Connect with us

دلی این سی آر

ملک میں خالص پٹرول ملنا چاہیے 82روپےفی لیٹر: کجریوال

Published

on

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کجریوال نے ملک میں 102 روپے فی لیٹر فروخت ہونے والے ای-20 بلینڈڈ پٹرول کی قیمت کو لے کر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خالص پٹرول 82 روپے فی لیٹر ملنا چاہیے، لیکن حکومت عوام کو 102 روپے فی لیٹر میں ای-20 پٹرول فروخت کر رہی ہے۔ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت اس وقت 70 ڈالر فی بیرل ہے۔ اس قیمت کے حساب سے پٹرول تیار کرنے کی لاگت تقریباً 42 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ اگر تمام ٹیکس بھی شامل کر لیے جائیں تب بھی خالص پٹرول 82 روپے فی لیٹر اور ای-20 پٹرول تقریباً 70 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہونا چاہیے۔ اسی حساب سے ڈیزل کی قیمتیں بھی کم ہونی چاہئیں۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا مہنگائی پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ اگر ان کی قیمتیں کم ہوں گی تو مہنگائی بھی خود بخود کم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تیل کمپنیاں پہلے بھی 77 ہزار کروڑ روپے کا منافع کما چکی ہیں اور اب بھی مسلسل منافع کما رہی ہیں، لیکن چند دن جاری رہنے والی جنگ کا بہانہ بنا کر عوام سے غیر ضروری طور پر زیادہ قیمت وصول کی جا رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے گھٹ کر 70 ڈالر فی بیرل رہ گئی ہے۔ فروری، مارچ، اپریل اور مئی کے دوران قیمت تقریباً 115 ڈالر فی بیرل تھی، لیکن اب یہ کم ہو کر 70 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے۔ دوسری جانب، ملک میں مئی کے دوران ای-20 پٹرول کی قیمت 102 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی اور آج بھی وہی قیمت برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب خام تیل کی قیمت میں اتنی بڑی کمی آئی ہے تو ملک میں پٹرول کی قیمت بھی کم ہونی چاہیے۔ ہماری کیلکولیشن کے مطابق اس وقت پٹرول کی قیمت 82 روپے فی لیٹر یا اس سے بھی کم ہونی چاہیے، اور اس قیمت پر ای-20 نہیں بلکہ خالص پٹرول دستیاب ہونا چاہیے۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خام تیل کی موجودہ قیمت 70 ڈالر فی بیرل ہے۔ اگر اسے موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق روپے میں تبدیل کیا جائے تو خام تیل کی قیمت تقریباً 42 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ اس کے بعد ریفائننگ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) کے مارجن اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات تقریباً 9 روپے فی لیٹر، مرکزی ٹیکس 12 روپے فی لیٹر، ریاستوں کا اوسط وی اے ٹی 25 فیصد یعنی تقریباً 16 روپے فی لیٹر اور ڈیلر کمیشن 3 روپے فی لیٹر شامل کیا جائے تو مجموعی قیمت تقریباً 82 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ اگر اسی پٹرول کو ای-20 بنایا جائے تو اس کی قیمت تقریباً 70 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے، نہ کہ 102 روپے فی لیٹر۔ اروند کیجریوال نے مزید کہا کہ اسی اصول کے مطابق ڈیزل کی قیمتیں بھی کم کی جا سکتی ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل سستے ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوں گے، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ سمیت تقریباً ہر چیز کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور مہنگائی پر بڑا اثر پڑے گا، جس سے عوام کو خاطر خواہ راحت ملے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت یا مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ جنگ کے دوران تیل کمپنیوں کو جو نقصان ہوا تھا، اس کی تلافی اب منافع کما کر کی جا رہی ہے، لیکن یہ دلیل سراسر غلط ہے۔ 2014 سے اب تک بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں کم از کم چھ مرتبہ نمایاں کمی آئی، اس کے باوجود حکومت نے ملک میں پٹرول کی قیمتیں کم نہیں کیں۔ جب خام تیل سستا ہونے پر کمپنیوں نے بھاری منافع کمایا تو وہ رقم کہاں گئی؟اروند کیجریوال نے سوال کیا کہ کیا اس منافع سے تین چار ماہ جاری رہنے والی جنگ کے دوران ہونے والے محدود نقصان کی تلافی نہیں کی جا سکتی؟ اطلاعات کے مطابق صرف گزشتہ سال ہی سرکاری تیل کمپنیوں کو تقریباً 77 ہزار کروڑ روپے کا ریکارڈ منافع حاصل ہوا، جبکہ گزشتہ تین چار برسوں سے بھی وہ مسلسل بھاری منافع کما رہی ہیں۔ پھر اس منافع کو نقصانات پورے کرنے کے لیے کیوں استعمال نہیں کیا جا رہا؟آخر میں اروند کیجریوال نے کہا کہ اس وقت عوام سے 102 روپے فی لیٹر وصول کرنا سراسر غیر منصفانہ ہے۔ میری حکومت سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ملک کے عوام کو 82 روپے فی لیٹر کی قیمت پر خالص پٹرول فراہم کیا جائے، اور اگر ای-20 پٹرول ہی فروخت کیا جائے تو اس کی قیمت اس سے بھی کم مقرر کی جائے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

پنجاب میں ہوئے پیپر لیک معاملے پر بی جے پی نے دہلی میں کیا ’آپ‘ دفتر کا گھیراؤ

Published

on

نئی دہلیـ: دہلی پردیش بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پنجاب میں ہوئے پیپر لیک معاملے پر یہاں عام آدمی پارٹیکے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا اور گرفتاریاں دیں۔دہلی بی جے پی کے صدر ہرش ملہوترا کی قیادت میں پارٹی کارکنان نے پنجاب کے وزیرِ تعلیم سردار ہرجوت سنگھ بینس کی برطرفی کے مطالبے کے حق میں یہاں کے کیننگ لین میں واقع عآپ کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا۔ اس دوران پولیس بی جے پی کارکنان کو حراست میں لے کر مندر مارگ تھانے گئی، جہاں سے انہیں ایک گھنٹے بعد تنبیہ کر کے چھوڑ دیا گیا۔مظاہرے میں رکنِ پارلیمنٹ یوگیندر چاندولیا، محترمہ کنول جیت سہراوت، محترمہ بانسری سوراج اور محترمہ سواتی مالیوال، پردیش جنرل سکریٹری وشنو متل، محترمہ یوگیتا سنگھ اور مسٹر موہن لال گہارا، پردیش عہدیدار پروین شنکر کپور، مسٹر راجیش بھاٹیا، مسٹر وجے سولنکی، مسٹر سنیل یادو، مسٹر کیلاش جین، مسٹر وکرم بدھوڑی، مسٹر گورو کھاری، ڈاکٹر انیل گپتا، سونا کماری، محترمہ ساریکا جین، مسٹر کوشل مشرا، محترمہ رچا پانڈے، مسٹر کرشن دیو سنگھ، مسٹر ابھیشیک ٹنڈن، سردار گر میت سنگھ سورا، محترمہ پروینا شرما، محترمہ ارچنا گپتا اور مسٹر شبھیندو شیکھر اوستھی سمیت کئی رہنما موجود تھے۔پارٹی کی یووا مورچہ کے صدر رجت چودھری، دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) مورچہ کے صدر رجت چودھری نیز پوروانچل مورچہ کے صدر سنتوش اوجھا کی قیادت میں تینوں مورچوں کے ہزاروں کارکنان نے حصہ لیا اور گرفتاریاں دیں۔ مسٹر متل نے کہا کہ ملک کے عوام بالخصوص نوجوان پنجاب میں پیپر لیک پر سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی خاموشی سے حیران ہیں۔مسٹر ملہوترا نے کہا، “آج ہم یہاں عام آدمی پارٹی کے دوہرے کردار اور دوہری سیاست کو بے نقاب کرنے آئے ہیں۔ مرکز میں جب پیپر لیک کا مسئلہ آیا تو عآپ نے سب سے پہلے سڑک جام کی، ہنگامہ کیا اور مرکزی وزیرِ تعلیم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اخلاقیات پر تقریر کی، جوابدہی کا ڈھنڈورا پیٹا، لیکن میں پوچھتا ہوںعآپ سے کہ پنجاب میں گزشتہ 4.5 سال میں کیا ہوا؟”

 

Continue Reading

دلی این سی آر

نریندر مودی کو ای-20 لینا ہی پڑے گاواپس:کجریوال

Published

on

(پی این این)
نئی: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے ای-20 کے خلاف قومی ٹاؤن ہال کو روکنے کی کوشش کرنے والی مودی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مودی جی پولیس کے زور پر یکم اگست کو کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہونے والے اس ٹاؤن ہال کو رکوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن یکم اگست کو ہی دوپہر 12 بجے سے ای-20 کے خلاف قومی ٹاؤن ہال منعقد ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ کانسٹی ٹیوشن کلب میں رقم جمع ہو چکی ہے، بکنگ کی رسید بھی کٹ چکی ہے، لیکن اب پولیس کلب سے بکنگ منسوخ کرنے کے لیے کہہ رہی ہے۔ جب کلب نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تو پولیس اب ہم سے اجازت لینے کو کہہ رہی ہے، حالانکہ انڈور سرگرمیوں کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو ای-20 واپس لینا ہی پڑے گا۔ وزیراعظم اسے خاموشی سے واپس لے لیں، ورنہ عوام اسے واپس لینے پر مجبور کر دیں گے۔ آپ کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ ہم نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ ہفتے کی ہفتہ کو ای-20 کے خلاف قومی ٹاؤن ہال منعقد کریں گے، لیکن وہاں پولیس پہنچ گئی۔ مودی جی نے ٹاؤن ہال شروع ہونے سے پہلے ہی شکست تسلیم کر لی ہے اور پولیس کے ذریعے اسے رکوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پہلے پولیس کانسٹی ٹیوشن کلب کے ذمہ داران کے پاس پہنچی اور کہا کہ انہیں اجازت یا منظوری نہ دی جائے۔ کلب کی جانب سے بتایا گیا کہ منظوری دی جا چکی ہے، رقم جمع ہو چکی ہے، رسید کٹ چکی ہے اور بکنگ بھی ہو چکی ہے۔جب پولیس نے بکنگ منسوخ کرنے کے لیے کہا تو کلب نے انکار کر دیا۔
اس کے بعد پولیس ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اجازت حاصل کریں۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ آج تک اس ملک میں کسی بھی انڈور سرگرمی کے لیے کبھی کوئی اجازت نہیں لی گئی۔ میں وزیراعظم جی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ یہ بتا دیں کہ آخر کس چیز کی اجازت لینی ہے؟ کیا کھانے، پینے، نہانے اور سونے کے لیے بھی اجازت لینی ہوگی؟ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے کہا کہ پولیس کی یہ دھمکی مت دیں۔ عوام نے دکھا دیا ہے کہ وہ مودی جی کی پولیس سے نہیں ڈرتی۔ مودی حکومت زیادہ سے زیادہ لاٹھیاں ہی تو برسائے گی یا جیل ہی تو بھیجے گی، حکومت یہ سب کرکے دیکھ چکی ہے، لیکن اس ملک کی عوام اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے۔ وزیراعظم جی کو ای-20 واپس لینا ہی پڑے گا۔ وزیراعظم جی اسے خاموشی سے واپس لے لیں، ورنہ عوام اسے واپس لینے پر مجبور کر دے گی۔

 

 

Continue Reading

دلی این سی آر

شہریوں کو صاف، صحت مند ماحول فراہم کرنے کیلئے سرکار پرعزم:ریکھا

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: دہلی حکومت نے دارالحکومت دہلی کو صاف، سرسبز اور کوڑے کے ڈھیروں سے پاک بنانے کی سمت میں ایک اور بڑا اور فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں میونسپل کارپوریشن اور آئل انڈیا لمیٹڈ کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے ہیں، جس میں ویسٹ ٹو ویلتھ کے تصور کو عملی جامہ پہنایا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دارالحکومت کے تہکھنڈ اور اوکھلا علاقوں میں جدید ترین کمپریسڈ بائیو گیس پلانٹ لگائے جائیں گے۔اس پروجیکٹ کے آغاز سے نہ صرف دہلی کے ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کو تقویت ملے گی بلکہ یہ قومی راجدھانی کو آلودگی سے پاک اور ماحول دوست بنانے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ فی الحال، دہلی کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک کچرے کے بڑے پہاڑ ہیں، جو نہ صرف شہر کی خوبصورتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ ماحول اور آس پاس رہنے والے لوگوں کی صحت کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔
اس نئے معاہدے کے تحت قائم کیے جانے والے بائیو گیس پلانٹس کی کل صلاحیت 800 TPD (ٹن یومیہ) ہوگی۔ یہ پروجیکٹ شہر کے مختلف حصوں سے پیدا ہونے والے الگ الگ نامیاتی کچرے کو براہ راست پروسیس کرے گا۔ کچرے کو سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگانے سے نہ صرف لینڈ فل سائٹس پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو کم کیا جائے گا بلکہ مقامی آبادی کو کچرے سے ہونے والی بدبو اور نقصان دہ گیس کے اخراج سے بھی خاطر خواہ ریلیف ملے گا۔
اس منصوبے کی اہم طاقت اس کا سرکلر اکانومی ماڈل ہے۔ اس پلانٹ کے ذریعے دو اہم مصنوعات تیار کی جائیں گی۔ نامیاتی فضلہ کی سائنسی پروسیسنگ سے اعلیٰ معیار کی صاف توانائی، یعنی بائیو سی این جی پیدا ہوگی۔ یہ ایندھن روایتی جیواشم ایندھن کا ایک ماحول دوست متبادل ہے، جسے نقل و حمل اور دیگر صنعتی شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے شہر میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں بھی نمایاں مدد ملے گی۔ توانائی کی پیداوار کے علاوہ، یہ عمل اعلیٰ معیار کی نامیاتی کھاد بھی تیار کرے گا۔ اس کھاد کو زراعت، باغبانی اور پارکوں کی دیکھ بھال میں استعمال کیا جا سکتا ہے، کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے اور زمین کی زرخیزی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ایم او یو پر دستخط کی تقریب میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ دہلی حکومت دارالحکومت کے شہریوں کو صاف، صحت مند اور آلودگی سے پاک ماحول فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پابند عہد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویسٹ ٹو ویلتھ کے وژن پر عمل کرتے ہوئے دہلی حکومت کچرے کو ایک مسئلہ نہیں بلکہ وسائل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا،”یہ کمپریسڈ بایوگیس (CBG) پلانٹس جو تہکھنڈ اور اوکھلا میں لگائے جائیں گے، دہلی کے فضلہ کے انتظام کے نظام کو تبدیل کر دیں گے۔ موجودہ فضلہ کے پہاڑوں کو سائنسی طریقوں سے آہستہ آہستہ ختم کیا جائے گا۔
یہ اقدام نہ صرف کچرے کا مستقل حل فراہم کرے گا بلکہ شہر کو صاف توانائی میں خود کفیل بننے میں بھی مدد دے گا۔”مفاہمت نامے پر دستخط کے بعد، دونوں فریق، میونسپل کارپوریشن اور آئل انڈیا لمیٹڈ، اس منصوبے کو نافذ کرنے کے لیے تیزی سے کام کرنا شروع کر دیں گے۔ اس میں پلانٹس کے لیے زمین کی باضابطہ الاٹمنٹ، تکنیکی بلیو پرنٹ کی تیاری، اور دیگر تعمیراتی اقدامات شامل ہیں، یہ سب مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں گے۔

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network