بہار
مولانا عبداللہ سالم قاسمی کی گرفتاری تشویشناک :امیر شریعت
(پی این این)
پٹنہ : مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امیر شریعت بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال نے اپنےایک بیان میں مولانا عبداللہ سالم قاسمی کی گرفتاری کی نوعیت پر شدید تشویش کا اظہار کیا اوراس تناظر میں آئینِ ہند کی بالادستی، شہری آزادیوں کے تحفظ اور ریاستی طاقت کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیتے ہوئےکہا کہ انڈین جمہوریت کی اصل روح اس کے آئین میں مضمر ہے، اور یہی آئین ریاست اور شہری کے درمیان ایک عادلانہ معاہدہ کی حیثیت رکھتا ہے لہذا اس کا خیال رکھنا ہر ایک کیلئے ضروری ہے۔
امیر شریعت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ مولانا عبداللہ سالم قاسمی کی گرفتاری کے طریقہ کار نے ایسے بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے جو پورے نظامِ انصاف اور ریاستی طرزِ عمل سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات اس اصول کی ہے کہ کیا ریاستی طاقت کا استعمال آئین کے دائرے میں ہو رہا ہے یا نہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ آئینِ ہند کا آرٹیکل 19(1)(a) ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے، اور اس آزادی پر پابندیاں صرف اسی صورت میں عائد کی جاسکتی ہیں جب وہ آرٹیکل 19(2) کے تحت معقول، محدود اور آئینی معیار پر پوری اترتی ہوں۔ امیر شریعت نے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ سپریم کورٹ نے متعدد فیصلوں میں یہ واضح کیا ہے کہ محض کسی بات کا ناگوار ہونا اسے جرم نہیں بنا دیتا، جب تک وہ براہِ راست امن عامہ کو متاثر نہ کرے۔
امیرشریعت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ آرٹیکل 21 ہر شہری کی شخصی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، اور اس کے تحت کسی بھی شخص کو صرف اسی صورت میں اس آزادی سے محروم کیا جا سکتا ہے جب ایک منصفانہ، معقول اور شفاف طریقۂ کار اختیار کیا جائے۔ اسی طرح آرٹیکل 22 گرفتاری کے وقت بنیادی تحفظات فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے ڈی کے باسو بنام ریاست مغربی بنگال (1997) میں گرفتاری کے واضح اصول متعین کیے گئے ہیں، جن کی پابندی ہر حال میں لازم ہے۔
امیر شریعت نے اپنے بیان میں ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان اطلاعات کا حوالہ دیا جن کے مطابق مولانا عبد اللہ سالم کو پیشی کے وقت کمزور اور تشویشناک حالت میں دیکھا گیا اور ایک ویڈیو معذرت بھی سامنے آئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ امور بذاتِ خود کسی جبر کو ثابت نہیں کرتے، مگر یہ ایسے سوالات کو ضرور جنم دیتے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اسی تناظر میں امیر شریعت نے نہایت دوٹوک انداز میں متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا گرفتاری مکمل قانونی تقاضوں کے مطابق انجام دی گئی؟ کیا متعلقہ شخص کو گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا گیا اور اس کے اہلِ خانہ کو اطلاع دی گئی؟ کیا لازمی طبی معائنہ کرایا گیا؟ اگر وہ پیشی کے وقت کے کمزور حالت میں نظر آئے تو اس کی کیا وجہ ہے؟ اور جو معذرت سامنے آئی، وہ کن حالات میں دی گئی—کیا وہ مکمل رضامندی کے ساتھ تھی یا ایسے ماحول میں دی گئی جہاں آزادیِ ارادہ متاثر ہو سکتی تھی؟
انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ ایک ریاست کی پولیس کی جانب سے دوسری ریاست میں کارروائی کے لیے کون سا قانونی طریقہ اختیار کیا گیا، اور کیا اس میں مقامی پولیس کو شامل کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک وفاقی نظام ہے، اور اس نظام کی روح باہمی احترام اور قانونی ہم آہنگی میں ہے، نہ کہ یک طرفہ طاقت کے استعمال میں۔
امیر شریعت نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ سوالات کسی الزام کے طور پر نہیں بلکہ آئینی جوابدہی کے تقاضے کے طور پر اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط جمہوریت وہی ہوتی ہے جہاں ریاستی طاقت شفاف ہو، قانون کے تابع ہو، اور عوام کے سامنے جوابدہ ہو۔
اپنے بیان کے اختتام پر امیر شریعت نے کہاکہ اگر آئین کے اصولوں کو نظر انداز کیا جائے تو اس کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے میں بے چینی اور عدمِ اعتماد کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کی مکمل تفصیلات، طریقۂ کار اور قانونی بنیاد کو عوام کے سامنے پیش کریں تاکہ قانون کی حکمرانی پر اعتماد برقرار رہے اور مولانا پر کسی بھی طرح کا جبر ، اور ذہنی و جسمانی اذیت کا معاملہ ہر گز نہ کیا جائے اور قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کیلئے مولانا کے ساتھ انصاف کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی اصل طاقت اس میں نہیں کہ سوال نہ اٹھائے جائیں، بلکہ اس میں ہے کہ سوال اٹھائے جائیں—اور ان کے جواب دیانت داری اور شفافیت کے ساتھ دیے جائیں۔
Bihar
نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو کا نام بدلنے کی تیاری،سنجے جھا نے رہنماؤں سے کی بڑی اپیل،پارٹی کا نام ’جنتا دل نتیش‘ رکھنے کی پیش کی تجویز
(پی این این)
پٹنہ:جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے قومی کارگزار صدر اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے جھا نے پارٹی کے رہنماؤں سے پارٹی کا نام تبدیل کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے جے ڈی یو کا نام تبدیل کرکے جنتا دل نتیش رکھنے کی تجویز پیش کی ہے۔کھگڑیا میں منعقدہ نتیش سنواد پروگرام کے دوران اپنی تقریر میں انہوں نے یہ بات کہی۔
انہوں نے کہا کہ بہار کی ترقی اور پارٹی کے فروغ کے لیے انہوں نے پوری طاقت اور خلوص کے ساتھ کام کیا ہے۔ ان کے کام اور خدمات کے اعتراف اور احترام میں پارٹی کا نام ان کے نام پر رکھا جانا چاہیے۔کھگڑیا میں پارٹی کے ریاستی صدر امیش کشواہا سے خطاب کرتے ہوئے سنجے جھا نے کہا کہ اب جے ڈی یو کو جنتا دل نتیش کے نام سے جانا جانا چاہیے۔دراصل سنجے جھا ان دنوں بنگلہ دیش کے ساتھ فرکا پانی معاہدے کو لے کر مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے نتیش سنواد پروگرام منعقد کر رہے ہیں۔ وہ گنگا ندی کے کنارے واقع 12 اضلاع کا دورہ کر رہے ہیں، جس کا آغاز بکسر سے کیا گیا ہے اور اختتام کٹیہار میں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ بہار کے ساتھ ناانصافی ہے، کیونکہ ہمیں اپنے حصے کا پانی دوسرے ملک کو دینا پڑتا ہے۔ وہ فرکا پانی معاہدے کی تجدید کے حق میں نہیں ہیں۔اسی سلسلے میں بدھ کے روز سنجے جھا کھگڑیا میں موجود تھے۔
پروگرام کے دوران انہوں نے نتیش کمار کے کاموں کا ذکر کیا۔ سنجے جھا نے یہ اپیل ایسے وقت میں کی ہے جب نتیش کمار کی جائے پیدائش بختیارپور کا نام بدل کر نتیش پور رکھنے کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔ بدھ کے روز ہندوستانی عوام مورچہ کے صدر سنتوش کمار سمن نے کہا کہ بختیارپور کا نام تبدیل کرکے نتیش پورم کیا جانا چاہیے۔
سنجے جھا نے کہا کہ جب بھی بہار کی ترقی کی بات ہوتی ہے تو نتیش کمار کا نام سامنے آتا ہے۔ فرکا پانی معاہدے کو آگے نہ بڑھانے کی آواز بھی نتیش کمار نے ہی اٹھائی تھی۔ جمعرات کو جے ڈی یو کے ریاستی دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ پانی کے معاہدے میں بہار کے مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔جھا نے کہا کہ فرکا بیراج کی وجہ سے بہار میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ گنگا میں گاد جمع ہونے کے سبب پانی کے بہاؤ اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں پانی پھیل رہا ہے اور سیلاب کی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہار کے حصے کا تعین کرنے کے بعد ہی بنگلہ دیش کے ساتھ گنگا کے پانی کی تقسیم کا معاہدہ کیا جائے۔ بہار کو سال 2050 تک پانی کی کتنی ضرورت ہوگی، اس کا اندازہ لگاتے ہوئے پانی میں ریاست کی حصہ داری طے کی جانی چاہیے۔
سنجے جھا نے کہا کہ گزشتہ 30 برسوں سے بہار کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بہار گزشتہ 30 برس سے جاری اس ناانصافی کو اب مزید برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی بھی اس ناانصافی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔انہوں نے اس معاملے کو لے کر عوام کے درمیان جانے کا بھی اعلان کیا۔
Bihar
دہلی میں 4 اکتوبر کو ہوگا ’بِہاری سَوامِیمان سمیلن‘ کا دوسرا باب،بیرونِ ریاست مقیم بہاریوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر بہار کی ترقی پر کیا جائے گا تبادلۂ خیال، وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری کی بھی شرکت متوقع
(پی این این)
پٹنہ؍نئی دہلی:ملک کے مختلف حصوں میں مقیم بہاریوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے اور بہار کی ترقی کے لیے اجتماعی طور پر غور و فکر کرنے کے مقصد سے ’بِہاری سَوامِیمان سمیلن‘ کا دوسرا باب 4 اکتوبر کو دہلی میں منعقد کیا جائے گا۔ اس کی اطلاع دینے کے لیے پٹنہ کے ہوٹل پاٹلی پتر ایگزوٹیکا میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں شبھ سیتا فاؤنڈیشن کی بانی و ڈائریکٹر، سماجی کارکن اور ’بِہاری سَوامِیمان سمیلن‘ کی بانی کارکن منورما جھا نے بتایا کہ یہ پروگرام کیدار ناتھ ساہنی آڈیٹوریم، اجمیری گیٹ، دہلی میں منعقد ہوگا۔
پریس کانفرنس میں بہار کیڈر کے سینئر ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر وجے پرکاش، اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ریٹائرڈ اسسٹنٹ جنرل منیجر امیش مشرا، ادیب و سماجی کارکن صدف اقبال اور سیاسی تجزیہ کار (Psephologist) رام بندھو وتس موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کانفرنس کا پہلا ایڈیشن گزشتہ سال 14 جون کو ممبئی میں منعقد کیا گیا تھا۔
منورما جھا نے بتایا کہ دہلی میں ہونے والے کانفرنس میں بہار کے مختلف شعبوں سے وابستہ اہم شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے۔ بہار کے وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری، ڈاکٹر دھرم شیلا گپتا، رکنِ راجیہ سبھا، محترمہ انّ پورنا دیوی، وزیرِ برائے خواتین و اطفال ترقیات، جناب رِتُ راج سنہا، نیشنل سیکریٹری بی جے پی، پرشانت کشور، انیل اگروال، ویدانتا گروپ، سنجے کمار جھا، ایگزیکٹو چیئرمین جے ڈی یو، اداکار پنکج ترپاٹھی، شرییسی سنگھ، متھیلیش تیواری، وزیرِ تعلیم، پروین جھا، پی ایچ آئی ییل گروپ، اداکار شیکھر سمن، سندیپ جھا، سندیپ گروپ آف انسٹی ٹیوٹس، نتیش مشرا، وزیر، پربھات رنجن، وائی ایس پی ایل فیوژن، اکھلیش پرساد سنگھ، رکنِ راجیہ سبھا، نتیا پاٹھک، ادے سنگھ، نیشنل پریسیڈنٹ جن سوراج، ستیش کمار سنگھ، جگدیپ نارائن سنگھ، ریٹائرڈ آئی اے ایس، سیما سنگھ، بزنس وومن، اور اکشرہ سنگھ، اداکارہ، کو پروگرام میں شرکت کے لیے دعوت نامہ بھیجا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بہار سے باہر رہ کر مختلف شعبوں میں کام کرنے والے صنعت کاروں اور دیگر ماہرین کو بھی کانفرنس میں مدعو کیا گیا ہے۔
منورما جھا نے کہا کہ ملک کے مختلف شہروں اور ریاستوں میں رہنے والے بہاریوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر بہار سے متعلق مسائل پر کھل کر تبادلۂ خیال کرنا اس کانفرنس کا بنیادی مقصد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہار کئی چیلنجز سے گزر رہا ہے، اس لیے سیاسی نظریات سے بالاتر ہوکر غیر جانب دارانہ اور بامعنی گفتگو ضروری ہے۔ تبادلۂ خیال کے بعد بہار کی بہتری کے لیے عملی تجاویز اور ایک قابلِ عمل منصوبۂ عمل کی سمت آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ اس کانفرنس کو ملک کے مختلف حصوں میں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ منتظمین کا ماننا ہے کہ بہار سے دور رہنے والے لوگ بھی ریاست کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہ کانفرنس اسی جذبے کو مضبوط بنانے کی ایک کوشش ہے۔
Bihar
ضلع مجسٹریٹ ارریہ نے پرائمری ہیلتھ سینٹرکا کیا معائنہ،ڈی ایم ونود دوہن نے فوری طور پر پی ایچ سی کو متبادل عمارت میں چلانے کی دی ہدایت
(پی این این)
ارریہ:ضلع مجسٹریٹ ارریہ مسٹر ونود دوہن نے گزشتہ کل پرائمری ہیلتھ سنٹر، کرسا کانٹا کا معائنہ کیا۔ معائنہ کے دوران ضلع مجسٹریٹ نے صحت سینٹر میں دستیاب صحت کی سہولیات، ضروری انتظامات اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بارے میں معلومات لی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ہیلتھ سینٹر کے مختلف کمروں اور احاطے کا جائزہ لیا اور ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکرز کی موجودگی، مریضوں کے لئے دستیاب سہولیات، ادویات کی دستیابی اور دیگر ضروری انتظامات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو صحت کی خدمات کو ہموار اور مؤثر طریقے سے برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہدایات دیں۔
معائنہ کے دوران ضلع مجسٹریٹ نے پرائمری ہیلتھ سنٹر کی موجودہ عمارت کی حالت اور دستیاب وسائل کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر ایک اور مناسب عمارت کی نشاندہی کرنے اور وہاں سے پرائمری ہیلتھ سنٹر کے کام کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے کہا کہ وہ متبادل عمارت میں ضروری انتظامات مکمل کریں اور صحت کی خدمات کے بلا تعطل( بغیر کسی دیری کے ) آپریشن کو یقینی بنائیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے واضح کیا کہ عام لوگوں کو صحت کی بہتر اور قابل رسائی سہولیات فراہم کرنا ضلع انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ تمام ضروری انتظامات کو بروقت یقینی بنایا جائے تاکہ مرکز صحت میں آنے والے مریضوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا نہ پڑے۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
