uttar pradesh
یوپی حکومت کی ’شجرکاری مہم‘ کے تحت فیکلٹی آف آرٹس میں لگائے گئے پودے
(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے حکومت اتر پردیش کی عظیم الشان شجرکاری مہم ”آج کا ہمارا مشن: چھایا“ میں شرکت کرتے ہوئے فیکلٹی آف آرٹس کے احاطے سے شجرکاری مہم کا آغاز کیا۔ریاست گیر مہم کا مرکزی موضوع ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ ہے، جس کا مقصد ریاست میں سبزہ زاروں میں اضافہ اور آبی وسائل کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ حکومت اتر پردیش نے ریاست بھر میں 35 کروڑ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ مشن چھایا کے تحت ایک ہی دن میں سڑکوں کے کنارے 2 کروڑ سے زائد پودے لگائے جائیں گے تاکہ سایہ دار راہداریاں قائم کی جا سکیں اور فضائی آلودگی میں کمی لائی جا سکے۔
اے ایم یو میں منعقدہ شجرکاری مہم کے دوران فیکلٹی آف آرٹس کے احاطے میں فائکس اور نیم کے پودے لگائے گئے۔اس تقریب میں چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ، علی گڑھ سرکل، محترمہ شردھا یادو، اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون اور پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے بطور خاص شرکت کی۔ ان کے ساتھ ہی فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر رضوان خان، ممبر انچارج لینڈ اینڈ گارڈن پروفیسر انور شہزاد، ممبر انچارج دفتر رابطہ عامہ پروفیسر وبھا شرما، یونیورسٹی لائبریرین پروفیسر نشاط فاطمہ، پروفیسر ایم جے وارثی، این ایس ایس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محسن خان، محکمہ جنگلات کے سینئر افسران، یونیورسٹی انتظامیہ کے عہدیداران اور کنزروینسی عملہ کے اراکین بھی موجود تھے۔
پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے کہا ”یہ مہم صرف پودے لگانے تک محدود نہیں بلکہ ذمہ داری کے احساس کو فروغ دینے کی ایک کوشش ہے۔ میں طلبہ اور اساتذہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان پودوں کی دیکھ بھال کریں اور اے ایم یو کو ’ہرِت اتر پردیش‘ کے وژن کے مطابق ایک مثالی گرین کیمپس بنائیں“۔
چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ محترمہ شردھا یادو نے مہم میں اے ایم یو کی فعال شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیوں کا کردار اس مہم کو حقیقی عوامی تحریک بنانے میں نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیم، ایش اور فائکس بنگھالینسس جیسے درخت سایہ فراہم کرنے، حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور فضائی معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔پروگرام کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لگائے گئے تمام پودوں کی مناسب دیکھ بھال اور بقا کو یقینی بنایا جائے گا اور یونیورسٹی کیمپس میں اس نوعیت کی ماحولیات دوست سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔
uttar pradesh
یوپی حکومت نے ماحولیاتی تحفظ میںحاصل کی ہے بڑی کامیابی ، ریاست میں ایکسپریس وے، ہائی وے اور سڑکوں کا بچھا ہےجال ،لگی ہیں نئی صنعتیں اور شہرکاری کا بڑھا ہےدائرہ:یوگی
(پی این این)
گورکھپور:اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اتوار کی صبح گورکھپور سے ایک ہی دن میں 35 کروڑ پودے لگانے کے ریکارڈ ہدف والی ریاست گیر شجرکاری مہم’مہایگیہ 2026‘کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔
وزیر اعلیٰ نے’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے تحت گورکھپور لنک ایکسپریس وے پر بھگوان پور ٹول پلازہ کے قریب’تریوینی‘ (نیم، پیپل اور برگد) کا پودا لگایا اور اس موقع پر ایک سیلفی بھی لی۔ اس کے بعد گورکھناتھ مندر واپس لوٹتے ہوئے انہوں نے تال رنگ روڈ کے کنارے’مولشری‘ کا پودا بھی لگایا۔
شجرکاری مہم کے سلسلے میں گیڈا سیکٹر 28 میں منعقدہ ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا”گزشتہ نو سالوں میں جہاں اتر پردیش میں مادی اور بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی ترقی کی رفتار تیز ہوئی ہے، وہی جنگلات کے رقبے (گرین کور) میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ 2017 کے بعد سے ریاست میں ایکسپریس وے، ہائی وے اور سڑکوں کا جال بچھا ہے، نئی صنعتیں لگی ہیں اور شہرکاری کا دائرہ بڑھا ہے۔ لیکن اس مادی ترقی کے ساتھ ساتھ یوپی حکومت نے ماحولیاتی تحفظ کے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے شجرکاری میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
درختوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جب زمین پر ایک درخت اگتا ہے تو وہ سینکڑوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے۔
انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ نو سالوں میں یوپی میں جنگلات کا رقبہ بڑھنے کی وجہ سے 6 کروڑ 37 لاکھ 74 ہزار 130 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب ہوئی ہے اور 4 کروڑ 63 لاکھ 90 ہزار 130 ٹن آکسیجن کا اخراج ہوا ہے۔اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے شجرکاری مہم کی تھیم ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ماں ہر انسان اور جاندار کے لیے کائنات کا سب سے خوبصورت تحفہ ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی صحت کی تو فکر کرتے ہیں، لیکن سب کچھ دینے والی دھرتی ماتا کی صحت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اگر ہمیں خود تندرست رہنا ہے، تو زمین کو بھی تندرست رکھنا ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے خبردار کیا کہ زمین پر زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے شجرکاری ناگزیر ہے۔ ماحولیاتی بحران کا اثر اب موسم کے سائیکل پر بھی صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا’’اس سال جو بارش 15 جون سے شروع ہونی چاہیے تھیں، وہ لگ بھگ ایک مہینہ تاخیر سے شروع ہوئی ہیں۔ جو بیج 15 جون تک بویا جانا تھا، اسے اگر 15 جولائی کو بویا جائے گا، تو اس سے فصل کی پیداوار میں 25 سے 30 فیصد تک کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دنیا بھر میں موسم شدید ہو رہے ہیں؛ کبھی گرمی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو کبھی سردی۔ خدشہ ہے کہ مستقبل میں کئی ساحلی شہر سمندر میں ڈوب جائیں گے اور کہیں پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہو جائے گا۔ سردیوں میں کئی شہر ’گیس چیمبر‘ بن جاتے ہیں، جہاں بچوں اور بزرگوں کے لیے الرٹ جاری کرنا پڑتا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے سوال اٹھایا کہ یہ خوفناک صورتحال کیوں پیدا ہوئی؟ انہوں نے خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ انسانوں نے اپنے مفاد کے لیے فطرت کے ساتھ کھلواڑ کیا، اندھا دھند درخت کاٹے، پانی کا بے تحاشا استعمال کیا لیکن واٹر ہارویسٹنگ پر توجہ نہیں دی، اور تالابوں پر ناجائز قبضے کیے۔ آج پوری انسانیت اس کی قیمت چکا رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی اپیل پر اس سال 5 جون کو عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر 5 کروڑ پودے لگائے گئے۔
uttar pradesh
اے ایم یو کے جے این میڈیکل کالج میںمنایا گیا آئی ایس ایس پی فاؤنڈیشن ڈے ، نیوروپیتھک درد سے آگہی پر زور
(پی این این)
علی گڑھ:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے جے این میڈیکل کالج (جے این ایم سی) کے شعبہ اینستھیسیالوجی نے انڈین سوسائٹی فار دی اسٹڈی آف پین (آئی ایس ایس پی)، علی گڑھ سٹی برانچ کے اشتراک سے آئی ایس ایس پی فاؤنڈیشن ڈے 2026 منایا، جس کا مقصد نیوروپیتھک درد سے متعلق آگہی کو فروغ دینا تھا۔
حاضرین کا خیرمقدم کرتے ہوئے شعبہ اینستھیسیالوجی کے چیئرمین پروفیسر حماد عثمانی نے کہا کہ نیوروپیتھک درد کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی بروقت شناخت، درست تشخیص اور مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل جامع علاج کے ذریعہ مریضوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین پروفیسر محمد خالد نے نیوروپیتھک درد کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بہتر طبی نتائج کے لیے مختلف طبی شعبوں کے درمیان اشتراک و تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
جے این ایم سی کے پرنسپل اور چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر انجم پرویز نے کہا کہ آگہی، بروقت مداخلت اور درد کے علاج کے شعبے میں جدید پیش رفت متاثرہ افراد کی تکلیف کم کرنے اور ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
پروگرام میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر نیر آصف اور آئی ایس ایس پی، علی گڑھ سٹی برانچ کے نائب صدر پروفیسر آشیش متل بھی موجود تھے۔ انہوں نے طلبہ اور طبی ماہرین کو درد کے مؤثر علاج اور مریضوں کی بہتر نگہداشت کے لیے مسلسل اعلیٰ معیار برقرار رکھنے کی ترغیب دی۔
اس موقع پر پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے درمیان پوسٹر پرزنٹیشن مقابلہ منعقد کیا گیا، جس میں طلبہ نے معلوماتی اور اختراعی پوسٹروں کے ذریعے نیوروپیتھک درد کے تصور کو مریضوں کے لیے آسان انداز میں پیش کیا۔ ان پوسٹروں کا جائزہ پین کلینک میں آنے والے مریضوں اور ان کے تیمارداروں نے ہی لیاجو سائنسی معلومات کی مؤثر ترسیل کے ساتھ ساتھ علاج سے مستفید ہونے والے افراد کی رائے کو اہمیت دئے جانے کا عکاس ہے۔اختتامی تقریب میں مہمانوں نے پوسٹر مقابلے کے کامیاب طلبہ کو انعامات سے نوازا۔ تقریب میں اساتذہ، پوسٹ گریجویٹ طلبہ، انٹرنز، نرسنگ اسٹاف، مریضوں اور ان کے تیمارداروں نے شرکت کی۔
uttar pradesh
کیمبرج یونیورسٹی میں اے ایم یو کی پروفیسر کی کتاب پر مذاکرہ منعقد
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ انگریزی کی پروفیسر سمیع رفیق کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ”اِنّوسینٹ ریپچرز: اسٹوریز آن دی نان ہیومن“ (ہواکال، 2026) پر برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے وولفسن کالج میں ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ کتاب انسانوں اور غیر انسانی دنیا کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالتی ہے۔
ہائبرڈ انداز میں منعقد ہونے والے اس مذاکرے میں کیمبرج یونیورسٹی کے طلبہ، محققین اور اساتذہ نے شرکت کی، جبکہ دنیا کے مختلف حصوں سے متعدد شرکاء آن لائن شریک ہوئے۔
اپنی کتاب پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر سمیع رفیق نے بتایا کہ ان کی تحریروں پر بچپن کے تجربات اور چرند و پرند سے ان کے تعلق کا گہرا اثر رہا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیات کے تحفظ اور قدرتی ماحول کی دیکھ بھال کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
کنگز کالج لندن کے پی ایچ ڈی اسکالر عبدالصبور قدوائی اور اے ایم یو کے شعبہ انگریزی کے ڈاکٹر آیوش گوڑ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مذاکرے کی نظامت کیمبرج یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی اسکالر مس مدیحہ نعمان نے کی۔ تقریب کا اختتام سوال و جواب کے سیشن اور کتاب پر دستخط کی تقریب کے ساتھ ہوا۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر11 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
