Connect with us

بہار

عیدالاضحی کے موقع پر امیرِ شریعت کا پیغام اور ضروری ہدایات

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف :امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال مولانا احمد ولی فیصل رحمانی ، سجادہ نشیں خانقاہِ رحمانی مونگیر، نے عید الاضحیٰ کے مبارک موقع پر مسلمانوں کے نام اپنے پیغام میں فرمایا کہ : یہ عبادت ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ سیرت یاد دلاتی ہے جس میں ایمان، جرأت، اطاعت، مقصدیت اور اللہ کے لیے مکمل سپردگی جمع ہو جاتی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کی قربانیوں کو قبول فرمائے، ہمیں عبدیت، اخلاص، نظم، عزیمت اور خیرِ امت کا اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ہماری عید کو مبارک، بامقصد اور امت و انسانیت کے لیے خیر کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
امیرِ شریعت نے یہ بھی فرمایا کہ اسی مبارک مہینے میں اسلام کا عظیم رکن، فریضۂ حج، ادا کیا جاتا ہے۔ لاکھوں بندگانِ خدا حج کے اعمال ادا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے حج کو قبول فرمائے، اسے ان کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی، امت کے اتحاد، اخلاقی بیداری اور عملی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ حضرت امیرِ شریعت نے فرمایا کہ عید الاضحیٰ کا دن صرف خوشی کا دن نہیں، بلکہ عزم، نظم، ذمہ داری، خدمت اور اجتماعی وقار کا دن ہے۔ اس لیے ملک کے تمام مسلمانوں سے اپیل ہے کہ قربانی کے مبارک عمل کو کامل دینی شان، قانونی احتیاط، سماجی ذمہ داری، صفائی ستھرائی اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ انجام دیں۔
امیرِ شریعت نے قربانی کے تعلق سے مسلمانوں کو درج ذیل باتوں کی خصوصی تاکید فرمائی:قربانی شعائرِ اسلام میں سے ہے اور ہر صاحبِ نصاب پر واجب ہے۔ جانور کی قیمت صدقہ کر دینے سے واجب قربانی ادا نہیں ہوتی، اس لیے جو لوگ صاحبِ نصاب ہیں وہ شرعی حدود، قانونی تقاضوں اور مقامی حالات کا لحاظ رکھتے ہوئے قربانی ضرور کریں۔ربانی کو صرف ایک رسم نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے ایمان، اطاعت، نظم، صفائی، خدمت، وقار اور اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا جائے۔ مسلمان کا ہر عمل ایسا ہونا چاہیے جس سے دین کی عظمت، اخلاق کی بلندی اور امت کی تہذیب ظاہر ہو۔
قربانی کے لیے ہمیشہ ایسے جانور کا انتخاب کیا جائے جس کی قربانی شرعاً درست اور مقامی قانون کے مطابق ہو۔قربانی سے پہلے مقامی ذمہ داران، مسجد کمیٹی، محلہ کمیٹی اور ضرورت ہو تو مقامی انتظامیہ سے مناسب رابطہ رکھا جائے، تاکہ قربانی کا عمل نظم، سکون اور اطمینان کے ساتھ مکمل ہو۔ ہر محلہ میں چند ذمہ دار افراد پہلے سے متعین کر دیے جائیں جو صفائی، نظم، رابطہ، گوشت کی تقسیم اور کسی ہنگامی صورتِ حال میں رہنمائی کا کام انجام دیں۔قربانی کے موقع پر صفائی ستھرائی کا غیر معمولی اہتمام کیا جائے۔ خون، آلائش، اوجھڑی، ہڈی، کھال یا دیگر فضلات نالیوں، سڑکوں، گلیوں، کھلے میدانوں یا عوامی جگہوں پر ہرگز نہ پھینکے جائیں۔ انہیں محفوظ طریقے سے جمع کر کے مقامی انتظام کے مطابق دفن کیا جائے یا ذمہ دار صفائی عملہ کے حوالے کیا جائے، تاکہ بدبو، گندگی، بیماری یا کسی کی اذیت کا سبب نہ بنے۔
٭ ہر محلہ میں انفرادی یا اجتماعی طور پر قربانی کے فوراً بعد صفائی کا اہتمام کیا جائے، جس جگہ قربانی ہوئی ہے اس کو فوراً دھودیا جائے، جراثیم کش دوا یا چونا وغیرہ کا استعمال کیا جائے ، ، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بدبو یا گندگی باقی نہ رہے۔ کیونکہ صفائی ہمارے ایمان، تہذیب اور اجتماعی وقار کا حصہ ہے۔ قربانی عبادت ہے، تماشا نہیں۔ قربانی کی جگہ شور و ہنگامہ، غیر ضروری بھیڑ، نعرہ بازی، بحث و مباحثہ، ویڈیو سازی یا غیر ذمہ دارانہ نقل و حرکت سے پرہیز کیا جائے۔ بچوں اور نوجوانوں کو بھی پہلے سے سمجھایا جائے کہ قربانی کے وقت ویڈیو سازی یا غیر ذمہ دارانہ نقل و حرکت سے پرہیز کریں۔ قربانی کے جانوروں کو لے جاتے ہوئے یا گوشت تقسیم کرتے ہوئے راستوں، بازاروں اور حساس مقامات پر غیر ضروری رکنے، بحث کرنے، دکھاوا کرنے یا کوئی ایسا انداز اختیار کرنے سے گریز کیا جائے جس سے اشتعال یا غلط فہمی پیدا ہو۔
خون آلود کپڑوں، تھیلوں، اوزاروں یا کھلے گوشت کے ساتھ باہر نہ نکلا جائے۔ گوشت کو صاف، ڈھکے ہوئے، محفوظ اور باوقار طریقے سے رشتہ داروں، پڑوسیوں، دوست احباب اور ضرورت مندوں تک پہنچایا جائے۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم میں غرباء، مساکین، بیواؤں، یتیموں، بیماروں، مزدوروں اور ضرورت مند خاندانوں کو خاص طور پر یاد رکھا جائے؛ تاکہ عید کی خوشی صرف اپنے گھر تک محدود نہ رہے، بلکہ محلہ، بستی اور سماج کے کمزور لوگوں تک بھی پہنچے۔
قربانی کی کھال اگر کسی محتاج شخص، مستحق مدرسہ، دینی ادارہ، فلاحی مرکز یا معتبر رفاہی کام میں دی جا سکتی ہو تو ضرور دی جائے۔ اگر کھال فروخت کی جائے تو اس کی قیمت شرعی اصولوں کے مطابق مستحقین یا دینی و رفاہی مصرف میں دی جائے۔ سوشل میڈیا، واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب یا کسی بھی پلیٹ فارم پر جانور کے ذبح، خون، آلائش، گوشت یا ایسے مناظر کی تصویر یا ویڈیو ہرگز اپ لوڈ یا شیئر نہ کی جائے۔ آج کے ماحول میں ایسی تصاویر اور ویڈیوز کو غلط سیاق میں استعمال کر کے فتنے، نفرت اور قانونی پریشانی پیدا کی جا سکتی ہے۔

Bihar

بہار کے طلبہ و طالبات کو وزیر اعلیٰ کا تحفہ،سمراٹ چودھری نے طلبہ کے مسائل کا مقررہ وقت کے اندر حل یقینی بنانے کیلئے کیا پورٹل کاآغاز، ہر ماہ تعاون کیمپ لگانے کا اعلان

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے تعلیمی اداروں میں ہر ماہ کے چوتھے منگل کو تعاون کیمپ منعقد کیے جائیں گے، جہاں طلبہ براہِ راست اپنی شکایات، مسائل اور تجاویز پیش کر سکیں گے۔ اس سلسلے کا آغاز 25 اگست سے بہار کے تمام اسکولوں اور طلبہ کے ہاسٹلوں میں ہوگا۔ وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کل جے ڈی ویمنز کالج کے آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران اس کا اعلان کیا۔اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ نے ’ودیارتی تعاون پورٹل‘ کا افتتاح کیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ طلبہ کے مسائل کا مقررہ وقت کے اندر حل یقینی بنانے کے لیے یہ پورٹل شروع کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد طلبہ و طالبات کے تعلیمی، ہاسٹل سے متعلق اور دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ ان کی تجاویز کا بھی فوری ازالہ کرنا ہے۔ یہ سہولت مکمل طور پر مفت ہوگی اور اس کے ذریعے طلبہ کی شناخت کو خفیہ رکھا جائے گا۔
تعاون کیمپ سے متعلق معلومات کے لیے ہیلپ لائن نمبر 1100 دستیاب ہوگا۔ طلبہ کی شکایات پر 10 دن کے اندر کارروائی شروع نہ ہونے کی صورت میں 11ویں دن وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کی جانب سے ازخود نوٹس جاری کیا جائے گا اور زیادہ سے زیادہ 30 دن کے اندر ہر حال میں مسئلے کا حل یقینی بنایا جائے گا۔
وزیرِ اعلیٰ نے پٹنہ کے جے ڈی ویمنز کالج میں موجود طالبات سے بات چیت کی اور تعلیمی سرگرمیوں اور ان کے مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بہار میں تعلیمی نظام کو مزید جدید، شفاف، جواب دہ اور طلبہ مرکوز بنانے کی سمت میں مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔
سمراٹ چودھری نے 15 اگست کو گاندھی میدان میں پرچم کشائی کے بعد اپنی تقریر میں اس کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے حکومت طلبہ و طالبات سے براہِ راست بات چیت کرے گی۔ ان کی باتیں سننے اور ان کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ہر ماہ تعاون کیمپ کا انعقاد کیا جائے گا۔اس کے علاوہ ’ودیارتی تعاون پورٹل‘ قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے طلبہ اپنے مسائل سے حکومت کو آگاہ کر سکیں گے۔ تعاون پورٹل پر درج کی جانے والی شکایات کا ازالہ ایک ماہ کے اندر یقینی بنایا جائے گا۔
وزیرِ اعلیٰ کی اس پہل سے طلبہ و طالبات میں خاصا جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔ کئی مرتبہ محکمہ کی سست روی کے باعث میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں ہونے والی غلطیوں کی اصلاح کرانے کے لیے طلبہ کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طالبات نے حکومت کے اس فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا ہے، جس کے تحت ان کے اسکول اور کالج کے قریب ’پولیس دیدی‘ تعینات کی جائیں گی۔
وزیرِ اعلیٰ کی ہدایت پر ایسا نظام وضع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت خواتین پولیس اہلکار اور افسران سادہ لباس میں حساس مقامات پر نظر رکھیں گے۔ اس کی شروعات رکشا بندھن کے دن سے کی جائے گی۔ تمام اضلاع میں اس سلسلے میں ضروری تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

 

 

Continue Reading

Bihar

مہسول میں 100 بستروں والے اقلیتی ہاسٹل کی تعمیر شروع،ساڑھے 8 کروڑ روپے کی تخمینہ سے تعمیر ہوگا ہاسٹل، سال 2004 سے زیر التوا تھا منصوبہ، طلبہ کو ملے گی بہتر رہائشی کی سہولت

Published

on

(پی این این)
سیتامڑھی:مہسول اور آس پاس کے طلبہ کے لیے منگل کا دن بڑی خوشخبری لے کر آیا۔ سال 2004 سے زیر التوا 100 بستروں والے اقلیتی ہاسٹل کی تعمیر کا عمل آخرکار زمین پر اتر گیا۔ مہسول مشرقی، میونسپل کارپوریشن وارڈ نمبر 28 میں تقریباً ساڑھے 8 کروڑ روپے کی تخمینہ سے مجوزہ ہاسٹل کی تعمیر کے لیے منگل کو زمین کی پیمائش، حد بندی اور لے آؤٹ کا کام شروع کیا گیا۔ موقع پر پہنچیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر، اقلیتی بہبود ڈاکٹر سونیتا سونو نے تعمیراتی مقام کا معائنہ کیا اور تعمیر سے متعلق تیاریوں کا جائزہ لیا۔
انہوں نے بتایا کہ ہاسٹل کی تعمیر کے سلسلے میں ضروری انتظامی کارروائی مکمل کرلی گئی ہے اور تعمیراتی عمل شروع کردیا گیا ہے۔ اقلیتی ہاسٹل کا یہ منصوبہ سال 2004 سے زیر التوا تھا۔ تقریباً 18 برسوں تک مختلف سطحوں پر جاری کارروائی کے بعد تعمیر شروع ہونے سے مقامی لوگوں اور طلبہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ 100 بستروں پر مشتمل یہ ہاسٹل دور دراز علاقوں سے آکر تعلیم حاصل کرنے والے اقلیتی طلبہ کے لیے اہم رہائشی سہولت ثابت ہوگا۔ ہاسٹل کی تعمیر سے طلبہ کو رہائش کے ساتھ تعلیم کے لیے بہتر اور سازگار ماحول بھی میسر ہوگا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے علاقے میں تعلیم کو فروغ ملے گا اور ضرورت مند طلبہ کو بڑی سہولت حاصل ہوگی۔ رحمانیہ یوتھ ایکتا کمیٹی، مہسول کے ضلعی صدر محمد ارمان علی نے تعمیراتی کام شروع ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ، سیتامڑھی اور اقلیتی بہبود محکمہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ برسوں سے زیر التوا اہم مطالبہ اب پورا ہونے جا رہا ہے۔
ہاسٹل کی تعمیر سے دور دراز علاقوں سے تعلیم حاصل کرنے آنے والے طلبہ کو رہائش کی سہولت ملے گی اور ان کی تعلیم کے لیے بہتر ماحول فراہم ہوگا۔ تقریباً ساڑھے 8 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا 100 بستروں کا ہاسٹل مہسول کی ترقی اور تعلیمی ماحول کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ مقامی لوگوں نے تعمیراتی کام شروع ہونے کو برسوں پرانی امید کی تکمیل کی جانب بڑی پیش رفت قرار دیا۔ لوگوں نے امید ظاہر کی کہ ہاسٹل کی تعمیر معیاری طریقے سے مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائے گی، تاکہ طلبہ کو جلد از جلد اس کا فائدہ مل سکے۔حد بندی اور لے آؤٹ کے دوران رحمانیہ یوتھ ایکتا کمیٹی کے ضلع صدر محمد ارمان علی، اقلیتی ایکتا منچ کے ضلع صدر محمد مرتضیٰ، شیخ محمد ضیاء الرحمٰن، محمد گلاب، محمد علیم عرف آرزو، محمد مظہر علی راجا، انجینئر توقیر انور عرف سکندر، محمد افروز عالم، محمد قمر اختر، محمد عامر مختار عرف آرزو، وارڈ کونسلر محمد عطا اللہ رحمانی سمیت دیگر افراد موجود رہے۔

Continue Reading

Bihar

طلبہ کی تکثیریت کا احترام اور شمولیاتی تعلیم کا فروغ وقت کی اہم ضرورت: پروفیسر محمد مشاہد

Published

on

(پی این این)
دربھنگہ:مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (MANUU) کے کالج آف ٹیچر ایجوکیشن (CTE)، دربھنگہ میں 17 اگست کو ’’طلبہ کی تکثیریت اور شمولیاتی تعلیم‘‘ کے موضوع پر ایک توسیعی خطبے کا انعقاد کیا گیا۔ خطبے میں پروفیسر محمد مشاہد، ڈین، اسکول آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ، MANUU، حیدرآباد نے فیکلٹی اراکین، بی ایڈ و ایم ایڈ طلبہ اور پی ایچ ڈی اسکالرز سے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں پروفیسر محمد مشاہد نے کہا کہ طلبہ کی مختلف سماجی، ثقافتی، لسانی، معاشی، تعلیمی اور انفرادی پس منظر کا احترام کرتے ہوئے شمولیاتی تعلیمی طریقۂ کار کو فروغ دینا ایک مساوی، جمہوری اور طالب علم مرکوز تعلیمی ماحول کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ مختلف صلاحیتوں اور پس منظر کے ساتھ جماعت میں آتے ہیں، اس لیے اساتذہ کو تدریس کی منصوبہ بندی اور اس کے نفاذ میں ان کے اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے مناسب تعلیمی مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ شمولیاتی تعلیم محض ایک نظریاتی تصور نہیں، بلکہ اس کا عملی اظہار جماعتی تعامل، تدریسی حکمتِ عملی، تشخیصی طریقوں، تعلیمی وسائل اور مجموعی علمی ماحول میں ہونا چاہیے۔ ہر طالب علم کو سیکھنے، اظہارِ خیال، جماعتی سرگرمیوں میں شرکت اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔پروفیسر مشاہد نے اساتذہ، محققین اور طلبہ کے درمیان علمی تعاون کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بامعنی علمی ترقی اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے CTE دربھنگہ کے فیکلٹی اراکین اور ریسرچ اسکالرز پر زور دیا کہ وہ علمی مکالمے، بین المضامین تعاون، علم کے اشتراک اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دیں تاکہ تدریس و تحقیق کے معیار کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
پروگرام کا آغاز پی ایچ ڈی اسکالر عبدالرافع کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد شارب علی اور ان کی ٹیم نے MANUU ترانہ پیش کیا۔ استقبالیہ خطاب پروفیسر شفاعت احمد نے کیا۔ ڈاکٹر فخرالدین علی احمد نے پروفیسر محمد مشاہد کا تعارف پیش کرتے ہوئے تعلیم کے میدان میں ان کی علمی خدمات اور کردار پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر پروفیسر محمد فیض احمد، پرنسپل، MANUU CTE دربھنگہ نے پروفیسر محمد مشاہد کو شال اور متھلا پاگ پیش کرکے ان کا استقبال کیا اور ڈین کے عہدے کی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر محمد فیض احمد نے توسیعی خطبے کی علمی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ استاد تعلیم کے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اساتذہ تیار کریں جو طلبہ کی متنوع ضروریات اور پس منظر کو سمجھیں اور ایک جامع و معاون تعلیمی ماحول تشکیل دینے کے لیے پُرعزم ہوں۔نشست میں بی ایڈ و ایم ایڈ طلبہ، پی ایچ ڈی اسکالرز اور فیکلٹی اراکین نے پُرجوش شرکت کی۔ پروگرام کے دوران ہونے والے علمی تبادلے میں عصری استاد تعلیم اور جماعتی تدریس میں شمولیاتی تعلیم کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔
پروگرام کی نظامت ڈاکٹر محمد افروز عالم نے کی، جبکہ اختتامی کلماتِ تشکر کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد کلیم اللہ نے پیش کیے۔ انہوں نے مہمانِ خصوصی، پرنسپل، فیکلٹی اراکین، ریسرچ اسکالرز، طلبہ اور پروگرام کی کامیابی میں تعاون کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔توسیعی خطبے کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ طلبہ کی تکثیریت کو تسلیم کرتے ہوئے شمولیت، مساوات، باہمی تعاون اور معاون تعلیمی ماحول کو فروغ دینا استاد تعلیم کے معیار اور مؤثریت کو بہتر بنانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network