جیور میں نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بین الاقوامی ٹرمینل پر کام اکتوبر تک مکمل ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں اس سال کے آخر تک بین الاقوامی پروازیں دوبارہ شروع ہو سکیں گی۔ لکھنؤ میں منعقدہ NIAL بورڈ میٹنگ میں ٹرمینل کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا گیا۔اتر پردیش کے چیف سکریٹری ایس پی گوئل نے منگل کو لکھنؤ کے لوک بھون میں نوئیڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ (این آئی اے ایل) کی 27ویں بورڈ میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ نے سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر نکھل ٹی فنڈے اور سندیپ کور، سکریٹری، فینانس ڈپارٹمنٹ کو NIAL بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بطور ڈائریکٹر مقرر کرنے کی منظوری دی۔اجلاس میں ڈومیسٹک اور کارگو سروسز کے آغاز اور پہلے مرحلے کی روزانہ پرواز کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ بین الاقوامی ٹرمینل کی تعمیر جاری ہے اور توقع ہے کہ ستمبر یا اکتوبر میں مکمل ہو جائے گا۔ فنشنگ کا کام باقی ہے، جسے تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے، جس میں تین سے چار ماہ لگ رہے ہیں۔ تاہم یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس سال کے آخر تک بین الاقوامی پروازیں شروع ہو جائیں گی۔ ایڈیشنل چیف سکریٹری آلوک کمار، این آئی اے ایل کے سی ای او راکیش کمار سنگھ، اور نوڈل آفیسر شیلیندر کمار بھاٹیہ میٹنگ میں موجود تھے۔
نوئیڈا ہوائی اڈہ اب دوسرا رن وے تیار کرنے اور ہوائی جہاز کے انجن بنانے والی کمپنیوں کو ایڈجسٹ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ہوائی اڈے کے تیسرے مرحلے میں 14 گاؤں کی 2,053 ہیکٹر زمین کسانوں سے حاصل کی جائے گی۔ یہ زمین کل 12,000 کسانوں سے حاصل کی جائے گی۔ ضلع انتظامیہ اس عمل کو آگے بڑھا رہی ہے اور اس نے پہلے ہی تقریباً 5,500 کروڑ روپے 8,000 کسانوں کو معاوضے میں تقسیم کیے ہیں۔ اگلے دو ماہ میں مکمل معاوضہ کی تقسیم کے بعد زمین پر قبضہ کر لیا جائے گا۔ اس زمین پر کراسنگ اور سروس رن وے بنائے جائیں گے، جس سے ہوائی جہاز ہینگرز تک پہنچ سکیں گے۔شقابل ذکر ہے کہ نوئیڈا ہوائی اڈے سے تجارتی پروازیں 15 جون کو شروع ہوئی تھیں۔ اگرچہ اس وقت پروازیں صرف چند روٹس پر چل رہی ہیں لیکن جولائی سے ان کی تعداد بڑھ جائے گی۔ فی الحال، ہوائی اڈے کو بین الاقوامی مسافر پروازوں کے لیے منظوری نہیں ملی ہے، اس لیے صرف اندرون ملک پروازیں چل رہی ہیں۔ کارگو پروازیں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ ہوائی اڈے کی ترقی کا صرف پہلا مرحلہ مکمل ہوا ہے۔ آپریشنز کا آغاز ایک رن وے اور ایک ٹرمینل بلڈنگ سے ہوا ہے، جس کی سالانہ گنجائش 12 ملین مسافروں کی ہے۔ ترقی کی منصوبہ بندی چار مرحلوں میں کی گئی ہے۔

 

Continue Reading

دلی این سی آر

آشیش سود کی بجلی چوری کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت

Published

on

نئی دہلی :دہلی میں بجلی چوری کے خلاف ایک بڑی مہم چلائی گئی ہے۔ وزیر بجلی آشیش سود کی ہدایات کے بعد دہلی میں سب سے زیادہ نقصان والے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور وہاں بجلی چوری کو روکنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، دہلی کے محکمہ بجلی کے سب سے زیادہ نقصان والے علاقوں میں سے ایکقمر الدین نگر میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔
قمر الدین نگر مغربی دہلی کے منڈکا کا ایک علاقہ ہے۔ اس علاقے میں بجلی کے نقصانات بلند سطح پر پہنچ چکے تھے۔ اس دوران بجلی کے وزیر آشیش سود کی ہدایت پر سخت کارروائی کی گئی۔ اس سخت کارروائی کے بعد قمرالدین نگر میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ اس سے قبل،قمر الدین نگر میں نقصانات 56 فیصد سے زیادہ تھے، اور بجلی کی چوری سے محکمہ بجلی کو تقریباً 24.4 کروڑ روپے کا مالی نقصان ہو رہا تھا۔ اب اس علاقے میں بجلی چوری کو کم کرکے اس نقصان کو کم کیا جا رہا ہے۔
تحقیقات کے دوران، بجلی کے محکمے نے پایا کہ زیادہ تر چوری غیر قانونی کمرشل اور صنعتی یونٹس کی طرف سے کی جاتی ہے، جو اوور ہیڈ پاور لائنوں کے لیے غیر قانونی کنکشن کے ذریعے بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے، بجلی کے وزیر آشیش سود نے نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ DISCOMs کو بجلی چوری کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس مہم کے تحت کئی علاقوں میں چھاپے مارے گئے۔ آپریشن کے دوران 60 لاکھ یونٹ سے زائد بجلی چوری روکی گئی۔
بجلی کے وزیر آشیش سود کی ہدایات کے بعد کارروائی فوری طور پر شروع ہوئی۔ اس عرصے کے دوران بجلی چوری کو روکنے کے لیے جن علاقوں کو ہدف بنایا گیا تھا وہاں بجلی چوری میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ روزانہ تقریباً 34 ہزار یونٹ بجلی چوری ہوتی ہے۔ اس چوری کو روکنے کے لیے حکومت نے غیر محفوظ پاور لائنوں کو اینٹی تھیفٹ آرمرڈ کیبلز سے مکمل طور پر تبدیل کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
قمرالدین نگر میں کامیابی کے بعد دہلی حکومت نے دہلی کے دیگر علاقوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ ان علاقوں میں چھاپے مار کر بجلی چوری پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چھاپوں کے دوران پولیس کے دستے بھی موجود ہیں۔ دیگر علاقوں میں بجلی چوری کی روک تھام اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے بھی جدید ڈیٹا اینالیٹکس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network