دلی این سی آر
اشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
(پی این این)
نئی دہلی : یونیورسٹی پلیسمنٹ سیل(یو پی سی)جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مورخہ بائیس جنوری دوہزار پچیس کو ڈین،فیکلٹی آف انجینئرنگ کے دفتر میں جاپان کے ہ ±کائیدو کے وفد کی میزبانی کی۔جناب کازواکی ایکیڈا،ڈائریکٹر، بیور برائے بین الاقوامی امورو پالیسی سازی و رابطہ کاری کی سربراہی والا وفد بارہ اراکین پر مشتمل تھا۔ ٹیم میں ڈائریکٹر،سی ای اوز اورجاپان کی مختلف ممتاز صنعتوں کے نمائندے شامل تھے۔
یو پی سی،جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ٹیم پروفیسر راحیلہ فاروقی، اعزازی ڈائریکٹر، یوپی سی، پروفیسر صباح خان، اعزازی ڈپٹی ڈائریکٹر اور پروفیسر ریحان خان سوری،ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفیسر،جامعہ ملیہ اسلامیہ پر مشتمل تھی۔ان کے ہمراہ پروفیسر منی تھامس،ڈین فیکلٹی آف انجینئرنگ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی بھی تھیں۔ کزاو ¿کی ایکیڈااور ان کی ٹیم نے جاپان میں ہکائیدو جزیرے پر واقع یمہا کوکو، سپورو انڈسٹری،یاماکو انڈسٹری کو،لمیٹیڈ،میڈیا میجک انس وغیرہ جیسی آئی ٹی سکیٹر کی کمپنیوں میں ملازمت اور انٹرنشپ میں مواقع اور امکانات کی تلاش میں جامعہ کے یوپی سی کے ساتھ اشتراک کے لیے پرزینٹیشن دیا۔ایکیڈا نے اس امید کے ساتھ کے ہندوستانی طلبہ انٹرنشپ کے دوران ہکائیدو میں پرسکون طریقے سے رہ سکیں گے، انھوں نے جاپان کے شمال میں واقع ہکائیدو کی جغرافیائی اور آب وہوا کی خصوصیات کا جائزہ بھی پیش کیا۔
جامعہ کے سلسلے میں پروفیسر صباح خان نے پرزنٹیشن دیا جس کاہکائیدو وفد نے مثبت تاثر دیا۔نتیجے کے طورپر دونوں فریقوں نے طے کیا کہ اشتراک کے عمل کو آرکی ٹیکچر، سول انجینئرنگ، ہاسپٹالیٹی مینجمنٹ اور پروڈکشن انجینئرنگ وغیرہ کے شعبوں میں اپنا اشتراک بڑھائیں گے۔جاپانی وفد نے جامعہ میں سائنس،سوشل سائنس اور انجینئرنگ شعبہ جات میں تعلیمی معیار، تہذیبی رنگا رنگی اور تحقیق رخی اختراعیت کے جذبے کی ستائش کی۔
پروگرام سوال و جواب کے سیشن پر اختتام پذیر ہو اجس میں طلبہ اور فیکلٹی اراکین نے شرکت کی۔توقع ہے کہ جاپانی وفد،یوپی سی،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ساتھ مفاہمت نامے پر دستخط کے لیے اپنی شرائط اور ضوابط سے آگاہ کرے گا۔
دلی این سی آر
بٹلا ہاوس قبرستان کے بغل میں فٹ پاتھ ٹوٹنے سے عوام پریشان
(پی این این)
نئی دہلی :جامعہ نگر میٹرو اسٹیشن سے بٹلا ہاوس قبرستان کے ساتھ تقریباً دو سو میٹر کا فٹ پاتھ سو میٹر سے زیادہ ٹوٹا ہوا ہے پچھلے دو سال سے روز کوئی نا کوئی بزرگ یا بچے گرنا عام بات ہے فقیروں کا گرنا تو کسی گنتی میں نہیں ہے یہ وہ علاقہ ہے جہاں دنیا بھر کے مسلم آفیسر پروفیسر وکلا رہتے ہیں ملی تنظیموں کی بھرمار پرسنل بورڈ کا آفس بھی سامنے ہے مزیدار بات یہ ہے کی یہاں سے روز انقلاب اخبار کا پورا عملہ گزرتا ہے مدیر سمیت پر انکو نہیں دکھتا علاقے کے ایم ایل اے اور کونسلر صرف ریل بنانے میں لگے رہتے ہیں انکو یہاں اپنے ووٹ نہیں دکھتے سب سے زیادہ پوسٹر بواے یہی میٹرو پلر پر بڑے بڑے پوسٹر میں مل جایں گے سڑک بھی دہلی جل بورڈ نے ایک سال سے توڑ کر چھوڑرکھی ہے پر فٹ پاتھ کی حالت تو بہت ہی افسوسناک ہے آج سماجی کارکن و ادی انجینئر فیروز مظفر اور انکی بیگم صبح کی سیر کو نکلے تو انکی بیگم نے کہا اسکو صحیح کراو کاہے کے انجینئر ہو تو بڑی شرم آئی ہے۔
دلی این سی آر
انوراگ کمار کی دہلی پولیس کوامن و امان کو برقرار رکھنے کی ہدایت
(پی این این)
نئی دہلی: انوراگ کمار نے افسران کو واضح ہدایات دی ہیں کہ قومی دارالحکومت میں امن و امان کو برقرار رکھنا ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ ذرائع نے بتایا کہ پولیس کمشنر نے تمام ضلع اور یونٹ کے سربراہوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ شہر کے کسی بھی حصے میں امن و امان میں خلل نہ پڑے۔ انوراگ کمار اس سے قبل انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) میں خصوصی ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں ایجنسی میں تقریباً دو دہائیوں کا تجربہ ہے۔ اس دوران انہوں نے کشمیر، وی آئی پی سیکورٹی اور بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متعلق اہم معاملات کو سنبھالا۔وہ واشنگٹن میں ہندوستانی مشن میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں ان کی شاندار خدمات پر پولیس میڈل (میرٹوریس سروس) اور صدر پولیس میڈل (ممتاز خدمت) سے نوازا گیا ہے۔ انوراگ کمار نے ستیش گولچہ کی جگہ لی، جو اگست 2025 سے دہلی پولیس کمشنر کے عہدے پر فائز تھے۔سونم وانگچک این ای ای ٹی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے زیرقیادت احتجاج کی حمایت میں 28 جون سے غیر معینہ بھوک ہڑتال پر ہیں۔
ان کی صحت کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹروں کے مطابق ہڑتال کے دوران ان کا تقریباً 9.5 کلو گرام وزن کم ہوا اور ان کے بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کی سطح کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔دہلی پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ وانگچک کو ڈاکٹروں کے مشورے اور ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل میں ضروری طبی دیکھ بھال کے لیے اسپتال لے جایا گیا۔ پولیس نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ اپنا احتجاج پرامن طریقے سے ختم کر کے احتجاج کی جگہ خالی کر دیں۔ پولیس کی کارروائی کے بعد، سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں الزام لگایا کہ کارروائی کے دوران مظاہرین کو حراست میں لیا گیا اور ان کے خلاف پولیس کارروائی کی گئی۔
دلی این سی آر
سونم وانگچک کوجنتر منتر سے زبردستی اٹھا کر لے گئی دہلی پولیس
نئی دہلی :سونم وانگچک، جو گزشتہ 21 دنوں سے دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر ہیں، کو دہلی پولیس نے احتجاجی مقام سے ہٹا دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اسے علاج کے لیے صفدر جنگ اسپتال لے گئے ہیں۔ اب، کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سورو داس نے ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے سونم وانگچک کو اٹھا لیا۔ اس واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے سورو داس نے ایک ویڈیو بھی جاری کیا جس میں دہلی پولیس کے اہلکار سونم وانگچک کو لے جاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔واضح رہے کہ سنیچر کی صبح تقریباً 7:30 بجے دہلی پولیس کے کچھ اہلکار سادہ کپڑوں میں احتجاجی مقام پر پہنچے اور اسٹیج تک پہنچنے کے لیے رکاوٹیں توڑ دیں۔ سٹیج پر پہنچ کر پولیس اہلکاروں نے پہلے سٹیج پر کھڑے لوگوں کو ہٹایا اور سٹیج کو کئی سفید چادروں سے ڈھانپ دیا۔ سٹیج کا گھیراؤ کرنے کے بعد انہوں نے سونم وانگچک کو اسٹریچر پر بٹھایا اور لے گئے۔پولیس نے بتایا کہ جب اسے ہسپتال لے جانے کے لیے ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل کی جا رہی تھی، مظاہرین نے احتجاج کیا اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی، جس سے کچھ دیر تک افراتفری مچ گئی۔ تاہم، پولیس نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور پوری کارروائی کو پرامن اور محفوظ طریقے سے مکمل کرنے کو یقینی بنایا۔ دہلی پولیس نے مظاہرین سے اپنا احتجاج ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا، “ہم جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے تمام مظاہرین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد احتجاجی مقام کو پرامن طریقے سے خالی کر دیں۔”دہلی پولیس نے بھی اس معاملے پر ایک بیان جاری کیا ہے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ سونم وانگچک کو ہائی کورٹ کے حکم پر احتجاجی مقام سے اسپتال لے جایا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس کی صحت کو دیکھتے ہوئے اسے صفدر جنگ اسپتال لے جایا گیا، جہاں اس کا علاج چل رہا ہے۔واضح رہے کہ سونم وانگچک 28 جون سے دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرین کے ساتھ بھوک ہڑتال پر تھیں۔ اس دوران بھوک ہڑتال کی وجہ سے ان کی طبیعت خراب ہوگئی۔ سونم وانگچک کی صحت کے حوالے سے ملک بھر میں خدشات سامنے آنے لگے۔ اس دوران لوگوں نے حکومت پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت سونم وانگچک کو بچانے کے لیے کچھ کرے اور ان کے ساتھ منگنی کرے۔ اس کے مطالبات بھی سنے جائیں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
-
دلی این سی آر11 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
