Bihar
کربلا کی قربانی آج بھی انسانیت کیلئے مشعل راہ: مولانا ناصر حسین
بھاگلپور:شہادتِ کربلا کی عظیم یاد میں 19 چہلم کے موقع پر پیر کے روز میر امام بخش وقف اسٹیٹ، قصبہ گولاغاٹ نیا بازار واقع تاریخی امام باڑے میں عقیدت، احترام اور رنج و غم کے ماحول میں مجلس کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس میں شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ شہر کی مختلف انجمنوں نے درد بھری نوحہ خوانی اور سینہ زنی کے ذریعے حضرت امام حسینؓ اور ان کے وفادار ساتھیوں کی بے مثال قربانی کو یاد کیا۔مجلس سے خطاب کرتے ہوئے عالی جناب مولانا ناصر حسین صاحب نے فرمایا کہ کربلا محض تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ انسانیت، انصاف، صبر اور حق کی حفاظت کا ایسا پیغام ہے جو قیامت تک ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کے حوصلوں کو تقویت دیتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ نے اپنے اہلِ بیت اور جاں نثار ساتھیوں کے ساتھ کربلا کے تپتے ہوئے ریگستان میں اپنا سر تو قربان کر دیا، مگر ظلم و جبر کی علامت یزید کی بیعت قبول نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کی شہادت آج بھی سچائی، انصاف اور خودداری کی بلند ترین مثال سمجھی جاتی ہے۔
مجلس کے دوران امام باڑا ماتمی نوحوں، “یا حسینؑ” کی صداؤں اور اشک بار فضا سے گونج اٹھا۔ عزاداروں نے نم آنکھوں کے ساتھ امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی بتائی ہوئی سچائی، انصاف اور انسانیت کی راہ پر چلنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر امام باڑے کے متولی سید مہدی علی، سید امبر علی، سید محمد علی، جامین علی، نزاکت علی، دانش، اظہر، افروز، وکٹر، بابر، ارشد علی، اظہر سمیت بڑی تعداد میں عقیدت مند موجود تھے۔
Bihar
ضلع مجسٹریٹ سے سیمانچل یوا سنگٹھن جوکی ہاٹ کی ملاقات
ارریہ:سوموار کو سیمانچل یوتھ آرگنائزیشن، جوکی ہاٹ کے ایک وفد نے ضلع مجسٹریٹ، ارریہ سے ملاقات کرکے +2 سرکاری امداد یافتہ ہائی اسکول، جوکی ہاٹ کے احاطے میں تعمیر شدہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کو فوری طور پر فعال کرنے اور ہائی اسکول کے میدان نیز اس سے متصل عوامی سڑک پر برسوں سے قائم غیر قانونی تجاوزات اور سبزی منڈی کے مسئلے سے متعلق ایک تفصیلی عرضداشت پیش کی۔ وفد نے ضلع مجسٹریٹ کو بتایا کہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کی عمارت مکمل ہونے کے باوجود آج تک اسے طلبہ کے لیے نہیں کھولا گیا، جس کے باعث سیمانچل کے غریب اور اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔
اس سلسلے میں مختلف محکموں اور متعلقہ حکام کو پہلے بھی متعدد بار درخواستیں دی جا چکی ہیں، جن کی تفصیلات بھی ضلع مجسٹریٹ کے سامنے پیش کی گئیں۔ اس موقع پر وفد نے جوکی ہاٹ ہائی اسکول کے میدان اور اس سے گزرنے والی عوامی سڑک پر قائم غیر قانونی سبزی منڈی اور تجاوزات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ وفد نے کہا کہ اس تجاوز کی وجہ سے روزانہ ہزاروں طلبہ، اساتذہ اور سرپرستوں کو اسکول آنے جانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سڑک پر ہر وقت ٹریفک جام رہتا ہے، حادثات کا خدشہ برقرار رہتا ہے، جبکہ اسکول کا واحد کھیل کا میدان بھی بری طرح متاثر ہو چکا ہے، جس سے طلبہ کی کھیل، ثقافتی اور دیگر تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ضلع مجسٹریٹ نے دونوں معاملات کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کو جلد از جلد فعال بنانے کے لیے متعلقہ محکموں اور ذمہ دار افسران کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی۔ ساتھ ہی اسکول مینجمنٹ کمیٹی سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی کہ اب تک ہاسٹل کے آغاز میں تاخیر کیوں ہوئی۔ مزید برآں ضلع مجسٹریٹ نے ہائی اسکول میدان اور عوامی سڑک پر قائم تجاوزات کی فوری جانچ کرا کر ضروری کارروائی کرنے اور متعلقہ محکموں کو تجاوزات ہٹانے کے لیے مناسب ہدایات جاری کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
، تاکہ طلبہ اور عام شہریوں کو محفوظ اور آسان آمد و رفت کی سہولت میسر آ سکے۔
سیمانچل یوتھ آرگنائزیشن نے ضلع مجسٹریٹ کے مثبت اور سنجیدہ رویے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ کی مؤثر کارروائی سے اقلیتی طلبہ ہاسٹل جلد فعال ہوگا اور ہائی اسکول کا میدان اور عوامی سڑک تجاوزات سے پاک ہو کر دوبارہ طلبہ اور عوام کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔
تنظیم نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ تعلیم، طلبہ کے حقوق اور عوامی مفاد سے وابستہ مسائل کو آئندہ بھی آئینی، جمہوری اور پرامن طریقے سے انتظامیہ کے سامنے اٹھاتی رہے گی۔
Bihar
پندرہ اگست سے پہلے ای کے وائی سی ضروری ایل پی جی ملنے میں ہوگی دشواری
چھپرہ :وزارت پیٹرولیم اور بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ کی ہدایت کے مطابق بھارت گیس کے تمام صارفین کے لیے 15 اگست سے پہلے ای-کے وائی سی مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔مقررہ مدت میں ای-کے وائی سی مکمل نہیں کرنے والوں کو مستقبل میں سلینڈر حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اوم انٹرپرائزز بھارت گیس کے ڈائریکٹر ابھیشیک سنگھ نے بتایا کہ وزارت پٹرولیم کی ہدایت کے مطابق بھارت گیس کے تمام صارفین کے لیے ای-کے وائی سی کیا جا رہا ہے۔اس کا مقصد حقیقی اور اہل صارفین کی شناخت کو یقینی بنانا اور ایل پی جی کے کنکشن کو زیادہ سے زیادہ تقسیم کرنے سے روکنا ہے۔اس لیے تمام صارفین کو 15 اگست سے پہلے اپنا ای-کے وائی سی مکمل کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا جن صارفین کی ای-کے وائی سی آخری تاریخ تک مکمل نہیں ہوتی ہے۔
انہیں گیس سلنڈر حاصل کرنے یا دیگر خدمات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ رش سے بچنے کے لیے اس عمل کو ابھی مکمل کرنا بہتر ہوگا۔ابھیشیک نے وضاحت کی کہ ای-کے وائی سی عمل مکمل طور پر مفت ہے۔صارفین کو بس اپنا آدھار کارڈ اور رجسٹرڈ موبائل نمبر اوم انٹرپرائزز بھارت گیس کے دفتر یا ای-کے وائی سی سنٹر پر لانے کی ضرورت ہے۔ ای-کے وائی سی کا عمل بائیو میٹرکس یا او ٹی پی کے ذریعے منٹوں میں مکمل ہو جائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ای-کے وائی سی کا بنیادی مقصد آدھار کے ساتھ صارفین کے ریکارڈ کی تصدیق کرنا،سرکاری اسکیموں کے فوائد کو صحیح افراد تک پہنچنے کو یقینی بنانا،گیس کی تقسیم کے نظام میں شفافیت لانا اور صارفین کو مستقبل میں کسی تکنیکی یا شناخت سے متعلق مسائل سے بچانا ہے۔
Bihar
پروفیسر آفتاب اشرف کی سبکدوشی، شعبۂ اردو ایک عہد ساز معلم سے محروم
دربھنگہ:للت نارائن متھلا یونیورسٹی (ایل این ایم یو) دربھنگہ کے شعبۂ اردو کے ریسرچ اسکالر ریاض اختر شفیق نے پروفیسر آفتاب اشرف کی سبکدوشی پر انہیں ایک عہد ساز معلم، ممتاز محقق اور بہترین مربی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی چار دہائیوں پر محیط علمی و تدریسی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ تعلیم صرف معلومات کی منتقلی کا نام نہیں بلکہ نسلوں کی فکری و اخلاقی تعمیر کا ایک مقدس فریضہ ہے، اور پروفیسر آفتاب اشرف نے اس ذمہ داری کو پوری دیانت داری، اخلاص اور وقار کے ساتھ نبھایا۔ ان کی سبکدوشی محض ملازمت کے اختتام کا مرحلہ نہیں بلکہ یونیورسٹی کی علمی تاریخ کے ایک اہم باب کا اختتام ہے۔
ریاض اختر شفیق نے کہا کہ پروفیسر آفتاب اشرف نے اپنی 42 سالہ تدریسی زندگی علم و ادب کی خدمت کے لیے وقف رکھی۔ انہوں نے ہزاروں طلبہ کی علمی رہنمائی کی اور اپنی تحقیقی بصیرت، ادبی ذوق اور فکری گہرائی سے شعبۂ اردو کو نئی جہتیں عطا کیں۔ شعبے کی تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بھی ان کا کردار ہمیشہ نمایاں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ پروفیسر آفتاب اشرف اعلیٰ اخلاق، سادگی، انکساری اور خوش مزاجی کا حسین امتزاج تھے۔ وہ طلبہ کے لیے صرف ایک استاد نہیں بلکہ ایک شفیق رہنما اور بہترین مربی ثابت ہوئے، جنہوں نے تعلیمی تربیت کے ساتھ ساتھ کردار سازی پر بھی خصوصی توجہ دی۔
ریاض اختر شفیق نے مزید کہا کہ اردو ادب کے مختلف شعبوں میں پروفیسر آفتاب اشرف کی تحقیقی اور تنقیدی خدمات ہمیشہ علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔ ان کی تحریریں اور علمی سرمایہ آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنے گا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ پروفیسر آفتاب اشرف کی سبکدوشی سے شعبۂ اردو میں ایک خلا ضرور پیدا ہوگا، تاہم ان کے شاگرد، ان کی علمی روایت اور ان کی تعلیمات ہمیشہ زندہ رہیں گی اور نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ کا کردار ادا کرتی رہیں گی۔
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
